بادشاہ اور سامری جادوگر

110

کسی ملک کا ایک بہت نیک دل بادشاہ ہوا کرتا تھا۔ وہ عوام سے محبت کرتا تھا اور پورے ملک کے عوام اس سے محبت کیا کرتے تھے۔ اس کے گھر دو شہزادے تو ضرور تھے لیکن اسے ایک بیٹی کی بہت تمنا تھی لیکن کافی عمر گزر جانے کے باوجود بھی اس کی یہ تمنا پوری نہیں ہو کر دی۔ ملک کے سارے عوام نیک دل بادشاہ کے حق میں دعاگو رہتے تھے کہ اللہ ہمارے نیک دل بادشاہ کی یہ تمنا بھی پورے کر دے۔ کیونکہ نیک دل بادشاہ اپنے عوام کی ہر خوشی کا خیال رکھا کرتا تھا اس لئے اس کے عوام بھی یہی چاہتے تھے کہ ہمارا باد شاہ بھی ہمیشہ خوش و خرم رہے۔ باد شاہ کی اس تمنا اور خواہش کا چرچہ ملک کی سرحدوں کے اس پار بھی ہونے لگا۔ نیک دل بادشاہ کے ملک کے ساتھ ایک اور بڑے ملک کی سرحدیں بھی ملی ہوئی تھیں۔ اس ملک کے نیک دل بادشاہ کی شہرت بھی بہت اچھی تھی لیکن یہ بات بڑی تشویشناک تھی کہ اس ملک میں ایک جادوگر بھی رہتا تھا جو سامری جادو گر کے نام سے مشہور تھا۔ وہ جادو گر بادشاہ کیلئے اکثر بڑی مصیبتیں کھڑی کر دیا کرتا تھا۔ وہ تو بادشاہ کی خوش قسمتی تھی کہ اسی کے ملک میں اللہ کے ایک بہت ہی برگزیدہ بندے بھی تھے جس کی وجہ سے سامری جادو گر کے جادو کا ہر حملہ ناکام ہو جایا کرتا تھا۔
باد شاہ کی یہ خواہش کہ اللہ اس کے گھر میں بھی اپنی رحمت (بیٹی) بھیج دے، کی شہرت سامری جادوگر کے کانوں تک بھی جا پہنچی۔ یہ سن کر اس نے ایک خوبصورت نو عمر لڑکے کا روپ بھرا اور اس نو عمری کے روپ میں ایک مشہور معالج بن کر نیک دل بادشاہ کے دربار میں جانے کا قصد کیا۔ اس ارادے کے ساتھ ہی اس نے ایک بہت شاندار منصوبہ بنایا اور اپنے کئی کارندوں کو نیک دل بادشاہ کے ملک کی جانب روانہ کیا تاکہ وہ نیک دل بادشاہ کے دربار میں جانے سے پہلے نیک دل بادشاہ کے دل میں ایسی جگہ بنا سکے کہ جب وہ دربار میں جائے تو اسے وہ عزت و تکریم مل سکے جو کسی بہت ماہر اور بڑے معالج کو مل سکتی ہے۔
سامری جادو گر کے یہ کارندے اس نیک دل بادشاہ کے ملک میں جہاں جہاں بھی جاتے اور جس جس شہر یا بستی میں قیام کرتے وہ ایک ایسے معالج کا ذکر کرتے جو ایسے مریضوں کے مرض کو بھی دور کردیا کرتا تھا جس کے علاج سے کسی بھی شہر کے معالج ہاتھ اٹھا لیا کرتے تھے اور اس کے حق میں دواؤں کی بجائے دعائیں کرنے کی درخواست کیا کرتے تھے۔ سامری جادوگر نے اپنے کارندوں کو کچھ جعلی دوائیں بھی دی تھیں جن کو کھلانے سے بظاہر خطرناک سے خطرناک بیماریوں والے مریضوں کو شفا نصیب ہو جایا کرتی تھی لیکن اصل میں وہ مریض دواؤں سے نہیں بلکہ اس جادوئی جنتر منتر سے ٹھیک ہو جایا کرتے تھے جو سامری جادو گر نے اپنے کارندوں کو سکھا رکھے تھے۔ ان کے صحتیابی کے بعد وہ کہتے تھے کہ جب ہمارے استاد معالج کی دی ہوئی دواؤں سے خطرناک سے خطرناک امراض چند گھنٹوں میں دور ہوجاتے ہیں تو پھر ہمارے استاد کا کیا عالم ہوگا۔ نیک دل بادشاہ کے ملک کے سادہ دل عوام سامری جادو گر کے کارندوں سے اپنے استاد معالج کی تعریفیں سن سن کر اس کو دیکھنے اور اس سے ملنے کی تمنائیں کرنے لگے۔ وہ جب بھی اپنی تمنا کا اظہار سامری جادو گر کے جعلی کارندوں سے کرتے تو ان کا ایک ہی جواب ہوتا کہ ان کے استاد اپنے مریضوں میں اس بری طرح گھرے رہتے ہیں کہ ان کو کہیں اور جانے کا وقت ہی نہیں ملتا۔ ہم تم سب کی درخواست اپنے استادِ محترم تک ضرور پہنچا دیں گے اب یہ آپ سب کی قسمت ہوگی کہ وہ تم سب کو اپنا دیدار کرا سکیں۔ آہستہ آہستہ سامری جادو گر کے بہت پہنچے ہوئے طبیب کی شہرت نیک دل بادشاہ کے کانوں تک بھی جا پہنچی اور اس نے اپنے درباریوں کو حکم دیا کہ کسی نہ کسی طرح اس ماہر معالج کو کہیں سے ڈھونڈ کر ہمارے دربار میں حاضر کیا جائے۔ نیک دل بادشاہ کے کچھ خاص مصاحب ان کارندوں کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے جن کی وجہ سے اس ماہر طبیب کی شہرت کے چرچے ملک کے کونے کونے میں پھیلتے چلے جا رہے تھے۔ سامری جادو گر کے بھیجے ہوئے کارندے کیونکہ کسی ایک مقام پر بہت ہی مختصر قیام کیا کرتے تھے اس لئے نیک دل بادشاہ کے مصاحب جہاں جہاں بھی پہنچتے لوگ ان کے کمال کا ذکر تو بہت شدت سے کرتے نظر آتے لیکن وہ یہ بات بتانے سے قاصر ہی رہتے کہ اب وہ کارندے کہاں ملیں گے۔ نیک دل بادشاہ تک جب یہ اطلاع پہنچی تو اس نے ہر شہر، گاؤں اور بستی کے شاہی ذمہ داروں کو یہ پیغام بھیج دیا کہ ایسے نیک دل لوگ جو کسی بہت ماہر معالج کا ذکر کرتے ہوں اور اس کی دی ہوئی ادویات سے خطرناک سے خطرناک امراض کے شکار مریضوں کا علاج کرنے کے بعد اپنے ماہر معالج استاد کا ذکر کرتے ہوئے دیکھے جائیں تو ان کو فوراً پکڑ لیا جائے اور اس طرح پکڑا جائے کہ انھیں گرفتاری جیسے فعل کا اندازہ نہ ہو سکے اور پھر ان کو بہت عزت و وقار کے ساتھ ہمارے دربار میں حاضر کیا جائے۔
سامری جادو گر کا بنایا ہوا سارا منصوبہ بہت ہی کامیابی کے ساتھ آگے سے آگے بڑھتا چلا جا رہا تھا۔ اس منصوبے کے مطابق سامری جادوگر یہی چاہتا تھا کہ ایک جانب خود اس کی شہرت کا پورے ملک میں خوب چرچہ ہو اور دوسری جانب نیک دل بادشاہ کے تجسس میں اتنا بے پناہ اضافہ ہو کہ وہ پاگلوں کی طرح پورے ملک میں اس کی تلاش و جستجو شروع کردے۔ اپنے بنائے ہوئے منصوبے کے مطابق اسے بڑی کامیابیاں حاصل ہو رہی تھیں۔ وہ اپنے جادو کے زور سے ایک ایک پل کی خبر رکھے ہوئے تھا اس لئے اس نے جادوئی آلات کی مدد سے اپنے کارندوں کو حکم دیا کہ وہ دارالسلطنت کا رخ کریں اور وہاں اسی طرح اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں جس طرح وہ اب تک کئی شہروں اور بستیوں میں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ نیک دل بادشاہ کے درباری ان ہی تلاش میں ہیں اور وہ جیسے ہی تمہاری سرگرمیوں کی اطلاع پائیں گے فوراً تمہاری تلاش میں وہیں آ نکلیں گے جہاں تم لوگ ہوگے۔ جب وہ تم تک آنکلیں اور تم سے نیک دل بادشاہ کے پاس چلنے کا کہیں تو پہلے تو تم انھیں ٹالتے رہنا لیکن جب ان کے ارادے خطرناک دیکھو تو پھر چلے جانا۔ اس کے بعد تمہیں وہاں کیا کرنا ہے، اس کا علم تو تم سب کو پہلے سے ہی ہے۔
جب نیک دل بادشاہ کے درباریوں کو اس بات کا علم ہوا کہ اس کے اپنے دارالسلطنت میں ایسے لوگوں کا ڈیرہ لگا ہوا ہے جو خود بھی خطرناک امراض کا علاج کررہے ہیں اور جب بھی ان کے علاج سے کوئی مریض صحتیاب ہو جاتا ہے تو وہ اپنے استاد کا ذکر بڑے فخر سے کرتے ہیں تو وہ فوراً حرکت میں آگئے اور آخر کا ان کو ڈھونڈ نکالنے میں کامیاب ہو گئے۔ باد شاہ کے درباریوں اور ان کے ساتھ خاص شاہی دستے کو دیکھ کر سامری جادوگر کے کارندوں نے پہلے تو بہت خوفزدگی کا اظہار کیا، جانے سے بھی انکار کیا لیکن جب انھوں نے محسوس کیا کہ آنے والے درباری اور نیک دل بادشاہ کے خاص سپاہیوں کے ارادے خطرناک ہیں تو انھوں نے جانے کی حامی بھر لی۔ ویسے بھی سارے کام منصوبے کے مطابق ہی ہو رہے تھے اور ان کے خوفزدہ ہونے کی اداکاری بھی دکھاوے کی تھی۔ انھوں نے اپنا سب ساز و سامان اٹھایا اور سپاہیوں کے ساتھ لائی گئی بڑی سے گھوڑا گاڑی میں سوار ہو گئے۔
نیک دل بادشاہ کو اطلاع دی گئی کہ آپ نے ہم سب کو جن کا کھوج لگا کر دربار میں حاضر کرنے کا حکم دیا تھا ان کو دربار میں حاضر کردیا گیا ہے تو نیک دل بادشاہ نے کہا کہ ان سب کو بہت عزت و تکریم کے ساتھ پہلے مہمان خانے میں لے جاؤ، ان کی خاطرداری کرو پھر دربار میں پیش کرو ہم بھی تیار ہوکر دربار میں آتے ہیں۔کچھ دیر کے بعد سارے مہمانوں کو دربار میں دوبارہ حاضر کیا گیا۔ نیک دل بادشاہ دربار میں ہی موجود تھا۔ جب وہ سارے دربار میں آکر بیٹھ گئے تو نیک دل بادشاہ نے ان سے کہا کہ ہم اس کی بہت شہرت سن رہے ہیں جس کی تعریف تم سب بہت اچھے الفاظ میں شہر شہر اور گاؤں گاؤں کر رہے ہو۔ ہم نے سوچا کہ اگر تم سب خود اتنے اچھے معالج ہو کہ جو بھی تمہارے پاس آتا ہے وہ صحتمند اور تندرست ہو کر گھر جاتا ہے تو پھر جو تمہارا استاد ہے وہ کتنا ماہر معالج ہوگا۔ یہ سن کر سامری جادوگر کے سارے کارندے بیک زبان بولے کہ آپ کا اقبال بلند ہو، ہمارا استاد ایسا ہی ہے کہ وہ پوجا کے لائق ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی طبیب یا معالج نہیں، ہم سب کے پاس تو اس کی دی ہوئی کچھ دوائیں ہیں جن کو کھانے کے بعد ایسا مریض جس کے علاج سے دنیا بھر کے طبیب ہاتھ اٹھا چکے ہوں، وہ بھی ٹھیک ہوجایا کرتا ہے علاوہ ایسا فرد جس کے دن گنے جا چکے ہوں۔ نیک دل بادشاہ ان کی باتیں غور سے سننتا رہا اور ان کی شریفانہ گفتگو سے متاثر بھی ہوتا رہا۔ جب وہ خاموش ہوئے تو اس نے کہا کہ ہم تمہارے استاد سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔ اس کو ہمارے دربار میں بھیجا جائے۔ یہ سن کر سامری جادو گر کے سارے کارندے کچھ دیر کیلئے خاموش ہو کر بیٹھ گئے۔
نیک دل بادشاہ نے ان کے خاموش ہوجانے کی وجہ دریافت کی تو ان میں سے ایک کارندہ کھڑا ہو گیا اور بہت ادب کے ساتھ عرض کرنے لگا کہ نیک دل بادشاہ سلامت ہم آپ کی بات اپنے استاد تک پہنچا تو سکتے ہیں لیکن ہمارے ادب کا تقاضہ ہے کہ ہم اسے مجبور نہیں کر سکتے۔ آپ ایک نیک دل بادشاہ ہیں، ہمیں یقین ہے کہ آپ ہمارے اس جواب کو حدِ ادب ہی خیال کریں گے اور ہمارے اس جواب پر ہمارے حق میں کوئی سزا تجویز نہیں کریں گے لیکن حقیقت یہی ہے کہ ہمارے دل میں اپنے استاد کیلئے ایسا ہی احترام ہے جیسا احترام آپ اپنے درباریوں سے چاہتے ہیں۔ نیک دل باد نے ان کے سامنے تو کسی جذبے کا اظہار نہیں کیا لیکن ایسے لائق شاگردوں کی قدر اس کے دل میں اور بھی بڑھ گئی۔ نیک دل بادشاہ نے کہا کہ ہم آپ کے استاد کے مثبت جواب کا انتظار کریں گے اور ہمیں پوری امید ہے کہ آپ سب کے استاد ہماری درخواست کو ضرور قبول کر لیں گے۔ نیک دل بادشاہ نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ہمیں علم ہے کہ آپ سب ہمارے پڑوس ملک سے تشریف لائے ہیں اگر آپ چاہیں تو ہم آپ کے ملک کے بادشاہ سے بھی درخواست کر سکتے ہیں۔ یہ بات سن کر وہ سارے کے سارے کارندے دل ہی دل میں بہت ہی پریشان ہو گئے کیونکہ انھیں معلوم تھا نہ تو ان کے ملک کے بادشاہ کو کسی ایسے مشہور طبیب کے وجود کا علم ہے اور نہ کوئی ایسا طبیب جو مردوں تک کو زندہ کردینے کی صلاحیت رکھتا ہو، ان کے اپنے ملک میں تھا، لیکن وہ سب اتنے عیار تھے کہ انھوں نے اپنی اس پریشانی کا اظہار اپنے کسی بھی انداز یا رویے سے نہیں ہونے دیا اور نہایت ادب سے عرض کیا کہ بادشاہ سلامت، ہمارے ملک کے بادشاہ سے درخواست کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، (جاری ہے)۔

حصہ