پُرامن کراچی، خوشحال پاکستان

58

نئے سال کی آمد سے قبل ہی کراچی میں ڈاکوؤں اور اسٹریٹ کرمنلز نے دبنگ انٹری ڈال دی ہے، ڈکیتی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی وارداتوں کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ آنے والا سال بھی کرمنلز کے لیے ’’پستول اٹھا، کرشمہ دکھا‘‘ نامی فلم بن کر ہی آئے گا۔ اگر شہر کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال کا جائزہ لیا جائے تو پولیس کی نااہلی کے ساتھ ساتھ کرمنلز کی جانب سے اسلحہ کے زور پر کی جانے والی کارروائیوں کا گراف اوپر کی طرف جاتا ہوا دکھائی دے گا۔ شہر میں جرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر بلا خوف و خطر شہر بھر میں بھرپور کارروائیوں کی صلاحیت رکھتے ہیں، یعنی وہ ایک مرتبہ پھر چور سپاہی کا کھیل کھیلنے کو تیار ہیں، انہیں اس بات کا یقین ہے کہ چور سپاہی کے اس کھیل میں ہمیشہ کی طرح جیت انہی کی ہوگی۔ ان کے بلند حوصلے بتا رہے ہیں کہ گزشتہ برسوں کی طرح آنے والا سال بھی انہی کا ہوگا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ کراچی آپریشن کے نتائج مثبت رہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اسٹریٹ کرمنلز کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ سامنے نہ آسکا۔ اگر رواں سال ہونے والی وارداتوں کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ ناسور اب تک خاصا توانا ہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق رواں سال اسٹریٹ کرائمز اور ڈکیتی کی وارداتوں کے دوران 32 شہری جاں بحق جب کہ 250 سے زائد زخمی ہوئے۔ رواں سال اسٹریٹ کرائمز میں بے پناہ اضافہ ہوا اور 9 ماہ میں سب سے زیادہ موبائل فون چھینے گئے، یعنی جنوری سے اب تک تیس کروڑ کے 36320 موبائل فون چوری ہوئے یا چھین لیے گئے۔ دوسری طرف مختلف کارروائیوں میں صرف 2500 موبائل فون برآمد ہوئے۔ گزشتہ سال کی نسبت اِس سال موبائل فون چھیننے کی وارداتوں میں 30 فی صد اضافہ ہوا، جبکہ ایک ارب روپے سے زائد مالیت کی 21 ہزار موٹرسائیکلیں بھی چوری ہوچکی ہیں۔ کار لفٹر سوا ارب روپے سے زائد مالیت کی 13 ہزار گاڑیاں بھی لے اُڑے۔
بات یہیں ختم نہیں ہوتی، ایک اور واقعے میں کورنگی نمبر چار پر تین ڈاکو عوام کے ہتھے چڑھ گئے جنہیں مشتعل شہریوں نے شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ علاقہ مکینوں کے تشدد سے ایک ڈاکو موقع پر ہلاک ہوگیا جس کی شناخت اویس، اور زخمی ڈاکو کی نعمان کے نام سے ہوئی ہے، ان ڈاکوئوں کے پاس سے اسلحہ بھی برآمد ہوا، جبکہ ان کا تیسرا ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔
اسی طرح جوڑیا بازار میں بھتہ نہ دینے پر مسلح افراد نے دکان کو آگ لگادی۔ دکان دار کے مطابق موٹر سائیکل سوار بھتہ خوروں نے اس سے5لاکھ روپے بھتہ مانگا تھا، بھتہ نہ دینے پر انہوں نے مٹی کا تیل چھڑک کر دکان کو آگ لگادی۔ اسٹریٹ کرمنلز شہر میں دندناتے پھر رہے ہیں، سنسان سڑک ہی نہیں، مصروف شاہراہوں پر بھی لوگوں کو سرِعام لوٹ لیتے ہیں۔
شہر میں اسٹریٹ کرائمز میں اچانک تیزی آگئی، لٹیروں نے مزاحمت کرنے والوں کو قتل کرنا بھی شروع کردیا۔ چند دن قبل دورانِ ڈکیتی میڈیکل کالج کی طالبہ مصباح کو قتل کیا گیا۔ بھینس کالونی میں ڈاکو نجی اسپتال میں گھس گئے۔ سڑکوں پر موبائل، نقدی اور موٹرسائیکلیں چھیننا تو آئے دن کا کھیل بن گیاہے۔ اور تو اور کورنگی صنعتی ایریا میں لوٹ مار سے پریشان تاجروں نے بھی ایس ایس پی کورنگی کو خط لکھ کر اسٹریٹ کرمنلز کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کردیا ہے۔ کرمنلز کی کارروائیوں سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ اسی شہر میں موجود ہیں اور کوئی اُن کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔
کراچی میں ہمیشہ سے ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے سب سے بڑا چیلنج لوٹ مار کی وارداتیں اور ڈکیتیاں رہی ہیں۔ گزشتہ برسوں کے اعدادوشمار پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ 2015ء میں جب کراچی آپریشن پورے عروج پر تھا، صرف 321 وارداتیں ہوئی تھیں۔ جب جب آپریشن میں سُستی آئی، کرمنلز کی کارروائیاں بڑھتی چلی گئیں، اور 2016ء میں یہ تعداد 657 تک جا پہنچی۔2017ء میں گاڑیاں چوری ہونے کے 868کیس رپورٹ ہوئے، جبکہ موبائل فون چوری کے 10892 واقعات پیش آئے۔
2018ء میں شہری ایک ہزار 59 گاڑیوں، 20 ہزار5 سو موٹر سائیکلوں سے محروم ہوئے، جب کہ 24 ہزار 660 موبائل فون چوری کیے یا چھینے گئے۔
شہر کی گلیوں، محلوں اور بازاروں میں بڑھتی ہوئی وارداتوں کے باعث عوام کے ذہنوں میں ماضی کے وہ حالات ابھرنے لگے ہیں جب درجنوں افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا تھا، شہر کی سڑکیں سنسان ہوا کرتی تھیں، جب گلیوں میں اسلحہ لیے دہشت گرد جس کو چاہتے یرغمال بنا لیتے، گولیوں کی تڑتڑاہٹ اور بموں کے دھماکے سنائی دیتے، جب اپنے اپنے علاقوں پر قبضے کی جنگ لڑتے ہوئے گروپ جو کسی کے کنٹرول میں نہ تھے، شہر کے باسیوں پر دہشت طاری رکھتے۔ یہاں کے رہنے والوں نے اس دور میں درندگی اور لاقانونیت کے وہ مظاہرے دیکھے ہیں جنہیں یاد کرکے آج بھی ان کی روح کانپ جاتی ہے۔ کراچی میں ایک مرتبہ پھر تیزی سے بڑھتی ہوئی لاقانونیت کو دیکھ کر عوام یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ یہاں کے بسنے والے کہیں ایک مرتبہ پھر ان کرمنلز کے ہاتھوں یرغمال نہ بن جائیں، یا مزاحمت کرتے ہوئے اپنی عدالتیں لگا کر خود ان ظالموں اور جابروں کو سزائیں دینے لگیں، جس کی ایک جھلک جلائے جانے والے ڈاکوؤں کی صورت دیکھی جا سکتی ہے۔ ماضی گواہ ہے کہ جب جب لوٹ مار کی وارداتوں میں اضافہ ہوا، عوام کا کرمنلز کے خلاف اسی طرح کا ردعمل سامنے آیا، جو انتہائی خطرناک ہوسکتا ہے۔
شہر کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال پر عوامی غم وغصہ اس قدر عروج پر ہے کہ ہر دوسرا شہری اس لاقانونیت کی ذمہ داری پولیس پر ڈالتا دکھائی دیتا ہے۔ عوام کے نزدیک پولیس کی نااہلی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جرائم پیشہ افراد پولیس کی جانب سے بنائی جانے والی کمزور ایف آئی آر کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے بآسانی جیلوں سے باہر آجاتے ہیں۔ جب عدالت میں کمزور چالان پیش کیے جانے پر کرمنلز رہائی حاصل کریں تو یہ بتانے کی ضرورت نہیں رہتی کہ باہر آکر وہ شہر میں کیا فرائض انجام دیتے ہوں گے! ظاہر ہے ایسے جرائم پیشہ افراد کا حوصلہ پہلے سے کہیں زیادہ بلند ہوجاتا ہوگا۔ شہر میں جرائم کی شرح میں اضافہ ایسے ہی مجرموں کی کارروائیوں کے نتیجے میں ہوتا ہے جنہیں قانون کی سرپرستی حاصل ہو۔
کراچی میں ان جرائم کے بڑھاوے کی دوسری بڑی وجہ جرائم پیشہ افراد کی سیاسی سرپرستی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کا جرائم پیشہ افراد کے ساتھ گٹھ جوڑ عوام کو جمہوریت کے ثمرات سے دور کررہا ہے۔ آخر کب تک عوام ان دہشت گردوں کے رحم وکرم پر رہیں گے؟ کب تک پولیس اسی طرح جرائم پیشہ افراد کو قانونی مدد فراہم کرتی رہے گی؟کب تک یہاں بے امنی کا راج رہے گا؟ اس بدترین صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت مصلحتوں سے بالاتر ہوکر کارروائی کرے۔ مجرم چاہے کوئی بھی ہو اور کتنا بھی طاقت ور ہو اُس کے خلاف سخت ترین ایکشن لیا جائے۔
جرائم میں اضافے کی ایک وجہ بے روزگاری بھی ہے۔ نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری انہیں جرائم کی جانب دھکیلنے کی بڑی وجہ ہوسکتی ہے۔ لہٰذا حکومت فوری طور پر روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے جنگی بنیادوں پر اقدامات کرے، اسی طرح بنیادی ضروریاتِ زندگی کی فراہمی پر توجہ دینے اور ساتھ ساتھ امن وامان کی صورتِ حال پر مستقل نظر رکھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ پُرامن کراچی ہی خوشحال پاکستان کی ضمانت ہے۔

حصہ