نگاہِ عشق و مستی میں وہی اوّل وہی آخر

48

راحیلہ چوہدری
۔12ربیع الاوّل کی آمد آمد ہے۔ اس مہینے کے آغاز ہی سے اس کی تیاریاں خوب زور شور سے شروع ہوجاتی ہیں۔12 ربیع الاوّل کے دن ہر مکتبِ فکر کے لوگ اپنے اپنے انداز میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی محبت اور عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ تاریخ ہر سال اس لیے دہرائی جاتی ہے کہ ہم سب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہونے کے ناتے ایک بار پھر اپنا اپنا محاسبہ کریں۔ اس تیز رفتار اور برف کی مانند پگھلتی ہوئی زندگی میں ایک لمحے کے لیے رک کر سوچیں کہ جس ہستی کو اللہ تعالیٰ نے پورے عالم کے لیے رحمت بنا کر بھیجا کیا ہم اُن کے امتی ہونے کا حق ادا کررہے ہیں؟ یا اُن کے امتی ہونے کا صرف اتنا سا فرض ہے کہ پورے سال میں چند دن محافلِِ میلاد منعقد کروا کر، نعتیں پڑھ کر، کیک کاٹ کر، اور عمارتوں کو خوب سجا کر آپؐ سے محبت کا اظہار کر کے گزار دیں۔ پروفیسر عنایت علی خان اپنی نعت کے ایک شعر میں کہتے ہیں:۔

تیرے حسنِ خلق کی اِک رمق میری زندگی میں نہ آ سکی
میں اِسی میں خوش ہوں کہ شہر کے دروبام کو تو سجا دیا

نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور عقیدت کا اصل تقاضا یہ تھاکہ ہم اپنی زندگیوں کو آپؐ کے اسوہ کے مطابق ڈھالنے کی پوری پوری کوشش کرتے۔ نبیؐ نے ہمیں جو کرنے کا حکم دیا سب سے پہلے خود کرکے دکھایا۔ نبیؐ کی اصلاح کا مقصد اپنے آپ کو درست کرکے اللہ کے نظام کو دنیا میں نافذ کرنا تھا۔ لیکن ہم نے کبھی اس چیز کی ضرورت محسوس نہیں کی اور طاغوت کے راستے پر ہی چلتے رہے، کیوں کہ ہم نے اپنی محبت کا محور نبیؐ کو نہیں بنایا، بلکہ دھوکے اور فریب پر مبنی اس دنیا کی محبت اور فریب میں مبتلا رہے جو بار بار خوشنما بناکر ہماری آنکھوں کے سامنے پیش کردی جاتی ہے۔ اللہ نے انسان کو دنیا میں اس لیے نہیں بھیجا کہ وہ صرف اپنی خواہشات ِ نفس کو پورا کرے اور اگلے جہان چلا جائے۔ بلکہ انسان کو اِس دنیا میں بھیجنے کے ساتھ دینِ اسلام کی شکل میں ایک پورا دستور ِ حیات بھی دیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عملی نمونہ بناکر بھیجا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اللہ نے ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی بنایا۔ اس کے بعد ہمارا فرض تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے سامنے ہر کسی کی بات ہیچ ہوتی اور ہر ایسی خاندانی روایت اور معاشرتی چلن کو چھوڑ دیا جاتا جو کہ اسلام سے متصادم ہے، اور سنتِ رسولؐ کو زندگی کے ہر معاملے میں جاری و ساری رکھا جاتا۔ آپؐ کے اسوہ پر چل کر اس دنیا کو امن و محبت کا گہوارہ بنایا جاتا۔ آج ہم سب اسی لیے بھٹک رہے ہیں اور حیوانیت کے درجے کو پہنچ چکے ہیں کہ ہمارے عشق و محبت کا محور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بجائے یہ دنیا ہے۔ اقبال نے یہی بھولا ہوا سبق یاد دلانے کے لیے یہ شعر کہا تھا:۔

قوتِ عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر میں اسمِ محمدؐ سے اجالا کر دے

مسلمانوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زبانی کلامی محبت کا دعویٰ کرنے کی نہیں بلکہ آپؐ کی ذات سے عشق کرنے کی ضرورت ہے۔ صرف اللہ اور اس کے رسولؐ سے عشق ہی ایک انسان کو وہ ہمت اور جرأت عطا کرتا ہے جو اِس دنیا کو امن اور محبت کا گہوارہ بنا سکتی ہے۔ اللہ اور اس کے رسولؐ سے عشق ہی وہ واحد قوت ہے جو انسان کو ہر مشکل سے مشکل چیز سے بھی گزار دیتی ہے۔ صحابہؓ کی زندگیاں ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہیں۔ حضرت بلالؓ کو معلوم تھا کہ کلمہ پڑھنے کے بعد ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا، مگر انہوں نے کفر اور کفر کے نظام کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ لاالٰہ کا کلمہ پڑھنے کے بعد جو ظلم ان پر ڈھائے گئے ان سے کون واقف نہیں! ان مظالم سے انہیں صرف عشق کی طاقت نے گزارا۔ غزوۂ بدر حق و باطل کا پہلا معرکہ، جس میں خونیں رشتے تلواروں کے نیچے آ گئے، کسی نے کسی کی پروا نہیں کی، اللہ اور اس کے رسول ؐ کی رضا اور نظام کی خاطر اپنے خونیں رشتوں کو اپنے ہاتھوں سے ختم کردیا۔ شعب ِ ابی طالب میں 3 سال کا عرصہ… جس میں صحابہ کرامؓ کو بھوک، پیاس اور اپنوں کی جدائی بھی محسوس نہیں ہوئی… صرف اللہ اور اس کے رسولؐ سے محبت اور عشق کی وجہ سے گزرا۔ حضرت فاطمہؓ کئی کئی دن بھوکی ہونے کے باوجود فقیرکے ایک دستک دے کر کھانا مانگنے پر اپنا کھانا اٹھا کر اس کو دے دیتیں۔ عمل کی یہ پختگی صرف اللہ اور اس کے رسولؐ سے عشق کی بدولت تھی۔ صحابہ کرامؓ کے بعد بھی طارق بن زیاد جب اسپین فتح کرنے گئے تو ساری کشتیاں جلا دیں جو واپس جانے کا واحد سہارا تھیں، اس نیت کے ساتھ کہ دنیا میں جہاں جہاں اللہ کا نظام قائم کرسکا، کروں گا، ورنہ جینے کا کیا فائدہ! یہ جذبہ بھی عشق کی بدولت تھا۔ عشق کے جذبے نے ہی ان کے اس مقصد کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ اسی عشق کا یہ انعام تھاکہ طارق بن زیاد کی وجہ سے 800 سال تک اسپین میں اسلام رائج رہا۔ صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق ہی وہ واحد چیز ہے جو روح کو سیراب کرتی ہے۔ یہ وہ واحد جذبہ ہے جو انسان کی دنیا اور آخرت کے لیے کافی ہوجاتا ہے۔جس دور سے ہم گزر رہے ہیں، ہماری زندگیاں اور معاشرہ جن مسائل کا شکار ہے، اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ کا ہر پہلو غور سے پڑھیں، سیکھیں اور ان کے اسوہ پر چلنے کا وہی جذبہ تازہ کریں جوصحابہ کرامؓ آپؐ کے لیے رکھتے تھے۔ انہوں نے سچے دل کے ساتھ آپؐ کی پیروی کی، اسی اسوہ پر عمل کرکے صحابہ کرامؓ مشکل سے مشکل وقت سے بھی گزر گئے، اور پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافتِ راشدہ کے سنہرے دور کی عظیم الشان مثال قائم کی۔
مسلمانوں کو یہ بات سمجھنے کی اشد ضرورت ہے کہ اتباعِ رسولؐ اور اطاعتِ رسولؐ صرف چند عبادات تک محدود نہیں، بلکہ یہ ساری زندگی پر محیط ہے۔ نماز کی ادائیگی میں جس طرح اتباع ِ سنت مطلوب ہے اسی طرح اخلاق و کردار میں بھی اتباع ِ سنت مطلوب ہے۔ جس طرح روزے اور حج کے مسائل میں اتباعِ سنت مطلوب ہے اسی طرح کاروبار اور باہمی لین دین میں بھی مطلوب ہے۔ اسی طرح معاشرے کو برائی سے روکنا اور اچھائی کا حکم دینا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی ہونے کے ناتے ہر فرد کا اوّلین فرض ہونا چاہیے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہونے کے ناتے ہمارے عمل سے معاشرے میں کیا خرابیاں پیدا ہورہی ہیں، سب کو اس حوالے سے اپنا اپنا محاسبہ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ زندگی کا جو بھی شعبہ ہو سنتِ رسولؐ زندگی کے ہر معاملے میں جاری رہنی چاہیے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا یہ تقاضا ہے کہ ربیع الاول کے اس مہینے میں ہر فرد سیرت کی کوئی ایک کتاب خود پڑھ کر ضرور ختم کرے اس نیت کے ساتھ کہ مجھے اپنی خامیوں کو دور کرنا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو عملی طور پر اپنانا ہے۔ کتاب پڑھنے کے ساتھ ساتھ اس مہینے میں اللہ تعالیٰ سے خاص طور پر یہ دعا بھی کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے اور سنت کو عملی طور پر اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔

حصہ