میری وال سے

85

افشاں نوید
آج سویرے پارک میں خاصی چہل پہل تھی۔کچھ والدین چھوٹے بچوں کے ساتھ تھے۔ ایک طرف یوگا کی مشق میں زیادہ تر بڑی عمر کے لوگ مصروف تھے۔
ایک کارنر دیکھنے میں اسکالرز کارنر لگتا ہے۔ یہاں ادھیڑ عمر سے زیادہ کے اصحاب براجمان ہوتے ہیں۔ واک کرتے ہوئے ان کا ڈسکشن آپ سن سکتے ہیں۔کبھی کسی کتاب پر تبصرہ،کبھی مسئلہ کشمیر اور حکومت،کبھی شاعرانہ تکلم، کبھی کرکٹ،کبھی کچھ۔
کچھ نوجوان یوں دوڑتے ہیں جیسے خلاء میں موٹر بائیک چلا رہے ہوں۔ اللہ ان کو سلامت رکھے۔ والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہیں یہ۔
کچھ لوگ واک کے بجائے ایکسر سائز کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس کے لیے کوئی گوشہ مختص کرلیتے ہیں۔کچھ ڈھلانوں والے ٹریکس کا انتخاب کرتے ہیں۔ اکثر خواتین واک کے لیے بھی باحجاب آتی ہیں (مجھے آسٹریلیا کے پارک اور ساحل یاد آجاتے ہیں جہاں خواتین کی مختصر لباسی شاید شرط ہوتی ہے) یہاں کئی خواتین کے ہاتھ میں تسبیحات۔ وہ فجر کے بعد کے ورد کے لیے پارک کا انتخاب کرتی ہیں۔
سورج نکلتے نکلتے کچھ اضافے ہوتے جاتے ہیں، کچھ کمی۔ آس پاس کی دکانیں کھلنے لگتی ہیں اور اسکولوں کی گاڑیوں کی رونق شروع ہوجاتی ہے۔ دونوں متصل پارک خوب جوبن پر ہوتے ہیں طلوع آفتاب اور غروبِ آفتاب کے وقت سے رات تک۔
ایک پیغام ہوتا ہے یہاں کہ
زندگی بڑی نعمت ہے۔ صحت کی حفاظت کے لیے کوئی قربانی بڑی نہیں۔ وقت بھی نکالنا چاہیے اور مشقت بھی برداشت کرنی چاہیے۔آپ کے ارادے تب مضبوط ہوتے ہیں جب آپ کے اعصاب مضبوط ہوں۔
گھر آکر میز پر پڑا آج کا اخبار اٹھایا اور خبروں پر نظر ڈال کر اپنا پسندیدہ کالم والا ادارتی صفحہ پلٹ لیا۔
صاحب نے نیوز چینل لگا لیا۔ ہر جگہ ایک ہی موضوع ہے اور کئی دن سے ہے کہ مولانا فضل الرحمن کو دھرنا دینا چاہیے یا نہیں۔ اس کے نقصانات زیادہ ہیں کہ فائدے ملکی سیاست میں؟
ایک صحت مند قوم کے لیے کیا سیاست کے سوا کوئی موضوع نہیں ہونا چاہیے؟ اتنی کوریج کہ ہر سیاست دان صرف دھرنے پر بات کررہا ہے۔ ساری حکومتی مشینری اسی ایک کام پر لگی ہے کہ دھرنے کو ناکام کرنا ہے۔ کشمیر ایشو کہیں عقب میں گم ہوگیا ہے۔
نہ میڈیاکو عالمی سیاست سے غرض، نہ عالمی ادب سے، نہ خلائی تحقیقاتی اداروں کے منصوبوں سے… ایک زرعی ملک کے مسائل کے حل کیا ہیں، توانائی بچانے، استعمال شدہ اشیاء کی ری سائیکلنگ، فن و تحقیق، وقت کے چیلنجز، روزگار کے لیے فنی مہارتیں…کتنے ہزار موضوعات ہیں سیاست کے علاوہ بھی، مگر قوم صحت مند کیسے ہو جب سیاست کے سوا اس کے پاس موضوع ہی کوئی دوسرا نہ ہو…!
کیا ہم بائیس کروڑ لوگوں کا سب سے اہم مسئلہ مولانا کا دھرنا ہے؟ یا حکومت کی سانسیں رکی ہوئی ہیں اور وہ ساتھ قوم کو بھی انکوبیٹر میں رکھنے پر مُصر ہے۔
پچھلے ہفتے ذہنی صحت کا عالمی دن منایا گیا۔ افسوس ہوتا ہے کہ قوم سے ذہنی صحت چھیننے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی… نہ سیاست دانوں نے، نہ میڈیا نے…
٭٭٭
بظاہر یہ دیواروں پر بنی لکیریں کسے اچھی لگتی ہیں! لیکن سچ پوچھیں مجھے یہ کسی مایہ ناز مصور کی شاہکار پینٹنگ سے زیادہ پیاری ہیں۔ اب سے بیس برس قبل میرے گھر کی دیواروں پر یہ رنگ برنگی پنسلوں اور پین کی لکیریں ہوتی تھیں۔ تب عجیب سی جھینپ آتی تھی کہ مہمان کیا کہیں گے کہ سلیقہ نام کی چیز نہیں، ایسے سرپھرے بچے ہیں کہ دیواریں گندی کی ہوئی ہیں۔
وقت دبے پاؤں سرک لیا۔ بچوں نے کتابیں، قلم سنبھالے تو دیواروں سے ان رنگوں کا رشتہ ٹوٹ گیا۔ اب بیس برس بعد جب نواسے، نواسی کے ہاتھ میں یہ پنسل اور مومی رنگ آئے اور انھوں نے دیواروں سے باتیں کیں تو سرشاری کی کیفیت بتا نہیں سکتی۔ ایسا نہیں کہ دانستہ پنسلیں تھمائیں کہ ایسا کرو۔ بس ڈرائنگ بک پر کرتے کرتے دیواروں نے سرگوشی میں کچھ کہا اور انھوں نے لمحوں میں رنگوں کا جادو جگا دیا۔ بقیہ اہلِ خانہ تو منہ میں انگلی دابے حیران کہ اتنی گندی کرادیں دیواریں… مگر میں سوچنے لگی کہ جب بچے محسوسات کی دنیا میں داخل ہوتے ہیں تو ان رنگوں سے اپنی شخصیت کی تکمیل کرتے ہیں۔ جیسے کارٹون کو اپنا دوست سمجھتے ہیں اور جانوروں کے پیچھے بھاگتے ہیں۔ ذرا بڑے لڑکے طوطے اور چوزے خریدتے پھرتے ہیں۔ اپنے اردگرد زندگی سے ناتا جوڑتے ہیں۔
بیس برس پلک جھپکتے گزر گئے۔ سوچیں بدل گئیں، زندگی کو برتنے کے زاویے بدل گئے۔ ان بیس برسوں میں جب کسی کے گھر کی دیواروں پر ایسی لکیریں دیکھتی تھی تو بڑا رشک آتا تھا کہ یہاں منے منے سے ہاتھ ہیں جنھوں نے اپنی پنسل پر گرفت سیکھی ہے اور دیواروں پر حالِ دل رقم کیا ہے۔
کسی صحن میں پڑے پلاسٹک کے کھلونے، بیٹ بال، چھوٹی چھوٹی کاریں بتا رہی ہوتی ہیں کہ یہاں بچے ہیں، اللہ کے گلشن کے پھول۔ یہ بکھرے بکھرے گھر جنھیں مائیں سارا دن سمیٹ سمیٹ کر خود بکھرنے لگتی ہیں، بس یہی گھر خاندان ہیں۔ یہی حاصلِ زیست ہے۔
ہم اپنے بچوں کے بچپن سے زیادہ اُن کے بچوں کے بچپن سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ بچپن کیا چیز ہے، ان بچوں کے ماں باپ سے زیادہ ان کے ماں باپ انجوائے کرتے ہیں ان بھولی بھالی باتوں اور نت نئی شرارتوں کو۔ جب دوبرس کی زینب اپنا نام ’’جے مم‘‘ بتاتی ہے تو فضا میں رنگ برنگے غبارے سے بکھر جاتے ہیں۔
یہ ہاتھ جنھوں نے پنسل پکڑنا سیکھی ہے، یہی تو اگلی دنیا ہے جنھیں پتا نہیں ورثے میں ہم کیا دے کر جارہے ہیں؟
٭٭٭
جانے کس مٹی سے بنی ہیں! چاہے ملاقات ہو یا فون پر دعا سلام، دل کا بوجھ بڑھ ہی جاتا ہے۔
کل ہی کی بات ہے، میں نے کہا ’’آپ کے شوہر پندرہ روز سے بستر پر ہیں( فریکچر کے باعث)، آپ تو تیمارداری سے ہلکان ہورہی ہوں گی۔ ان موقعوں پر مہمانوں کی آمد الگ ایک عنوان۔ ظاہر ہے عیادت کے لیے دوست، احباب تو آئیں گے۔ ان کی مہمان نوازی بھی لازم ہوجاتی ہے(ایک اخلاقی تقاضا بنتی ہے)۔‘‘
بولیں ’’ارے کون سی میں نے زندگی بھر خدمت کی ہے۔ یہ تو اللہ نے موقع دے دیا۔ ویسے بھی میاں صاحب کم سے کم پر گزارہ کرنے والے قناعت پسند آدمی ہیں۔ تھوڑے پر راضی رہتے ہیں۔ بیماری میں بھی ضرورتاً ہی آواز دیتے ہیں۔ اس بہانے ان کے بھائی، بہنیں، بھتیجے وغیرہ آگئے تو خوب رونق رہی، ورنہ کس کے پاس وقت رکھا ہے آج کے مصروف دور میں، فجر میں سویرے اٹھ کر ایک دوکھانے اور اسنیکس کا کچھ تیار کرلیتی تھی کہ مہمانوں کے سامنے کچن میں جاؤ تو برا سا لگتا ہے کہ وہ کہتے ہیں ہم تو تیمارداری کے لیے آئے اور آپ نے کچن سنبھال لیا!! رشتے نبھانا بھی مشکل ہوگیا اب سماج میں۔ سوچتی ہوں یہ خاندان ہی تو اصل سرمایہ ہے۔‘‘
پچھلے دنوں بیٹی کے ہاں ولادت ہوئی، اس کے دونوں شریر سے ننھے بیٹے ان کے گھر رہے۔ اس کی ساس بیمار تھیں۔ پھر بیٹی مہینہ بھر رہ کر گئی میکہ۔
میں نے فون پر کہا ’’اچھی خاصی ایکسرسائز ہوگئی آپ کی۔ کمر توڑ ذمہ داری ادا کی آپ نے‘‘۔ بولیں ’’نہ پوچھیں، بچوں نے اتنی خوشیاں دیں کہ اضافی آکسیجن اسٹور کرلی میں نے اور صمدصاحب نے۔ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوتے تھے ہم ان معصوم بچوں کی باتوں اور شرارتوں سے۔ یوں تو مہینے میں ایک آدھ دن ہی آپاتی ہے، اب اللہ نے جی بھر کے بچوں کا ساتھ نصیب کیا۔ اسی بہانے وہ بھی رہ لی۔ ذرا کھڑی ہوئی تو روٹی ہانڈی میں بھی ہاتھ بٹانے لگی۔ میں نے کیا خدمت کی، وہی لگی رہتی تھی امی دودھ پی لیں، بابا دوا وقت پر لیں، آج واک پر کیوں نہیں گئے آپ دونوں؟ امی آرام کے وقت موبائل آف رکھیں۔کیسی رحمت ہوتی ہیں یہ بچیاں بھی‘‘۔ وہ اپنے والد کو انتقال سے قبل لے آئیں اور چھ ماہ خوب خدمت کی۔ ان کے سوئم کے دن کسی نے سرگوشی میں کہا کہ بہو کا (یعنی ان کی بھاوج کو) ایسے موقع پر والد کو آپ کے گھر بھیجنا مناسب نہ تھا۔ بیٹیوں سے زیادہ بیٹوں کی ذمہ داری ہے۔ بولیں ’’میرے لیے تو سعادت تھی باپ کی خدمت۔ مجھے فکر ہے کہ ہم اولادوں سے جو تقصیر ہوئی اُن کی خدمت میں اس کا اللہ ہم سے حساب نہ لے۔ بھائی نے بھی اپنا سا حق ادا کیا۔ یہ تو جنت کے دروازے ہیں، جب تک کھلے ہیں تب تک داخلہ مفت، جب بند ہوگئے تو ہم سچ مچ یتیم ہوجاتے ہیں۔‘‘
چھ ماہ قبل بائی پاس ہوا، کئی ہفتہ بستر کو پیاری رہیں۔ ایک بار آہ سنی نہ کراہ۔ جب سنا تو یہی کہ فرشتہ سرہانے دعاؤں پر آمین کہنے کو موجود ہے، کیا نصیب ہیں میرے، گناہ جھڑنے کا موقع فراہم کردیا رب نے۔
نہ موسموں کا گلہ، نہ اپنوں سے شکایت۔ سخت گرمی میں فلاں ٹھنڈے کا اصل لطف محسوس ہوا۔ مہمانوں کی تواضع ہوم میڈ آئسکریم سے کی۔ شدید سردی میں انڈوں کے حلوے پڑوسیوں کو بھیجے۔ فلاں سوپ، فلاں روٹی، فلاں ساگ۔
اپنی دنیا میں مگن، شکوے شکایت سے کوسوں پرے۔
بات بنتی ہے ناں کہ ایسے لوگوں سے آپ الجھ جاتے ہیں کہ پتا نہیں یہ کس ٹائم زون میں رہتے ہیں… اپنی الگ ہی دنیا۔
٭٭٭
سانحہ لیاقت پور…اور…مورل گراؤنڈ!!!
آج کراچی جیل میں قیدی عورتوں کے ساتھ وقت گزرا۔آپ انھیں دیکھیں تو ان کی آنکھوں میں آنسو ٹھیر گئے ہیں۔ آپ ان سے ملیں، جہاں ان کو جرم کی شرمندگی ہے اور جیل کی دیواروں سے وحشت ہے اس سے بڑھ کر اپنوں کے سلوک نے انھیں ڈس لیا ہے۔ جب ان کی آنکھیں پتھرا جاتی ہیں اکلوتے بھائی کے انتظار میں،کبھی چار میں سے کسی بہن کی آہٹ و آواز کو کان ترستے ہیں۔ کسی کو بچوں سے گلہ ہے، تو کہیں والدین سے جنھوں نے پلٹ کر خبر ہی نہ لی۔
آزمائش میں جہاں ایک طرف اپنی قوتِ برداشت کی آزمائش ہوتی ہے، وہیں اپنوں کے رویّے کو برداشت کرنے کے حوصلے کا بھی امتحان ہوتا ہے۔ اپنوں کا ’’اپنا پن‘‘ جب کبھی آزمائش کی گھڑیوں میں سامنے آتا ہے تو انسان حادثے سے بڑے اس سانحے سے بکھر جاتا ہے۔
ہوائی سفر کے درمیان جب ہوا کا دباؤ گڑبڑ ہو تو کاک پٹ سے آتی پائلٹ کی آواز رکتی سانسیں بحال کردیتی ہے کہ ’’ہوا کے دباؤ میں کمی یا اضافے کے باعث پرواز کی ناہمواری معمول کی بات ہے۔ اس وقت ہم اتنے ہزار فٹ کی بلندی پر ہیں۔ امید ہے ہمارا عملہ آپ کی خدمت میں مصروف ہوگا۔‘‘
کشتی بیچ بھنور میں ہو تو آسمان پر خدا اور بھنور میں ناخدا۔
ہماری بدنصیبی کی انتہا یہ ہے کہ جب ہم کسی قومی سانحے سے دوچار ہوتے ہیں تو کاک پٹ سے ہمیں کبھی سہارا نہیں ملتا۔
وہ آواز، وہ انداز سامنے نہیں آتے جن کی ہم اس ریاست کی کشتی کے ناخداؤں سے توقع رکھتے ہیں۔
لیاقت پور کے سانحے کو تقدیر کا لکھا سمجھ کر صبر کرنا بھی چاہیں تو آج وزیراعظم کا خطاب، جس میں رسمی ہمدردی کے ماسوا ڈھونڈے سے بھی کوئی رنج وغم نظر نہ آیا۔ سچ پوچھیں تو نیوزی لینڈ کی مسجد میں فائرنگ کے واقعے کے بعد وہاں کی وزیراعظم جیسنڈا کی بدن بولی نے ہمارے دل جیت لیے تھے۔ وہ کئی روز غمزدہ خاندانوں کے بیچ سیاہ لباس میں غم والم کی تصویر بنی نظر آئیں۔کتنی اپنائیت تھی اُن کے رویّے میں۔
سانحہ تو گزر گیا مگر آج شیخ رشید کا جو رویہ سامنے آیا، ان کی وزارت میں ہر ماہ ٹرین کا ایک حادثہ ہوا ہے چھوٹا یا بڑا۔ وقت کی نزاکت کو دیکھنا چاہیے۔سینکڑوں خاندانوں سمیت پوری قوم شہداء کے غم سے نڈھال ہے اور وزیر ریلوے فرما رہے ہیں کہ… سب سے کم حادثات میری وزارت میں ہوئے… نیز، ہم پیسہ کہاں سے لائیں اسکینرز خریدنے کے لیے؟
وہ تو ستاروں کی گزرگاہوں کی خبر لاتے ہیں۔ ان کو وزارت کی خبر ہونا چاہیے۔ ان کو میڈیا پر پگڑیاں اچھالنے سے فرصت ملے تو پتا چلے کہ ریلوے کی وزارت کے تقاضے کیا ہوتے ہیں؟ ہماری ایلیٹ کلاس تو ریلوں میں دھکے کھاتی ہی نہیں، ان بے چاروں کو کیا پتا ٹرینوں کے اندر کی صورت حال اور ریل کی پٹریوں کے ادھڑنے سے کیا مسائل پیدا ہوتے ہیں؟
میڈیا پر حکومتی پارٹی کے جتنے لوگ صفائیاں پیش کررہے تھے، کوئی بھی عوام کی ہمدردی حاصل نہ کرسکا اپنے کھوکھلے دلائل سے۔ مسافر کہہ رہے ہیں رات سے تاروں کے جلنے کی بو تھی۔ حکومتی زعماء میڈیا پر برس رہے ہیں کہ آگ مسافروں کا چولہا پھٹنے سے ہوئی۔
حادثات ساری دنیا میں ہوتے ہیں، لیکن حادثات کے بعد جس طرح ہم تنہائی کا شکار ہوتے ہیں وہ تنہائی قیدی عورتوں کی طرح ہماری آنکھوں میں آنسو بن کر ٹھیر گئی ہے۔

حصہ