کوشش

91

سیدہ عنبرین عالم
مزمل کالج سے آکر بیٹھا ہی تھا کہ اسے دادا کے کمرے سے تلاوت کی ریکارڈنگ سنائی دی۔ مطلب تو کیا سمجھ میں آتا، عربی الفاظ بھی سمجھ میں نہیں آرہے تھے۔ بس برکت کے لیے ہر وقت گھر میں تلاوت چلتی رہتی تھی۔ امی نے دسترخوان لگا دیا تھا، اس کی دونوں بہنیں بھی اسکول سے آگئی تھیں، وہ بھی کپڑے بدل کر، منہ دھوکر کھانا کھانے بیٹھ گیا۔ اس نے بہت چاہا کہ تلاوت میں اس کا دل لگے، اسے بھی ایسا سرور آئے جیسا دادا کو آتا ہے، مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا، بلکہ وہ اچھا خاصا بور ہورہا تھا۔ ’’میں ہوں ہی گناہ گار، اللہ پاک کے کلام میں بھی مجھے سکون نہیں ملتا۔‘‘ اس نے افسوس سے سوچا۔
اس نے اپنے کمرے میں جاکر نماز پڑھی۔ وہ اکیلا بیٹھا ہوا تھا۔ ’’شاید میں مسلمان نہیں ہوں، دل میرا کافر ہے، جبھی نماز میں بھی دل نہیں لگتا‘‘ ،اس نے سوچا۔ پھر وہ چپکے سے اٹھ کر دادا کے کمرے میں گیا اور ترجمے والا قرآن وہاں سے لاکر ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر پڑھنے لگا۔ ’’انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے، اس کی کوشش کو ہی دیکھا جائے گا، پھر اس کو مکمل بدلہ دیا جائے گا، آخر کو تمہارے رب کے پاس ہی پہنچنا ہے۔‘‘ (القرآن)
ابھی وہ پڑھ ہی رہا تھا کہ دادا آگئے۔ ’’ماشاء اللہ! ہمارا پوتا قرآن پڑھ رہا ہے۔‘‘ انہوں نے پیار سے کہا۔
’’ہاں دادا! ذرا ترجمہ پڑھ رہا تھا، عربی تو مجھے بالکل سمجھ میں نہیں آتی، ابھی ایک آیت پڑھی ہے۔‘‘ مزمل نے کہا۔
’’تم ابھی چھوٹے ہو، ترجمہ پڑھو گے تو گمراہ ہوجائو گے، عربی پڑھو گے تو ہر لفظ کے بدلے دس دس نیکیاں ملیں گی، پہلے اپنی تجوید ٹھیک کرو۔‘‘
’’دادا! یہ ’’کوشش‘‘ کا کیا مطلب ہے؟ ہمیں اللہ کے لیے کیا کوشش کرنی ہے کہ وہ راضی ہو؟‘‘ مزمل نے پوچھا۔
’’بیٹا! ہمیں تلاوت سننی چاہیے، نماز پڑھنی چاہیے، میلاد کرنے چاہئیں، اسلامی لباس پہننا چاہیے، ماں باپ اور بڑوں کا کہنا ماننا چاہیے، پڑھنا چاہیے۔‘‘ دادا نے سمجھایا۔
مزمل کے چہرے پر بے زاری پھیل گئی۔ ’’کیا یہ سب قرآن میں میرے اللہ نے کہا ہے؟ اللہ کیا چاہتا ہے؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’تم بچے ہو، تمہارا کام صرف کھانا پینا، پڑھنا لکھنا اور کھیل کود ہے، تم ان مسئلوں میں نہ پڑو۔‘‘ دادا بولے۔
’’کمال ہے! محمد بن قاسم نے میری عمر میں سندھ فتح کرلیا تھا، برہان وانی میری عمر میں مجاہد بن گیا تھا، ذاکر نائیک میری عمر میں تفسیریں پڑھتا تھا، کوشش تو ابھی سے ہی شروع کرنی پڑے گی۔‘‘ مزمل نے کہا۔
…٭…
شام کو ابو گھر آئے تو مزمل نے شکایتی انداز میں کہا کہ دادا قرآن کا ترجمہ نہیں پڑھنے دے رہے۔ ’’تم اپنی کتابیں ہی پڑھو، ان شاء اللہ تمہیں وہیں سے تمہارا رب ملے گا، میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی طریقہ اختیار کیا تھا، وہ کہتے تھے کہ پہاڑ دیکھو، اونٹ دیکھو، کتنا عجیب پیدا کیا گیا، آسمان دیکھو۔ یعنی ہر ایک کو اس کی اپنی زندگی میں ہی خدا ملتا ہے، پھر خدا کی کتاب پڑھو تاکہ دل مزید روشن ہوجائے، پھر میں دیکھتا ہوں کہ کیسے کوئی روکتا ہے تمہیں۔ خود خدا کو ڈھونڈ کر مسلمان بنو۔ ہم تو ایسے مسلمان ہیں کہ امی نے کہا کہ اللہ ہے، تو ہم مان گئے کہ اللہ ہے اور ایک ہی ہے۔‘‘ ابو نے بڑے پیار سے مزمل کو سمجھایا۔
’’لو بھلا کیمسٹری، بائیولوجی پڑھ کر کبھی کسی کو خدا ملا ہے!‘‘ مزمل نے سوچا اور اپنی بائیولوجی کی کتاب پڑھنے لگا۔ وہ اپنے سبق سے کہیں آگے نکل گیا۔ ایک ہی Cell ہے، ایک ہی اس کی ساخت ہے، اسی Cell سے اللہ تعالیٰ کتا، بلی بھی بنارہا ہے اور انسان بھی، ہاتھی بھی پیدا کررہا ہے اور ننھا سا بیکٹریا بھی۔ یہ سارے بے جان Cell مل کر جان دار انسان کیسے بنادیتے ہیں۔ وہ پڑھتا گیا، پڑھتا گیا، نور کے در کھلتے گئے، یہاں تک کہ اس کے ہاتھ پائوں کانپنے لگے اور وہ چِلّا اٹھا ’’اللہ ہے، بے شک اللہ ہے۔‘‘ اس کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے، اس کا رواں رواں گواہی دے رہا تھا کہ وہ اللہ کے وجود کو محسوس کرچکا ہے۔

لا الٰہ کہنا پڑتا ہے، الا اللہ کہنے سے پہلے
طاغوت کا انکار ہے، عشق کے اقرار سے پہلے
ایک عشق لازم جوہر ہے، ہر سو ہر فتح سے پہلے
اس کے بغیر تم سمجھ نہیں سکتے، کوئی راز کھلنے سے پہلے
عشق وہ منبع ہے جس کی کرنیں ہر عاشق پر ہیں برابر
تم بھی وہی سوچو گے جو میں سوچوں گا ہر بات کہنے سے پہلے

…٭…
’’ابو! بے شک میں اپنے رب پر ایمان لایا، اب کیا میں داڑھی رکھ لوں؟‘‘ مزمل بولا۔
’’ابو مسکرا دیے۔ ’’میرے بیٹے! میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت داڑھی رکھنا تو ہے ہی، ضرور رکھ لینا، مگر داڑھی سے بھی پہلے میرے نبیؐ کی سنت ہے ’’صادق‘‘ اور ’’امین‘‘ ہونا۔ میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی صرف یہ نہیں ہے کہ ان کے کارٹون بنائے جائیں، بلکہ میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کا باعث درحقیقت وہ لوگ ہیں جو داڑھی بھی رکھتے ہیں، خود کو مسلمان بھی کہتے ہیں مگر صادق اور امین نہیں ہوتے۔ داڑھی کی عزت رکھ سکو گے؟‘‘ انہوں نے پوچھا۔
’’میں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کی حفاظت کروں گا ان شاء اللہ… ابو! اب میں اللہ کی راہ میں کوشش کروں گا، پڑھائی تو مکمل کروں گا کیوں کہ حصولِ علم کا حکم ہے، مگر اب دنیا نہیں دین میرا نصب العین ہے۔‘‘ مزمل نے کہا۔
ابو پھر مسکرا اٹھے۔ ’’ایک بادشاہ تھا، اسے اپنے شہزادے کو اپنے بعد بادشاہ بنانا تھا، اس نے ایک بہت بڑا اور شان دار محل بنایا اور شہزادے سے کہا کہ یہ محل تمہارا ہے، بس اس کے اندر جاکر گھومو اور مجھے آکر بتائو کہ تم نے محل میں کیا کیا دیکھا۔ لیکن جب شہزادہ محل کے اندر داخل ہونے لگا تو بادشاہ نے ایک لبالب بھرا ہوا دودھ کا پیالہ شہزادے کے ہاتھ میں پکڑا دیا اور ایک جلاد ساتھ کردیا کہ اگر دودھ ذرا بھی چھلکا تو شہزادے کی گردن اڑا دینا۔ شہزادہ کئی گھنٹے لگا کر محل گھوم کر آیا۔ بادشاہ نے پوچھا: کیا دیکھا؟ شہزادے نے کہا: کچھ نہیں دیکھا، بس دھیان دودھ کے پیالے پر تھا… بس بیٹا! انسان کی یہی حالت ہے۔ دنیا میں رہنا ہے، سب کچھ کرنا ہے مگر دھیان رہے کہ کوئی عمل، کوئی خواہش، کوئی لفظ حد سے باہر نہ چھلکے۔ اسلام دنیا چھوڑنے کا حکم نہیں دیتا۔‘‘ وہ بولے۔
مزمل بیٹھا سن رہا تھا، مگر اس کے ذہن میں کشمکش چل رہی تھی، کئی سوال اَن کہے تھے، کئی الجھنیں بے تاب کیے دے رہی تھیں۔ ’’ابو مسلمان تو اس لیے بدنام ہیں کہ ہم صادق اور امین نہیں ہوتے، مگر پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت اور امانت پر تمام مکہ کو اعتبار تھا، پھر ان کی رسالت پر شک کیوں تھا؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’کوئی شک نہیں تھا۔‘‘ ابو نے مضبوط لہجے میں کہا۔ ’’اصل میں وہ جس طرح ایمان کو سمجھے تھے، ہم بھی نہیں سمجھ سکے۔ ہم ایمان تو لے آتے ہیں مگر صادق اور امین بننے کو تیار نہیں، جب کہ انہیں یقین تھا کہ صادق اور امین بنے بغیر ایمان کی کوئی حیثیت نہیں۔ اس لیے وہ ایمان نہیں لاتے تھے۔ اور جب وہ ایمان لائے تو ایسا ایمان لائے کہ قیصر و کسریٰ فتح کرلیے، تمام دنیا میں میرے رب کے دین کو پھیلایا۔‘‘ انہوں نے جواب دیا۔
مزمل نے اثبات میں سر ہلایا۔ ’’مگر ابولہب اور ابوجہل جیسے کردار بھی تو موجود تھے۔‘‘ اس نے کہا۔
’’ایسے کرداروں کو ایسے مٹا دیا گیا جیسے وہ کبھی تھے ہی نہیں۔ فتح مکہ کے وقت کوئی ایک بھی ایسا سردار زندہ نہ تھا جو میرے نبیؐ کا کٹر مخالف ہو۔ ایک ابوسفیان تھے، انہوں نے بھی میرے نبیؐ کے پاس آکر اسلام قبول کرلیا تھا۔ ان کی بیٹی پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں تھیں اور ان کے گھر کو امان کی جگہ مقرر کیا گیا تھا۔‘‘ ابو نے جواب دیا۔
’’بیٹا! جو ابتدائی مسلم تھے وہ قرآن کے مقصد اور پیغام کو سمجھتے تھے۔ ساری سائنس کی ابتدا مسلم دور میں ہوئی۔ دوربین، خوردبین، گھڑی، قطب نما… یہ سب بنیادی چیزیں مسلمانوں نے ایجاد کیں۔ جیومیٹری، الجبرا مسلمانوں نے متعارف کروایا۔ اُس وقت یورپ گھٹا ٹوپ اندھیرے میں تھا۔ اس کے بعد مسلمان غیر ضروری مسائل میں الجھ گئے، ایک دوسرے کے دشمن بن گئے اور ہمارا زوال شروع ہوگیا۔‘‘ ابو نے بتایا۔
’’مگر یہ سب سائنس اور علم تو اصل چیز نہیں ہیں، ثواب تو عبادت کرنے سے ملے گا۔‘‘ مزمل نے کہا۔
ابو مسکرا اٹھے۔ ’’تو پھر میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم غارِ حرا میں بیٹھے عبادت ہی کرتے رہتے، انہوں نے عرب کو کیوں فتح کیا! بیٹا! خدا کے واسطے ثواب اور گناہ سے نکل آئو۔ ہم اللہ کے نائب ہیں، ہمیں کائنات پر حکومت کرنی ہے، ہمیں نئی کائناتیں تخلیق کرنی ہیں۔ قرآن میں حکم ہے کہ کائنات کو تسخیر کرو، اور ہم اسی پر اٹکے ہوئے ہیں کہ سورہ فاتحہ کے بعد آمین پڑھنی ہے یا نہیں۔ گناہ اور ثواب اپنی جگہ، اب تو انسان کے امتحان کا آخری دور چل رہا ہے، اب ’’عشق‘‘ کی ضرورت ہے، کیوں کہ عشق میں فائدہ نقصان نہیں دیکھا جاتا‘ بس منزل حاصل کی جاتی ہے۔‘‘ انہوں نے جواب دیا۔
’’یعنی اگر ہم سائنس کے ذریعے کائنات کے اسرار سمجھ جائیں، تو ہم نے کوشش کی؟‘‘ مزمل نے پوچھا۔
’’نہیں بیٹا! کائنات کے اسرار تو انگریز بھی سمجھ گئے، مگر انہوں نے دنیا کو تباہی کی طرف دھکیل دیا۔ یہ کوشش نہیں ہے، کوشش یہ ہے کہ دنیا کو جنت بنادیا جائے، جبھی ہم دوبارہ جنت میں جانے کے لائق ہوں گے۔‘‘ ابو نے کہا۔
’’جنت…!‘‘ مزمل نے سوچتے ہوئے کہا، ’’یعنی حوریں، آرام ہی آرام، انتہائی لذیذ اور طرح طرح کے کھانے، محل، باغات، دودھ اور شہد کی نہریں… کیا دنیا میں یہ سب ممکن نہیں ہے اور وہ بھی سب کے لیے؟‘‘
ابو نے قہقہہ لگایا۔ ’’بیٹا! میرا یہ مطلب نہیں تھا، دنیا کو جنت بنانے کا مطلب ہے کہ دنیا سے بھوک، بیماری، حسد، جنگیں اور سازشیں ختم ہوجائیں، سب کو بنیادی ضروریات اور انصاف بہم پہنچے۔ جو کوئی اس طرح دنیا کو جنت بنانے میں حصہ ڈالے گا، وہ اصل میں اللہ کی راہ میں کوشش کرے گا۔ بیٹا! ہم جنت کے باسی ہیں، ہم کو صرف امتحان کے لیے دنیا میں بھیجا گیا، اگر ہم اِس دنیا کو اپنے عشق، قربانی اور کوشش سے جنت بنانے میں کامیاب ہوجائیں تو ہمیں جنت واپس بھیج دیا جائے گا۔‘‘ وہ بولے۔
مزمل کچھ الجھا ہوا تھا۔ ’’ابو! میرا رب تو قرآن میں گناہ اور ثواب کو ہی تحریکی قوت کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ یہ عشق کا فلسفہ تو تابعین کے بعد کچھ صوفیائے کرام نے ایجاد کیا، یہ اسلام تو نہیں؟‘‘ وہ بولا۔
’’درست‘‘۔ ابو نے اپنا سر ہلایا، ’’مجھے بالکل اختلاف نہیں ہے۔ تم کو ظفر ماموں یاد ہیں جو پاک آرمی میں ہیں۔ کنٹرول لائن پر جھڑپ کے دوران ان کی دونوں ٹانگیں اور ایک آنکھ ضائع ہوگئی، کیا یہ سب انہوں نے اپنی تنخواہ کے لیے کیا؟ حضرت بلال حبشیؓ کو گرم ریت پر لٹا کر ان کی کھال اور چربی پگھلائی جاتی تھی، کیا وہ ثواب کے لیے تھا؟ کیا عافیہ صدیقی پر جو کتے چھوڑے جاتے ہیں تو وہ ثواب کی خاطر برداشت کرتی ہیں؟‘‘ انہوں نے پوچھا۔
’’نہیں! ثواب کی نیت سے تو کبھی کبھی نماز پڑھنے کی بھی ہمت نہیں ہوتی، یہ سب برداشت کرنا تو کسی بہت ہی اعلیٰ جذبے کی کارفرمائی ہے، شاید اسی کو عشق کہتے ہیں۔ ابتدائی طور پر نیکی کی طرف راغب کرنے کے لیے گناہ اور ثواب کو استعمال کیا گیا، مگر اصل مومن کی منزلِ مقصود حوریں اور محل نہیں بلکہ ذاتِ خداوندی ہے۔ جس دور میں اسلامی دنیا میں سائنسی علوم کو معراج ملی، اسی وقت سے عشق کی اصطلاح استعمال ہونے لگی۔ آج بھی برہان وانی، ذاکر نائیک، مرسی اور ایسے کئی لوگ عشق کا مظہر ہیں۔ یہ لوگ صرف ثواب کی خاطر تو اپنی زندگیاں تباہ نہیں کررہے، یہ تو اپنے رب کو پالینے کی کوشش ہے، سچی کوشش۔‘‘ مزمل نے کہا۔
’’زبردست! اب مجھے بتائو کو کیا دنیا کو جنت بنانے کے لیے، اسلامی نظام قائم کرنا بھی کوشش ہے؟‘‘ ابو نے پو چھا۔
’’بالکل، جیسا کہ میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے، انہوں نے تمام عرب میں میرے رب کا نظام قائم کیا۔ داڑھی رکھنے اور پائنچے اونچے کرنے کے علاوہ، یہ سنتیں بھی توجہ کے لائق ہیں، ایک مومن کی کوشش مختلف سمتوں میں ہیں جو قرآن سے اسرار و تحقیق کے کلیے تلاش کرتے ہیں، جو قرآن سے زندگی و معیشت و معاشرت کے قرینے نافذ کرتے ہیں، جو اللہ کی مخلوق کے لیے آسانیاں پیدا کرتے ہیں، جو شیطانی قوتوں کو نیست و نابود کرتے ہیں، جو انصاف، محبت اور ایمان داری کو دنیا میں رواج دیتے ہیں۔ ہر مومن جانتا ہے کہ وہ اپنی اوقات میں رہتے ہوئے کیسے کوشش کر سکتا ہے، مگر کوشش سب کو کرنی ہے، کیوں کہ ہمیں اپنے رب کے پاس پہنچنا ہے۔‘‘ مزمل نے جو سمجھا تھا، سب کہہ ڈالا۔
’’شاباش بیٹا! مگر جو بھی کوشش ہو اُس کا منبع اللہ کریم کا عشق ہو، رہنما اللہ کی کتاب ہو، اور مقصد اپنے رب کو حاصل کرنا ہو۔ ورنہ کوشش کرنے والے ایٹم بم بھی بنا بیٹھتے ہیں، لیکن اگر اللہ کا ڈر ہو تو گمراہی ممکن نہیں۔ پھر جو کوشش ہوگی وہ بھلائی اور خیر ہوگی۔‘‘ ابو نے کہا۔
’’شکریہ ابو! ان شاء اللہ میں اپنے رب کی رضا کے لیے ہر سمت کوشش کروںگا۔‘‘ مزمل نے کہا۔
’’شاباش میرا بیٹا!‘‘ ابونے مسکراتے ہوئے مزمل کی پیٹھ تھپتھپائی۔

حصہ