آواز کی رحلت

77

سیمان کی ڈائری
شریک ِ حیات کے بچھڑنے سے بڑا دکھ کوئی اور نہیں ہوتا ۔وہ شریک حیات جس کے ساتھ زندگی کے پل نہیں،دن نہیں،سال نہیں بلکہ برسوں گزرے ہوں۔اچھے برے وقت اور حالات کی نہ صرف سختیاں ایک ساتھ جھیلی ہوں بلکہ ان کا مقابلہ بھی کیا ہو۔خزاں بہار سارے موسم کے رنگ ایک ساتھ دیکھے ہوں ۔ ایسے میں اُس انسان پر کیا گزرتی ہے یہ تو وہی بتا سکتا ہے۔ بے شک تمام انسانوں کے مسائل،کیفیات،محسوسات تقریبا ایک سے ہی ہوتے ہیں لیکن تکلیف اور مشکل اُسی کو زیادہ معلوم ہوتی ہے جو اس کیفیت سے گزر رہاہوتا ہے۔
چند ماہ قبل صابر وسیم بھائی سے عرصے بعد فون پر بات ہوئی ۔انھیں یہ اطلاع دینی تھی کہ لیاقت علی عاصم بھائی کو کینسر کا مرض لاحق ہے اور اِس بیماری کے سبب اُن کی صحت دن بہ دن گرتی جا رہی ہے ۔ چونکہ اُس وقت عاصم بھائی کے قریب چند لوگ ہی تھے جنھیں اُن کی بیماری کا علم ہوا اور سبھی اپنی مصروفیات سے وقت نکال کر ان کی عیادت کو آ رہے تھے۔ صابر وسیم بھائی نے جب عاصم بھائی کی بیماری کا سنا تو بہت رنجیدہ ہوئے اور کہا کہ میں کوشش کرتا ہوں کسی طرح عاصم سے ملاقات کو آؤں۔فون پر بات کرتے ہوئے مجھے بالکل اندازہ نہیں ہواکہ صابر بھائی کس پریشانی سے دوچار ہیں ۔ عاصم بھائی کی بیماری کے دوران میں نے محسوس کیا کہ اردو ادب سے وابستہ شخصیات اگر کچھ لمحوں کے لیے بھی منظرِ عام سے غائب ہو جائیں تو برسوں گزر جاتے ہیں اور کوئی انھیں پوچھنے والا ہی نہیں ہوتاکہ وہ کس حال میں ہیں ۔ عزم بہزاد، جناب رسا چغتائی اور پھر لیاقت علی عاصم کی مثال ہمارے سامنے ہے۔گفتگو کے دوران ہی میں نے صابر بھائی سے پہلے معذرت چاہی اور اپنا عذر پیش کیا کہ حالات کی ستم ظریفی ، نفسا نفسی، ملازمت کے مسائل کے سبب آپ سے دور رہا ، ملاقات کو آنا چاہتا ہوں۔ صابر بھائی نے نہایت شفقت اور محبت سے جواب دیا کہ اس میں تم لوگوں کا قصور نہیں مَیں ہی سب سے دور ہوتا چلا گیا ،بعد میں بتاؤں گا۔اس وقت انھوں نے ٹال دیا کہ وہ کس کرب اور اذیت میں مبتلا ہیں۔
صابروسیم بھائی سے میری ملاقات کو لگ بھگ اٹھارہ برس ہو چکے ہیں۔ اُن سے میرا تعارف اجمل بھائی کے وسیلے سے ایک مشاعرے میں ہوا۔پھر یہ سلسلہ چلتا رہا ۔اُن دنوں مَیں بے روزگارتھا اور مجھے اجمل بھائی نے انھی کے پاس ملازمت کے لیے بھیجا ۔ میری خوشی کی انتہا نہیں رہی جب مجھے علم ہوا کہ میں ایک ایسے رسالے کا حصہ بن رہا ہوں جواردو فکشن میں خاص طرح کی اہمیت کا حامل ہے۔ ’’سب رنگ‘‘میں میری ملازمت خواب تھی لیکن افسوس رہا کہ شکیل عادل زادہ صاحب انھیں دنوں ’’سب رنگ ‘‘ کو خیر آباد کہہ چکے تھے۔پھر بھی ،وہاں رفیق احمد نقش اور صابر وسیم بھائی کسی نعمت سے کم نہیں تھے۔
وہ وقت بھی آیا جب دوبارہ مجھے لیاقت علی عاصم بھائی کے انتقال کی خبر احباب تک پہنچانی تھی۔ صابر بھائی کو شایدکہیں اَور سے اطلاع مل چکی تھی مگر میرا اُن سے رابطہ نہیں ہو سکا۔ کچھ عرصے بعد مجھے عقیل عباسی جعفری کی وال پر صابر بھائی کی زوجہ محترمہ شہناز وسیم صاحبہ کے انتقال کی خبر پڑھنے کو ملی اور مَیں نے اسی وقت صابر بھائی کو فون کیا اور سب سے پہلے تعزیت کی اور شکوہ بھی کیا کہ ہمیں کوئی اطلاع نہیں ملی۔تب انھوں نے تھوڑا بہت بتایا کہ اُن کی اہلیہ شہناز وسیم کئی برس سے کینسر کے مرض میں مبتلا تھیں اور اُن کی بیماری کے سبب وہ مستقل اُن کے ساتھ رہے ۔سوائے چند دوستوں کے جن میں ادریس بختیار (مرحوم)اور خواجہ رضی حیدر کو صورت حال معلوم تھی۔ اُس روز بھی اُن سے زیادہ بات نہیں ہو سکی تھی اور ہوتی بھی توکیسے۔کچھ دن بعد میں نے دوبارہ صابر بھائی کو فون کیا اور اپنے آنے سے متعلق کہا لیکن اُن کی طبیعت کی خرابی کے باعث ملاقات ممکن نہ ہو سکی ۔کئی روز گزرے صابر بھائی کا فون آیا کہ میں تمہاری طرف آ رہا ہوں کچھ کتابیں تمہیں دینی ہیں،تم وہ اپنے دوستوں کو پہنچا دو اور خود بھی پڑھ لینا۔صابر بھائی انچولی تشریف لائے اور سرِ راہ اُن سے چند لمحوں کی ملاقات ہوئی کیوں کہ اُنھیں ڈاکٹر کے پاس چیک اپ کے لیے جانا تھا۔
’’تعزیت نامہ‘‘اس کتاب میں صابر وسیم بھائی نے اپنی اہلیہ محترمہ شہناز وسیم اور اُن کی بیماری سے متعلق جوتاثرات پیش کیے ، اُنھیں پڑھنے کے بعدمجھ پرصابر بھائی کے حالات آشکار ہوئے۔چالیس برس کی رفاقت کا احوال چند صفحات پر مشتمل تھا لیکن پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہوا کہ جیسے پوری زندگی کی روداد کہہ دی ہو۔یہ محض کتاب نہیں بلکہ اُن کا شدید دکھ تھا جسے اظہار کا راستہ ملاورنہ آدمی کے لیے نہایت مشکل ہے کہ وہ اپنی تکلیف کسی سے بیان بھی نہ کر پائے اور خود اِس آگ میں جلتا،سلگتا رہے۔یہ کتنی عجیب با ت ہے کہ مرنے والے کے لیے سبھی لوگ شریکِ غم ہوتے ہیں لیکن جس کا عزیز،رشتے دار ، بھائی بہن یا شریکِ حیات اُسے چھوڑ جائے وہ شخص کس سے تعزیت کرے جو اُس کا نعم البدل ہو،یقینااپنے سوا کوئی بھی نہیں۔
محترمہ شہناز وسیم صاحبہ نشریاتی دنیا کی مایہ ناز اناؤنسرتھیں اور حیدرآباد ریڈیوسے وابستہ تھیں۔ اپنی بہترین آوازاور ادائیگی سے پاکستان میںایک منفرد شناخت بنائی۔ ریڈیو حیدرآباد میں بچوں کے پروگرام میں ایک اسکرپٹ بہترین انداز میں پڑھ کر سب کو متاثر کیا۔یہ اُن کی ابتدا تھی۔اُنھیں بچپن ہی میں ریڈیو پاکستان کی جانب سے آفر ہوئی ۔گھر والے راضی نہ تھے، تاہم معروف ڈرامہ نگار علی بابا نے انھیں قائل کیا۔اس طرح شہناز وسیم صاحبہ کی صلاحیتوں کو ایک پلیٹ فارم نصیب ہوا ۔بے شمار انٹرویوز،پراگرامز،فیچرز اور ڈراموں میں ہیرؤین کے کردار کیے۔ اُن کی آواز میں سب کچھ تھا۔انھوں نے مرزا عابد عباس،بینش سلیم، الیاس عشقی اورشفیق پراچہ صاحب سمیت کئی رائیٹرز اور پروڈیوسرز کے ڈراموں میں کام کیا ۔1971میں انھوں نے سندھ یونیورسٹی سے سوشل ورک میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی ۔ ایک ڈراما لکھا جس کا نام خانہ بدوش تھا۔شہناز وسیم صاحبہ باہمت خاتون تھی۔کئی برس تک کینسرکے مرض میں مبتلا رہنے کے باوجودگھر اور ریڈیو میں اپنی خدمات سرانجام دیتی رہیں۔ آخری دو برس نہایت کٹھن تھے جس کا احوال صابر وسیم بھائی نے اپنے تعزیت نامے میں کیا۔11جون2019میں اُن کاکراچی میں انتقال ہوا۔ آواز کی دنیامیں اُن کی جانب سے سرانجام دی گئی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔ اللہ تعالٰی اُنھیں غریقِ رحمت فرمائے ۔ آمین!

غزلیں

اسد اقبال

آدمی جب مُنکشِف ہو بات کے اظہار سے
خوشبوئے اسلاف آنی چاہیے کردار سے
خوب کی صحرا نوردی انتہائے شوق میں
ہم نے اُلفت ہی نہیں رکھّی درو دیوار سے
صاحبِ ثروت کی فرصت کا یہ دن ہے دوستو
بندۂ مزدور کا کیا کام ہے اتوار سے
سچ کہا ہے مْفلسی میں کیا خریدے آدمی
ڈھنگ کی شے کوئی ملتی ہی نہیں بازار سے
دین کے بارے میں کرتا ہے مْدلِلّ گفتگو
میں گزشتہ شب ملا ہوں ایک دنیا دار سے
اب یہ نقطہ کون سمجھائے امیرِ وقت کو
کچھ مسائل حل نہیں ہوتے فقط گْفتار سے
سرحدیں کر دی گئی ہیں جان کر ٹیڑھی اسد
یہ لکیریں ہوں گی سیدھی ایک دن تلوار سے

ڈاکٹر اورنگ زیب رہبر

غم تو یہ ہے، کہ غم نہیں کرتے
چارہ گر یوں ستم نہیں کرتے!
ہر قدم پر ہی، اِک قیامت ہے!
اور کہتے ہیں، ہم نہیں کرتے!
بے حسی اور بے نیازی ہے!
کوئی امید، ہم نہیں کرتے
ایک آتش فشاں ہے اور چپ ہیں
تیز الائو ہے، کم نہیں کرتے!
ساتھ رہ کر بھی گھر کے لوگوں کو
کیوں محبت بہم نہیں کرتے!
وہ جو تاریخ کو بدلتے ہیں
کوئی شکوہ رقم نہیں کرتے!
غیر سے کیا گلہ کریں، رہبر
اب تو اپنے کرم نہیں کرتے!

افروز رضوی

ہر لمحہ خوشگوار مرے ساتھ ساتھ تھا
جب موسم بہار مرے ساتھ ساتھ تھا
اس شب تو میں چراغ کی صورت جلی رہی
جس شب خیال یار مرے ساتھ ساتھ تھا
تیری تلاش میں، میں جہاں اور جدھر گئی
اڑتا ہوا غبار مرے ساتھ ساتھ تھا
تو ساتھ تھا تو دور تلک راہ گزار میں
گنجینۂ بہار مرے ساتھ ساتھ تھا
اپنی نگاہ میں بھی بڑی معتبر رھی
جب تیرا اعتبار مرے ساتھ ساتھ تھا
افروز اس کی یاد کی دہلیز پر سدا
اک خواب انتظار مرے ساتھ ساتھ تھا

حصہ