شریک مطالعہ: محمد الیاس کے تین ناول

30

نعیم الرحمن
(دوسری اور آخری قسط)
ناول ’’برف‘‘ کی کہانی دین داری پر نازاں شیخ نورالاسلام اور شریعت کی ان کی خودساختہ تعبیر کی بھینٹ چڑھنے والی ان کی بیٹی فخرالنساء کے گرد گھومتی ہے۔ شیخ صاحب کا ایمان ہے کہ لڑکی کا نکاح نہ کرنا بے حیائی کے فروغ کا باعث بنتا ہے اور والدین کو یہ فریضہ جلد ازجلد ادا کردینا چاہیے، اس ضمن میں بیٹی سے پوچھنا قطعی ضروری نہیں ہے۔ شیخ نورالاسلام کپڑے کے ایک دین دار تاجر ہیں جنہوں نے تمام عمر عبادت و ریاضت کے ساتھ رزق ِ حلال کمایا۔ سردی، گرمی، آندھی، طوفان یا چاہے گھر میں میت ہی کیوں نہ پڑی ہو، اذان کی آواز کے ساتھ مؤذن کی صدا پر لبیک کہتے ہوئے شیخ صاحب مسجد کا رُخ کرلیتے ہیں۔ ان کے چار بیٹے ہیں۔ انہوں نے چاروں کو میٹرک تک تعلیم دلائی۔ بورڈ کا امتحان دے کر جوں ہی بیٹا فارغ ہوتا تو نتیجہ آنے سے پہلے ہی شیخ نورالاسلام ایک بائیسکل، کپڑے کے آٹھ تھان اور کپڑا ناپنے کا گز دے کر بیٹے سے فرماتے کہ جا بیٹا! بے ایمانی مت کرنا، رزق کی کمی نہیں آئے گی۔ آٹھ، دس ماہ میں سائیکل کے کیریئر پر مبنی دکان کا سرمایہ بڑھ جاتا اور مزید ایک ڈیڑھ سال میں مال ایک کمرے کے برابر ہوجاتا تو بیٹے کی الگ دکان کھول دی جاتی۔ اگلے سال سادگی سے اس کی شادی کردی جاتی۔ شیخ صاحب کا سب سے بڑا بیٹا ضیا الاسلام پچیس سال کا اور سب سے چھوٹا تنویر الاسلام ساڑھے اٹھارہ سال کا ہے۔ چاروں بیٹے شادی شدہ اور تین صاحبِ اولاد ہیں۔ مین بازار میں چاروں کی الگ الگ دکانیں ہیں۔ سب سے چھوٹی اولاد اکلوتی بیٹی فخرالنساء ہے۔ چوتھی جماعت تک بیٹی سرکاری اسکول میں محلے کی لڑکیوں کے ساتھ جاتی رہی۔ پھر باپ نے صبح اور چھٹی پر لانے اور لے جانے کی ڈیوٹی خود سنبھال لی۔ بیٹی کو موٹی چادر اوڑھا دی گئی۔ پہلے شیخ صاحب چلتے ہوئے سرِراہ ہر کسی سے سلام دعا میں پہل کرتے۔ اب بیٹی سے آگے گارڈ کی طرح چلتے اور انداز جنگجو سپہ سالار کا اپنا لیتے۔ محلے کے لڑکے جو پہلے سلام کرکے دعائیں لیتے، اب عجیب نظروں سے فخرالنساء کو دیکھتے۔ شیخ صاحب ان سے کہتے کہ اسکول کالج کیوں نہیں گئے، سرِراہ کیوں کھڑے ہو؟ چند لڑکوں نے ایسے سوال جواب پر بدتمیزی کی۔ انہی لڑکوں میں شامل ظفر احمدکے باپ نے شیخ صاحب کی شکایت پر ظفر کی خاصی پٹائی بھی کی۔ فخرالنساء انتہائی حسین ہی نہیں تھی بلکہ اسے تعلیم کا بھی بے حد شوق تھا۔ لیکن اسکول کے راستے میں محلے کے لڑکوں کی معمولی چھیڑ چھاڑ پر وہ فخرالنساء کی شادی دگنی عمر کے مولوی عمر فاروق سے کردیتے ہیں۔ ان کے خیال میں مولوی عمر فاروق کی زیادہ عمر اور پہلی بیوی کو طلاق کوئی اہمیت نہیں رکھتی، اور نہ فخری کی ماں کو بیٹی کی شادی پر رائے دینے کا کوئی حق ہے۔
شادی سے قبل ظفری نے گھریلو ملازمہ کے ذریعے فخری کو خط اور شناختی کارڈ کی کاپی بھیجی۔ خط میں لکھا تھا: فخرالنساء میں کل عصر اور مغرب کی نماز کے دوران اس شخص کا جائزہ لیتا رہا جسے تمہارے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ وہ کسی طرح تمہارے لائق نہیں ہے۔
شادی کے بعد فخرالنساء میٹرک کے پرائیویٹ امتحان میں اوّل آتی ہے، جس پر مولوی عمر فاروق کو کوئی خوشی نہیں ہوتی۔ وہ افغان جہاد میں کامیابی اور افغانستان میں اسلامی حکومت کے قیام پر بے حد خوش ہے۔ عمر فاروق کے جہادکا رُخ کشمیر کی جانب ہوچکا ہے اور وہ اس کے لیے کثیر فنڈ اکٹھا کرچکا ہے، اور یہ دولت گھر میں ہی چھپا کر کشمیر کے نام نہاد جہاد میں شریک ہوجاتا ہے۔ عمر فاروق ایک لالچی، سازشی اور مذہب کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنے والا شخص ہے جو جہاد کے نام پر مال بٹورنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتا، اور یہ ہتھیائی ہوئی دولت گھر میں چھپا کر رکھتا ہے اور بیوی سے انتہائی ناروا سلوک روا رکھتا ہے، اسے گھر جانے اور دیگر خواتین سے بھی ملنے نہیں دیتا۔ جہاد فنڈ میں ہیرا پھیری پر عمر فاروق قتل کردیا جاتا ہے تو وہ شہید مشہور کردیا جاتا ہے۔
فخرالنساء شہید کی بیوہ ہوکر باپ کے گھر آجاتی ہے تو شیخ صاحب کو ایک مرتبہ پھر بیٹی کا جنازہ جائز کرانے کی فکر لاحق ہوجاتی ہے۔ محلے کا ایک آوارہ لڑکا نیکو کاری کا ڈھونگ رچاکر شیخ صاحب کو متاثر کرلیتا ہے۔ پانچ وقت نمازیں، تبلیغی جماعت کے لوگوں کا ساتھ اور شیخ صاحب کی جوتیاں سیدھی کرنا۔ زبیرکی شہرت کے پیشِ نظر چاروں بیٹے اور بیوی بھی رشتے کی مخالفت کرتے ہیں، تب شیخ صاحب بیوی سے پینتیس سالہ رفاقت توڑنے کی دھمکی دے ڈالتے ہیں۔ شیخ صاحب فخری سے کہتے ہیں کہ بیٹی! اب تم پر منحصر ہے کہ ماں باپ کی رفاقت قائم رکھنے میں میرا ساتھ دو۔ فخری جواب میں کہتی ہے کہ ’’آپ کی خوشی اسی میں ہے تو ٹھیک ہے، میں اپنی ماں کو اس عمر میں بے وقار ہوتے نہیں دیکھ سکتی۔‘‘
نکاح کے فوری بعد زبیر اپنے اصل رنگ میں آ جاتا ہے۔ شیخ صاحب نکاح فسخ کرانا چاہتے ہیں تو فخری کو اغوا کرلیتا ہے اور اس پر بہیمانہ تشدد کرنے کے ساتھ جنسی استحصال بھی کرتا ہے۔ تشدد کرکے اسے شراب نوشی پر مجبور کرتا ہے اور کہتا ہے کہ تیرے باپ کو قابو کرنے کے لیے بہت ڈھونگ رچانے پڑے، جب تُو پوری طرح میرے رنگ میں ڈھل جائے گی تو واپس لے جاؤں گا، تب تُو خود باپ سے شراب مانگے گی۔ شیخ صاحب پولیس میں رپورٹ کرتے ہیں تو زبیرکا باپ عجائب خان کہتا ہے کہ زبیر اور فخری ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اور وہ اپنی مرضی سے شوہر کے ساتھ گئی ہے۔ شیخ صاحب کی بہت زیادہ بے عزتی ہوتی ہے۔ شیخ صاحب اب بھی یہی کہتے ہیں کہ انہوں نے جو کچھ کیا پوری نیک نیتی کے ساتھ اور شریعت کے احکامات کے مطابق کیا، بس رشتے داری غلط لوگوں کے ساتھ ہوگئی۔ بیٹی کے غم میں ماں سخت بیمار ہوجاتی ہے۔ آپریشن کا بھی فائدہ نہیں ہوتا۔ تب شیخ صاحب دعا کرتے ہیں ’’اے اللہ! اے غفورالرحیم! جو بھی میری بیوی سے میرے حق میں لغزش ہوئی ہے، میں نے سچے دل سے معاف کیا، تُو بھی اس سے درگزر فرما اور جان کنی کے عذاب سے نجات عطا کر۔‘‘
یہ پارسائی کا غرورکہ اتنا کچھ ہونے پر بھی شیخ اپنی کوئی غلطی تسلیم کرنے کو تیار نہیں اور بیوی کی بیماری اور تکلیف کو بھی اُس کے گناہوں کا شاخسانہ سمجھتا ہے۔ زبیر اپنی حرکتوں کی وجہ سے بالآخر قتل ہوجاتا ہے اور فخری ایک مرتبہ پھر بیوہ ہوکر لوٹ آتی ہے۔ اس کی ماں مرچکی ہے۔ ان تمام باتوں کے بعد بھی شیخ حاجی نورالاسلام باز نہیں آتے۔ بیوہ بیٹی کو گھر بٹھانا ان کے نزدیک عذابِ الٰہی کو دعوت دینا ہے۔ اس بار شیخ صاحب ایک جعلی عرب شیخ حاطب بن عبادہ المصری کو منتخب کرتے ہیں جو عرب بھی نہیں ہے، اور یہ شیخ بھی قتل ہوجاتا ہے۔
پے درپے صدمات اور صبر و رضا کے نتیجے میں فخرالنساء کندن بن جاتی ہے اور بی بی جان کے روپ میں ڈھل جاتی ہے۔ ناول ’’برف‘‘ کے دراصل تین ہی کردار ہیں: فخرالنساء عرف بی بی جان، شیخ نورالاسلام اور ظفر عرف ظفری… فخری اور ظفری ایک دوسرے سے نہ ملنے کے باوجود حقیقی اور پاکیزہ محبت کرتے ہیں۔ یہ تینوں کردار اردو ادب کے لازوال اور امر کردار ہیں۔ بی بی جان اور ظفری کے حوالے سے محمد الیاس نے زندگی کی مثبت قدروں کو خوب صورتی سے پیش کیا ہے۔ محبت میں ایثار اور قربانی کے معنی آشکارکیے ہیں۔ بی بی جان کا کردار انتہائی جان دار اور ناقابلِ فراموش ہے اور شیخ نورالاسلام کے روپ میں مصنف نے نیکی اور پارسائی کا غرور کمالِ مہارت سے پیش کیا ہے۔ ایک انسان جب پارسائی کے غرور میں مبتلا ہوجائے تو وہ کس حد تک گر سکتا ہے، اور کبھی بھی اپنی غلطی تسلیم نہیں کرتا۔ مذہب کے نام پر عورت کا استحصال کس طرح کیا جاتا ہے، یہ انتہائی چشم کشا ہے۔
زبیر، اس کے اہلِ خانہ، عمر فاروق اور اس کا باپ، ظفر، مس راجا اور دیگر بے شمار کرداروں کے حوالے سے زندگی کے مختلف پہلوئوں اور ماحول کو اجاگر کیا گیا ہے۔ نام نہاد جہاد کے نام پرکیا کچھ ہوتا ہے، ہمارے ملک میں پولیس کا کردار کیا ہے، اصل نیکی اور سچائی کیا ہے، یہ اور بہت کچھ ناول ’’برف‘‘ میں محمد الیاس نے انتہائی فنی مہارت اور چابک دستی سے بیان کیا ہے۔
محمد الیاس کا تیسرا شاہکار ’’بارش‘‘ ہے۔ ’’بارش‘‘ شہریار عرف شہری اور درشہوار عرف شیری کے انوکھے عشق کی داستان ہے۔ شہریار، بیگم تاجور سلطانہ کا پوتا ہے جس کے ماں باپ ایک حادثے میں مر چکے ہیں۔ درشہوار، بیگم تاجور کے بھتیجے سردار وقار احمد کی بیٹی ہے۔ بیگم تاجور کے لیے ان کے اصول ہی زندگی ہیں۔ شہری ان کا اکلوتا وارث اور سہارا ہے لیکن اپنے اصولوں کی خاطر انہیں اس کی بھی پروا نہیں۔ شہری نے انتہائی شاہانہ انداز میں زندگی بسر کی ہے لیکن وہ زندگی کے بہت سے حقائق سے واقف نہیں اور بہت سی باتوں میں وہ شیری کا محتاج ہے۔ منہ پھٹ شیری جو درست سمجھتی ہے کر گزرتی ہے۔ شہری اور شیری کے درمیان ایک ایسا انجان رشتہ ہے جو ٹوٹے نہیں ٹوٹتا۔
بیگم تاجور کے والد سردار مقدم ایامِ پیری میں سفرِ حج کے دوران چوبیس، پچیس سال کے نوجوان عبدالرحیم مخدوم سے بے حد متاثر ہوئے اور اپنی اکلوتی بیٹی بیگم تاجور کی شادی اس سے کردی۔ عبدالرحیم نے سردار مقدم سے کیا وعدہ نبھانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ بیگم تاجور بھی اپنے شوہرکو بے حد پسند کرتی تھیں لیکن اپنی خود پسندی کے سبب کبھی اپنا رویہ نہ بدل سکیں اور مخدوم ایک بارش کی شام ایسے گھر سے رخصت ہوئے کہ پھر کبھی لوٹ کر نہ آئے۔
درشہوار کا باپ سردار وقار احمد ایک انتہائی با اثر بیوروکریٹ ہے۔ مزاج اور کردار کے اعتبار سے وہ خوبیوں اور خامیوں کا عجیب مجموعہ ہے۔ اس خاندان کا شمار ملک کے بڑے جاگیرداروں میں ہوتا تھا۔ سردار وقار بزرگوں کا بہت احترام کرتا تھا۔ سماجی اعتبار سے پست افراد کے ساتھ ہمدردی سے پیش آتا۔ لوگوں کے کام کرنے کے لیے اپنا سروس ریکارڈ خراب کرنے سے بھی گریز نہ کرتا۔ بعض معاملات میں انتہائی ظالم اور بعض میں بے حد رحم دل تھا، مگر پرلے درجے کا بدزبان۔ خود کبھی ایک پائی رشوت نہیں لی لیکن اسٹاف کو مال بنانے سے نہیں روکا۔ نظریات کے اعتبار سے بھی سردار وقار احمد کی شخصیت تضادات کا مجموعہ تھی۔ وہ ملک کی نظریاتی اساس کے حوالے سے بھی جذباتی تھا تو جاگیردار اور سرمایہ دار طبقے کی بقا بھی اسے عزیز تھی۔
مشہور خاندانوں کے ایسے کتنے ہی قصے محمد الیاس نے پیش کیے ہیں۔ کرداروں کی ایک کہکشاں ہے جو رواں دواں ہے۔ اگر ایک ایک کردار کا نام اور اس کی مختصر خصوصیات بھی بیان کی جائیں تو مضمون کو سمیٹنا ممکن نہیں ہوگا۔ ناول ’’بارش‘‘ محمدالیاس کے قلم کا شاہکار ہے جس میں جہاں ہمارے جاگیرداری سماج کا کچا چٹھا کھولا گیا ہے وہیں بیوروکریسی کی سفاکی کو بھی بیان کیا گیا ہے۔ عام لوگ اور خاندانی ملازم کس طرح اُن کے اشاروں پر ناچنے پر مجبور ہوتے ہیں اور بغاوت کا کیا انجام ہوتا ہے، یہ سب حیران کن بھی ہے اور خوف ناک بھی۔
یہ بااثر خاندان اپنے ذاتی مفاد کے لیے غیر تو غیر اپنوں کو بھی کس طرح استعمال کرتے ہیں، یہی ناول بارش کا اصل موضوع ہے۔ شہریؔ خاندان کی انہی روایات اور مفادات کی بھینٹ چڑھتا ہے اور اتنے بڑے خاندان اور جاگیر کا وارث ہونے کے باوجود تمام زندگی تنہا ہی گزار دیتا ہے۔ مختلف لوگ اس کی سادگی سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ شہریؔ عام آدمی کا دکھ محسوس کرتا ہے لیکن اس کی پرورش جس انداز سے ہوئی ہے وہ ان تمام آسائشوں کو ترک نہیں کرسکتا۔ وہ اور شیریؔ دو جسم اور ایک جان ہیں لیکن خاندانی مسائل انہیں دور کردیتے ہیں، اور شہری کو بزرگوں کے دباؤ پر جہاں آرا سے شادی کرنا پڑتی ہے، جس لڑکی سے متاثر ہوکر وہ خفیہ شادی کرتا ہے اُسے سازشوں کے ذریعے ختم کرا دیا جاتا ہے اور بالآخر شیری ہی اس کی زندگی میں اُمید کی کرن بن کر داخل ہوتی ہے اور جہاں آرا کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا پڑتی ہے کہ شہری اور شیری کو جدا کرنا ممکن نہیں ہے۔
محمد الیاس کے دیگر ناولوں کی طرح بارش میں بھی انسان کی رنگ، نسل، مذہب، زبان اور قوم میں تقسیم کو موضوع بنایا گیا ہے۔ یہ تقسیم کتنی ہی غیر فطری اور ناروا کیوں نہ ہو، زندگی کے حقائق تبدیل نہیں ہوتے اور چند افراد کی انفرادی کوششیں اس پست و بالا کی تقسیم کو ختم نہیں کرسکتیں۔ لیکن انسانوں کو مختلف طبقات میں تقسیم کرنے کی مذمت ضرور کی جانی چاہیے، اسی سے بہتری آئے گی۔
محمد الیاس نے اپنے تینوں ناولوں میں طبقاتی تقسیم کے خلاف آواز بلند کی ہے اور انسانی مساوات پر زور دیا ہے۔ ان ناولوں کی موجودگی میں اردو ادب کو اچھے ناولوں سے تہی دامن قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اردو ادب کے قارئین کی خدمت میں ان کے دیگر تین ناولوں، افسانوں اور ناولٹس کا بھی تجزیہ جلد پیش کیا جائے گا۔ ان کی مزید تحریروں کا بھی انتظار رہے گا۔

حصہ