معلم انسانیت

102

افروز عنایت
پچھلے دنوں ایک تاریخی واقعہ پڑھنے کا موقع ملا: ۔
پرانے وقتوں میں ایک شخص نے حج کے ارادے سے بڑی مشکل سے زادِ راہ جمع کیا اور (حج کے) سفر کے لیے روانہ ہوگیا۔ ظاہر ہے پرانے وقتوں میں آج کی طرح جدید سواریاں اور سہولتیں تو میسر نہ تھیں، لہٰذا وہ توکل خدا کہیں پیدل، کہیں کسی مسافر کے ساتھ خچر یا گھوڑے پر سفر کرتے کرتے مکہ مکرمہ کے قریبی شہر پہنچ گیا۔ ایک سرائے سے اس نے کچھ کھانا خریدا اور مناسب جگہ دیکھ کر کھانا کھانے کے لیے بیٹھ گیا، اور اپنے سامان اور پیسوں کی پوٹلی اپنے برابر رکھ دی۔ وہیں سے ایک لٹیرے کا گزر ہوا، اُس نے اُسے کھانا کھانے میں مشغول دیکھا تو پوٹلی اُٹھا کر بھاگ گیا۔ مسافر بیچارے نے بہت چیخ پکار کی لیکن چور بھاگنے میں کامیاب ہوگیا۔ کچھ لوگ مسافر کی مدد کے لیے بھی آئے لیکن بے سود۔ مسافر بیچارہ ہاتھ مَلتا رہ گیا کیونکہ اس کا تمام زادِ راہ اُسی پوٹلی میں تھا۔ خیر اس نے کھانے کے دو تین لقمے پیٹ میں ڈالے اور شکر ادا کرکے آگے رب کے بھروسے پر سفر شروع کیا۔ اس کی مدد کے لیے آنے والے لوگوں میں سے ایک شخص کو شہر کے دوسرے حصے میں کسی کام کے سلسلے میں جانا تھا، کچھ ہی مسافت کے بعد اس نے راستے میں ایک شخص کو دھاڑیں مارمار کر روتے پیٹتے دیکھا، وہ اس کے نزدیک گیا اور ماجرا پوچھا کہ تجھ پر کیا بیتی ہے جو تُو رو پیٹ رہا ہے؟ اس نے بتایا ’’میں چور ہوں، فلاں جگہ سے گزر رہا تھا ایک آدمی کا یہ سامان چوری کرکے بھاگا، اُس نے مجھے اس بری طرح بددعا دی ہے کہ میری بینائی جاتی رہی ہے، مجھے کچھ نظر نہیں آرہا، خدارا میری مدد کریں، اسے تلاش کریں، میں اُس سے معافی مانگوں گا اور اُس کا سامان بھی لوٹائوں گا، جب تک وہ مجھے معاف نہیں کرے گا میں اسی طرح درد سے تڑپتا رہوں گا۔‘‘ مسافر کو اس پر رحم آگیا، اس نے کہا ’’بھائی گرچہ تم نے بڑا گناہ کیا ہے، لیکن میں تیری مدد کروں گا، اُس شخص کو میں نے فلاں راستے کی طرف جاتے دیکھا ہے، چل میرے ساتھ اُسے تلاش کرتے ہیں‘‘۔ دو تین اور آدمی بھی اس کے ساتھ ہولیے۔ کچھ ہی دیر میں مطلوبہ مسافر کو انہوں نے پالیا۔ اس نے کہا ’’میں نے تو بددعا نہیں دی بلکہ اسی وقت معاف بھی کردیا تھا۔‘‘ اِس بات پر سب حیران رہ گئے، کہا: آپ نے اِسے معاف بھی کردیا جبکہ اس نے چوری کی تھی، کیوں؟
مسافر مسکرایا اور سب کی طرف دیکھ کر گویا ہوا ’’اس لیے کہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو انتظار کی تکلیف دینا نہیں چاہتا۔ مجھے معلوم ہے میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہم امتیوں سے اتنا پیار ہے کہ وہ ہم سب کی (اللہ سے) بخشش کروا کر پھر خود جنت میں داخل ہوں گے، اور حقوق العباد کی معافی کا نہ جانے کیا حال ہو، میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلمکو نہ جانے کتنا انتظار کرنا پڑے، یہ مجھ سے برداشت نہیں۔ میں صدقے جائوں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر، جو ہم سب کی بخشش کے منتظر رہیں گے۔‘‘ (سبحان اللہ)
اس واقعے کو پڑھ کر دل کی گہرائیوں سے احساس ہوا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلمکی محبت کا تقاضا یہی ہونا چاہیے کہ ہماری وجہ سے انہیں کوئی تکلیف نہ پہنچے۔ ہمارے نبیؐ کی محبت کا تقاضا ہے کہ ہم ان کے لائے ہوئے احکاماتِ الٰہی اور ان کی سنت کو پکڑ لیں، پورے کے پورے دین میں داخل ہوجائیں تا کہ رب ہم سے راضی ہوجائے۔ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کا مہینہ ہے، تمام مسلمان اس مہینے کو نہایت جوش و خروش سے مناتے ہیں۔ محافلِ میلاد، جلسے جلوس، چراغاں سے گلیوں اور محلوں میں رونق کے مینار آنکھوں کو خیرہ کردیتے ہیں، درود و سلام کے نذرانوں سے در و دیوار گونجتے ہیں، بلکہ آج کل کچھ ’’نئی چیزیں‘‘ بھی دیکھی جاسکتی ہیں (استغفراللہ)۔ کیا نبیؐ کو خوش کرنے یا ان کی محبت کا تقاضا صرف یہیں تک محدود رہ جاتا ہے؟ آپ سب بیک وقت کہیں گے کہ نہیں، ہرگز نہیں، بلکہ نبیؐ سے محبت کرنے کا دعویٰ کرنے والے دینِ اسلام کے احکامات اور سنتِ نبوی کی پیروی کو اپنا ایمان بنالیں گے، بدعات اور فضول چیزوں سے درگزر کریں گے،اٹھتے بیٹھتے نبیؐ کو درودِ پاک کے نذرانے کے ساتھ ساتھ ہر وہ عمل خوش دلی سے کریں گے اور دوسروں کو بھی ترغیب دیں گے جن اعمال سے آپؐ کی زندگی منور تھی، جس کو صحابہ کرام اور تابعین و تبع تابعین نے اپنا طور طریقہ بنایا۔ آپؐ کی زندگی کا ہر روپ، ہر رنگ اعلیٰ و معتبر ہے، اس رنگ کو اپنے اوپر ڈھالنا ہی مسلمان کی پہچان ہے چاہے وہ شوہر ہو، باپ ہو، دوست ہو، استاد ہو، رہنما ہو،یا فوج کا سربراہ… ہر روپ سبحان اللہ اعلیٰ، افضل و معتبر ہے۔ میں یہاں آپؐ کے کردار کی صرف ایک جھلک آپ کے سامنے رکھوں گی، وہ ہے استادِ محترم، معلم اعظم۔ اللہ تبارک تعالیٰ نے قرآن میں حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو معلم کہا ہے، اور آپؐ نے بھی ارشاد فرمایا کہ مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا (سبحان اللہ)۔ بیشک علم لینا اور دینا نبیوں کا شیوہ ہے۔ قرآن پاک کی تمام تعلیمات اور احکام الٰہی ہم تک اسی ’’معلم اعظم‘‘ کے ذریعے پہنچے ہیں، اور اس ’’معلم اعظم‘‘ کا کیا شاندار اندازِ بیان اور طریقہ کار تھا جس نے عرب و عجم کو اپنا گرویدہ بنالیا۔ دشمن سے بھی ملتے تو وہ آپؐ کے گن گانے لگتا (سبحان اللہ)۔
آپؐ پر جو وحی نازل ہوتی، جو احکاماتِ الٰہی پہنچتے اُن پر پہلے خود عمل پیرا ہوتے۔ یہی ایک استادِ محترم کی معراج ہے۔ ایک استاد، معلم اور عالم کی یہ خصوصیت ہونی چاہیے کہ وہ جو علم حاصل کررہا ہے اس سے پہلے اپنی ذات کو آراستہ کرے، اس کے بعد دوسروں کو اپنی طرف متوجہ کرے۔ آپؐ کی ذاتِ اقدس ان تمام خوبیوں سے منور تھی جو آپؐ امتِ مسلمہ کو دینا چاہتے تھے۔ یہی تعلیم آپؐ نے صحابہ کرام کو عنایت فرمائی۔ صحابہ کرام ان احکامات کی تعلیم حاصل کرتے، گرہ میں باندھتے، اپنی ذات کو اس سے مزین کرتے اور پھر اسے آگے پہنچاتے (سبحان اللہ)۔ آج بھی جو علمائے کرام و اساتذہ کرام اس قیمتی خوبی کو اپناتے ہیں وہ بہترین اساتذہ اور علماء کا درجہ رکھتے ہیں، بلکہ دیکھا گیا ہے کہ ایسے ہی استاد کامیاب ہوتے ہیں اور طالب علموں کے دل میں ان کی عزت اور تکریم بھی رہتی ہے۔
میں بحیثیت ایک استاد، اپنی بات ضرور شیئر کروں گی کہ کچھ ایسی چیزیں تھیں جن کی بچوں کو تعلیم دینے کے لیے میں نے ان چیزوں سے پرہیز کیا (خلوصِ نیت سے)، جس کا خاطرخواہ نتیجہ سامنے آیا۔ مثلاً آپ کا سر ننگا ہو اور آپ اپنی طالبات کو سر ڈھانکے کا کہیں۔ لباس صحیح نہیں تو کیا ہم اپنے مطالبے میں کامیاب ہوجائیں گے؟ ہرگز نہیں۔ لہٰذا عالم کے لیے پہلا قدم خود اس (تعلیم) پر عمل کرنا ہے۔ اس کے بعد اندازِ بیان اور طریقہ کار جس کی بدولت آپ کی دی ہوئی تعلیم کا سامنے والے پر اثر ہو۔ سبحان اللہ جب آپؐ صحابہ کرام کے حلقے میں بیٹھ کر تعلیم فرماتے تو سب کی توجہ اور نگاہوں کا مرکز آپؐ ہوتے۔ احترام اور توجہ کا یہ حال ہوتا کہ صحابہ کرام فرماتے کہ ہمیں یوں محسوس ہوتا کہ ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں کہ جنبش کی تو وہ اُڑ جائیں گے۔ بردبارانہ، نرم، پُراخلاق لب و لہجہ جس میں محبت و شفقت کی چاشنی شامل ہوتی کہ دشمن بھی گزرتے ہوئے آپؐ کی آواز کی طرف پلٹ آتا اور آپؐ کی بات سن کر متاثر ہوتا، بلکہ کئی لوگ آپؐ کی اس گفتگو، محبت، درگزر، نرم و پُراخلاق لہجے کی وجہ سے دائرۂ اسلام میں داخل ہوگئے، سبحان اللہ۔ استاد کا متاثر کن لب و لہجہ مشکل سبق کو بھی آسان کردیتا ہے، نالائق طالب علموں کو بھی لائق بنا سکتا ہے۔ میرے نبیؐ کی تو شان ہی اعلیٰ تھی۔ کٹّر سے کٹّر دشمن بھی آپؐ کے سامنے آکر موم ہوجاتا۔ ہم خوش نصیب ہیں کہ ہمیں یہ اعزاز حاصل ہے کہ ہم اللہ کے اس محبوب نبیؐ کے امتی ہیں جن کے اسوۂ حسنہ کا کوئی ثانی نہیں۔ اس بابرکت مہینے میں عہد کریں کہ ہم اپنے نبیؐ کی محبت کو صرف چراغاں تک محدود نہیں رکھیں گے۔
اس معلم اعظم کا اندازِ بیان نہ صرف شگفتہ، شائستہ بلکہ پُراثر تھا، جو بات اہم ہوتی اسے تین بار دہراتے اور صحابہ اس تین مرتبہ دہرانے سے اُس بات کی اہمیت کا انداہ لگا لیتے۔ ٹھیر ٹھیر کر اس طرح بات بیان کرتے کہ بیشک سامنے والا آپؐ کی گفتگو کو آسانی سے لکھتا جائے۔ ایک سب سے بڑی خوبی جو آپؐ کی سیرتِ مبارکہ سے ظاہر ہوتی ہے کہ سامنے والے کی چاہے بات غلط ہو یا نامناسب، کبھی بھی اسے برا بھلا نہ کہتے، نہ شرمندہ کرتے۔ یہ اساتذہ کرام کی ایک اہم خوبی ہے۔ استاد اور شاگرد، معلم و طالب علم کے درمیان ایک خوبصورت رشتہ معلم کی اسی خوبی کی بنا پر استوار ہوتا ہے، بلکہ استاد کی اس خوبی کی وجہ سے طالب علم منفی ردعمل سے بچتا ہے۔ میں نے زمانہ طالب علمی اور بحیثیت استاد کے بھی اس خوبی کی اہمیت کے فوائد دیکھے۔ اگر استادِ گرامی طالب علم کی کمزوریوں کو تمام بچوں کے سامنے پیش کرتا ہے تو وہ طالب علم نہ صرف تعلیم سے دور بھاگتا ہے بلکہ استاد کو بھی ناپسند کرتا ہے۔ آپؐ کے سامنے تو عرب کے اجڈ اور گنوار لوگ بھی پیش ہوتے تھے، یہ آپؐ کی دی ہوئی تعلیم (رب کے احکامات) اور آپؐ کی خوش اخلاقی، توجہ، شفقت و محبت ہی تھی کہ روئے زمین پر اسی قوم نے عزت و عظمت کے جھنڈے لہرائے۔ میں ان سطور کے ذریعے اساتذہ کرام سے ضرور کہوں گی کہ ہم اس عظیم کام کے سلسلے میں بھی آپؐ کی زندگی سے رہنمائی حاصل کریں۔ ہمارے (اساتذہ کرام کے) مثبت رویّے طالب علموں کی راہوں میں روشنی بکھیر سکتے ہیں۔ رب العزت امتِ مسلمہ کو آپؐ کی احادیث و سنتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

حصہ