بزمِ یارانِ سخن کراچی کا مشاعرہ

62

ڈاکٹر نثار احمد نثار
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے چوتھے لٹریری فیسٹول میں بزمِ یارانِ سخن کراچی نے پروفیسر جاذب قریشی کی صدارت میں بہاریہ مشاعرہ منعقد کیا جس میں سعیدالظفر صدیقی اور ظہور الاسلام جاوید مہمانانِ خصوصی تھے۔ عارف شیخ نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔ یوسف چشتی نے نعت رسولؐ پیش کی۔ معروف سرجن‘ افسانہ نگار اور پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے چوتھے لٹریری فیسٹول کے کنوینر ڈاکٹر شیر شاہ سید نے خطبۂ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہم PMA کے زیر اہتمام ہر سال لٹریٹری فیسٹول ترتیب دیتے ہیں جس میں میڈیکل سائنس اور فنونِ لطیفہ کے شعبے خصوصی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ یہ فیسٹول عوام الناس میں علم و آگاہی کی ترویج کا ایک ذریعہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فنونِ لطیفہ کی تمام شاخوں میں شاعری بہت اہم ہے اور مشاعرے‘ شاعری کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اربابِ سخن معاشرے کے خاص طبقات میں شامل ہیں کسی بھی قوم اور معاشرے کی ترقی میں قلم کاروں کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان میں شعرائے کرام کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جو ہمیں اپنے اشعار کے ذریعے بہت سے معاشرتی‘ سیاسی اور عالمی مسائل سے آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ امن و سلامتی کا درس دیتے ہیں جو تنظیمیں ادبی پروگرام منعقد کرتی ہیں وہ مبارک باد کی مستحق ہیں۔ PMA لٹریٹری فیسٹول کے آرگنائزر ڈاکٹر مرزا علی اظہر نے کہا کہ ہم اس پروگرام کے ذریعے یہ کوشش کر رہے ہیں کہ زندگی کے مختلف شعبوں کے بارے میں معلومات فراہم کریں ہم اس کام میں کس حد تک کامیاب ہوئے ہیں اس کا فیصلہ آپ لوگ کریں گے۔ PMA ہائوس میں ادبی و علمی پروگرام تواتر کے ساتھ ہوتے رہتے ہیں آپ لوگوں کا بہت بہت شکریہ کہ آپ تشریف لائے۔ صاحبِ صدر‘ مشاعرہ پروفیسر جاذب قریشی نے کہا کہ آج کا پروگرام بہت کامیاب ہے اور ہمیں اچھے اشعار سننے کو ملے۔ مشاعرے میں سامعین بھی موجود ہیں جو کہ ہر شاعر کو داد و تحسین سے نواز رہے ہیں یہ قابل ستائش بات ہے ورنہ اب مشاعروں سے سامعین ختم جارہے ہیں‘ ہمیں ان وجوہات پر غور کرنا ہوگا کہ مشاعروںسے سامعین کا تعلق کیوں ٹوٹ رہا ہے۔ انہوںنے مزید کہا کہ ادب زندگی سے جڑا ہوا ہے جو قلم کار زندگی کے مسائل لکھ رہے ہیں وہ کامیاب ہیں یہ زمانہ گل و بلبل کی داستان لکھنے کا نہیں ہے‘ ہم بہت تیزی سے جدید علم و فن سے آشنا ہو رہے ہیں۔ زندگی بہت Fast ہوگئی ہے‘ ساری دنیا ایک گلوبل ویلج بن گئی ہے۔ اربابِ سخن پر یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اچھائیوں کا درس دیں اور ظلم کے خلاف آواز بلند کریں۔ ڈاکٹر خورشید نے کلماتِ تشکر ادا کیے انہوں نے کہا کہ ہماری تنظیم بزم یاران سخن کراچی PMA ہائوس کی انتظامیہ کی شکر گزار ہے کہ ہم ان کے تعاون سے اپنے پروگرام اس بلڈنگ میں کر رہے ہیں نیز وہ ڈاکٹر شیر شاہ سید اور ڈاکٹر مرزا علی اظہر کے ممنون ہیں کہ انہوں نے اپنے فیسٹول میں ہمیں مشاعرے کا موقع دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنے مشاعروں میں اس شہر کے تمام شعرا کو مدعو نہیں کر سکتے اس لیے جو شعرا کو ہم نے نہیں بلایا ہے وہ ناراض نہ ہوں ہم انہیں بھی کسی نہ کسی مشاعرے میں دعوتِ کلام دیںگے۔ اس مشاعرے میں صاحبِ صدر‘ مہمانان خصوصی اور ناظم مشاعرے کے علاوہ فیروز ناطق خسرو‘ علی کوثر‘ اختر سعیدی‘ سلمان صدیقی‘ فیاض علی فیاض‘ زاہد حسین‘ سلیم فوز‘ رشید خان رشید‘ راقم الحروف ڈاکٹر نثار‘ عبدالمجید محور‘ یوسف چشتی‘ ڈاکٹر خورشید‘ ڈاکٹر جے پال‘ ڈاکٹر مرزا علی اظہر‘ فخر اللہ شاد‘ الحاج نجمی‘ افضل ہزاروی‘ رانا خالد محمود قیصر‘ حامد علی سید‘ شاعر علی شاعر‘ حنیف عابد‘ریحانہ احسان‘ عظیم حیدر سید‘ مقبول زیدی‘ آئرن فرحت‘ شامی شمسی‘ ڈاکٹر اقبال ہاشمانی‘ سلمان عزمی‘ ضیا زیدی‘ تنویر سخن‘ عاشق شوکی‘ علی کوثر اور ندیم سبطین نے اپنا کلام نذر سامعین کیا۔

ادبی تنظیم دراک کی 107 ویں ماہانہ تنقیدی نشست

معروف افسانہ نگار فہیم انصاری کی صدارت میں ادبی تنظیم دراک کی 107 ویں تنقیدی نشست 26 اکتوبر کو میٹرو پولیس گرلز کالج فیڈرل بی ایریا کراچی میں ہوئی۔ مہمان خصوصی صفدر علی انشا تھے جب کہ نظامت کے فرائض زاہد حسین زاہد نے انجام دیے۔ اس موقع پر شاکر انور کا افسانہ بعنوان ’’صبح کا آسمان‘‘ حسبِ روایت تخلیق کار کے نام کا اعلان کیے بغیر ناظم تقریب زاہد حسین نے سامعین کے سامنے پیش کیا۔ جس پر گفتگو کرتے ہوئے شاعر علی شاعر نے کہا کہ ایسے افسانے اور بھی لکھے گئے ہیں‘ اس افسانے میں زنبیرہ سے واسطہ‘ معاملات اضافی ہیں میں ایک ناشر ہوں اور لفظیات پہچانتا ہوں‘ یہ افسانہ شاکر انور کا لگتا ہے۔ سلیم احمد نے کہا کہ افسانہ کا عنوان کہانی سے مربوط نہیں ہے کیوں کہ افسانے میں کسک ہے اور عنوان اس سے جڑا ہوا نہیں ہے البتہ لفظیات موزوں اور پُر اثر ہیں مگر طوالت سے افسانے کا حسن مجروح ہوا ہے۔ اس افسانے میں ماتحت کا کردار غیر ضروری محسوس ہو رہا ہے۔ آصف مالک نے کہا کہ مرد و زن کے رشتے پر لکھی گئی اس تحریر میں کامران اور لائبہ کے کردار کے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا۔ مرکزی کردار پورے طور پر پورٹریٹ نہیں ہوا۔ گرامر کے اعتبار سے بھی اس افسانے پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ احمد سلیم صدیقی نے کہا کہ بعض اوقات والدین منفی کردار کے طور پر سامنے آتے ہیں اس افسانے میں والدین ایک کینسر کی مریضہ کو بیاہ دیتے ہیں‘ افسانے کا بنیادی موضوع بھی یہی مسئلہ ہے۔ اختر عبدالرزاق نے کہا کہ یہ ایک کہانی ہے جس کو ہم نے افسانے کا نام دے دیا ہے۔ حامد علی سید نے کہا کہ اس افسانے میں لالچ اور خود غرضی کے عناصر اجاگر کیے گئے ہیں۔ طوالت کے احساس کو رائٹر نے افسانوی چابک دستی میں چھپا دیا ہے۔ میرے نزدیک یہ ایک کامیاب افسانہ ہے۔ سلیم عکاس نے کہا کہ افسانے کی آخری لائنیں ان تمام اعتراصات کا جواب ہیں جو سامعین نے اٹھائے ہیں۔ یہ خوب صورت افسانہ ہے‘ لائبہ اپنی اندرونی کشمکش کے تحت اپنی محبت کا بالواسطہ اظہار اپنی بہن کے الفاظ میں کرتی نظر آتی ہے۔ شرجیل ابرار نے کہا کہ ایک ہندوستانی روزنامے میں اس موضوع پر مبنی اشتہار کے حوالے سے افسانے کو سراہا۔ جنید حسن نے کہاکہ منتشر خیالات کو ملا کر ایک افسانہ ترتیب دیا گیا ہے اس لیے ابلاغ میں رکاوٹیں محسوس ہو رہی ہے۔ ڈاکٹر عرفان شاہ نے کہا کہ افسانے میں ہماری سماج رسم و رواج کی جھلک نظر آتی ہے۔ زنبیرہ کا کردار غیر ضروری نہیں بلکہ علامتی ہے‘ وہ ان لڑکیوں کی نمائندگی کر رہی ہے کہ جن کی رائے لیے بغیر ان کی شادیاں کردی جاتی ہیں۔ افسانہ بہت عمدہ نہ سہی لیکن پڑھنے والوں کو متاثر کرتا ہے۔ رائٹر کی الفاظ پر گرفت ہے‘ داخلی اور خارجی کیفیات اس افسانے کا حُسن ہیں۔ صفدر علی انشاء نے کہا کہ افسانہ اپنے ماحول پر انطباق کرتا ہے مرد کا ایثار نظر آرہا ہے وہ اپنی بیوی کی بے اعتنائیوں کے باوجود اپنی عورت سے محبت کر رہا ہے اور بیوی جذبۂ محبت کے تحت اپنی بیماری چھپائے رکھتی ہے۔ اس پس منظر میں زنبیرہ کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے۔ فہیم انصاری نے کہا کہ افسانے پر اعتراضات اور جوابی اعتراضات بھی سامنے آئے ہیں لیکن روا روی میں بہت سی اہم باتیں صرف نظر ہو گئیں۔ سچ بولنے اور سراہے جانے کے سبب انسان دوسروں کی انسانی دشمنی کا شکار ہو جاتا ہے۔ نشست کے دوسرے مرحلے میں نامور شاعر اعجاز رحمانی اور طارق رئیس فروغ کی مرحوم بیوی کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔

ہانی ویلفیئر آرگنائزیشن کے تحت مذاکرہ اور مشاعرہ

سماجی خدمات کے حوالے سے مظہر ہانی کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ انہوں نے ریڑھی میاں گوٹھ لانڈھی کراچی میں خدمت خلق کے لیے اسپتال اور اسکول قائم کیے ہیں اس کے علاوہ وہ پاکستان کے مختلف پس ماندہ علاقوں میں رفاہی کاموں میں سرگرم عمل ہیں۔ مزید براں اردو زبان و ادب سے بھی ان کا گہرا تعلق ہے وہ ادبی منظر نامے میں بحیثیت شاعر اپنی شناخت بنا چکے ہیں چونکہ وہ شاعر ہیں لہٰذا وہ سمندری مشاعروںکے علاوہ ادبی و علمی پروگرام بھی ترتیب دیتے رہتے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ ہفتے ریڑھی میاں گوٹھ میں علامہ اقبال کے حوالے سے ایک مشاعرہ کا اہتمام کیا۔ اختر سعیدی نے صدارت کی۔ پروفیسر ناصرہ خاتون مہمان خصوصی تھیں‘ انور انصاری مہمان اعزازی قرار پائے جب کہ رشید خاں رشید نے نظامت کے فرائض انجام دیا۔ میزبانِ مشاعرہ مظہر ہانی نے کہا کہ علامہ اقبال خداداد صلاحیتوں کے مالک تھے‘ وہ مسلمانانِ ہند کے دکھ درد جانتے تھے‘ وہ غلامی کی زنجیروں سے آزادی چاہتے تھے۔ انہوں تحریک پاکستان کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ انہوں نے اپنے اشعار کے ذریعے شعور و آگہی بیدار کیا۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم شاعر مشرق کے پیغامات پر عمل کریں۔ صاحب صدر اختر سعیدی نے کہا کہ علامہ اقبال نے پاکستان کا خواب دیکھا خدا کا شکر ہے کہ ان کا خواب شرمندۂ تعبیر ہوا۔ اس وقت ہمارے ملک کے سیاسی اور معاشی حالات شدید دشواریوں سے دوچار ہیں‘ ہمارے دشمن چاہتے ہیں کہ ہم صفحہ ہستی سے مٹ جائیں لہٰذا ہمارا فرض ہے کہ ہم متحد ہو کر پاکستان کی حفاظت کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہانی ویلفیئر آرگنائزیشن ایک قابل ستائش کام کر رہی ہے یہ اپنے ادارے میں شعر و ادب کی تقریبات ترتیب دیتے ہیں اس قسم کے پروگرام اردو زبان و ادب کی آبیاری کے لیے ضروری ہے‘ ہم ان تقریبات کے ذریعے اپنی ادبی روایات نئی نسل تک پہنچا رہے ہیں۔ آج یہاں خورشید گرلز کالج کی طالبات بھی موجود ہیں جو کہ ہانی ویلفیئر کے اسکول کے دورے پر آئی ہیں‘ یہ ایک اچھا تجربہ ہے انہیں احساس ہوگا کہ مظہر ہانی غریبوں کی بستی میں علم و عمل کی روشنی تقسیم کر رہے ہیں۔ ہر تعلیمی ادارے کو چاہیے کہ وہ ہمارے طلباء و طالبات کے لیے ادبی پروگرام ترتیب دیں۔ پروفیسر رضیہ خاتون نے کہا کہ انہوں نے ہانی ویلفیئر کے اسکول کا دورہ کیا اور یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ یہاں ہانی صاحب نے غریبوں کے لیے تعلیم و تربیت کا اہتمام کیا ہے اس اسکول میں دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم بھی دی جارہی ہے یہ قابل ستائش اقدام ہے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس ادارے کو مزید ترقی عطا فرمائے۔ اس موقع پر اختر سعیدی‘ انور انصاری‘ رشید خاں رشید‘ اسحاق خان‘ محسن سلیم‘ نثار احمد‘ یوسف چشتی‘ افضل ہزاروی‘ مظہر ہانی‘ عاشق شوکی اور علی کوثر نے اپنا کلام نذرِ سامعین کیا۔

غزلیں

حمیرا راحت

نہ شیشہ نیا ہے نہ پتھر نیا
مگر پھر بھی لگتا ہے منظر نیا
مری پیاس کب اس سے بجھ پائے گی
بنا دے مجھے اک سمندر نیا
میں لفظوں کے قالب میں ڈھل جائوں گی
جنم لوں گی پھر ایک مر کر گیا
بدل دیں پرانی روایت کو ہم
نیا خضر ہو اور سکندر نیا
محب وحبت پرانی ہوئی
کوئی کام اے دوست اب کر نیا
اگر دو گھڑی کو وہ آ جائے تو
لگے گا مجھے پھر یہی گھر نیا
جو ہے آزمانا مرے صبر کو
تو پھر وار کر کوئی بڑھ کر نیا
ذرا کارِ دنیا سے فرصت ملے
میں خود ہی بنا لوں مقدر نیا
کہیں دل جو ہوتا برائے فروخت
تو لے آتے بازار جا کر نیا

حامد علی سید

وہ خوش کلام کاش ہمیں بھی دکھائی دے
کوئی تو اچھی بات کہیں سے سنائی دے
بستی میں جل رہے ہیں شجر سایا دار آج
مالک سمندروں کو وہاں تک رسائی دے
کوئی تو تھوڑی دور چلے میرے ساتھ بھی
کوئی تو مجھ کو بھیڑ میں اپنا دکھائی دے
یہ بھی اک احتجاج کی صورت ہے دوستو!
سڑکوں پر ایک آدمی ہنستا دکھائی دے
محفوظ جان و مال نہ اسبابِ زندگی
اس شہر بے چراغ میں خلقت دہائی دے

فیصل محمود سید

سر بہ سر فسون میں زندگی گزر گئی
عشق یا جنون میں زندگی گزر گئی
اک جمالِ دل نشیں رو بہ رو تھا رات دن
بس اسی جنون میں زندگی گزر گئی
جو تری تلاش تھی عارضی سکون تھا
عارضی سکون میں زندگی گزر گئی
میں کہ تھا الگ تھلگ بے خبر رہے سبھی
اپنے ہی درون میں زندگی گزر گئی
خواہشوں کو بھوگتے وحشتوں کو روکتے
آدمی کی جون میں زندگی گزر گئی
زندگی گزارتے بے کلی رہی سدا
اب تو ہیں سکون میں زندگی گزر گئی

حصہ