سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ اور سلطنتِ عثمانیہ

149

ڈاکٹر خالد امین
مرتب: اعظم طارق کوہستانی
بیسو یں صدی کے متعد دمسلما ن دانش ور یو رپی جا ر حیت کے خلا ف زندگی کے ہر دائر ہ کا رمیں نبرد آزما رہے ہیں۔سید ابوالاعلیٰ مودودی (۱۹۰۳ء ۔۱۹۷۹ء )کا شما ر بھی ان مسلم دانش وروں میں ہو تا ہے جنھو ں نے یو رپ کی اس جارحیت کے خلا ف ایک سیاسی،تہذیبی اور فکر ی حکمت عملی تشکیل دینے کے لیے مسلما نو ں کویکجا ہو نے کی دعوت دی اور کہا کہ مسلما ن اس صدی میں جس تبا ہی سے دو چا ر رہے ہیںاس کی بنیا دی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے اتحا د کی قوت کو پا رہ پا رہ کرچکے ہیں۔ فکر ِمودودی کی اس جہت کو ان کی بر پا کی جا نے والی تحریک جما عت اسلا می میں دیکھا جاسکتا ہے۔
سید ابو الا علیٰ مو دودی اتحا د اسلا م کے داعی ابتدا ہی سے تھے۔انھو ں نے نو جو انی کے عالم میں سلطنت عثما نیہ کی قوت کو ختم ہو تے ہوئے دیکھا تھا اس لیے ان کی یہ کو شش رہی کہ جنو بی ایشیا کے مسلما نو ں کوملت کے تصور سے روشنا س کر ایا جائے اور انھیں یہ بتا یا جا ئے کہ ان کی اس عظیم الشا ن اسلا می قوت کا حشر کس سیا سی گٹھ جو ڑ کی بنا پر ہوا ۔انھو ں نے مسلمانوں کو یہ با ور کرا نے کی کامیاب کوشش کی کہ اپنی تبا ہی پر نا لا ں ہونے کے بجا ئے ان محرکات و عوامل سمجھاجا ئے۔سید مو دو دی کی ابتدا ئی سیاسی زندگی کی تشکیل میں تحر یک خلا فت کے اثرات نما یا ں تھے۔اس تحریک کے ابتدا ئی زما نے میں وہ اخبا ر تاج کے مدیر تھے جو جبل پو رسے نکلتا تھا۔اس دوران مو لا نا نے جبل پو رمیں تحریک خلا فت کو فعا ل کیا اور اس کے جلسو ں میں تقریریں کیں۔
سلطنت عثما نیہ کو پا رہ پا رہ کر نے کے لیے یو رپی قو تو ں نے پہلا الزام یہ لگا یا کہ عثما نو ی عمل داری میں موجوداقلیتیںغیر محفو ظ تھیں۔خصو صاً شورش آرمینیاکا الزام لگا کریو رپ میں جھو ٹے قصے اور افسا نے گھڑے گئے اور ترکوں کے خلاف یو رپی قو تو ں کو صف آرا ہونے کی تلقین کی گئی۔یو رپی قوتو ں نے حقا ئق کی چھا ن پھٹک کر نے کے بجا ئے ان غلط بیا نیو ں پر ایما ن رکھتے ہو ئے کہا کہ تر کی میں عیسا ئی انسا نی حقو ق سے محروم ہیں اور عہد رومی کی طر ح غلا می کی حالت میںزندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ان الزا ما ت کو پروان چڑ ھا نے کا مقصد یہ تھاکہ یو رپی قو تو ں کو تر کی میں مدا خلت کر نے کا جواز فراہم کیاجا ئے۔مگر جب اہل یو رپ کو مقدو نیہ اور کر یٹ(اقریطش)میں تر کو ں کی حا لت زار کی جا نب توجہ دلا ئی جاتی تھی تو وہ ان حقائق سے منہ مو ڑ لیتے تھے۔مو جو دہ صدی میں یو رپ اور امر یکا نے عراق میں جس اندازسے جھو ٹے الزام لگا کر پورے مشر ق وسطی کو آگ میں جھو نک دیا ہے یہ اسی جھو ٹ کے تسلسل کا ایک حصہ ہے جسے یو رپ کے کارپر دازان سیا ست دور استعمارسے آزما رہے ہیں۔
خلا فت عثما نیہ پر لگا ئے گئے ان الزا ما ت کا جواب ہندوستا نی مسلم دانش ورو ں نے بھر پو رانداز میں دیا تھا ۔سید مودودی نے بھی اس حوالے سے دو اہم کتا بو ں کا انگر یز ی سے اردو میں تر جمہ کیا تھا۔ان میں پہلی کتا ب سمر نا میں یو نا نی مظالم (Greek Atrocities in the vilayet of Smyrna) ہے جب کہ دوسری تر کی میں عیسا ئیو ں کی حا لت ہے۔تذکر ہ سید مو دودی میں رفیع الد ین ہا شمی صا حب نے لکھا ہے کہ انھو ں نے تر کی میں عیسا ئیو ں کی حا لت کے با رے میں سید مو دودی سے استفسا رکیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ کتا ب کسی ایک کتاب یا رسالے کا تر جمہ نہیں ہے بلکہ مختلف کتا بو ں ،رسا ئل اور اخبا را ت سے متفر ق تحریریں لے کر ان کا تر جمہ اس رسالے میں جمع کر دیا گیا تھا۔
یہ دو نو ں کتا بیں دارلا شا عت سیا سیا ت مشر قیہ دہلی سے شا ئع ہو ئی تھیں۔ڈاکٹر سید عبد البا ری نے لکھا ہے کہ مو لا نا نے اپنی تصنیفی زند گی کا آ غاز جن کتا بو ں کے تر اجم سے کیا ان میں پہلی کتا ب سمر نا میں یو نا نی مظا لم تھی۔تحریک خلا فت اور مو لا نا محمد علی جوہر( ۱۸۷۸ء ۔۱۹۳۱ء )سے سید مو دودی کو ایک گو نہ لگا ئو تھا۔اس کا اندازہ اس بات سے لگا یا جا سکتا ہے کہ سید محمد جعفری صا حب نے تحریک خلا فت کے حوالے سے شو کت علی اور محمد علی کے نام سے مجمو عہ علی برادران مر تب کیا تو اس کے لیے جن حضرا ت سے مقالا ت لکھوائے ان میں سید مو دودی بھی شامل تھے۔
سید محمد جعفری کی مر تبہ علی برادران سے قطع نظر سیدمودودی نے محمد سرور کی کتا ب مضا مین محمد علی (حصہ اول )پرجو ہر کی شخصیت پر جو تبصرہ کیا تھااس سے ان کی عقیدت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔اس مختصر سی تحر یر میں انھوں نے محمد علی جو ہر کی فکر ی بصیر ت کو نمایاں کر نے کی کو شش کی تھی اور کہا کہ جو ہر کی شخصیت سے اسلا م اپنی اصلی صورت میں نظر آ نے لگا تھا۔مگر ہندوستا ن میں انھو ں نے جس مسلم قو میت کو پیدا کر نے کی کو شش کی وہ ترقی کر کے مسلم قوم پر ستی میں تبدیل ہو گئی۔
محمد علی جو ہر کی خود نو شت سوانح عمری My life: A Fragmentکے با رے میں سید مو دودی نے لکھا کہ جوہرؔ ان غلط فہمیو ں کا ازا لہ کر نا چا ہتے تھے جو اسلا م اور مغرب کے درمیان پیدا ہو گئی تھیں کیو ں کہ کتا ب کے اکثر مقا ما ت سے ظاہر ہو تا ہے کہ جو ہر اسلا م کے ہمہ گیر نظر یہ حکو مت کو پیش کر نا چا ہتے ہیںاور وہ انسان کو اللہ کے نا ئب کی حیثیت سے دیکھتے تھے۔
عثما نو ی خلا فت کے زوال کو سید مو دودی نے عالم گیر اسلا می مر کز کے خا تمے کی حیثیت سے دیکھا تھااور وہ اس نقصا ن کی اہمیت کو سمجھتے تھے۔محمد مرزا دہلو ی کی کتا ب اتا ترک پر تبصرہ کر تے ہو ئے تر کی زبا ن کی تبد یلی اور فکری منہا ج کے تبدیل ہو نے پر انھو ں نے گہرے تا سف کا اظہا ر کیا۔وہ لکھتے ہیں کہ:
کا ش اتا تر ک نے قرآن اور سیرت محمد ی کا مطا لعہ کیا ہو تا اور ترکی قوم پر ستی کے بجا ئے اسلا می آئیڈیا لو جی کی بنیا د پر جد ید تر کی کی تعمیر کی ہو تی۔ اس کو اگر معلو م ہو تا کہ ایک محدود قو میت کی طاقت اور عالم گیر تبلیغی مسلک کی طا قت میں کتنا تفا وت ہو تا ہے تو وہ اپنی قوم کو پو لینڈ ،ہا لینڈ اور بیلجیم کی سی پو زیشن میں چھو ڑ کر نہ جا تا۔بلکہ روسی اشترا کیت سے بیس گنی زیا دہ زبردست طا قت کے ساتھ چھوڑتا۔
سید مو دو دی نے سمر نا میں یو نا نی مظا لم میں یو نانی فو ج نے جو ہول نا ک مظا لم کیے تھے ان کے معتبر تر ین ذرائع سے حا صل کیے ہوئے مفصل حا لا ت کا تر جمہ کیا تھا۔یہ کتا ب چا لیس رپو ر ٹو ں اور مرا سلا ت کے تر جمو ں پر مبنی ہے۔جنھیں اتحادی افسرو ں ،یو رپین با شند وں ،ترکی افسرو ں اور خو دسمر نا کے مظلو م مسلما نو ں نے دو لت عثما نیہ کی وزارت دا خلہ اور یورپین اخبا رات کو بھیجے تھے۔
یہ دو نو ں کتا بیں اب ما ضی کا حصہ ہو چکی ہیں مگر ان کی تا ریخی اہمیت اپنی جگہ بد ستو رقا ئم ہے۔جنگ سمر نا اور ترکی پر حو ادث کے اثرات سے مسلما نا ن ہند کی تا ریخ اور تہذ یب اس طر ح پیو ست ہے کہ اس سے آج بھی ہما رے تخیل اور ہماری تاریخ کو جدا نہیں کیا جاسکتا۔اگر اسلا م پسند طبقہ سلطنت عثما نیہ کی محبت میں گر فتا ر ہے تو جدید خیالا ت رکھنے والے جدید تر کی کو اپنا مثا لیہ بنا کر پیش کر تے ہیں۔
عثما نیو ں اور یو نا نیو ں نے سمر نا کے حو الے سے دو جنگیں لڑ ی ہیں۔ ان کی آخر ی لڑا ئی۱۹۱۷ء میں ہو ئی جس میں تر کی کا میاب ہو امگر یو نا نیو ں نے سمر نا میں جس طر ح مظا لم ڈھا ئے اس نے تر کو ں کے جذ بہ حریت کو کئی گنا تو انا کر دیا تھا۔تر ک خو دبھی جفا کش اور جنگ جو رہے ہیں ان کی اسی ہمت نے انھیں یو رپی قو تو ں کے لیے ایک مشکل ہدف ثابت کیا۔
سمر نا میں یو نا نی مظا لم کے تعلق سے مولانسا مو دودی نے ان رپو رٹو ں کے تر جمو ں کے علا وہ اس میں ایک نہا یت عمدہ مقد مہ بھی لکھا تھا جس سے اس شہر کی تا ریخی اور تہذ یبی اہمیت بھی اجا گر ہو تی ہے۔اس مقد مے میں تر کو ں سے مولانامودودی کی گہر ی محبت بھی عیاں ہے۔تر کی میں عیسا ئیو ں کی حا لت میں دیبا چے میں لکھتے ہیں کہ:
یہ رسا لہ در ا صل یو رپ کے لیے لکھا گیا تھا ۔یو رپ کہ لو گو ں کو ارمنو ں،یو نا نیو ں اور خو دیو رپ کے دسیسہ کا ران سیا ست نے جھوٹے قصو ں،نا ولو ں ،رسا لو ں ،اخبا رو ں ،تقر یر وں اور دوسرے تبلیغی ذرائع سے تر کو ں کے خلا ف ابھا ر کر جس قدر انھیں نقصا ن پہنچا ئے ہیںان کی تلا فی کے اور طریقوں میں سے ایک طر یقہ یہ بھی ہے کہ ان کو اصل حقیقت سے آگا ہ کر دیا جا ئے اور وثا ئق و حقائق ان کے سا منے رکھ کر ان کو بتلا دیا جا ئے کہ تر کی محکو م اقوام کے معا ملے میںخود یو رپ سے بدرجہا روادار ،منصف اور کر یم ہے۔
سید ابو الا علی مو دودی نے اس کتا ب کا تر جمہ کرنا اس لیے بھی ضر وری سمجھا کہ خو دہند وستا ن میں انگر یز ی خواں طبقے نے مسلما نو ں میں تر کی کے حو الے سے جھو ٹی خبریں اور غلط افو اہیں پھیلا نا شرو ع کر دی تھیں۔وہ تر کو ں کو ظا لم ،متعصب اور سخت گیر مشہو رکر تے تھے۔خا ص کر سلطا ن عبد الحمید دوم(۱۸۴۲ء۔۱۹۱۸ء) کے حوا لے سے بے بنیا د الز اما ت کو فر وغ دیا گیا۔ان الزا ما ت کو نادان او رکم زور ذہن رکھنے والے سچ بھی ما ن لیتے تھے۔
مو لا نامو دودی نے تر کی میں عیسا ئیو ں کی حا لت بیا ن کر نا اس لیے بھی ضروری خیا ل کیا کہ ہندوستا نی عر صہ دراز سے صو با ئی خودمختاری طلب کر رہے تھے جب کہ دنیا کی سب سے زیا دہ مہذ ب کہلا نے والی بر طا نو ی حکو مت اسے دینے سے مسلسل انکا ر کر رہی تھی۔حالا ں کہ تر کو ں نے صدیو ں سے ہر غیر مسلم قوم کو مکمل خو دمختا ری دے رکھی تھی۔وہ اس کتاب میں یہ بتا نے کے بھی خو اہا ں ہیں کہ ترکوں نے وہا ں کے عیسا ئیوں کو جس طر ح مذ ہبی آزادی فرا ہم کی تھی وہ ہندوستا نی مسلما نو ں کو بر طانو ی سا م راج دینے کے لیے آما دہ نہیں تھاجب کہ تر کو ں نے اپنی عمل داری میں پا نچ صد یو ں سے یہ حقوق اقلیتوں کو دیے ہوئے تھے۔
تر کی میں عیسا ئیو ں کی حا لت کے دو ابواب ہیں جس کے ذیل میں چند عنوانا ت کے ذریعے مصنف نے بیسویں صدی میں تر کو ں کے یہا ں اقلیتو ںکی انسا نی و قا نو نی مراعا ت کی وضا حت کر دی ہے جس میںمذ ہبی ،دستو ری،ملکی و قا نو نی اور سیاسی حقو ق شا مل ہیں۔اس کتاب کی تمہید میں متر جم نے تر کی میں عیسا ئیو ں کی حالت پر اپنی رائے کا اظہا ر ان الفا ظ میں کیاہے:
تر کی میں عیسا ئی با شند ے اس قدر خو ش حا ل اور قا نو ن کی رو سے اس قدر آزاد ہیں کہ اتنی خو ش حالی اور آزادی تر کو ں کو بھی حا صل نہیں ،اقلیتو ں کو تر کی کی حکو مت کی طر ف سے اس قسم کی مراعات حا صل ہیں کہ وہ اپنے مذ ہبی پیشو ائو ں کے ما تحت اپنا اندورونی انتظام خو دکر تے ہیں۔ (باقی آئندہ)

مولانا مودودی کے بارے میںایس ایم ظفر کی راے

(ماہر قانون دان )
مولانا کی کتاب’خلافت و ملوکیت ‘اور ’اسلامی ریاست ‘ اہم مقام رکھتی ہے ۔ ان کی زبان بڑی سادہ فہم ہے۔ خلافت و ملوکیت میں مولانا نے جو لکھا اس نے ڈکٹیٹر شپ کی راہ ہمیشہ کے لیے بند کردی ہے۔ اس کا متبادل کیا نظام ہو گا اس کے لیے اُنھوں نے خلافت لفظ کا استعمال کیا ہے۔ ماڈرن زمانے میں اسے جمہوریت کہہ سکتے ہیں۔ جب میں بیرون ملک جاتا ہوں تو یورپ اور امریکا کے کتب خانوں میں اسلام کے حوالے سے مجھے اگر کسی کی کتاب ملتی ہے تو وہ مولانا مودودی کی کتابیں ہیں۔ میں نے اپنی کتاب ’ڈکٹیٹر کون ہے؟‘ میں خلافت و ملوکیت اور اسلامی سیاست کا تذکرہ کیا ہے ۔ مغرب اختلاف ہونے کے باوجود ان کی اہمیت کو ضرور تسلیم کرتا ہے۔

حصہ