اعجاز رحمانی، موت سے کس کو رستگاری ہے

110

ظہیر خان
۔’’آج وہ کل ہماری باری ہے‘‘ یہ سلسلہ اس وقت سے چل رہا ہے جب سے دنیا آباد ہوئی ہے۔ موت برحق ہے ہرکسی کو آنی ہے کیا پیغمبر کیا ولی اور کیا ایک عام انسان۔ لوگ دنیا سے کوچ کرجاتے ہیں چند دنوں تک متعلقین انہیں یاد رکھتے ہیں پھر دنیا کے جھمیلوں میں پڑ کر انہیں بھول جاتے ہیں مگر کچھ ایسی بھی شخصیات ہوتی ہیں جس کو اس لیے نہیں بھلایا جاسکتا کہ… بقول میر تقی میر… ’ایسا کچھ کرکے چلو یاں کہ بہت یاد رہو‘ وہ شخصیات کچھ ایسے کارنامے سر انجام دے چکی ہوتی ہیں جو ان کو ہمیشہ امر رکھنے کا سبب بنتی ہیں۔ معروف شاعر اعجاز رحمانی دنیا سے رخصت ہولیے ان کی روح عالمِ ارواح میں پہنچ گئی جسم سپردِ خاک کردیا گیا مگر اردو ادب کو جو سوغات دے کر گئے وہ تاقیامت یاد رکھی جائے گی ۔ اعجاز رحمانی دنیا کو خیر باد کہہ گئے لیکن ان کا تخلیق کردہ کلام ہمیشہ ان کو زندہ رکھے گا۔
اعجاز رحمانی یوں تو غزل کے شاعر تھے مگر ابتدا میں ان کی وجہِ شہرت نعت گوئی کے حوالے سے ہوئی ان کی کہی ہوئی نعتیں مقبولِ عام ہوئیں…

زبان وہ کسی مومن کی ہو نہیں سکتی
خدا کا ذکر کرے ذکرِ مصطفی نہ کرے

اعجاز رحمانی کا یہ شعر ضرب المثل کی حیثیت اختیار کرچکا ہے جب کبھی کسی ادبی محفل یا کسی دینی تقریب کی ابتدا ہوتی ہے اور آغاز قرآنی آیات سے کیا جاتا ہے تو ناظم اسی شعر کو پڑھ کر نعت پڑھنے والے کو دعوت دیتا ہے۔ اعجاز رحمانی جب کسی محفل میں اپنے مخصوص ترنم میں نعتیں پڑھتے تو عاشقانِ رسولؐ جھوم اٹھتے تھے ایک سماں سا بندھ جاتا تھا ‘ اللہ تعالی نے آواز ہی ایسی دی تھی‘ ایک نہیں دو نہیں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں ان کے مداح تھے۔ ان کی نعتوں میں رسولِ مقبول سے اظہارِ محبت اور عقیدت کے ساتھ ساتھ دعوت و اصلاح کا پہلو بھی شامل ہوتا تھا۔

بچائو شرک سے اعجازؔ اپنے دامن کو
جلائو نعتِ نبیؐ کے سنبھل سنبھل کے چراغ

نعت کہنا دو دھاری تلوار پہ چلنے کے مترادف ہے ذرا بھی قلم نے اپنی مقرّرہ حدود سے تجاوز کیا اور غلو میں مبتلا ہوگیا اعجاز رحمانی اس معاملے میں ہمیشہ محتاط رہے۔

درود پڑھ کے اگر کوئی ابتدا نہ کرے
اسے یہ چاہیے پھر ذکرِ مصطفی نہ کرے

اعجاز رحمانی کا اصل نام سید اعجاز علی ہے۔ مولانا شاہ فضل الرحمٰن گنج مراد آبادی سے نسبت ہونے کی وجہ سے خود کو رحمانی لکھتے تھے اسی طرح ان کا ادبی نام ’’اعجاز رحمانی‘‘ ہے۔ ہندوستان کے شہر علی گڑھ میں ۱۲ فروری ۱۹۳۶؁ء کو ایک متوسط اور ذی علم گھرانے میں پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم علی گڑھ ہی میں حاصل کی دنیوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رہاشاعری کا شوق انہیں بچپن ہی سے تھا۔ گیارہ سال کی عمر میں اپنی زندگی کا پہلا مصرعہ کہا …

رواں دواں ہے مری نائو بحرِ الفت میں

میں نے اعجاز بھائی سے پوچھا کہ آخر اس مصرعہ نے ایسی کو ن سی خطا کی ہے جو عرصۂ دراز سے آپ نے اسے تنہا چھوڑا ہوا ہے دوسرا مصرعہ کیوں نہیں لگا دیتے تاکہ شعر مکمل ہوجائے۔ کہنے لگے معنی کے اعتبار سے یہ مصرعہ اتنا ہی مکمل ہے جتنا دو مصرعے مل کر ہوتے ہیں لہٰذا آج تک دوسرا مصرعہ لگانے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی۔
اردو شاعری کسی بحرِ بیکراں سے کم نہیں ہے اور اعجاز رحمانی کی نائو اس بحرِ بیکراں میں بہتّر سال سے مسلسل رواں دواں رہی۔ ۱۹۵۴؁ء میں پاکستان ہجرت کی اور میر پور خاص میں اپنے ایک عزیز کے گھر قیام کیا ‘ نو ماہ بعد کراچی منتقل ہوگئے ۔ اس وقت کراچی شہر علم و ادب کا گہوارہ تھا‘ قمر جلالوی جیسا استادِ فن شاعری کے افق پر جلوہ افروز تھا۔ اعجاز رحمانی کی خوش قسمتی کہ انہیں اپنے وقت کے بہترین استاد اور غزلوں کے بادشاہ قمر جلالوی کی شاگردی حاصل ہوئی۔ استاد قمر جلالوی اپنے ہونہار شاگرد اعجاز رحمانی کو بہت پسند فرماتے تھے انہیں یقین تھا کہ ان کا یہ شاگرد آنے والے وقتوں میں آسمانِ ادب کا چمکتا ہوا ستارہ ہوگا۔
استاد قمر جلالوی شدید علیل تھے اور اسپتال میں داخل تھے اعجاز رحمانی ان کے بستر کے قریب بیٹھے تھے کہ اچانک استاد نے کہا ’’میاں اعجاز کوئی شعر تو سنائو‘‘ … اعجاز رحمانی نے یہ شعر سنایا…

ہجومِ غم میں بھی توہینِ ضبطِ غم نہ ہوئی
اس احتیاط سے روئے کہ آنکھ نم نہ ہوئی

استاد قمر جلالوی تڑپ کر بستر سے اٹھ گئے اور بے ساختہ کہنے لگے کہ میاں جیتے رہو کیا خوب مطلع کہا ہے اگر میں بھی کہتا تو اتنا ہی ہوتا… کسی شاگر د کے لیے اس کے استاد سے اس سے بہتر تعریف نہیں ہوسکتی۔ وقت گزرتا رہا … اور وقت کے ساتھ ساتھ اعجاز رحمانی کی شاعری اپنے عروج کی طرف رواں دواں رہی کامیابی ان کے قدم چوم رہی تھی ان کے مدّاحوں میں روز بروز اضافہ ہورہا تھا اور بہت جلد ان کا نام ہندوپاک کے مقبول شعرا کی فہرست میں شامل ہوگیا۔ اعجاز رحمانی کے شعری مجموعے یکے بعد دیگرے شائع ہوتے رہے اور اہلِ ذوق میں پذیرائی حاصل کرتے رہے۔
سائنس کی بے پنا ہ ترقی نے انسا ن کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا‘ کوئی چاند پر زندگی کے آثار تلاش کر رہا ہے تو کوئی ستاروں پر کمند ڈال رہا ہے۔ اعجاز رحمانی ان سائنسی فتوحات کے حامی تھے اور ان کا مقابلہ ہمارے معاشرے کے ان فرسودہ روایت سے کرتے تھے جس کا کوئی جواز اس شریعت میں نہیں ہے جس پر ہم ایمان رکھتے ہیں… وہ فرما گئے…

کمند غیر نے ڈالی ہے چاند تاروں پر
اور ایک ہم کہ کھڑے ہیں ابھی مزاروں پر

اگر اس شعر کو فقیہانِ شہر عقائد کا مسئلہ نہ بنا لیں تو قابلِ غور نکتہ ہے‘ شاعری استعاروں میں ایک عظیم پیغام ہے جو قوم کو دیا گیا ہے… ایک اور قابلِ غور نکتہ ملاحظہ کیجیے…

ہم اپنے گھر کا اندھیرا تو دور کر نہ سکے
مگر چراغ جلاتے رہے مزاروں پر

اعجاز رحمانی اپنے گردوپیش کے حالات‘ زندگی کے نشیب و فراز اور روزو شب کے مشاہدات سے متاثر ہوکر اپنے جذبات اس طرح شعر کے پیرائے میں ڈھال دیتے تھے…

امیرِ شہر اٹھا لے مزار سے چادر
میں جانتا ہوں کئی بے لباس لوگوں کو

اعجاز رحمانی بنیادی طور پر غزل کے شاعر ہیں اس لیے ان کی غزلوں میں نغمگی پائی جاتی ہے یہ داخلی نغمگی ہے اور شعر کے اندر سے نمودار ہوتی ہے اور خارجی شکل اختیار کرلیتی ہے…

زندگی ہے کہ مسلسل شبِ تنہائی ہے
ہم نے کس جرم میں جینے کی سزا پائی ہے
اس کے آنے سے عجب دشت میں رعنائی ہے
دھوپ چاندی کے جزیرے میں اتر آئی ہے

اعجاز رحمانی کے یہاں غمِ دوراں اس قدر حاوی ہے کہ وہ غمِ جاناں بھول گئے یہی سبب ہے کہ ان کے یہاں عشق و محبت کی داستان‘ وصل و ہجر کے قصّے‘ واعظ اور رقیب کے جھگڑے بہت کم نظر آتے ہیں انہوں نے زندگی کو اس قدر قریب سے دیکھا کہ اس کے بعد شاید ان باتوں کی گنجائش بہت کم ہے…

گزر رہا ہوں میں سوداگروں کی بستی سے
بدن پہ دیکھیے کب تک لباس رہتا ہے
تاریخِ انحطاطِ زمانہ گواہ ہے
ساغر لیا تو ہاتھ سے تلوار گر گئی
امیرِ شہر تری دشمنی تو ہے مجھ سے
تمام شہر جلانے کی کیا ضرورت ہے

اعجاز رحمانی کا شمار ہندو پاک کے ان نامور شعرا میں ہوتا ہے جن کی کسی مشاعرے میں موجودگی مشاعرے کی کامیابی کی ضمانت ہوتی ہے مشاعرے کی فضا چاہے کتنی ہی بے رنگ ہو چکی ہو مگر اعجاز رحمانی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ جب اپنے مخصوص ترنم میں غزل سرا ہوتے تو مشاعرے کی کیفیت ہی تبدیل ہوجاتی‘ خوبصور ت کلام اور خوبصورت آواز جب باہم مل جائیں تو محفل کا رنگ ہی کچھ اور ہوتا ہے…

کسی کو زخم دکھانے کی کیا ضرورت ہے
میں جانتا ہوں زمانے کی کیا ضرورت ہے
کرے وفا کا وہ انکار یا کرے اقرار
اسے کسی بھی بہانے کی کیا ضرورت ہے
خیال بزم کے آداب کا رہے اعجازؔ
غزل‘ غزل کو سنانے کی کیا ضرورت ہے

شاعر بہت حسّاس ہوتا ہے اس کی آنکھیں صرف دیکھتی ہی نہیں بلکہ محسوس بھی کرتی ہیں وہ دنیا کے تجربات و حوادث کی شکل میں جو کچھ حاصل کرتا ہے وہی کچھ اشعار کی شکل میںلوٹا دیتا ہے ہر اچھا شاعر اپنے عہد کا ترجمان ہوتا ہے وہ لوگوں کے مزاج سے اچھی طرح واقف ہوتا ہے اسے لوگوں کی پسند اور ناپسند کا علم ہوتا ہے۔ اعجاز رحمانی کی شاعری بھی ان کے عہد کی ترجمانی کرتی ہے انہیں لوگوں کی پریشانی اور ان کی الجھنوں کا احسا س تھا انہیں یہ بھی احساس تھا کہ لوگوں کو اپنی الجھنوں کا حل بھی درکا ر ہے… وہ فرماتے تھے…

اعجازؔ اپنے عہد کا میں ترجمان ہوں
میں جانتا ہوں جیسی غزل چاہتے ہیں لوگ
کب تک کسی کی زلفِ پریشاں کا تذکرہ
کچھ اپنی الجھنوں کا بھی حل چاہتے ہیں لوگ

مرزا غالب کی زمین میں اشعار کہنا اگر مشکل نہیں تو آسان بھی نہیں ہے بہت سارے شاعروں نے طبع آزمائی کی ہے تو بھلا اعجاز بھائی کیوں پیچھے رہ جاتے۔ ملاحظہ کیجیے اعجاز رحمانی کے چند اشعار جو مرزا غالب کی زمین میں کہے گئے…

اس کا جب تذکرہ کرے کوئی
پھول سے ابتدا کرے کوئی
دشتِ امکاں کا سفر اور میں تنہا اعجازؔ
ختم ہوجائوں گا میں ختم سفر ہونے تک
اعجازؔ اپنا عکس بھی آتا نہیں نظر
آئینۂ حیات ابھی گرد پو ش ہے
اک گل بدن کی یاد سکونت پذیر ہے
اب دل کا نام رکھ دیا ہم نے سرائے گل

اعجاز رحمانی صرف شاعر ہی نہیں بلکہ ایک نیک اور محبت کرنے والے انسان بھی تھے جو ہر کسی سے خندہ پیشانی اور انکساری سے ملتے تھے اور یہی وجہ ہے کہ ان سے ملنے والا پہلی ہی ملاقات میں ان کا گرویدہ ہوجاتا تھا۔ میری ان سے پہلی ملاقات ۱۹۸۰؁ء میں صدیق فتح پوری کے گھر ایک ادبی نشست میں ہوئی تھی جو غزل انہوں نے پڑھی تھی اس کا ایک شعر آج بھی میرے ذہن میں محفوظ ہے…

اب مکانوں کا تعارف یوں کراتے ہیں مکیں
یہ در و دیوار کتنے قیمتی پتھر کے ہیں

اعجاز بھائی سے جب بھی میری ملاقات ہوتی میں نے ہمیشہ ان کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھی وہ ایک باغ و بہار شخصیت کے مالک تھے…

وہ آئینے کو بھی حیرت میں ڈال دیتا ہے
کسی کسی کو خدا یہ کمال دیتا ہے
یہ وہ ہنر ہے جو ہر شخص کو نہیں آتا
وہ آنسوئوں کو تبسم میں ڈھال دیتا ہے

کسی طویل مضمون کو فقط دو مصرعوں میں بیان کرنا … ایسا ہی ہے جیسے … کوزے میں دریا بند کرنا… آئیے دیکھتے ہیں اعجاز رحمانی نے کوزے میں دریا کس طرح بند کیا…

آنسو دل کی بات بتائے
گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے
غم پھیلے تو ایک سمندر
سمٹے تو آنسو کہلائے

اعجاز رحمانی کا نعتوں اور غزلوں کا مجموعہ شائع ہو کر اہلِ علم اور اہلِ ذوق سے خوب داد و تحسین حاصل کرچکا ہے ۔ ایک بہت ہی اہم کام جو وہ کرگئے وہ خلفائے راشدین کی منظوم سوانح حیات ’عظمتوں کے مینار‘ ہے۔ 1056 صفحات پر مشتمل یہ ضخیم مجموعہ اردو ادب کا قیمتی سرمایہ ہے۔
اعجاز رحمانی کوئی پندرہ روز سے علیل تھے۔ 26 اکتوبر بروز ہفتہ ڈھائی بجے شب روح پرواز کر گئی… انا للہ و انا الیہ راجعون‘ اسی روز شام بعد نمازِ عصر تدفین ہوگئی۔ اپنے عہد کا ترجمان اپنے لاکھوں مدّاحوں کو غم زدہ چھوڑ کر دنیا سے رخصت ہوگیا۔
حق مغفرت کرے …

حصہ