اعجاز رحمانی کی رحلت پر ممتاز شخصیات کے تعزیتی کلمات

84

سیمان کی ڈائری

راشد عزیز:۔
اعجاز رحمانی صاحب سے میرا پہلا تعارف ستّرکے انتخابات کے بعد جماعت اسلامی کے مختلف جلسوں میں ہوا ۔جلسہ شروع ہونے سے پہلے اعجاز رحمانی صاحب نظم پڑھاکرتے تھے۔یہ وہ دورتھا جب ملک ٹوٹ گیا تھا۔ بھٹو اور پیپلز پارٹی کے خلاف نفرت کی ایک شدید لہر تھی۔ اس وقت جب وہ نظم پڑھتے تھے’’ملک کا قاتل قوم کا دشمن ساتھ میں کوئی غدار لیے۔ گلیوں گلیوں گھوم رہا ہے ٹوٹی ہوئی تلوار لیے۔ اُس زمانے میں وہ نظمیں متاثر کرتی تھیں۔ جب اُنھیں نجی محفلوں اور مشاعروں میں سنا تو اندازہ ہواکہ وہ صرف جمہور کے،اسلام کے یا سیاسی شاعرنہیں تھے وہ صرف شاعر تھے ایک پختہ گو شاعر جو نظم بھی بہت خوبصورت کہتے تھے اور غزل بھی اُتنی اچھی کہتے تھے۔ حمد اور نعت میں بھی ان کا ایک مقام تھا۔ کچھ عرصے کے بعد میں نے جسارت جوائن کیا تو میرا اُن سے ایک ذاتی رابطہ ہوگیا۔کبھی میں اُن کے گھر تو کبھی وہ میرے ہاں تشریف لاتے تھے۔ اعجاز رحمانی صاحب نہایت سیدھے سادے انسان تھے۔معاشی طور پر کبھی انھوں نے اس بات کی فکر نہیں کی کہ اسٹیٹس بنانا ہے۔ان کی سچائی اور خلوص کی ایک مثال میں یہ بھی دیتا ہوں کہ باوجود اِس کے کہ اُن پر ایک چھاپ لگ گئی تھی کہ وہ جماعت اسلامی کے شاعر ہیں۔بہت سارے لوگوں کو لبرل بننے کا بہت شوق ہوتاہے۔خاص کر ادیبوں اور شاعروں کو لیکن انھوں نے ساری زندگی اس بات کی پرواہ نہیں کی اِس چھاپ کوجو اُن پر جماعت اسلامی کی تھی۔ اس چھاپ کو انھوںنے نہ صرف برقرار رکھا بلکہ اور گہرا کیا۔جماعت اسلامی سے انھوں نے مرتے دم تک ایک تعلق رکھا۔ آج سے پانچ چھ برس قبل مَیں جسارت چھوڑ چکا تھا اور وہ کہیں سے میرا پتا پوچھ کر گھر آئے تھے۔یہ ان کے خلوص اور محبت کی ایک نشانی تھی۔ میں پھر اس بات کو دوہراؤں گا کہ اعجازرحمانی سیاسی یا مذہبی شاعر نہیں تھے،وہ ایک شاعر تھے اور بہ حیثیت ایک سچے تخلیق کار کے طور پر ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

شکیل احمد صبرحدی (مجلسِ فخرِ بحرین برائے فروغِ اُردومملکت البحرین)۔
بلاشبہ اعجاز رحمانی مرحوم اردو کے عصری ادب میں ایک ایسے ہمہ جہت شاعر کے طور پر یار رکھے جائیں گے جنہوں نے شعری ادب کی تمام اصناف میں طبع آزمائی کی اور عہد حاضر کے ناقدین و اساتذہ ادب سے داد پائی۔انہوں نے غزل، نظم، منظوم سیرت نگاری، نعت جیسے شعری پیرایوں میں ایسی با کمال شعری میراث چھوڑی ہے کہ جس پر آنے والی نسلیں فخر کرتی رہیں گی۔بہ طور شاعر اُن کا سینہ عشق رسول ؐ سے منور تھا، ” سلامتی کا سفر” اس حوالے سے ان کا شعری شاہکار ہے۔ مجلس فخر بحرین، برائے فروغ اردو(مملکت بحرین) نامور و عہد ساز شاعراعجازرحمانی کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتی ہے۔ان کی وفات اردو ادب کے لئے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔مجلس انکے شعری افکار و خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔ یقیناً اعجاز رحمانی کی شخصیت، بیسویں اور اکیسویں صدی کے ادبی افق پر پوری آب و تاب سے چمکتی دمکتی رہی، مجلس فخر بحرین برائے فروغ اردو کے جملہ عہدیداران و اراکین ان کے لیے مغفرت اور اُن کے سوگواران کے لیے صبر جمیل کی دعا کرتے ہیں۔

ڈاکٹر یاسمین فاروقی :۔
اعجاز رحمانی صاحب پرانے دور کی ایک یادگار تھے۔ انھوں نے نعت گوئی کو عشقِ رسولؐکے اظہار کا ذریعہ بنایااور تمام عمر مدحِ محمدمصطفی ؐ میں گزار دی۔ اعجاز رحمانی صاحب اس عہدِ زریں کی روایات اور تہذیب کے امین تھے جو اب ناپید ہوتی جا رہی ہیں۔ مولانا ابوالاعلیٰ مودودیؒ سے وابستگی، استاد قمر جلالوی کی شاگردی اور علی گڑھ سے تعلق ان کی شخصیت سے جھلکتا تھا۔ نعتیہ شاعری میں انھوں نے اپنی ایک علیحدہ اور منفرد شناخت بنائی۔ اعجاز رحمانی صاحب کے جانے سے جو خلا پیداہوگیا ہے، اس کا پُر ہونا ناممکن ہے ۔ ایسے وضع دار اور خالص سوچ رکھنے والے لوگ برسوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ اللہ تعالٰی اعجاز رحمانی صاحب کی مغفرت فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کی مدحتِ رسولؐ میں کہے گئے کلام کو اُن کے لیے آخرت میں نجات کا ذریعہ بنادے۔ آمین

خرم عباسی(بحرین) ۔
’’خوشبو کا سفر‘‘ حمد ونعت نگاری،غزلیات‘ اور نظموں میں لفظی آہنگ، شعری غنایت، جذبے کی عقیدت اور سچائی، زبان کی خوبصورتی اور دلکشی کا نام اعجاز رحمانی ہے۔حمد ونعت نگاری میں آپ کا جواب نہیں۔ حضور ؐ کی شان میں سب سے پہلا نعتیہ قصیدہ میمون بن قیسؓ کا ہے۔ ان کے علاوہ حضرت حسان بن ثابت، عبداللہ بن رواحؓ، کعب بن مالکؓ، ضرار بن ازورؓ اور زیدؓ نے بھی نعتیہ اشعار کہے۔اہلِ بیت میں نعتیہ شاعری کرنے والوں میں حضرت علیؓ، حضرت حمزہؓاورحضرت فاطمۃ الزہرہؓ کے نام سرِ فہرست ہیں۔ اپنے ان بزرگوں کی تقلید میں،جناب اعجاز رحمانی کی ایک شاہکار تخلیق ’’سلامتی کا سفر‘‘ہے جس میں چھ ہزار اشعار ہیں۔اردو کی تاریخ میں یہ پہلا منظوم مجموعہ ہے جس میں بھرپور طور پر بعثت، ظہورِ اسلام، حیاتِ طیبہ کے ماہ و سال، تمام غزوات اور اہم واقعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ جناب اعجاز رحمانی اردو کے عصر حاضر کے ایک ممتاز شاعر تھے۔ ’’دنیا فانی ہے اہلِ دنیا فانی‘‘ اس کے باوجود بہت کم افراد نے اپنی زندگی کا مقصد سمجھا اور اس کے اصولوں کے مطابق زندگی گزاری۔ جناب اعجاز رحمانی بلاشبہ ان لوگوں میں سے ہیں جنھوں نے امکان بھر رضائے الٰہی کا حصول اپنے سامنے رکھا۔ آپ کا اندازِ سخن بہت منفرد تھا۔ آپ کا مخصوص ترنم ہمیشہ ہمارے کانوں میں گونجتا رہے گا۔ آپ کی شاعری ہمارے دلوں کو گرماتی رہے گی۔ رب تعالیٰ آخرت کی منازل سہل فرمائے‘آمین۔

افروز رضوی:۔
جناب اعجاز رحمانی صاحب ایک صاحب اسلوب شاعر تھے۔سچے عاشق رسولؐ تھے۔ نعت گوئی ان کی خاص پہچان تھی اور اگر یہ کہا جائے کہ نعت گوئی میں ان کا کوئی ثانی نہیں تو بے جا نہ ہوگا۔ان کی شاعری قدیم اور جدید کا خوبصورت امتزاج ہے۔ان کی شاعری میں مقصدیت نمایاں ہے۔ وہ شاعری کی ہر صنف پر عبور رکھنے والے ایک بڑے شاعر تھے۔یوں محسوس ہوتا تھا کہ شاعری کی تمام اصناف اور بحور ان کے آگے ہاتھ جوڑے کھڑی ہیں۔اعجاز رحمانی صاحب خوبصورت دل و ذہن کے مالک سادہ طبیعت سب سے محبت کرنے والے انسان تھے۔مشاعرے میں جب کبھی ملاقات ہوتی، بہت شفقت فرماتے تھے۔ابھی اگست کے مہینے میں ریڈیو پاکستان کراچی کے قومی و ملی مشاعرے کی انھوں نے صدارت کی تھی۔ان کا ترنم بھی نہایت شاندار تھا۔ اپنے مخصوص ترنم میں ملی نغمہ پیش کر کے مشاعرے کو چار چاند لگا دیے۔اُس وقت وہ ماشاء اللہ چاق و چوبند نظر آئے،کیا معلوم تھا کہ یہ ہماری اُن سے آخری ملاقات و نشست ہوگی۔اعجاز رحمانی صاحب کی رحلت کے ساتھ ہی اردو ادب کا ایک عظیم باب دنیائے ادب سے رخصت ہو ا اور یہ ایک ایسا نقصان ہے جس کی تلافی ممکن نہیں۔’’ڈھونڈو گے ہمیں ملکوں ملکوں، ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم‘‘ اللہ اعجاز رحمانی صاحب کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے اور ان کے درجات بلند فرمائے۔آمین

ڈاکٹر نثار احمد نثار:۔
اردو زبان وادب کے حوالے سے اعجاز رحمانی ایک اہم شخصیت تھے۔ ان کا شمار کراچی کے سینئرشعرا میں ہوتا تھا۔ انھو ں نے زندگی بھر نعت اور غزل کی ترویج و ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا۔وہ سہلِ ممتنع میں کمال رکھتے تھے۔ اُن کا ترنم دل میں اتر جاتا تھا۔ان کے اشعار سن کر طبیعت خوش ہوجاتی تھی۔ اُن کے انتقال سے ہم ایک اچھے شاعر سے محروم ہو گئے۔

طارق رئیس فروغ:۔
مجھے مقامی روزنامے کے توسط سے بزرگ شاعر اعجاز رحمانی صاحب کا انٹرویو لینے کا شرف حاصل ہوا۔ میرے وہم و گمان بھی نہیں تھا کہ یہ انٹرویو ان کی زندگی کا آخری انٹرویو ہوگا۔ میں نے فون پر ان سے انٹرویو کے سلسلے میں ان کے گھر آنے کی اجازت مانگی۔ انھوں نے بھرپور شفقت کے ساتھ اپنے گھر آنے کی اجازت دی اور فون ہی پر میرے والد مرحوم رئیس فروغ کا ایک شعر پڑھا۔ اعجاز رحمانی صاحب انتہائی محبت اور شفقت سے پیش آئے۔ دوران ملاقات مجھے ایسا محسوس ہوا کہ جیسے میں کسی گھنے درخت کے سائے میں موجود ہوں۔ اللہ تعالیٰ اعجاز رحمانی مرحوم کی مغفرت فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین!

شائستہ فرحت:۔
معروف شاعر اعجاز رحمانی صاحب کا انتقال ہمارے ملک کے لیے بہت بڑا ادبی نقصان ہے۔ یہ وہ خلا ہے جو بہت عرصے تک پُر نہیں ہو سکتا ۔کیوںکہ وہ ایک بہت بڑے اور سینئر شاعر تھے ۔ نعت گوئی میں انھیں خاص مقام حاصل تھا۔ مجھے یہ شرف حاصل ہے کہ اسکول اورکالج کی جانب سے ایسے کمپٹیشن میں حصہ لیا تو متعددبار انعامات محترم اعجاز رحمانی صاحب کے ہاتھوں وصول کیے اور سرٹیفکیٹ بھی حاصل کیے۔ ان کی شاعری اردو ادب اور ہمارے لیے قیمتی سرمایا ہے ۔اعجاز رحمانی صاحب عالمی مشاعروں میں میرٹ پر بلائے جاتے تھے اور جب بھی مشاعرہ پڑھتے، لوٹ کر لے جاتے تھے۔ ان کے انتقال پرہم سب افسردہ اور آبدیدہ ہیں ۔اللہ تعالٰی ان کی مغفرت فرمائے آمین!

سید فیصل محمود:۔

میں نے اعجاز رحمانی صاحب کی شاعری کو تفصیل سے نہیں پڑھا لیکن جتنا تھوڑا بہت پڑھا اور سنا ہے اس کی بنا پر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اعجاز رحمانی صاحب غالباً جگر مراد آبادی، قمر جلالوی، خمار بارہ بنکوی وغیرہ یعنی خالص تغزل کے شعرا کے سلسلے کے آخری شاعر تھے۔ہر چند کہ ان کا سلسلۂ نسب تغزل کے شعرا سے ملتا تھا لیکن اعجاز رحمانی کے کلام، خصوصاً بعد کے کلام میں غمِ جاناں کے بجائے غم دوراں کا غلبہ نظر آتا ہے۔اعجاز رحمانی کا کلام جدید تقاضوں سے ہم آہنگ تھا لیکن شاید اپنے شاعرانہ سلسلۂ نسب کی وجہ سے موجودہ دور کے نام نہاد جدید شعرا میں ان کی اس طرح پذیرائی نہ ہوئی جیسا کہ ان کا حق تھا۔اللہ تعالٰی انھیں اپنی جوارِ رحمت میں جگہ عطافرمائے۔آمین

غزلیں

اعجاز رحمانی

رنگ موسم کے ساتھ لائے ہیں
یہ پرندے کہاں سے آئے ہیں
بیٹھ جاتے ہیں راہ رو تھک کر
کتنے ہمت شکن یہ سائے ہیں
دھوپ اپنی زمین ہے اپنی
پیڑ اپنے نہیں پرائے ہیں
اپنے احباب کی خوشی کے لئے
بلا ارادہ بھی مسکرائے ہیں
دشمنوں کو قریب سے دیکھا
دوستوں کے فریب کھائے ہیں
ہم نے توڑا ہے ظلمتوں کا فسوں
روشنی کے بھی تیر کھائے ہیں
دیکھ لے مڑ کر محو آرایش
آئینہ بن کے ہم بھی آئے ہیں
پے بہ پے راہ کی شکستوں نے
حوصلے اور بھی بڑھائے ہیں
زندگی ہے اسی کا نام اعجازؔ
ہیں وہ اپنے جو غم پرائے ہیں
٭
ہوا کے واسطے اک کام چھوڑ آیا ہوں
دیا جلا کے سر شام چھوڑ آیا ہوں
کبھی نصیب ہو فرصت تو اس کو پڑھ لینا
وہ ایک خط جو ترے نام چھوڑ آیا ہوں
ہوائے دشت و بیاباں بھی مجھ سے برہم ہے
میں اپنے گھر کے در و بام چھوڑ آیا ہوں
کوئی چراغ سر رہ گزر نہیں نہ سہی
میں نقش پا کو بہر گام چھوڑ آیا ہوں
ابھی تو اور بہت اس پہ تبصرے ہوں گے
میں گفتگو میں جو ابہام چھوڑ آیا ہوں
یہ کم نہیں ہے وضاحت مری اسیری کی
پروں کے رنگ تہہ دام چھوڑ آیا ہوں
وہاں سے ایک قدم بھی نہ جا سکی آگے
جہاں پہ گردش ایام چھوڑ آیا ہوں
مجھے جو ڈھونڈھنا چاہے وہ ڈھونڈھ لے اعجازؔ
کہ اب میں کوچۂ گمنام چھوڑ آیا ہوں

حصہ