خان صاحب! مسلمانوں کی باری بھی آئے گی؟۔

151

موجودہ حکومت کے 16 ماہ میں سب سے بڑے کارنامے سکھوں کی خدمت میں کرتار پور راہداری اور حسن ابدال میں گرونانک یونیورسٹی اور عیسایوں کی خدمت میں توہین رسالت کی ملزمہ آسیہ کی رہائی اور اس کو چپکے سے بیروں ملک فرار کروانا ہندوں کی خدمت میں سیالکوٹ میں سینکڑوں سال سے کھنڈر مندر کی از سرنو بحالی اور کراچی میں ایک کمرے پر قائم ہنو مان مندر کو سینکڑوں ایکٹر زمین فراہم کرنا اور اس پر آباد مسلم آبادی کو سندھ ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود مسمار کرنا آخر کس کو خوش کرنے کے لیے ہوا ؟
عمران خان صاحب سے پوچھنا یہ ہے کہ مسلمانوں کی باری بھی آئے گی یا انہیں صرف تقریروں پر گزارا کرنا ہے ؟
اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ روز اول سے ہی عمران خان صاحب نے جان پر کھیل کر ا قلیتوں کے ساتھ اپنے وعدوں کا پاس رکھا ہے ۔
عمران خان نے انتخابات سے پہلے ہی قادیانیوں سے تعاون کا وعدہ لیا تھا جس کے بدلے ختمِ نبوت قانون میں تبدیلی کا وعدہ کیا گیا تھا اوروزارت عظمیٰ کا منصب پانے کے لیے قادیانیوں کے ساتھ مل کر ختم نبوت قانون میں ترمیم کی مذموم کوشش کی جس کی تصدیق خود اْن کی پارٹی کے رہنما شفقت محمود نے کی کہ ‘انہوں نے یہ کام خود نہیں کیا بلکہ عمران خان کے کہنے پر کیا ہے’ ۔ اب اس میں پی ٹی آئی ختم نبوت قانون میں ترمیم کی مجرم ہے خان کے دورہ امریکا سے ٹھیک ایک دن پہلے قادیانی بک سیلر عبد الشکورکی ٹرمپ سے سلمان تاثیر کے بیٹے کے ذریعے سے ملاقات اور پھر قادیانیوں کے لیے عمران خان سے بات کرنے کی درخواست پر ہمارے وزیر اعظم کیا جواب دیں گے ؟
گرفتار شدہ عبدا لشکور قادیانی کا ٹرمپ کی بارگاہ میں شکایتیں لگانے کا مطلب کیا ٹرمپ کو پاکستان کے خلاف اْکسانا نہیں تھا ؟
قادیانیوں کی اینٹی ا سٹیٹ کاروائیاں کھل کے سامنے آجانے کے بعدان کے خلاف آئین کے مطابق کاروائی کیوں نہیں کی گئی ؟
اب تو یہ راز بھی راز نہیں رہا کہ تحریک انصاف نے ہر قیمت پر الیکشن جیتنے کے لیے قادیانیوں کو بھی اپنے ساتھ ملایا ۔ سوشل میڈیا اور یو ٹیوب پر ان کے سربراہ کا بیان ریکارڈ کی صورت میں موجود ہے کہ ‘قادیانی سرغنہ مرزا مسرور احمد کی طرف سے ’’آئین پاکستان کو ختم‘‘ کرنے مطالبہ کیا گیا ہے یہ بیان از خود قادیانی جماعت کی طرف سے پاکستان میں بغاوت پیدا کرنے کا مجرم قرار دلوانے کے لیے کافی ہے ، مگر کیا سرکاری سطح پر اس کی مذمت کی گئی ؟
اس بیان سے یہ بات ثابت ہوئی کہ قادیانی ملک کے خیر خواہ کبھی بھی نہیں ہوسکتے ۔ مرزا مسرور احمد کے یہ کہنے سے امت مسلمہ کا موقف اور کھل کر سامنے آگیا ہے کہ قادیانی آئین اور ریاست کے باغی ہیں۔ ذرا سوچئے کہ کس طرح ربوہ کے رہائشی عبدالشکور چشمے والا جس کو پانچ سال سزا ہوئی تھی کی پراسرار رہائی کس طرح عمل میں آگئی اور کس کے دباؤ پر کن کی مدد سے اس کو امریکا بھجوایا گیا؟ پاکستان سے باہر ہمارے سفارتی مراکز کھلم کھلا قادیانیت کا پرچار کر رہے ہیں ، وزیر اعظم کے بیرون ممالک یوروپی دوروں میں وہ قادیانی عمائدین سے ملاقاتیں کرتے ہیں ، مگر کس حیثیت میں اس کی وضاحت نہیں کی جاتی ۔ قادیانی 1974ء کی قرار داد اقلیت کی وجہ سے دستور پاکستان اور پاکستان کیخلاف سازشیں کرکے اکھنڈ بھارت پر کام کررہے ہیں، جس کی واضح دلیل مرزا مسرور احمد کا حالیہ بیان ہے توہین مذہب کے الزام میں سزائے موت کی حقدار ٹھہرائے جانے والی آسیہ بی بی کو آٹھ سال قید میں رکھا گیا تھا لیکن گزشتہ برس اکتوبر میں عدالتِ عظمیٰ نے ان الزامات کو غلط قرار دیتے ہوئے انھیں بری کر دیا تھا۔
اب آجائیے عیسا یوں پر وزیر اعظم کی مہربانیوں پر رواں برس کے آغاز میں آسیہ ملعونہ کی بریت کے خلاف دائر اپیل بھی مسترد کر دی گئی تھی۔
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے 10 اپریل کو بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے اشارہ دے دیا تھا کہ ‘ آسیہ بی بی ‘بہت جلد پاکستان چھوڑ دیں گی۔’
جب بی بی سی کے مدیر عالمی امور جان سمپسن نے اپنے انٹرویو میں پاکستانی وزیر اعظم سے پوچھا کہ ‘آسیہ بی بی کے ساتھ کیا ہوا، وہ ابھی تک پاکستان چھوڑ کر کیوں نہیں گئیں؟
اس موقع پر عمران خان نے کہا کہ ’میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آسیہ بی بی محفوظ ہیں اور وہ ہفتوں کے اندر اندر پاکستان چھوڑ کر چلی جائیں گی۔’ اور اس کے لیے راستہ کس طرح ہموار ہوا دیکھتے ہیں داتا دربار پر خوفناک دھماکہ ہوتا ہے اور اسی رات کو آسیہ بیرون ملک نکل جاتی ہے جب سارا میڈیا داتا دربار کو کور کر رہا تھ ہماری ایجنسیاں ‘ آسیہ ملعونہ ‘ کو کور فراہم کر ہی تھیں ۔ سوشل میڈیا پر اسی رات اس ٹرینڈ نے خاص توجہ حاصل کی کہ:
دھماکہ کراؤگستاخ بھگاؤ
توہین مذہب کیس میں آسیہ بی بی کی رہائی کے فیصلے کے خلاف مدعی قاری عبدالسلام نے نظر ثانی کی اپیل میں درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ تفتیش کے دوران آسیہ بی بی نے جرم کا اعتراف کیا، اس کے باوجود ملزمہ کو بری کردیا گیا، سپریم کورٹ سے استدعا ہے آسیہ بی بی سے متعلق بریت کے فیصلے پر نظر ثانی کی جائے۔مگر پھر کس کا دباؤ تھا کہ سپریم کورٹ نے لاہورہائی کورٹکے فیصلہ کالعدم قراردیتے ہوئے آسیہ بی بی کو معصوم اور بے گناہ قرار دیااور رہائی کا حکم سنا دیا ، فیصلے کے بعد آسیہ بی بی کو9 سال بعد ملتان جیل سے رہا کر دیا گیا تھا۔سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے آسیہ بی بی کیس کا فیصلہ تحریر کیا تھا جبکہ موجودہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے فیصلے میں اضافی نوٹ بھی تحریر کیا تھا۔
ا ب آیے کرتار پور راہداری کی جانب ۔۔۔ یہ کس کے ایماء پر ہوا اور اتنی جلد کیسے نمٹا لیا گیا ؟
حقیقت کچھ یوں ہے کہ یہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی تجویز تھی۔۔۔ جو انہوں نے گزشتہ 18 اگست کو پاکستان کے نومنتخب وزیراعظم کی تقریب حلف برداری کے موقع پر بھارتی پنجاب سے بطور مہمان بھارتی کرکٹر اور مشرقی پنجاب کے موجودہ وزیر سیاحت نوجوت سنگھ کی آمد پر انہیں کھلی بانہوں کے ساتھ سینے سے لگا کر پیش کی تھی ایک جانب بظاہر سکھوں کو خوش کرنے اور پاکستان کالبرل اور سیکولر چہرہ دنیا کے سامنے لانے کے لیے یہ سب کچھ کیا جارہا ہے مگر یہ بتائیں کہ قادیانی اس موقع پر کس وجہ سے بے پناہ خوشی کا اظہار کر رہے ہیں؟ کہ ان کے لیے بھی گورداسپور میں واقع اپنے مرکز عقیدت قادیان تک رسائی کی آسان راہیں کھل جائیں گی۔
آسان الفاظ میں کہہ سکتے ہیں کہ اب قادیان ( مشرقی پنجاب ) براستہ کرتار پور محض ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت پر آچکا ہے اور قادیانیوں کا یہ کہنا ہے کہ اب وہ سالانہ جلسے میں شرکت کے لیے یہی راستہ اپنائیں گے۔
ان قادیانیوں نے چناب اور سرگودھا کی بیشتر زمین پہلے ہی مہنگے داموں خرید رکھی ہیں ۔ پاکستان کا انتہائی حساس فوجی فضائی مستقر کے اطراف بھی اب خاصی حد تک ان کی آبادیاں قائم ہوچکی ہیں ۔
قادیانیوں سے متعلق ہے۔ بظاہر تو اس کوریڈور کو سکھوں کے لیے کھولا گیا ہے لیکن قرائین سے یہ ظاہر ہورہا ہے کہ اس ساری تگ و دو کا مقصد قادیانیوں کو خوش کرنا ہے اور ان کو سہولت فراہم کرنا ہے۔ اس کوریڈور کے کھلنے سے سکھوں سے کہیں زیادہ قادیانی افراد کو خوشی ہے۔وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اس کوریڈور کے کھلنے سے ان کو بھی قادیان تک رسائی آسانی سے حاصل ہوجائے گی کیوں کہ قادیان ( مشرقی پنجاب ) جہاں سے امت مسلمہ کے سینے میں جھوٹی نبوت کا خنجر گھونپا گیا ، وہ کرتار پور سے محض ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت پر ہے اور بعض ایسی خبریں بھی سننے میں آئی ہیں کہ قادیانیوں کا یہ کہنا ہے کہ اب وہ سالانہ جلسے میں شرکت کے لیے یہی راستہ اپنائیں گے۔
اگر ہم عمران خان صاحب کی اقتصادی کونسل میں قادیانی مبلغ عاطف میاں کی بحیثیت مشیر تعیناتی ، کے لیے بار بار جستجو ، قادیانیوں سے یکجہتی کے لیے لمس یونیورسٹی کے طلبا و طالبات کو ربوہ لے جانا، نوجوت سنگھ سدھو کی قادنیوں کے جلسے میں شرکت اور وہاں کی گئی تقریر اورنوجوت سنگھ سدھو کی اگست میں پاکستان آمد سے لے کر کوریڈور کے افتتاح تک ساری باتوں کا بغور جائزہ لیں تو بہت سی باتیں سامنے آتی ہیں۔ پہلی بات تو یہ کہ عمران خان صاحب کی حکومت ایک باقاعدہ منصوبے کے تحت قادیانیت ، لبرل ازم ، سیکولر ازم کو فروغ دینے اور دینی جماعتوں کو دیوار سے لگانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔آسیہ مسیح کی سپریم کورٹ سے ایک سنوائی کے بعد ہی رہائی اور اس کو نام تاحال ای سی ایل میں نا ڈالنا اور علامہ خادم رضوی اور تحریک لبیک پاکستان کے خلاف کریک ڈائون ، پارلیمنٹ میں پی ٹی آئی کی خاتون رکن اسمبلی کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی قرارداد پیش کرنااسی سلسلے کی کڑی ہیں۔
قیام پاکستان کی تاریخ کے مطالعے سے یہ بات سمجھ میں آجانی چاہیے کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے خلیفہ مرزا طاہر انگریزوں کے وفادار، ہندوئوں کے حامی اور تقسیم ہند ، قیام پاکستان کے مخالف رہے ہیں، تقسیم کے فارموے ابتدائی فارمولے میں موجودہ مشرقی پنجاب کا ضلع گورداس پور مسلمان آبادی کی اکثریت کی بنیاد پر پاکستان میں شامل ہونا تھا، اس ضلع کی اہمیت یہ ہے کہ بھارت کے پاس کشمیر جانے کے لیے یہ واحد زمینی راستہ تھا۔ قادیانیوں کی پوری کوشش ہے کہ ان کی اپنی ایک ریاست ہو،اس لیے مرزا طاہر اورسر ظفراللہ خان نے حکومت برطانیہ کو یہ باور کرایا کہ ہمیں مسلمانوں میں شامل نہ کیا جائے بلکہ اس ضلع میں تو احمدی (قادیانیوں) کی اکثریت ہے ، ان کا خیال تھا کہ اس طرح ان کو بھی ایک الگ ریاست مل سکے گی ، ان کو ریاست تو نہ مل سی لیکن ان کی اس بات کو بنیاد بنا کر آخری وقت میں گورداس پور کو پاکستان میں شامل نہیں کیا گیا اور اس طرح انڈیا کو کشمیر تک زمینی راستے تک رسائی دی گئی۔ تقسیم ہند کے وقت مرزا طاہر نے قادیانی ریاست کے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے پاکستان کے صوبہ بلوچستان کو خصوصی طورپر اپنا ہدف بھی قرار دیا تھا، لیکن اللہ نے ان کو اس ارادے میں کامیاب نہیں ہونے دیا۔ او ر موجودہ حکومت کی قادیانیت نوازی کو سامنے رکھتے ہوئے بجا طور پر یہ کہا جاسکتا کہ کرتار پور کاریڈور کو کھولنے کا مقصد سکھ برادری کو ان کے مقدس مقام تک رسائی دینا نہیں بلکہ اس کی آڑ میں قادیانیوں کو سہولت فراہم کرنا ہے۔

حصہ