بندریا شہزادی

86

آخری قسط
راستے میں اس نے کچھ عجیب و غریب انسان نما مخلوق بھی دیکھی۔ وہ بظاہر انسان نہ ہوتے ہوئے بھی انسانوں کے سے لب و لہجے میں باتیں کر رہی تھی۔ اسے پتا چلا کہ جن آج صبح سے ہی کہیں گیا ہوا ہے اور سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے وہ لوٹ بھی آئے گا۔ یہ سن کر اسے بہت خوشی ہوئی۔ اب اسے اپنا کام مکمل کرنا اور بھی آسان ہو جائے گا۔ یہ سوچ کر وہ سامنے والے جنگل میں بے خوف و خطر داخل ہو گیا۔ راستے میں ایک جگہ گھاس زیادہ تھی۔ جیسے ہی اس نے گھاس میں پیر رکھا، ایک کانٹا اس کے جوتا چیرتا ہوا ایڑی کے اندر تک اتر گیا۔ شدید تکلیف سے بے ساختہ چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی لیکن اسے معلوم تھا کہ چیخ تو چیخ، معمولی سی سسکاری بھی اگر جن نے سن لی تو وہ اسے پالے گا اور پھر اسے قتل کردیگا۔ اس نے پیر سے کانٹا نکالا اور سفر شروع کردیا۔ سخت تکلیف اسے آگے بڑھنے سے روک رہی تھی لیکن اسے سارے کام سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے کرنا تھے اس لئے سخت تکلیف کے باوجود بھی اس نے اپنا سفر جاری رکھا۔ کوئی ایک گھنٹے کی مسافت کے بعد وہ جنگل کے اس پار جانے میں کامیاب ہوگیا۔ جنگل سے باہر آتے ہیں اسے وہ پہاڑ صاف نظر آنے لگا جو اس کی منزل تھی۔ لیکن جوں جوں وہ پہاڑ سے قریب ہوتا جاتا خوفناک آوازیں بڑھتی جاتیں۔ ہر آواز اسے لرزا کر رکھ دیتی۔ ظاہر ہے یہ کوئی انسانوں کا مسکن تو تھا نہیں، جن نے اپنی حفاظت کیلئے نہ جانے کیا کیا مخلوق پال رکھی ہوگی۔ حد یہ ہے کہ کبھی کبھی اسے اپنے بدن سے نہ نظر آنے والی مخلوق کے ٹکرانے کا بھی احساس ہوتا لیکن اس نے سارے خوف و ڈر کو اپنے ذہن سے نکال کر پھینک دیا تھا کیونکہ اس کے پیش نظر شہزادی کی رہائی اور جن کو ماردینے کے علاوہ اور کوئی مہم تھی ہی نہیں۔ کچھ فاصلہ طے کرکے اسے غار کا وہ دہانہ بھی صاف نظر آنے لگا تھا جہاں جن کی رہائش تھی اور وہیں قریب ہی کہیں طوطے کا ایک پنجرہ بھی تھا جس میں ایک ایسا طوطا موجود تھا جس میں جن کی جان تھی۔
آخر کار وہ ساری رکاوٹیں عبور کرتا ہوا اس غار کے دہانے کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ جونہی وہ غار میں داخل ہوا تو ایک جانب سے اسے طوطے کے شور مچانے کی آواز آئی۔ وہ آواز کی جانب چل پڑا۔ ملگجے سے اجالے میں اسے پنجرہ اور طوطا دونوں نظر آگئے۔ بس پھر کیا تھا وہ نہایت برق رفتاری سے اس کی جانب بڑھ ہی رہا تھا کہ کوئی شے اس کے سینے سے آکر لپٹ گئی اور اس کے ساتھ ہی میرے شہزادے میرے شہزادے کہتے ہوئے اس نے شہزادے کا منہ چومنا شروع کردیا۔ وہ شہزادی کی آواز پہچان چکا تھا لیکن اسے معلوم تھا کہ اس کی آواز کے ساتھ ہی کیا قیامت آنے والی ہے۔ شہزادی کی آواز کا نکلنا تھا کہ اچانک یوں لگا کہ جیسے اندھیرا چھاتا چلا جارہا ہے۔ شہزادہ سمجھ گیا جن نے شہزادی کی آواز سن لی ہے اور اب خواہ وہ ہزاروں میل دور کیوں نہ ہو، چند منٹوں میں ہی وہ یہاں پہنچ جائے گا۔ اندھیرے کا تیزی کے ساتھ چھاتے چلے جانا اس بات کی علامت تھا کہ جن واپسی کا سفر شروع کر چکا ہے۔ شہزادہ جانتا تھا کہ جن کو یہ معلوم ہوجائے گا کہ شہزادی اس وقت کہاں ہے اور وہ اس کو ہلاک کر دیگا لیکن جب تک وہ خود (شہزادہ) کوئی آواز نہیں نکالے گا اس وقت تک جن اس کو نہ دیکھ سکے گا۔ اب اسے شہزادی کو بچانے کیلئے بھی جلد از جلد طوطے کو مارنا ضروری ہو گیا تھا۔ اتنے جذباتی ماحول کے باوجود شہزادہ اپنے ہر جذبے کو بے قابو ہونے سے روکتے ہوئے طوطے کے پنجرے کی جانب تیزی سے بڑھنے لگا۔ شہزادی نہ جانے اس بات کو شہزادے کا ہرجائی پن خیال کرکے کیوں رونے لگی اور شہزادے کے جسم کے ساتھ اور بھی سختی کے ساتھ لپٹ گئی۔ اچانک شہزادے نے محسوس کیا جیسے تاریکی اور بھی تیزی کے ساتھ پھیلتی جارہی ہے۔ وہ ڈر گیا کہ کہیں اس کی آنکھیں طوطے کو دیکھنے کے قابل ہی نہ رہ سکیں۔ اس نے کسی بھی جذبے کی پرواہ کئے بغیر شہزادی کو ایک جھٹکے کے ساتھ اپنے جسم سے جدا کیا۔ شہزادی زمین پر گر گئی۔ شہزادے نے اس کی بس ایک ہلکی سی کراہ سنی۔ شہزادے نے کسی بھی سستی کا مظاہرہ کئے بغیر پنجرے کی جانب چھلانگ لگائی اور پھرتی کے ساتھ پنجرے کا دروازہ کھول کر طوطے کو اپنے قابو کیا اور پھر گردن پکڑ کر اس زور سے اس کی گردن مروڑی کہ ایک ہی لمحے میں طوطا مرگیا۔ ادھر طوطا مرا ادھر آندھی طوفان کا شید ریلا غار کے دہانے سے ٹکرایا۔ یہ آندھی طوفان نہیں، پہاڑ سے بھی بلند ایک دیو قامت جن تھا جو ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرتا جارہا تھا۔ اس کے مرتے ہی سارے مناظر بدل گئے۔ شہزادی انسان کے روپ میں لوٹ آئی، باہر کی ساری دھند روشنی میں بدل گئی۔ شہزادی کے خوشی کے آنسو رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے اور وہ شہزادے کے سینے سے لگی بچوں کی طرح روئے جارہی تھی۔ شہزادے نے کہا کہ اے اللہ کی بندی تونے تو مجھے بھی مروانے کا کام کر دیا تھا۔ شہزادی نے کہا کہ تم سچ کہہ رہے ہو۔ نہ تو مجھے بولنا چاہیے تھا اور نہ ہی تم سے لپٹنا چاہیے تھا لیکن تم کو دیکھ کر میں اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکی اور خوشی سے پاگل ہوگئی تھی۔ اللہ جانتا ہے کہ مجھے پورا یقین تھا کہ تم کسی نہ کسی دن مجھے لینے ضرور آؤ گے۔
جب دونوں غار سے باہر نکلے تو وہ ساری مخلوق جو انسانوں کے لب و لہجے میں بات کر رہی تھی وہ سب کی سب انسان بن چکی تھی اور باہر شہزادے کے حق میں نعرے لگا رہی تھی۔ جن کے مرتے ہی ساحل پر کشتیاں بھی نظر آنے لگیں۔ یہ ساری کشیاں ان ہی انسانوں کی تھیں جو اس جزیرے کی طرف آ نکلے تھے۔ شہزادے نے کہا کہ تم سب اپنی اپنی کشتیوں میں اپنے اپنے گھروں کو لوٹ جاؤ تمہارے لواحقین تمہارا شدت سے انتظار کر رہے ہونگے۔ وہ سب شہزادے کا شکریہ ادا کرکے رخصت ہو گئے۔ ابھی شہزادہ سوچ ہی رہا تھا کہ یہاں سے اب کیسے جایا جائے کہ اچانک شہزادی نے کہا کہ آؤ دو پری زادوں کو بھی کیوں نہ ان کی اصل حالت میں لیکر آئیں۔ وہ کل ہی غلطی سے یہاں اترے تھے۔ ان کو جن نے میرے سامنے ہی عجیب و غریب درخت بنا دیا۔ مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ وہ دوبارہ کس طرح اپنی اصل شکل میں واپس لائے جاسکتے ہیں۔ شہزادی نے شہزادے کا ہاتھ پکڑا اور ایک سمت چلدی۔ کچھ ہی فاصلے پر شہزادے کو دو درخت نظر آئے جو پروں والی مخلوق سے کافی حد تک ملتے جلتے تھے۔ قریب ہی ایک چشمہ رواں تھا جس کا پانی سونے کی طرح سنہرا تھا۔ شہزادی نے مٹی کے دو کوزوں میں وہ پانی بھرا اور جونہی وہ پانی ان کے سروں پر ڈالا وہ پری زادوں کی شکل میں آگئے۔ شہزادی نے جلدی جلدی انھیں ساری کہانی سنائی۔ کہانی سننے کے بعد بس انھوں نے اتنا کہا کہ وہ ان کا اسی جگہ انتظار کریں۔ یہ کہہ کر وہ آسمان میں نہ جانے کہا غائب ہو گئے۔ کچھ ہی دیر کے بعد آسمان پر پرندوں کا ایک جھنڈ سا نظر آیا لیکن جب وہ زمین کے قریب ہوئے تو معلوم ہوا کے درجنوں پری زادے زمین کی جانب آرہے تھے۔ ان کے ساتھ ایک بڑا سارا اڑن قالین بھی تھا۔ انھوں نے شہزادی اور شہزادی کو اس پر بیٹھنے کو کہا۔ جیسے ہی وہ اڑن قالین پر بیٹھے قالین فضا میں بلند ہوگیا۔ شہزادہ اور شہزادی پہلے راستے میں موجود دونوں بزرگوں سے ملے اور پھر اپنے ملک کی جانب روانہ ہوگئے۔ پری زادوں نے بتایا کہ ہمارے پرستان کے بادشاہ نے تمارے والد (بادشاہ) کو بتادیا ہے کہ تمہارا بیٹا اور بہو آرہے ہیں بس تم ان کے استقبال کیلئے نکلو۔ پورا شہر محل کے گرد جشن منارہا ہے اور تمہارے استقبال کیلئے جمع ہے۔ اپنے ملک کے دارالحکومت کے قریب بلندی سے انھوں نے دیکھا کہ پورے ملک کے عوام محل کے گرد جمع ہیں اور سب لوگ خوشی سے ناچ رہے ہیں۔ اڑن قالین اور پرے زادے جب بادشاہ کے قریب اترے تو بادشاہ اور ملکہ نے دونوں کو اپنے گلے لگا لیا۔ بادشاہ اور ملکہ نے اپنی بہو کو پہلی مرتبہ دیکھا تھا۔ تھوڑی دیر بعد ملکہ شہزادی کو کچھ دور لیجا کر اس سے کچھ راز کی باتیں کرنے لگی۔ شہزادے نے دیکھا کہ جیسی وہ ملکہ (ماں) کی باتیں سن کر پریشان ہو رہی ہو لیکن وہ پھر خوش نظر آنے لگی لیکن معلوم نہیں کیوں وہ شہزادے سے نظریں چرانے لگی۔ ابھی وہ کچھ سمجھ بھی نہ پایا تھا کہ اس نے شہزادی کو اڑن قالین پر سوار ہوتے دیکھا۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا قالین بڑی برق رفتاری سے فضا میں بلند ہوا نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ شہزادے پر جیسے سکتا طاری ہو گیا لیکن اس نے دیکھا کہ آسمان پر درجنوں پری زادے درجنوں اڑن قالین لے کر آرہے ہیں۔ ان کے اترتے ہی بادشاہ اور ملکہ اپنے بیٹے کو لیکر ایک قالین پر سوار ہوگئے۔ پھر پورا خاندان اور بادشاہ کے سارے وزیر دیگر قالینوں پر سوار ہو گئے۔ شہزادہ بڑی حیرانی سے یہ سارا نظارہ دیکھ رہا تھا۔ یہ تیزرفتار قالین ہزاروں میل کا فاصلہ طے کرکے شہزادے کے لحاظ سے ایک اجنبی ملک کے ایک محل میں اترے۔ یہاں پہچ کر شہزادے کو معلوم ہوا کہ یہ شہزادی کا اپنا ملک ہے۔ شہزادی ایک تخت پر دلہن بن کر بیٹھی ہوئی تھی۔ وہاں کے بادشاہ نے اپنی بیٹی کو بہت دھوم دھام کے ساتھ شہزادے کے ہمراہ رخصت کیا۔ کئی دن پورے ملک میں شادیانے بجائے گئے اور سارے باراتیوں کو اپنا مہمان بنا کر رکھا گیا۔ پورے ملک کی سیر کرائی تب کہیں جاکر واپس جانے کی اجازت دی۔
شہزادے کو بادشاہ نے اپنی ہی زندگی میں تخت و تاج کا مالک بنادیا اور آج کل اس ملک میں اسی شہزادی اور شہزادے کا راج ہے اور ہر امیر و غریب اتنا خوش حال ہے کہ دنیا کے سارے ممالک اور ان کے عوام ان کے ملک جیسا بننے کی تمنا کرتے ہیں۔

حصہ