سب کچھ کہاں لالہ و گل میں

44

روبینہ اعجاز
بچھڑے ہوئے لوگوں کی بس یادیں ہی باقی رہ جاتی ہیں۔ اس وقت میرا بھی یہی حال ہے۔ دین کے کاموں کی ساتھی خالدہ شہزاد کی یادیں ہیں کہ امڈی چلی آتی ہیں۔ لگتا ہے ابھی کل ہی کی بات ہے کہ میں اور میری ساتھی انجم اسلامک سینٹر میں ایک پروگرام کی اپنے محلے میں دعوتیں دے رہے تھے۔ ایک نئے مکان کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ اندر سے ایک خاتون نے آڑ سے دروازہ کھولا، مسکراہٹ کے ساتھ ہمارا استقبال کیا۔ جب ہم نے انہیں پروگرام کی دعوت دی تو بہت خوشی سے قبول کرلی۔ پھر ہمارا ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر لے گئیں۔ ویسے تو ہم جلدی میں تھے مگر اُن کے خلوص اور خوش اخلاقی نے قدم وہیں روک لیے۔ وہ کچھ روز پہلے اس مکان میں آئی تھیں لیکن دیکھتے ہی اپنی اپنی لگیں۔ بعد میں پتا کہ وہ جماعت اسلامی کی رکن تھیں۔ باتوں میں عام سے لہجے میں بتایا کہ میرے گردے خراب ہیں، ہفتے میں دو مرتبہ ڈائیلاسز ہوتی ہے، بس ان دنوں کے سوا میں اجتماع اور دروس میں آسکتی ہوں۔ پھر انھوں نے اتنی بڑی بیماری کے باوجود یہ سچ کر دکھایا۔ پچھلے سال رمضان کی آمد قریب تھی اور ہم لوگ اجتماعِ کارکنان میں دورۂ قرآن کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔ میں نے ہنس کر کہا ’’خالدہ آپ کو میرا ساتھ دینا ہے‘‘۔کہنے لگیں ’’کیوں نہیں‘‘۔ پھر وہ دورۂ قرآن میں آتیں، آیات کی مناسبت سے کوئی حدیث، صحابہ کرامؓ کے واقعات بتاتیں۔ اسی دوران اُن کاکہا یہ جملہ میرے ذہن میں گردش کررہا ہے کہ ’’موت سے کیا ڈرنا! موت تو اللہ سے ملاقات کا نام ہے‘‘۔ خود زمین پر بیٹھ جاتیں، بڑی عمر والی خواتین کو اوپر کرسیوں پر بٹھا دیتیں۔ میں پوچھتی ’’آپ تھک تو نہیں جاتیں؟‘‘ کہتیں ’’میں ٹھیک ہوں‘‘۔ دوسروں کا ہر وقت خیال رکھتیں۔ کچھ دن نہیں آسکیں، مجھے ان کی صحت کی طرف سے تشویش لاحق ہوئی۔ دورہ قرآن سے واپسی پر ان کی خیریت معلوم کرنے ان کے گھر گئی، پتا چلا کہ طبیعت زیادہ خراب ہے۔ مگر انھیں غریبوں میں راشن بھجوانے اور امداد کرنے کی زیادہ فکر تھی۔ مجھ سے کچھ کام کہے۔ ان کی شخصیت پر یہ شعر صادق آتا ہے:۔

رکھتے ہیں جو اوروں کے لیے پیار کا جذبہ
وہ لوگ کبھی ٹوٹ کر بکھرا نہیں کرتے

واقعی وہ بیماری کے باوجود تر و تازہ لگتیں۔ دورہ قرآن کے بعد عید ملن کے لیے کہا ’’میری دودن ڈائیلاسزہوتی ہے، ان دنوں کو چھوڑ کر رکھیے گا‘‘۔ پھر عید ملن میں وہ مسکراتا چہرہ لیے اپنی چھوٹی بچیوں کے ساتھ موجود تھیں۔
خالدہ کا شمار اللہ تعالیٰ کے اُن قلیل بندوں میں ہوتا ہے جو ہر حال میں اپنے رب کے شکرگزار ہوتے ہیں۔ کسی پریشانی، بیماری میں صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے۔ میں سمجھتی ہوں وہ صبر و شکر کا مرقع تھیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے۔

حصہ