آزادی سے مارچ یا مارچ سے آزادی

98

ایک اور افسوس ناک ٹرین حادثہ ہوا۔ اللہ تمام مرحومین کی مغفرت فرمائے اور زخمیوں کو صحت یابی عطا کرے۔ سفری بداحتیاطی کی وجہ سے ہونے والے حادثے کی ذمہ داری عوام کی ہے یا ٹرین انتظامیہ کی؟ اس پر دو دن تو خوب باتیں جاری رہیں۔ سب سے زیادہ تو وزیراعظم عمران خان کی وہ پرانی ویڈیوز شیئر ہوتی رہیں جن میں ان کے سنہری الفاظ تھے کہ ’’دنیا کے اندر کہیں بھی ٹرین حادثہ ہوتا ہے تو ریلوے کا وزیر استعفیٰ دیتا ہے، کیونکہ اس کے ماتحت انکوائری درست نہیں ہوسکتی‘‘۔ لیکن افسوس کہ پاکستان میں ٹرین حادثوں کے بعد کبھی ایسی کوئی مثال نظر نہیں آئی۔ معمول کے مطابق وزیر ریلوے مسافروں کو ذمہ دار قرار دے کر اپنی گردن بچانے میں لگے رہے۔ شروع میں تو ان کی جانب سے جاری کردہ بیان ’’تبلیغی اجتماع کے شرکاء نے ناشتے کے لیے سلنڈر جلایا جو پھٹ گیا اور آگ لگ گئی‘‘ کو ہی تقویت ملتی رہی۔ بی بی سی سمیت عالمی میڈیا نے تو یہی بیانیہ جاری رکھا۔اب جیسے جیسے رابطے بحال ہوئے تو نئے حقائق سامنے آنا شروع ہوئے جن کے مطابق کراچی سے لاہور جانے والی ٹرین ’تیزگام‘ کے تین ڈبوں میں آگ سلنڈر پھٹنے سے نہیں بلکہ اے سی سلیپر میں شارٹ سرکٹ سے لگی۔ اکانومی کلاس کی دو بوگیوں میں تبلیغی جماعت کے 210 مسافر سوار تھے، ان کے مطابق ٹرین میں سوار ہونے سے قبل ریلوے قوانین کے مطابق سلنڈر خالی کرکے لوڈ کیے گئے تھے۔ تاہم آگ اے سی سلیپر میں شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگی ہے۔ ریلوے انتظامیہ اپنی نااہلی چھپانے کے لیے سلنڈر بلاسٹ بتاکر انکوائری سے بچنا چاہتی ہے۔ ٹرین میں آگ لگنے سے 76 افراد جاں بحق اور 80 زخمی ہوئے۔ ہر سال رائیونڈ میں تبلیغی جماعت کا مرکزی اجتماع منعقد ہوتا ہے، جس کے شرکاء کے بارے میں مثال دیتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ یہ حج کے بعد سب سے بڑا (بہ لحاظِ شرکاء) اجتماع ہے۔ اس اجتماع میں ملک کے ہر شہر، گاؤں، قصبے سے لوگ بڑی تعداد میں شریک ہوتے ہیں۔ دیکھا جائے تو یہ بہت بڑی دینی، سماجی و معاشی سرگرمی ہوتی ہے، اس لیے ظاہر ہے ان ایام میں مخصوص روٹ پر مسافروں کا بے انتہا رش ہوگا۔
عثمان غازی نے اپنے مخصوص سیاسی عزائم کو حقائق کی چادر میں لپیٹ کر جامع تبصرہ کیا کہ ’’گو حادثہ ہونا بجائے خود ایک ناگہانی صورتِ حال ہوتی ہے اور کوئی اس کو نہیں روک سکتا، مگر چونکہ یہ المناک حادثہ سندھ میں نہیں ہوا تو حکومت کو موردِ الزام ٹھیرانے کا وقت بچ گیا، اب صرف افسوس ہوگا۔ زیادہ ہلاکتوں کی ایک وجہ رحیم یار خان میں برنس سینٹر کا نہ ہونا بھی ہے، زخمیوں کو چار گھنٹے دوری پر ملتان منتقل کیا گیا، جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کے نام پر ووٹ بٹورنے والوں کے دورِ حکومت میں یہ سب کیوں؟ اس پر بھی سوال اُس وقت اٹھایا جاسکتا تھا جب یہ حادثہ سندھ میں ہوتا، مگر الحمدللہ ہم اس سے بھی بچ گئے، اس لیے اب صرف افسوس کرنے کی رسم نبھائی جائے گی۔ کبھی عمران خان مغربی ممالک کی مثالیں دیتے ہوئے فرمایا کرتے تھے کہ ٹرین حادثوں پر وزراء استعفے دے دیتے ہیں، تاہم اُس وقت ریلوے میں ان کا اپنا وزیر نہیں تھا۔ اب صرف افسوس کا حکم ہے۔ تھر میں ہلاکتوں، لاڑکانہ میں ایچ آئی وی کی وبا، یا کتے کے کاٹے سے ہلاکت جیسے المناک حادثات پر سیاسی گالم گلوچ اور کردارکشی صرف اُسی وقت ہوسکتی ہے جب معاملہ پاکستان پیپلز پارٹی کا ہو۔ کسی بھی مذہبی گروہ کو پاکستان میں ایک خاص چھوٹ ہے۔ عام آدمی سلنڈر کے ساتھ ٹرین میں نہیں بیٹھ سکتا، مگر مذہبی جماعتوں کے افراد ایسا کرسکتے ہیں، اگر حادثے کی وجہ سلنڈر کا پھٹنا ہے تو رحیم یار خان حادثے کی براہِ راست ذمہ دار ریلوے پولیس ہے کہ انہوں نے سلنڈر کیوں جانے دیا؟ اسی طرح اگر حادثے کی وجہ شارٹ سرکٹ ہے تو ٹرین مینٹی نینس کا عملہ براہِ راست ذمہ دار ہے، جبکہ بالواسطہ تمام ذمہ داری ریلوے کے وزیر پر بھی عائد ہوتی ہے کہ ان کی سرپرستی میں یہ غفلت کیسے رونما ہوئی۔‘‘
پچھلے ہفتے سماجی میڈیا پر سندھ کے ایک نوجوان منیر کلوار نے فیس بک لائیو کے پلیٹ فارم سے اپنی مبینہ محبت میں ناکامی پر خودکشی نشر کرکے کئی دل دہلا دیے۔ بظاہر تو ماہرینِ نفسیات نے خودکشی کو ایک مرض قرار دیا ہے، ڈپریشن و مایوسی کی ایسی حالت جو انسان کو اس انتہائی قدم کی جانب لے جاتی ہے۔ خودکشی کا یہ خطرناک کلچر مغرب سے تیرتا ہوا پاکستان بھی آن پہنچا ہے۔ مغربی ممالک میں تو ’بلیو وہیل‘ کے علاوہ کئی کیسز لائیو خودکشی و قتل کے سامنے آچکے ہیں۔ اسی ہفتے ایک امریکی ریاست اتاہ میں 24 سالہ نوجوان نے اپنی ماں کو فیس بک لائیو پر آکر قتل کردیا۔ گرفتار ہونے والے بیٹے نے بیان دیا کہ اس کی ماں نے خودکشی کی، تاہم پولیس کے مطابق وہی قاتل ہے، تفتیش جاری ہے۔ اسی طرح فروری میں ایک شخص نے اپنے ہاتھوں اپنی بیٹی و گرل فرینڈ کا قتل لائیو اسٹریم پر نشر کیا۔ اب آپ اندازہ کرلیں کہ نماز، عبادات و دیگر کے بعد اب اسکرین کا نشہ ایسا چڑھاکہ انسان پر خودکشی بھی لائیو دکھانے کا جنون سوار ہوگیا ہے۔ ویسے جہاں لائیو خود کشی کا سلسلہ رہا وہاں اب لائیو آپریشن کے بھی چرچے ہوئے۔ اسی ہفتہ ایک اور خبر ملی کہ فیس بک پر 25 سالہ امریکی ریاست ٹیکساس کی ایک نرس کے دماغ کی سرجری کو براہِ راست دکھایا گیا ہے، جسے ایک لاکھ سے زائد لوگوں نے دیکھا۔ شمالی ٹیکساس کے ایک اسپتال میں فالج کے مریضوں کی دیکھ بھال کرنے والی اس بہادر خاتون نے آگہی کی خاطر آپریشن کو لائی کروایا۔ اب یہ بھی ایک سماجی میڈیا کے استعمال کنندگان کا رویہ ہے جسے مثبت کہا جا سکتا ہے۔بات خودکشی سے چلی تو ایک اور افسوس ناک واقعہ یہ ہوا کہ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارے میں انگریزی کے استاد محمد افضل نے دل برداشتہ ہوکر خودکشی کا راستہ اپنا لیا۔ جنسی ہراسگی کے الزام میں بے قصور ثابت ہوجانے کے باوجود، تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کو تین ماہ تک روکے رکھنے پر وہ شدید ڈپریشن کا شکار تھے اور معاشرتی دباؤ برداشت نہ کرسکے۔ ان کے چھوڑے گئے آخری خطوط بھی آج تک تحقیقات مکمل نہیں کرا سکے۔ اتفاق سے ایسا ہی ایک واقعہ کراچی یونیورسٹی میں بھی پیش آیا، لیکن وہاں استاد نے ہار نہیں مانی اور شدید سازشی و ابلاغی مہم کے باوجود حالات کا سامنا کیا اور فتح یاب ہوئے۔ ان واقعات میں بھی سوشل میڈیا کا خاصا کردار رہا اور لوگوں کے لیے کئی حوالوں سے احتیاطیں سامنے آئیں۔
آپ کو پتا ہے دس کلو آٹے کی قیمت600 روپے ہوگئی؟ یعنی ایک سال میں 100روپے کا اضافہ ہوا۔ سبزی لینے جائیں تو آلو کے سوا کوئی سبزی اس وقت 100 روپے کلو سے کم کی نہیں کیا بینگن، کیا لوکی۔ بھنڈی، ٹماٹر بھی تین ہندسوں والی رقم پر جا پہنچے ہیں۔کوئی کنٹرول نہیں۔ کچھ بولو توکہتے ہیں نیا پاکستان ہے۔ انتہائی عجیب اور تکلیف دہ صورتِ حال ہے جو بار بار یہی بتا رہی ہے کہ حکومت کا کوئی نام و نشان نہیں ہے۔ حکومتی ٹیکس پالیسی سے پریشان تاجر حضرات نے اپنے منافع میں سے ٹیکس کی رقم بچانے کے لیے دو دن ہڑتال کرکے ’شناختی کارڈ‘ والا مطالبہ واپس کرانے کی کوشش کی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انہیں بات چیت کے لیے کچھ اور مہلت مل گئی۔ سوال یہ ہے کہ یہ سارے ٹیکس تاجر حضرات کیا عوام کی جیب سے ہی نکلوائیں گے؟ جس کا نتیجہ مزید مہنگائی کی صورت میں نکلے گا۔ ویسے کسی کو کہو کہ اس پر بات کرو، تو وہ کہتا ہے کہ کیا فائدہ، سب ڈھیٹ ہیں، کوئی سنتا ہی نہیں۔ لیکن میں نے کہا کہ ڈھیٹ والی بات عمومی ہے، میں نے تو جب کوشش کی کچھ نہ کچھ ہلچل ضرور دیکھی۔ ابلاغی ٹولز میں اب بھی طاقت موجود ہے، اس کا اندازہ گزشتہ اتوار کو ہوا جب کراچی کی ایک خاتون فنکار عدیلہ سلیمان نے ’کراچی بینالے‘ آرٹ فیسٹیول کے تحت خالق دینا ہال میں ’’کلنگ فیلڈ آف کراچی‘‘ کے عنوان سے کراچی میں پولیس مقابلوں کی صورت قتل و غارت گری کی یادگاری جھلک اپنے فن پاروں کے ذریعے دکھانے کی کوشش کی تو اسے ’’نامعلوم شہری انتظامیہ‘‘ نے اچانک ختم کرا دیا۔ اس معاملے پر معروف سماجی و سیاسی کارکن جبران ناصر نے خاصی ہمت دکھاکر آواز بلند کرنے کی کوشش کی، تاہم انہیں بھی ناکامی ہی ہوئی، البتہ ان سب کارروائیوں سے بے جان فن پاروں یا ایک ویڈیو کی انتہائی اہمیت ضرور واضح ہوئی۔ اس سب کے باوجود مہنگائی، ملکی معیشت، بدترین حالات پر بات کرنے کے بجائے سوشل میڈیا پر اس ہفتے ملک میں سب سے زیادہ زیر بحث موضوع ’’مولانا آرہا ہے‘‘ یعنی ’’آزادی مارچ‘‘ کا چرچا رہا۔
آزادی مارچ سے انتہائی خوف زدہ نئی نویلی، ناتجربہ کار حکومت کے اقدامات ہی ایسے تھے کہ کبھی جے یو آئی کے اہم رہنماؤں کی گرفتاری یا شہریت منسوخی، یا ذیلی تنظیم پر پابند ی نے ازخود معاملے کو ہوا دی اور زبان زدِ عام کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ واضح نظر آرہا تھا کہ مولانا کا سیاسی پلڑا بھاری ہوچکا ہے، کیونکہ انہیں آزادی سے مارچ نہیں کرنے دیا جارہا تھا اور حکومت ہر قسم کے مارچ سے آزادی چاہتی تھی، لہٰذا حکومت نے بھی اپنی عقل کے مطابق جو سمجھ میں آیا وہی کیا۔چونکہ موجودہ حکومت کو آزادی مارچ میں رکاوٹ جھیلنے کا تجربہ نہیں تھا اس لیے انہیں مارچ سے آزادی نہیں مل سکی۔ اس پر معروف صحافی مجیب الرحمن شامی اپنی ٹوئٹ میں لکھتے ہیں کہ ’’مولانا فضل الرحمن نے جو صورتِ حال پیدا کی تھی، بظاہر لگتا ہے ملک کی دو بڑی جماعتوں نے اس کا فائدہ اٹھا لیا ہے۔ انہوں نے یہ پیغام دے دیا ہے کہ ہم اس میں شریک نہیں ہیں۔ ان کا یہ’ ’احسان‘‘ طاقتور حلقوں میں محسوس کیا جارہا ہوگا۔ یہ احسان ان کے کام آئے گا اور بتدریج آتا چلا جائے گا‘‘۔ مولانا فضل الرحمن کے مارچ کے آغاز سے قبل خاصی چہ میگوئیاں تھیں کہ یہ مارچ ہوگا یا نہیں، لیکن کراچی سے ایک بڑی اور نمایاں حاضری کے ساتھ مارچ کا شاندار آغاز ہوا، تادمِ تحریر وہ اسلام آباد پہنچ گیا ہے۔ اس پورے وقت میں جہاں بلاشبہ بہت بڑی تعداد میں بقول بی بی سی لاکھوں افراد مارچ میں شریک تھے وہیں جے یو آئی کی سوشل میڈیا ٹیم نے ٹوئٹر کی ٹرینڈ لسٹ پر بھی اپنی موجودگی قائم رکھی، جہاں پی ٹی آئی کی جانب سے عمران خان کے حق میں ایک دو، ایک دو ہیش ٹیگ چلائے جاتے رہے جیسے ’کپتان کا روشن پاکستان‘، ’قوم کی امید عمران خان‘ StayStrongPMKhan، ودیگر۔ اسی طرح مشترکہ اپوزیشن (نواز لیگ، پیپلز پارٹی، اے این پی، جے یو آئی) کے آزادی مارچ، استعفیٰ دو، آزادی مارچ اپ ڈیٹس، آزادی مارچ میڈیا بلیک آؤٹ، استعفیٰ تمہارا باپ بھی دے گا، و دیگر ہیش ٹیگ ٹاپ ٹرینڈ لسٹ پر چھائے رہے۔ سب کے اپنے اپنے تبصرے تھے، سب کے اپنے اپنے تجزیے تھے، اس مارچ سے متعلق جو کچھ سوشل میڈیا کی زینت بن رہا تھا وہ حکومت کی صرف بھد اڑانے کے مترادف تھا۔ مولانا نے کراچی تا پنڈی سفر تقریباً پانچ د ن میں پورا کیا، پانچویں دن یعنی 31 اکتوبر کو خوف کے مارے اسلام آباد کے اسکولوں تک کی چھٹی کردی گئی تھی۔ اہم بات یہ تھی کہ اس پورے سفر میں کہیں بھی عوام یا عوامی و سرکاری املاک کے ساتھ ایک بھی ناخوشگوار واقعہ رپورٹ نہیں ہوا۔ اتنا بڑا مجمع تھا، کئی جماعتوں کے لوگ کسی نہ کسی صورت شامل تھے، لیکن تلاش کرنے کے باوجود کہیں سے کوئی شکایت نہیں آئی، البتہ نظم و ضبط کی تعریف دکھائی دی۔ لاہور میں قیام کے دوران ایک نیوز اینکر کی ویڈیو خاصی وائرل رہی جس میں وہ بتارہا تھا کہ مارچ کے شرکاء اپنی جگہ نظم و ضبط سے موجود ہیں، خطابات جاری ہیں، لیکن دوسری جانب میٹرو ٹرین اور بسیں یعنی معمول کے مطابق ٹریفک بھی رواں دواں ہے۔ اسی کے ساتھ عمران خان کے حالیہ دھرنا ماضی میں کی گئی تقریر کا ایک مشہور جملہ بھی خوب وائرل رہا جس میں انہوں نے اپنے غیرت مند ہونے کا یقین دلاتے ہوئے کہاکہ اگر اتنے سے لوگ بھی اس جذبہ و جنون سے جمع ہوکر کہہ دیتے کہ ’گو عمران گو‘ تو میں کہتا کہ الیکشن کراؤ… اور پھر جمعیت علمائے اسلام کے ’آزادی مارچ‘ میں فلک شگاف نعرے لگتے ’’گو نیازی، گو نیازی‘‘۔ یوں پاکستان میں سماجی میڈیا کے اثرات سے بننے والی ایک حکومت اب اسی طرز کی ابلاغی مہم کے آگے ڈھیر ہونے کو ہے۔

حصہ