ہمارا دعویٰ عشق رسولؐ

43

ڈاکٹر نزہت اکرام
۔12 ربیع الاوّل حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت با سعادت کا یومِ مبارک ہے، اور یہی دن ختم المرسلین کی دنیا سے رحلت کا بھی ہے۔ ہم اس یوم کو عید میلاد النبیؐ قرار دے کر جوش و خروش کا اظہار کرتے ہیں، آپؐ کی روحِ اقدس پر درود و سلام کے نذرانے بھیجتے ہیں، خراجِِ عقیدت کے لیے نعت خوانی کی محافل سجاتے ہیں، آپؐ کے اسوۂ حسنہ کے مختلف پہلوئوں اور موضوعات پر رات رات بھر جلسوں میں تقاریر ہوتی ہیں۔ آپؐ کے لیے جشن برپا ہوتے ہیں، جلوس نکالے جاتے ہیں، نعرے لگائے جاتے ہیں، آرائشی محرابیں اور جھنڈیاں رنگ و نور کی قوسِ قزح بن کر شاہراہوں، گلیوں، بازاروں میں اتر آتی ہیں۔ عمارات چراغاں سے جگمگا اٹھتی ہیں۔ ایک عجیب رونق اور چہل پہل پورے ماحول پر چھا جاتی ہے۔ بوڑھے، بچے، جوان دیوانہ وار ان تمام سرگرمیوں میں حصہ لیتے نظر آتے ہیں۔ یہ سب والہانہ انداز و آداب، یہ جوش و خروش جیسے پکار پکار کر کہتا ہے کہ آج بھی مسلمان قوم اپنے ہادیٔ اعظمؐ، اپنے رسولؐ سے بے انتہا محبت رکھتی ہے اور جذبۂ عقیدت سے سرشار ہے۔ لیکن خدایا یہ کیسی محبت ہے،کیسا عشق ہے، کیسی عقیدت ہے کہ دو چار دن کی گہماگہمی کے بعد عنقا ہوجاتی ہے؟ وہ دھواں دھار تقاریر اور آپؐ کی عقیدت کے سپاس نامے، آپؐ کے ارشاداتِ عالیہ کے مقدس حوالے جلسے جلوسوں کے ساتھ ہی غائب ہوجاتے ہیں۔ ہمارے ان دعوائے محبت کے اشعار کی گونج مہینہ بھر بھی قائم نہیں رہ پاتی۔ سارے جوش اور ولولے سرد پڑ جاتے ہیں۔ عقیدت و محبت کا تقاضا تو یہ ہے کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کو ہمیشہ مدنظر رکھیں: ’’کوئی شخص اُس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک میں اُس کے لیے ماں باپ اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجائوں۔‘‘
دنیا کے ہر رشتے، ہر تعلق سے زیادہ عزیز ہستی اگر کوئی ہو تو اس کی خوشنودی عزیز ترین ہوجاتی ہے۔ اس کے ارشادات دل پر لکھے جاتے ہیں۔ اس کی فرماں برداری لازم ہوجاتی ہے۔ اس کے لیے بڑی سے بڑی قربانی سے گریز نہیں کیا جاتا۔ لیکن یہ کیسا تضاد ہے کہ ہم عشق کے دعویدار بنتے ہیں، نعتیں سن سن کر سر دھنتے ہیں، آنسو بہاتے ہیں، وجد میں بھی آتے ہیں، حال بھی کھیل جاتے ہیں، مگر آپؐ کے ارشادات پر عمل پیرا نہیں ہوسکتے، آپؐ کے بتائے ہوئے راستے پر نہیںچل سکتے۔ صحیح معنوں میں کبھی آپؐ کے اطاعت گزار نہیں ہوسکتے۔
آپؐ چلتا پھرتا قرآن کہلائے، اس لیے کہ قرآن کے دستورِ اساسی کو زندگی کے ہر قدم اور ہر موڑ پر اپناکر قرآنِ حکیم کے سانچے میں ڈھل گئے، جن کے لیے باری تعالیٰ نے قسم قرآن کی کھا کر اعلان کیا کہ تم ہمارے رسولوں میں سے ہو (حالانکہ کسی اور نبی کے لیے قرآن حکیم کی قسم نہیں کھائی گئی) اور سیدھے راستے پر ہو، یہ حکمتوں سے بھری ہوئی کتاب تمہیں اس لیے دی گئی ہے کہ تم ان غافل انسانوں کو سیدھی راہ دکھائو۔ (سورہ یٰسین)۔
سورہ صٓ آیت 29 میں فرمایا: ’’یہ مبارک کتاب ہے جو ہم نے تمہاری طرف نازل کی ہے، تاکہ لوگ اس پر غور کریں، تدبر کریں اور عقل والے سبقِ ہدایت حاصل کریں۔‘‘
یہ روشن اور مبارک کتاب ہے جسے ہم نے طاقِ نسیاں پر رکھ دیا ہے۔ نہ اس پر غور کرتے ہیں نہ تدبر، اور نہ ہدایت حاصل کرتے ہیں، اور حُبِّ الٰہی اور حُبِّ نبیؐ جس کے ہم داعی ہیں، محض جلسوں اور جلوسوں تک محدود ہوکر رہ گیا ہے۔ قدم قدم پر ہمیں اس کی مثالیں نظر آتی ہیں۔ قادرِ مطلق کا فرمان ہے ’’جس نے رسولؐ کا حکم مانا اس نے خدا کا حکم مانا۔‘‘ (النساء)
کائنات کا فرمانروا فرماتا ہے ’’اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کرو اور آپس میں مت جھگڑو، کہ کمزور پڑ جائو گے۔‘‘ لیکن ہم من حیث القوم نہ خدا کے فرمانبردار ہیں، نہ رسولؐ کے۔ ہم لڑ رہے ہیں گلیوں میں، محلّوں میں، گھروں میں، بازاروں میں، مسجدوں میں، درس گاہوں میں، اسمبلیوں میں، سینیٹ میں، شہروں میں، دیہات میں، جنگلوں میں۔ تعصبات، نفرتوں اور کدورتوں کی آگ سینوں میں دہک رہی ہے۔ دلوں میں، نگاہوں میں غضب کی بجلیاں کوند رہی ہیں۔ کہاں ہے وہ اسلامی اخوت جو رہبرِ انسانیتؐ کی تعلیمات اور عمل سے وجود میں آئی تھی؟ جتنے آج ہم بکھرے ہوئے ہیں اتنے کبھی نہ بکھرے تھے۔ پروردگارِ عالم کا ارشاد ہے ’’اور جب تُو اُن لوگوں کو دیکھے جو ہماری آیات کی عیب جوئی کرتے ہیں تو اُن سے کنارہ کش ہو جا، یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں لگ جائیں، اور اگر تجھے شیطان بھلا دے تو یاد آنے کے بعد پھر ایسے ظالموں کے پاس مت بیٹھ۔‘‘ (سورۃ الانعام، آیت 68)
لیکن ہم دنیا کے عارضی اور نام نہاد مفادات کی خاطر اُن کے پاس بیٹھتے ہیں، بلکہ ان کے فرمانبردار غلام بن رہے ہیں۔ ملکی، قومی اور دینی مفادات کو بھلا کر ہر اُس طاقت کی بات پر آمنا و صدقنا کہہ رہے ہیں جو ہمیں تھپکی دے کر کھوکھلا کررہی ہے۔
ہم قومی تشخص اور وقار کو لے ڈوبے ہیں، ملکی مفاد کو نظرانداز کر بیٹھے ہیں۔ خدائے علیم و خبیر ہمیں آگاہ فرماتا ہے ’’اے ایمان والو! یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بنائو۔ یہ ایک دوسرے کے ہی دوست ہیں، اور جو شخص تم میں سے انہیں دوست بنائے گا وہ بھی ان میں سے ہی ہوگا۔‘‘
’’بے شک خدا ظالم لوگوںکو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ (سورۃ المائدہ، آیت 51) اس سورۃ میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ ’’اے ایمان والو! جن لوگوں کو تم سے پہلے کتابیں دی گئی تھیں اُن کو اور کافروں کو جنہوں نے تمہارے دین کو ہنسی اور کھیل بنا رکھا ہے، دوست نہ بنائو اور مومن ہو تو خدا سے ڈرو۔‘‘
سورۃ آل عمران، آیت 118 میں نہایت وضاحت سے تاکید کی گئی ہے ’’اے ایمان والو! تم مومنین کے سوا کسی کو اپنا دوست نہ سمجھو، یہ لوگ تمہیں خراب کرنے میں ہرگز سُستی نہ کریںگے۔ یہ تو چاہتے ہیںکہ تم مصیبتوں میں گھرے رہو، ان کی زبانوں سے بغض ٹپکا پڑ رہا ہے اور ان کے دلوں میں پوشیدہ دشمنی اس سے کہیں زیادہ ہے۔ ہم نے تمہارے لیے نشانیاں ظاہر (واضح طور پر) کردی ہیں اگر تم عقل مندی سے کام لو (اور دشمنوں کو دوست سمجھنے کی حماقت نہ کرو)۔‘‘
موجودہ دور میں بھی منافقوں اور کافروں کی عالمِ اسلام کے ساتھ کھلی دشمنی، اور دوستی کے پردے میں مخاصمت، دل آزاری اور بدخواہی قدم قدم پر اللہ کے کلام کی صداقت کی آئینہ دار ہے۔ پھر وہ جبار و قہار دوٹوک الفاظ میں حکم دیتا ہے ’’مت دوستی کرو اپنے اور خدا کے دشمنوں کے ساتھ۔‘‘
لیکن ہم ہیں کہ دشمن کو دوست کہنے پر مُصر ہیں۔ بچھے جارہے ہیں اس کی خوشنودی کے لیے۔ اس کی مکاری اور عیاری سے جان بوجھ کر اغماض برت رہے ہیں۔ رحمن و رحیم اللہ فرماتا ہے ’’تمہارے دوست تو خدا اور اس کے رسولؐ اور مومن لوگ ہیں۔‘‘ لیکن ہم ان کو ہی اپنا دوست نہیں جانتے، ازلی دشمنوں کو دوست گردانتے ہیں، یعنی ’’تم کو ان سے ہے وفا کی امید، جو نہیں جانتے وفا کیا ہے‘‘۔
اللہ اور اس کے رسولؐ کو کذب و تکذیب، غرور و نخوت، ریا کاری، منافقت، نمود و نمائش اور اسراف وتبذیر سخت ناپسند ہیں۔ اُن کا حکم ہے کہ والدین، عزیز و اقربا اور ناداروں کو اپنے مال میں سے دو، لیکن ہم اپنی دولت و حشمت کے اظہار کے لیے سرِراہ اور گھروں کے آگے بزعمِ خود خدا اور رسولؐ کے لیے دیگیں پکوا کر کھانا تقسیم کرتے ہیں، لیکن غریبوں، معذوروں، بے روزگاروں کو ان کے اپنے پیروں پر کھڑا کردینے کی کوئی سبیل نہیں کرتے، حالانکہ رہبر عالمؐ نے اس کی عملاً مثالیں پیش کیں۔
خدائے رحیم و عادل فرماتا ہے ’’جو لوگ خدا کی کتاب پڑھتے ہیں اور نماز پابندی سے ادا کرتے ہیں، اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں (پوشیدہ اور ظاہری طور پر) وہ اس تجارت (کے فائدے) کے ہی امیدوار ہیں جو کبھی تباہ نہیں ہوگی، کیوں کہ اللہ انہیں پورا پورا بدلہ دے گا۔ نیز اپنے فضل و کرم کے ساتھ کچھ زیادہ بھی دے گا۔ وہ تو بخشنے والا قدردان ہے۔‘‘ (سورہ فاطر، آیات 30,29)۔
لیکن ہم اُس تجارت کی طرف نہیں لپکتے جو کبھی ضائع نہیں ہوگی۔ ہمیں دنیا کی عارضی منفعت ہی بھاتی ہے۔ ہمیں خسران کے سودے ہی عزیز ہیں۔ ہم اپنی بیٹی کو جہیز میں بیش قیمت لیکن نہایت غیر ضروری سامان تو دیتے ہیں، مگر کسی غریب کی بیٹی کے لیے چند نہایت ضروری اشیاء فراہم کرنا دشوار سمجھتے ہیں۔ ہم اپنی اولاد کو اعلیٰ تعلیم کے لیے یورپ اور امریکا تک بھجواتے ہیں لیکن کسی غریب طالب علم کو اعلیٰ تعلیم کے لیے ملک میں بھی وظیفہ دینا ہمیں مشکل نظر آتا ہے۔ رہبرِ انسانیتؐ کی تعلیمات کے برعکس دروغ گوئی ہر شعبۂ حیات میں ہمارا وتیرہ بن گئی ہے۔ ناجائز نفع کے لیے جھوٹ، اپنی فوقیت جتانے کے لیے جھوٹ، دوسروں کی عزت گھٹانے کے لیے دشنام طرازی، ہر بات میں وعدہ خلافی، عہد شکنی، فریب دہی… یہ سب باتیں اسلام کے منافی ہیں۔ لیکن ہمیں اس کی کیا پروا ہے؟ روزمرہ کی نہایت قریب کی بات لے لیجیے۔ باری تعالیٰ نے فرمایا ’’اللہ پاک صاف رہنے والوں سے محبت رکھتا ہے۔‘‘
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’پاکیزگی نصف ایمان ہے‘‘۔ پانچ وقت کی نماز کے لیے وضو اسی پاکیزگی کے لیے ہے۔ صاف جگہ، صاف لباس کی تاکید اسی کی اہمیت کے لیے ہے، لیکن پانچ وقت کی نماز مسلمانوں کی کتنے فیصد آبادی ادا کرتی ہے؟ قلب و باطن کی صفائی تو دور کی بات ہے اپنی آبادی میں غلاظتوں اور کثافتوں کے ڈھیر لگے پڑے ہیں۔ گٹر بند ہوتے ہیں، فضا میں بدبو رچی ہوتی ہے، نہ متعلقہ محکموں میں فرائضِ منصبی کا احساس ہوتا ہے، نہ اہلِ محلہ و علاقہ اپنی مدد آپ کی بنیاد پر کچھ کر گزرنے کی ہمت کرتے ہیں۔ حیوانوں سے بھی نچلی سطح پر زندگی گزر رہی ہے، بس گزر رہی ہے۔ کتے کو دیکھیں، دُم ہلا کر جگہ صاف کرکے بیٹھتا ہے، بلی اپنی غلاظت خود خاک سے چھپا دیتی ہے، لیکن ہم اپنے ہاتھ پیر سے کام نہیں لے سکتے۔ روزمرہ کی زندگی میں ہم قدم قدم پر احکامِ خداوندی اور سنتِ رسولؐ کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ اپنے فرائضِ منصبی میں، لین دین اور تجارتی پیمانوں میں، نجی زندگی میں حقوق کی ادائیگی میں ہر فرمان کے خلاف عمل کرتے ہیں لیکن ہمارا دعوائے حُبِّ رسولؐ اپنی جگہ قائم ہے، جس کا اظہار ہم جلوسوں میں اچھل کود اور بھنگڑوں کے ذریعے کرتے ہیں۔ ایک طبقہ جلوسوں میں شامل نہ ہوکر اپنی کوٹھیوں میں آرائش و زیبائش سے چراغاں کرکے دوسروں پر سبقت لے جانے پر تلا رہتا ہے، روشن خیال طبقہ عید میلادالنبیؐ کی سالگرہ منانے کے لیے کیک کاٹنے کی رسم کو بھی فروغ دینے لگا ہے۔
خدائے سمیع و بصیر فرماتا ہے ’’اے ایمان والو! نہ خدا اور رسولؐ کی امانت میں خیانت کرو اورنہ اپنی امانتوں میں خیانت کرو، اور تم (ان باتوں کو) جانتے ہو۔‘‘ (سورۃ الانفال)۔
لیکن ہم ہر شعبۂ حیات میں، زندگی کے ہر موڑ پر، زندگی کے ہر ہر قدم پر، بلکہ ہر سانس کی آمدوشد پر اللہ اور اس کے رسولؐ کے ساتھ، انسانیت کے ساتھ، خود اپنے ضمیر کے ساتھ خیانت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ ہم کیسے اور کس منہ سے حُبِّ نبیؐ کا اظہار کرسکتے ہیں! کبھی اپنا جائزہ لیا ہم نے؟ انفرادی اور من حیث القوم بھی۔

فطرت افراد سے اغماض بھی کر لیتی ہے
کبھی کرتی نہیں ملت کے گناہوں کو معاف

حصہ