بندریا شہزادی

37

وہ کسی بھی خوف کو خاطر میں لائے بغیر اپنے مقررہ راستوں پر چلتا ہوا ایک زیارت کے قریب پہنچ گیا۔ سورج بھی اپنی منزل کے قریب پہنچ کر غروب ہونے والا تھا اور شہزادے کی بھی پہلی منزل سامنے آ چکی تھی۔ یہاں کے گدی نشین تک بھی اس کے آنے کی اطلاع ہو چکی تھی اس لئے فوراً ہی اس کے مجاور گدی نشین کے پاس لے گئے۔
کئی دنوں کے سفر کے بعد اور کئی زیارتوں پر قیام کے بعد وہ سمندر کے ایک بہت بڑے ساحل کے قریب پہنچ گیا۔ یہاں مچھیروں کی ایک بہت بڑی بستی تھی اور یہاں کا جو سردار تھا وہ قریب کے ایک گدی نشین کا مرید خاص تھا۔ اس تک شہزادے کے آنے کی اطلاع پہنچ چکی تھی۔ اس نے شہزادے کا بہت پرتپاک طریقے سے استقبال کیا۔ شہزادے نے اپنا مقصد و مدعا اس کے سامنے رکھا۔ اس کی بات سن کر سردار کسی سوچ میں گم ہو گیا۔ شہزادے نے سبب پوچھا تو اس نے کہا کہ جس تیسرے جزیرے پر وہ بزرگ ہیں جن سے آپ کو ملنا ہے اس کے اردگرد نہ معلوم جنوں کا ڈیرہ ہے یا پراسرار مخلوق وہاں آباد ہے۔ میری پہنچ وہاں تک کسی بھی طور ممکن نہیں لیکن اگر وہ آپ کسی طرح وہاں تک پہنچ گئے تو پھر اس طاقتور جن کے جزیرے تک آپ پہنچنے میں ضرور کامیاب ہو جائیں گے اس لئے کہ طاقتور سے طاقتور جن سے مقابلہ کرنے کی ان میں صلاحیت ہے یہی وجہ ہے کہ نہ جانے کتنی مدت سے وہ بزرگ اس کے مقابلے پر ڈتے ہوئے ہیں۔ یہاں سے دوسرے جزیرے سے تیسرے کی جانب کچھ فاصلہ تو ہماری کشتیاں طے کر لیتی ہیں لیکن مزید سفر کرنے والے یا تو غرق ہوجاتے ہیں یا پھر نہ نظر آنے والی مخلوق ان کی کشتیوں کو پیچھے دھکیل دیتی ہیں۔
شہزادے نے کہا کہ کیا یہ ممکن نہیں کہ یہاں سے دوسرے جزیرے تک پہنچا دیا جائے اور وہاں سے کشتی میرے حوالے کردی جائے تاکہ میں باقی راستہ خود طے کر سکوں۔ سردار نے کہا کہ ایسا کیا تو جاسکتا ہے لیکن کیا آپ کا تنہا وہاں جانا خطرناک نہیں۔ اللہ جانے آپ کے ساتھ کیا ہوجائے۔ شہزادے نے کہا کہ جب ایک کام کرنا ہی ہو تو پھر جان کو خطرے میں تو ڈالنا ہی پڑتا ہے۔ آپ فکر نہ کریں اللہ نے چاہا تو میں اپنی مہم مکمل کرکے ہی واپس آؤں گا آپ بس دوسرے جزیرے کے بعد کشتی میرے حوالے کروا دیجئے گا۔
ساحل سے جزیروں کا فاصلہ کافی تھا اس لئے دودن اور دو راتیں دوسرے جزیرے تک پہنچنے میں لگیں۔ جزیرے پر بہت ہی چھوٹی ایک بستی تھی جو اسی سردار کی بستی کے لوگوں کی تھی جس نے اسے یہاں تک پہنچایا تھا۔ بستی کے سردار کو جب شہزادے کی پوری کہانی پتا چلی تو وہ بھی بہت پریشان ہوا۔ اس نے شہزادے کو بہت سمجھایا کہ وہ اپنا ارادہ ترک کردے لیکن شہزادے نے کہا کہ مجھے وہاں ہر صورت میں پہنچنا ہے اور جس بزرگ کا حوالہ ان کے ملک میں رہنے والے بزرگ نے دیا تھا، ان سے ہر صورت سے ملنا ہے کیونکہ وہی ان کو جن کے جزیرے میں داخل ہونے کے ہنر سکھا سکتے ہیں۔ جب تک جن کو مار نہ دیا جائے اس وقت تک شہزادی کو کسی صورت حاصل نہیں کیا جاسکتا۔
بستی کے سردارنے جب یہ صورت حال دیکھی تو اگلی صبح ایک چھوٹی لیکن ہر ضرورت سے آراستہ کشتی شہزادے کے حوالے کردی اور ڈھیروں دعاؤں کے سائے میں شہزادے کو رخصت کیا۔ شہزادے کو بتادیا گیا تھا کہ وہ جزیرے یہاں سے تین یا چار گھنٹے کی دوری پر ہے۔ شہزادہ بتائی ہوئی سمت پر رواں دواں تھا۔ ابھی آدھا راستہ ہی طے ہوا تھا کہ ہوا کے ایک بہت ہی تیز جھونکے نے اس کی کشتی کو کئی میل پیچھے کی جانب دھکیل دیا۔ وہ سمجھ گیا کہ ہوا کا یہ جھونکا اصل میں ہوا کا جھونکا نہیں، پْراسرار مخلوق کی کوئی کارستانی ہے۔ ایسے موقع کیلئے برزگ کا یاد کرایا ہوا ایک وظیفہ اسے یاد آگیا۔ اس نے بلند آواز سے وہ وظیفہ پڑھنا شروع کیا اور سفر جاری رکھا۔ وہ وظیفہ پڑھتا جاتا اور سفر کرتا جاتا۔ کچھ ہی دیر میں اسے جزیرہ نظر آنے لگا۔ ابھی وہ جزیرے کے قریب ہی پہنچا تھا کہ اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا۔ اس نے گھبرا کر آنکھیں بند کرلیں کہ کہیں وہ اندھا تو نہیں ہو گیا۔ ابھی اس نے آنکھیں کھولی بھی نہیں تھیں کہ اس کی آنکھوں کے سامنے ایک بزرگ کی شکل ابھری جو اس سے کہہ رہے تھے کہ تم بالکل سیدھے سفر جاری رکھو۔ یہ کشتی خود ہی ساحل کے ساتھ آ لگے گی۔ جیسے ہی جزیرے پر قدم رکھو، اپنے بزرگ کی دی ہوئی گیند زمین پر رکھو اور ان کی دی ہوئی ہدایت کے مطابق اپنی چھڑی سے ہلکے سے ضرب لگاؤ۔ گیند زمین پر رکھتے ہی سارے اندھیرے چھٹ جائیں گے اور گیند تمہاری رہ نما بن جائے گی۔ ہرمرتبہ گیند کے قریب پہنچ کر چھڑی سے اس پر ہلکی ہلکی ضرب لگاتے رہو یہ تمہیں راستہ بتاتی جائے گی اور تم مجھ تک پہنچ جاؤ گے۔ یہ سن کر شہزادے نے آنکھیں کھول دیں لیکن اب بھی اسے اپنے ایک گز سے آگے کا کوئی منظر بھی نظر نہیں آرہا تھا۔ بزرگ کی دی ہوئی ہدایت کے مطابق وہ بالکل سیدھ میں سفر کرتا ریا۔ کچھ ہی دیر کے بعد اس کی کشتی ایک زوردار جھٹکے کے بعد رک گئی۔ اس نے کشتی کے نیچے غور سے دیکھا تو اسے معلوم ہوا کہ کشتی ساحل کی ریت پر کھڑی ہے۔ اس نے اپنے تھیلے سے گند نکالی، چھڑی ہاتھ میں تھامی اور ساحل پر اتر کیا۔ گیند جونہی زمین پر رکھی سارا اندھیرا چھٹ گا اور سارا منظر صاف دکھائی دینے لگا۔ یہ ایک بہت ہی خوبصورت جزیرہ تھا جس میں اسے ہر قسم کے درخت اور پھول پودے نظر آرہے تھے۔ عجیب جنگل تھا جو باغوں جیسا لگ رہا تھا۔
شہزادے نے چھڑی کی ضرب گیند پر لگائی تو گیند کچھ فاصلے پر چلی گئی۔ عجیب بات یہ تھی کہ جس سمت اس نے گیند پھینکنا چاہی تھی وہ اس سمت نہیں گئی بلکہ اس کے برخلاف گئی۔ شہزادہ سمجھ گیا کہ یہ گیند اس کی مرضی سے نہیں اپنی مرضی سے ہی آگے بڑھے گی اس لئے کہ یہ ایک کراماتی گیند ہے اور اسے اِس جزیرے کے بزرگ کے پاس ہی جانا ہے۔
راستہ بہت ہی طویل ثابت ہوا اور سورج غروب ہونے کے قریب تک یہ سفر جاری رہا۔
طویل مسافت، ڈر اور خوف کے ماحول میں میں کئی گھنٹے گزار کر جب شہزادہ بزرگ کے پاس پہنچا تو بزرگ کی ایک شفقت بھری مسکراہٹ نے اس کی ساری تھکن اتار دی۔ شہزادے نے کہنے کیلئے لب کھولے ہی تھے کہ بزرگ نے اشارے سے اسے منع کیا اور بتایا کہ انھیں تمہاری مہم کے بارے میں سب کچھ آگاہ کردیا گیا ہے۔ تمہاری خوش قسمتی یہ ہے جس جزیرے پر جن کا مکمل قبضہ ہے وہ شہزادی کی تلاش میں کل ایک مرتبہ پھر پوری دنیا کا چکر لگانے جا رہا ہے۔ اس کے علم میں اس جن کی غداری آگئی تھی جو اْس کی غیر موجودگی میں شہزادی کوجزیرے سے لیکر تمہارے ملک میں چلا گیا تھا۔ اس نے ایک زبردست مقابلے کہ بعد اپنے غدار جن دوست کو ہلاک کر دیا تھا۔ اس کے بعد سے وہ پوری دنیا میں شہزادی کو تلاش کرتا پھر رہا ہے جبکہ شہزادی ہوا بن کر اسی کے جزیرے میں موجود ہے۔ اس کے غدار جن نے جو عمل اس پر کیا تھا وہ عمل دنیا کے کسی جن کو بھی نہیں آتا۔ اس عمل میں ایک تو یہ بات شامل تھی کہ اگر بندریا کی شکل میں تبدیل ہونے کے بعد وہ 24 گھنٹے کے اندر اندر کسی انسان کے قبضے میں آجائے تو دنیا کا کوئی جن اسے دیکھ ہی نہیں سکتا اور اگر کوئی انسان اس سے شادی کر لے تو وہ بیک وقت بندریا بھی بن سکتی تھی اور انسانی شکل میں بھی آ سکتی تھی۔ کسی انسان سے شادی ہوجانے کی صورت میں وہ اس غدار جن کو بھی دکھائی نہیں دے سکتی تھی۔ کیونکہ غدار جن کو یقین تھا کہ کسی بندریا کی شادی انسان سے ممکن ہی نہیں اس لئے اس نے اس بات کے متعلق کبھی سوچا بھی نہیں کہ اگر اس کی شادی انسان سے ہو گئی تو وہ خود بھی اسے نہیں دیکھ سکے گا۔ اب یہ اللہ کی قدرت تھی کہ سب کچھ تمہارے حق میں خود بخود ہوتا چلا گیا۔
شہزادہ یہ ساری باتیں بہت ہی دلچسپی سے سنتا رہا اور دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کرتا رہا۔ اس نے بزرگ سے سوال کیا کہ جب شہزادی جن کو بھی نہیں دکھائی دے رہی تو پھر وہ اسے کیسے نظر آئے گی۔ بزرگ نے کہا کہ تم ٹھیک کہتے ہو کہ وہ کسی کو بھی نظر نہیں آ سکتی لیکن جن کی ہلاکت کے فوراً بعد وہ انسانی شکل اختیار کر لے گی اور پھر کبھی کوئی بڑے سے بڑا جادوگر یا طاقتور سے طاقتور جن بھی اس کو غیر انسانی شکل میں تبدیل نہیں کر سکے گا۔ شہزادی خود تو کسی کو نظر نہیں آتی لیکن وہ سب کو دیکھ بھی سکتی ہے اور بول بھی سکتی ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ جیسے ہی وہ بولے گی جن فوراً اس کو دیکھنے کے قابل ہو جائے گا اور اس نے عہد کرلیا ہے کہ جب بھی اور جہاں بھی اس نے شہزادی کو دیکھ لیا، وہ اسے قتل کردیگا۔
کل صبح تمہیں اس جزیرے کی جانب سفر کرنا ہے۔ میرے پاس ایک ایسا عمل ہے جو مجھے اللہ تعالیٰ نے صرف کسی بھی انسان پر ایک مرتبہ ہی کرنے کیلئے عطا کیا ہے۔ وہ ایک انسان اب تم ہی ہوگے۔ عمل مکمل ہوتے ہی وہ علم میرے اندر سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے نکل جائے گا۔ اس عمل کا اثر یہ ہوگا کہ دنیا کی کوئی بھی مخلوق، علاوہ فرشتوں اور اللہ کے، تم کو نہ دیکھ سکے گی۔ لیکن یاد رکھو کہ اگر جن کے جزیرے میں تمہارے منہ سے ایک آواز بھی نکلی تو پھر جن تم کو دیکھ سکے گا اور پھر وہ ہر صورت میں یا تو تم کو ہلاک کردیگا یا تمہیں پتھر کا بنا دے گا۔ یاد رکھو کہ تمہاری چھینک، کسی کانٹے یا کنکر کے چبھنے سے، یا گرکر چوٹ لگنے کی وجہ سے کوئی سسکاری یا کھانسی کی آواز بھی نکلی تو سمجھ لو تم ماردیئے جاؤ گے۔ تمہاری ہلاکت میری تباہی کا سبب بن جائی۔ مجھے یہاں سے ہزاروں میل دور جانا پڑ جائے گا اور یوں اس کی حکمرانی سارے جزیروں پر ہوجائے گی۔ میں ہی وہ واحد انسان ہوں جو اس کے مقابلے پر ڈٹا ہوا ہوں اس لئے تمہیں ہر طرح اپنے آپ کو فٹ رکھنا ہے، ہر تکلیف کو برداشت کرنا ہے اور جو کچھ کرنا ہے بس کر گزرنا ہے۔
اگلی صبح انھوں نے شہزادے کو ایک عجیب و غریب لباس دیا۔ لباس دینے کے بعد انھوں نے کہا کہ اب سارا سفر سمندر کے اندر اتر کر جاری رکھنا ہوگا۔ سطح سمندر پر جنوں کا مکمل قبضہ ہے اور وہ کسی غیر جن کو اس جزیرے کی جانب آنے ہی نہیں دیتے۔ یہ لباس ایسا خاص لباس ہے جو تم کو کسی مچھلی کی طرح بنادے گا اور تم باآسانی سمندر کے اندر تیرتے تیرتے جن کے جزیرے تک پہنچ جاؤ گے۔ اس میں مچھلی کی طرح مصنوئی گلپھڑے لگے ہوئے ہیں جو نہایت تیزی سے کام کرتے ہوئے سمندر کے پانی سے آکسیجن جذب کرکے مسلسل اتنی آکسیجن فراہم کرتے رہیں گے جو ایک انسان کی ضرورت پوری کر سکتے ہیں۔ اس کو پہن کر تم ہر شے کی نظروں سے اوجھل رہو گے اور سمندر کی بھاری بھرکم مخلوق بھی تمہیں نہ دیکھ سکے گی لیکن یاد رکھو سمندر سے باہر نکلنے سے پہلے پہلے تمہیں اس لباس کو سمندر ہی میں کسی بھاری پتھر کے نیچے دبا دینا کیونکہ یہ پانی سے باہر جنوں کو دکھائی دے سکتا ہے جبکہ میں نے جو عمل کیا ہے وہ تمہیں مکمل طریقے سے جنوں سمیت ہر ذی روح، بشمول انسانوں سے تمہیں پوشیدہ رکھے گا۔ اب یہ تمہارے سانس روکنے پر منحصر ہے کہ لباس اتارنے کے بعد سے لیکر لباس کسی پتھر کے نیچے رکھنے تک تم سانس روک سکنے میں کتنا کامیاب رہ سکتے ہو۔
شہزادہ کیونکہ ایک اچھا تیراک بھی تھا اس لئے اسے پورا اعتماد تھا کہ وہ اتنی دیر تک تو لازماً سانس روک سکتا تھا جتنی دیر لباس اتار کر اسے کسی بھاری پتھر کے نیچے دبا کیلئے در کار ہو سکتی تھی۔
شہزادے نے اللہ کا نام لیکر خاص لباس زیب تن کیا، بزرگ کی قدم بوسی کی اور اجازت طلب کرکے سمندر میں اترتا چلا گیا۔ وہ اپنے رب کا بہت مشکور تھا کہ اس کے سارے کام اب تک کسی بہت بڑی پریشانی کے بغیر ہی انجام پذیر ہورہے تھے۔
جن کے جزیرے کے ساحل کے قریب پہنچ کر اس نے بہت پھرتی کے ساتھ اپنا مخصوص لباس اتارا، ساحل ہی کے قریب پانی کی گہرائی میں کئی بڑے پتھر وہ پہلے ہی دیکھ چکاتھا، اس نے جلدی سے ایک پتھر منتخب کیا اور لباس کو اس کے نیچے دباکر بہت تیزی کے ساتھ پانی کے اوپر ابھرتا چلاگیا۔ اگر اس کو کچھ اور دیر ہوجاتی تو اس کے لئے مزید سانس روکے رکھنا بہت ہی دشوار ہوجاتا لیکن وہ ہرکام اپنے وقت پر کرتا چلا گیا۔ اسے معلوم تھا کہ وہ جس عمل کے زیر اثر ہے اس کی وجہ سے وہ چرندوں، پرندوں یا درندوں، غرض کسی کو بھی نظر نہیں آ سکتا۔ ساحل پر کئی جانور موجود تھے لیکن اسے اچھی طرح احساس ہو گیا تھا کہ انھیں کسی اور کے آنے کی کوئی خبر ہوئی ہی نہیں تھی۔
کچھ دیر ساحل پر سستانے کے بعد وہ وہ اپنی اصل مہم پر روانہ ہوگیا کیونکہ اسے ہر کام سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے ہی کرنا تھا۔
(جاری ہے)

حصہ