المسجد الاقصیٰ

198

خرم عباسی
انسانی حقوق کے نام نہاد علمبردار جو آئے دن مسلمانوں کو انتہا پسندی کا طعنہ دیتے ہیں اگر وہ صرف اس آئینہ میں ہی اپنی اصل شکل دیکھ لیں تو شرم کے مارے ڈوب مریں۔ گزشتہ چند دنوں سے اسرائیلی قابض افواج نے ایک مرتبہ پھر ظلم و ستم کا بازار گرم کر رکھا ہے اور مسجد اقصیٰ کی پاکیزہ سر زمین کئی ہفتوں سے اہل توحید کے سجدوں کو ترس رہی ہے، ہماری نئی نسل اس عظیم پراسرار جگہ سے تقریباً انجان ہے جو کہ ہمارا قبلہ اول اور اسلام کی تیسری مقدس ترین مسجد ہے.مسجد اقصی مسلمانوں کا قبلہ اول اور خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کے بعد تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔
جب حضرت عمر فاروقؓ کے دور میں مسلمانوں نے بیت المقدس فتح کیا تو حضرت عمرؓ نے شہر سے روانگی کے وقت صخرہ اور براق باندھنے کی جگہ کے قریب مسجد تعمیر کرنے کا حکم دیا جہاں انہوں نے اپنے ہمراہیوں سمیت نماز ادا کی تھی۔ بعد میں خلیفہ عبد الملک بن مروان نے مسجد اقصٰی کی تعمیر شروع کرائی اور خلیفہ ولید بن عبد الملک نے اس کی تعمیر مکمل کی اور اس کی تزئین و آرائش کی۔ عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور نے بھی اس مسجد کی مرمت کرائی۔ پہلی صلیبی جنگ کے بعد جب عیسائیوں کا بیت المقدس پر قبضہ ہو گیا تو انہوں نے مسجد اقصٰی میں بہت رد و بدل کیا۔ انہوں نے مسجد میں رہنے کے لیے کئی کمرے بنا لیے اور اس کا نام معبد سلیمان رکھا، نیز متعدد دیگر عمارتوں کا اضافہ کیا جو بطور جائے ضرورت اور اناج کی کوٹھیوں کے استعمال ہوتی تھیں۔ انہوں نے مسجد کے اندر اور مسجد کے ساتھ ساتھ گرجا بھی بنا لیا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے 1187ء میں فتح بیت المقدس کے بعد مسجد اقصٰی کو عیسائیوں کے تمام نشانات سے پاک کیا اور محراب اور مسجد کو دوبارہ تعمیر کیا۔

مسجد اقصیٰ و قبۃ الصخرۃ

مسجد اقصی کے نام کا اطلاق پورے حرم قدسی پر ہوتا تھا جس میں سب عمارتیں جن میں اہم ترین قبۃ الصخرۃ ہے جواسلامی طرز تعمیر کے شاندار نمونوں میں شامل ہے ۔ تاہم آجکل یہ نام حرم کے جنوبی جانب والی بڑی مسجد کے بارے میں کہا جاتا ہے ۔
وہ مسجد جو نماز کی جگہ ہے وہ قبۃ الصخرۃ نہیں، لیکن آج کل قبہ کی تصاویر پھیلنے کی بنا پر اکثر مسلمان اسے ہی مسجد اقصیٰ خیال کرتے ہيں حالانکہ فی الواقع ایسی کوئی بات نہیں مسجد تو بڑے صحن کے جنوبی حصہ میں اور قبہ صحن کے وسط میں ایک اونچی جگہ پر واقع ہے۔
زمانہ قدیم میں مسجد کا اطلاق پورے صحن پرہو تا تھا اور اس کی تائيد امام ابن تیمیہ کے اس بیان سے بھی ہوتی ہے کہ:۔
مسجد اقصی اس ساری مسجد کا نام ہے جسے سليمان علیہ السلام نے تعمیر کیا تھا اور بعض لوگ اس مصلی یعنی نماز پڑھنے کی جگہ کو جسے عمر بن خطاب رضی اللہ تعالٰی عنہ نےاس کی اگلی جانب تعمیر کیا تھا اقصی کا نام دینے لگے ہیں ، اس جگہ میں جسے عمربن خطاب رضي اللہ تعالٰی عنہ نے تعمیر کیا تھا نمازپڑھنا باقی ساری مسجد میں نماز پڑھنے سے افضل ہے۔ “

سانحہ بیت المقدس

۔21 اگست 1969ء کو ایک آسٹریلوی یہودی ڈینس مائیکل روحان نے قبلۂ اول کو آگ لگا دی جس سے مسجد اقصیٰ تین گھنٹے تک آگ کی لپیٹ میں رہی اور جنوب مشرقی جانب عین قبلہ کی طرف کا بڑا حصہ گر پڑا۔ محراب میں موجود منبر بھی نذر آتش ہوگیا جسے صلاح الدین ایوبی نے فتح بیت المقدس کے بعد نصب گیا تھا۔ صلاح الدین ایوبی نے قبلہ اول کی آزادی کے لئے تقریبا 16 جنگیں لڑیں اور ہر جنگ کے دوران وہ اس منبر کو اپنے ساتھ رکھتے تھے تا کہ فتح ہونے کے بعد اس کو مسجد میں نصب کریں۔
یہودی اس مسجد کو ہیکل سلیمانی کی جگہ تعمیر کردہ عبادت گاہ سمجھتے ہیں اور اسے گرا کر دوبارہ ہیکل سلیمانی تعمیر کرنا چاہتے ہیں حالانکہ وہ کبھی بھی بذریعہ دلیل اس کو ثابت نہیں کرسکے کہ ہیکل سلیمانی یہیں تعمیر تھی ۔مسجدِ اقصیٰ کے ساتھ مسلمانوں کا جو قلبی تعلق اور محبت ہے وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں، فلسطینی مسلمان جو بیت المقدس کے تحفظ کے لیے عظیم قربانیاں پیش کررہے ہیں وہ گویا پوری اُمت کا فرض کفایہ اداء کررہے ہیں، اِسی لیے اُمت مسلمہ میں مجموعی طور پر ان کے بارے میں جو ہمدردی پائی جاتی ہے وہ ایمانی اخوت کا مظہرہے۔
اس مبارک مسجد کے ساتھ مسلمانوں کی وابستگی کا تقاضا یہ ہے کہ اس کا ایک جامع تعارف پیش کردیا جائے تاکہ مکمل معلومات ہمارے قارئین کے ذہن نشین ہو جائیں۔

بنیاد:۔

احادیثِ طیبہ سے معلوم ہوتا ہے کہ روئے زمین پر بننے والی مساجد میں سے دوسری یہی مسجد اقصیٰ ہے اور اولیت کا شرف مسجدِ حرام کو حاصل ہے، ان دونوں مسجدوں کی تعمیر کے درمیان چالیس سال کا فاصلہ ہے۔ البتہ یہ سوال کہ اس مسجد کاسب سے پہلا بانی کون ہے؟ اس بارے میں کوئی بھی صریح اور صحیح دلیل موجود نہیں ہے، البتہ جو چیز بلااختلاف ثابت ہے وہ یہ ہے کہ یہ مسجد انبیاء کرام کے ہاتھوں مختلف زمانوں میں تعمیر ہوتی رہی ہے

نام:۔

اس مسجد کے متعدد نام ہیں اور ضابطہ یہ ہے کہ جس چیز کے نام واوصاف زیادہ ہوں تو وہ چیز عظمت والی شمار ہوتی ہے۔ مثلاً ایک شخص کے نام کے ساتھ حافظ، قاری، عالم، مفتی، مفسر، محدث وغیرہ القاب لگے ہوں تویہ اس کی عظمت شان کو بتلاتے ہیں۔ اسی طرح مسجد اقصیٰ کے متعدد نام ہیں جو قرآن وسنت میں استعمال ہوئے ہیں، ان میں مشہور نام تین ہیں: (۱)مسجداقصیٰ (۲) بیت المقدس (۳) ایلیاء

حدودِاربعہ:۔

عام طور سے مسجد اقصیٰ کے تعارف کے سلسلے میں جو ’’قبہ‘‘ والی تصویر دکھائی جاتی ہے تو اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ شاید بس یہی جگہ مسجد اقصیٰ ہے ، حالانکہ جس چار دیواری میںیہ قبۃ الصخرۃ واقع ہے اس چار دیواری کے مکمل احاطے کا نام مسجد اقصی ہے، جس میں وہاں موجود دروازے، صحن، جامع قبلی، قبۃ الصخرۃ، مصلیٰ مروانی، متعدد قبے، اورپانی کے حوض وغیرہ شامل ہیں، اسی طرح مسجد کی فصیل پر اذان کہنے کی جگہیں بھی اسی میں شامل ہیں۔ اس پورے احاطے میں صرف قبۃ الصخرۃ اور مصلیٰ قبلی چھت دار ہیں جبکہ باقی تمام احاطہ چھت کے بغیر ہے۔ اس پورے احاطے کی وسعت ۱۴۴ہزارمربع میٹر ہے۔

قبۃ الصخرۃ

بیت المقدس میں مسجد اقصی کے قریب موجود ایک تاریخی چٹان کے اوپر سنہری گنبد کا نام ہے۔ یہ ہشت پہلو عمارت پچھلی تیرہ صدیوں سے دنیا کی خوبصورت ترین ہے۔ یہ حرم قدسی شریف کا ایک حصہ ہے۔ Dome of the Rock عمارت کہتے ہیں ۔ عربی میں قبۃ کا مطلب گنبد اور الصخرۃ کا مطلب چٹان ہے۔
یہودی عقیدے کے مطابق اس چٹان پر حضرت ابراہیم نے اپنے بیٹے حضرت اسحاق کی قربانی دی۔ ایک اور یہودی عقیدے کے مطابق اس چٹان پر حضرت سليمان نے هيكل تعمير كيا تھا۔ جس میں تابوت سکینہ ركھا گيا تھا۔
تعمیر
ء٦٣٠ میں خلیفہ عمر بن الخطاب نے بیت المقدس کو فتح کرنے کے بعد اس علاقے کو صاف کیا اور چٹان واضح ہوئی (اور اسکے ساتھ مسجد اقصی ہے ) جبکہ اموی خلیفہ عبدالملک بن مروان نے 685ء اور 691ء کے درمیان کثیر سرمائے سے چٹان کے اوپر گنبد تعمیر کرایا جو فن تعمیر کا ایک عظیم اور زندہ شاہکار ہے۔ دنیا اسی گنبد کو قبۃ الصخرہ کےنام سے جانتی ہے۔

جامع قبلی
مصلیٰ مروانی

قبہ یوسف یا گنبد یوسف حرم قدسی شریف میں قبۃ الصخرۃ کے جنوب میں علیحدہ گنبد ہے۔ اسے سب سے پہلے بارہویں صدی میں صلاح الدین ایوبی نے تعمیر کروایا، جبکہ اس کے بعد کئی بار اسکی مرمت ہو چکی ہے۔ اس پر دو کتبے موجود ہیں ایک بارہویں صدی جس ہر صلاح الدین کا نام اور تاریخ 1191 درج ہے، جبکہ دوسرا سترہویں صدی کا ہے جس پر یوسف آغا کا نام جو غالبا عثمانی گورنر تھا، اور تاریخ 1681 درج ہے۔

قبہ معراج یا گنبد معراج

یہ حرم قدسی شریف میں وہ مقام ہے جہاں سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم معراج پر روانہ ہوئے۔

قبہ سلسلہ یا گنبد زنجیر

قدیم بیت المقدس میں قبۃ الصخرۃ کے نزدیک ایکعلیحدہ گنبد ہے۔ یہ حرم قدسی شریف کے قدیم ترین عمارتی ڈھانچوں میں سے ایک ہے۔ یہ کوئی مسجد یا مزار نہیں ہے لیکن یہ نماز کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

قبہ خلیلی یا گنبد خلیلی

حرم قدسی شریف میں قبۃ الصخرۃ کے شمال میں ایک چھوٹی گنبد والی عمارت ہے۔ یہ عمارت اٹھارویں صدی میں عثمانیوں نے اپنے فلسطین پر حکومت کے دوران فلسطینی شہر الخلیل سے تعلق رکھنے والے شیخ محمد الخلیلی کی مناسبت سے تعمیر کی۔

قبہ نبی یا گنبد نبی :۔

قبہ جبرائیل یا گنبد جبرائیل بھی کہا جاتا ہے، یہ حرم قدسی شریف میں قبہ معراج کے نزدیک ایک علیحدہ گنبد ہے۔ یہ قبۃ الصخرۃ کے نزدیک عثمانیوں کے بنائے جانے والے تین گنبدوں میں سے ایک ہے۔
اصل قبہ نبی یروشلم کے عثمانی گورنرمحمد بے نے 1538ء میں تعمیر کروایا۔ تاہم اسکی تعمیر نو 1620ء سلیمان ثانی کے دور میں بیت المقدس کے عثمانی گورنر فاروق بے نے کی۔ گنبد آج زیادہ تر 1620ء کی بحالی کی عکاسی کرتا ہے۔اسلامی تاریخ دانوں خاص کر جلال الدین سیوطی کے مطابق یہ وہ مقام ہے جہاں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے معراج پر جانے سے قبل انبیاء کی امامت کی تھی۔ عثمانی دور میں یہاں ہر رات دیا روشن کیا جاتا تھا۔

مصلیٰ قبلی:۔

عام طور پر اسی حصے کو مسجد اقصیٰ کہا جاتا ہے، یہ عمارت اس چاردیواری کے بالکل مین گیٹ کے پاس بنی ہوئی ہے، اسی عمارت میں پانچوں نمازیں اورجمعہ کی جماعت کرائی جاتی ہے۔ اس مسجد کی تعمیر خلیفہ عبدالملک بن مروان نے شروع کرائی تھی اوراس کی تکمیل خلیفہ ولید بن عبدالملک کے دور میں ۷۰ہجری میں ہوئی۔ اس کا اندرونی احاطہ ۸۰میٹر اور چوڑائی ۵۵ میٹرہے۔ اس کے کل گیارہ دروازے ہیں۔

قبۃ الصخرۃ:۔

مسجد اقصیٰ کی تصاویر میں عمومی طور پریہی قبہ دکھایا جاتا ہے جیسا کہ پہلے بتایا ہے کہ یہ بھی مسجداقصیٰ ہی کے احاطے میں داخل ہے، اسے خلیفہ عبدالملک بن مروان نے نئے سرے سے تعمیر کرایا تھا اور اپنی ساخت کے لحاظ سے مسلم ماہرین فن کاعظیم شاہکار تسلیم کیاجاتا ہے۔ صخرۃ عربی میں چٹان کو کہتے ہیں ، جو بلند سی جگہ ہوتی ہے، چنانچہ اس بلند سی جگہ پر مسجد اقصیٰ کونمایاں کرنے کے لیے یہاں یہ قبہ بنایا گیا تھا۔

مسجد اقصیٰ کے دروازے:۔

مسجد اقصیٰ ایک لمبی چاردیواری یعنی فصیل کے درمیان واقع ہے۔ پرانے دستور کے مطابق اس فصیل میں متعدد دروازے رکھے گئے ہیں۔ یہ دروازے شمالی اورجنوبی اطراف میں بنائے گئے ہیں اور ان دروازوں کی کل تعداد ۱۴ ہے، ان میں چار دروازے فی الوقت بالکلیہ بند ہیں اور جو دروازہ مسجد کے بالکل قریب واقع ہے اس پر بھی اسرائیلی فوجیوں نے قبضہ کررکھا ہے۔ جو دروازے کھلے ہوئے ہیں ان کے نام درج ذیل ہیں: باب الاسباط، باب حطۃ، باب عتم، باب غوانمۃ، باب مطہرۃ، باب قطانین، باب سلسلۃ، باب مغاربۃ، باب حدید، باب ناظر

مآذن:۔

یعنی اذان کی جگہیں:پرانے وقتوں کا دستور یہ تھا کہ اذان کہنے کی جگہ یا تو مینار میں رکھی جاتی تھی یا پھر مسجد کی فصیل پر کوئی بلند جگہ منتخب کرلی جاتی تھی تاکہ اذان کی آواز دور دور تک جاسکے، چنانچہ اسی طرز پر مسجد اقصیٰ کے ارد گرد بھی جو فصیل ہے اس پر چار جگہیں اذان کے لیے بنائی گئی ہیں ۔ ان کے نام درج ذیل ہیں:
مئذنۃ فخریۃ: یہ جگہ مسجد اقصیٰ کے جنوب مغرب میں واقع ہے
مئذنۃ باب غوانمۃ: شمال مغربی کونے میں یہ جگہ بنائی گئی ہے اور اذان کی تمام جگہوں میں سے یہی جگہ سب سے زیادہ بلند اور مضبوط عمارت والی ہے۔
مئذنۃ باب سلسلۃ: مسجد اقصیٰ کی مغربی جانب میں واقع ہے اور اسے منارۃ الحکم بھی کہاجاتا ہے۔
مئذنۃ باب اسباط: اذان کی یہ جگہ مسجد اقصیٰ کے شمالی جانب میں واقع ہے اور خوبصورتی میں یہ جگہ سب سے فائق ہے۔

مصلیٰ مروانی:۔

مصلیٰ عربی زبان میں نماز کی جگہ کو کہتے ہیں۔ یہ جگہ مسجد اقصیٰ کے جنوب مشرقی جانب میں واقع ہے اور اس کے بھی متعدد دروازے ہیں ، دو دروازے جنوبی سمت میں اور پانچ دروازے شمالی جانب میں بنائے گئے ہیں۔
عبدالملک بن مروان کے زمانے میں یہ جگہ ایک مدرسے کے طور پر مختص کی گئی تھی اوراسی مناسبت سے اس کا نام ’’مصلیٰ مروانی‘‘ مشہور ہوگیا، اسرئیلی جارحیت کے بعد سے یہ جگہ کافی عرصہ تک نمازیوں کے لیے بند رہی لیکن ۱۹۹۶ء میں مسلمانوں کی جدوجہد کے نتیجے میں اسے نمازیوں کے لیے کھول دیا گیا تھا۔

وضوخانے:۔

مسجد اقصیٰ میں وضوء کے لیے حوض بنایا گیا ہے۔ حوض کے اردگرد پتھر کی کرسیاںبنائی گئی ہیں تاکہ ان پر بیٹھ کر وضو کیاجاسکے۔ یہ حوض سلطان ابوبکر بن ایوب نے ۱۱۹۳ء میں بنوایا تھا۔

دیوارِ براق:

یہ دیوار مسجد کی جنوب مغربی دیوار کا حصہ ہے جس کی لمبائی ۵۰میٹر اور بلندی ۲۰میٹر ہے، یہ دیوار بھی مسجد اقصیٰ کا حصہ ہے۔ یہودی اسے ’’دیوارِگریہ‘‘ کے نام سے پکارتے ہیںاوران کا گمان یہ ہے کہ یہ دیوارگریہ ان کے مزعومہ ہیکل کا بچا ہواحصہ ہے۔

کنویں:۔

بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کیلئے کچھ کنویں بھی مسجد اقصیٰ میں بنائے گئے ہیں جن کی تعداد ۲۶ ہے، ان میں سے نو قبۃ الصخرۃ کے ارد گرد اوردیگر مسجد اقصیٰ کے صحن میں موجود ہیں اورہرکنویں کا الگ الگ نام ہے جس سے اس کی پہچان ہوتی ہے۔
درسگاہیں:
چونکہ مسجد اقصیٰ میں مستقل علمی حلقے لگاکرتے تھے، اس لیے مختلف علماء نے وہاں کچھ درسگاہ طرز کی مخصوص نشستیں بنوادی تھیں تاکہ طلبہ وہاں بیٹھ کرعلم حاصل کریں، ایسی جگہیں تقریبا تیس کے قریب ہیں جن میں سے بعض مملوکی زمانے میں اور بعض خلافت عثمانیہ کے دور میں بنائے گئے تھے۔

منبربرہان الدین:۔

یہ منبر سب سے مشہور اور اپنی ساخت کے لحاظ سے ایک یادگار تحفہ ہے، گرمیوں کے موسم میں درس وتدریس اور محاضرات کے لیے اسی کو استعمال کیاجاتا ہے۔
درج بالا سطور مسجد اقصیٰ کا ایک مختصر ساتعارف ہے، یہ سب کچھ مسلمانوں کا ورثہ اوران کی شناخت ہے جسے اسرائیل کے یہودی چھیننا چاہتے ہیں اورابھی تک وہ اپنی سازشوں اور عالمی کفریہ قوتوں کی پشت پناہی کی وجہ سے یہاں خوب گند بھی پھیلارہے ہیں۔ ضرورت ہے کہ امت مسلمہ میں اس حوالے سے مؤثر بیداری پیدا کی جائے تاکہ یہ مقدس مقامات بدخصلت یہودیوں کے وجود سے پاک ہوں اوریہاں ایک اللہ کی عبادت کرنے والوں کامکمل تصرف ہو۔

حصہ