اعجاز رحمانی کی یاد میں

68

فیض عالم بابر
اعجاز رحمانی تہذیب و ثقافت کا ایسا اُجلا لباس تھے جس پر اخوت، انسان دوستی، شفقت، رحم دلی اور عفو و درگزر کے ستارے جڑے ہوئے تھے۔ 12 فروری 1936ء کو ہندوستان کے مشہور شہر علی گڑھ کے محلّہ اسرائیلان میں سید ایوب علی کے گھر پیدا ہونے والے اعجاز رحمانی نے گیارہ برس کی عمرمیں شعر گوئی کا آغاز کیا اور26 اکتوبر 2019ء کو کراچی میں آسودہِ خاک ہونے تک شعر و ادب کی آبیاری کرتے رہے۔ استاد قمر جلالوی کے شاگردِ رشید ہونے پر آخری عمر تک فخر کرتے رہے۔ اعجاز رحمانی نے استاد کی سنت پر عمل پیرا ہوتے ہوئے بے شمار شاگرد بنائے اور آخری سانس تک یہ سلسلہ جاری رکھا۔ اعجاز رحمانی کے کچھ شاگردوں کو میں ذاتی طور پر جانتا ہوں جو تھوڑے سے نامور کیا ہوئے، استاد کا نام لینے سے بھی کترانے لگے۔ یہ احسان فراموش شاگرد اس حقیقت سے ہمیشہ بے خبر رہے کہ شہرت تو وہ آسیب ہے جو وجود سے لپٹ کر اسے دنیا میں تنہا کرکے بے موت مرنے پر مجبور کردیتا ہے۔ دین سے گہری رغبت اور جماعت اسلامی سے وابستگی کے باعث اعجاز رحمانی کو نہ صرف حکومتی سطح پر نظرانداز کیا گیا بلکہ سماجی سطح پر متحرک ادبی تنظیموں نے بھی درخورِ اعتنا نہ سمجھا۔ بائیں بازو سے تعلق رکھنے والی ان ادبی تنظیموں کے بے وقوف کرتا دھرتا کاش اعجاز رحمانی کے کلامِ بے بدل کو پڑھنے کی زحمت ہی گوارا کرلیتے تو ان پر یہ حقیقت کھل جاتی کہ شاعر بس شاعر ہوتا ہے۔ مذہب یا کسی بھی نظریے سے وابستگی کا شاعری سے کوئی علاقہ نہیں ہوتا۔ اعجاز رحمانی ان تمام تر نامناسب رویوں کے باوجود اپنے نظریے، فکر اور سوچ پر تادمِ آخر قائم رہے۔کبھی حرفِ شکوہ زبان پر نہیں لائے اور شعر و ادب کو چار چاند لگانے کے عمل میں جُتے رہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ مشرقی تہذیب کے اس بڑے اور غالباً آخری نمائندے کو سب سے بڑے سرکاری اعزاز سے نوازا جاتا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جس جماعت سے عمر بھر وابستہ رہے وہ جماعت اس مردِ بینا کی حیات میں ان کے شایان ِ شان ایک یادگار تقریب کا اہتمام کرکے انہیں خراجِ تحسین پیش کرتی۔ دنیا سے منہ موڑنے کے بعد یقینا اب ان کی یاد میں تقاریب ہوں گی اور خوب ہوں گی۔ معلوم نہیں یہ مُردہ پرستی کی روش کب ترک ہوگی۔ زندہ کو زندہ درگور کرنے اور مُردے کو زندہ کرنے کی سعیِ لا حاصل کب چھوڑی جائے گی۔ اعجاز رحمانی نے تمام اصنافِ ادب پر طبع آزمائی کی مگر غزل ان کی خاص دلربا تھی۔

میں غزل کا اسیر ہوں اعجازؔ
شعر پڑھتا ہوں میں ترنم سے

غزل کے نازک سانچے میں کئی شاہکار نعتیں بھی منصۂ شہود پر لائے۔ اعجاز رحمانی وہ خوش نصیب شاعر تھے کہ غزل اور نعت دونوں اصناف میں ان کے کئی اشعار زبان زدِ عام ہوئے۔یہ اعزاز اردو ادب کے بہت کم شاعروں کو مقدر ہوا ہے۔کچھ نمونے ملاحظہ کیجیے:

ابھی سے پائوں کے چھالے نہ دیکھو
ابھی یارو! سفر کی ابتدا ہے
……
آدمی آدمی پہ ہنستا ہے
اور کیا ذِلتِ بشر ہوگی

یہ جو دل میں سُرور رہتا ہے
کوئی اندر ضرور رہتا ہے
……
وہ آدمی تو نہیں ہے سیاہ پتھر ہے
جو چاہتا ہے کہ دنیا مرا طواف کرے
……
زندگی ہے اسی کا نام اعجازؔ
ہیں وہ اپنے جو غم پرائے ہیں
……
کبھی نصیب ہو فرصت تو اس کو پڑھ لینا
وہ ایک خط جو ترے نام چھوڑ آیا ہوں
……
میں نے آنکھوں سے گفتگو کرلی
یہ ہنر ہے زباں کی بندش کا
……
نمائش جسم کی بے پیرہن اچھی نہیں ہوتی
خزاں کے دور میں کوئی شجر اچھا نہیں لگتا
……
پڑتی ہے تو پڑ جائے شکن اس کی جبیں پر
سچائی کا اظہار تو کرنا ہی پڑے گا
……
ظالم سے مصطفی کا عمل چاہتے ہیں لوگ
سوکھے ہوئے درخت سے پھل چاہتے ہیں لوگ
شہر میں اس قدر تھے ہنگامے
گھر میں روپوش ہو گئے ہم لوگ

اگر کوئی پوچھے کہ تہذیب کیا ہوتی ہے اور تہذیب آشنا ہونے سے معاشرے کو کیا فائدہ ہوتا ہے؟ تو میں اُسے اعجاز رحمانی کا صرف ایک شعر سنا کر غور وفکر کی دعوت دوں گا۔ وہ شعر یہ ہے

مجھ کو صحرا سے دُور رکھتی ہے
میری وحشت شعور رکھتی ہے

ندرتِ خیال کا حامل ایسا اچھوتا شعر اُردو ادب کی تاریخ میں آج تک کسی شاعر نے نہیں کہا۔ تمام شعراء نے ہمیشہ وحشت کو صحرا سے نتھی کیا ہے۔ اعجاز رحمانی کا ترنم بھی کمال کا تھا جو جگر مراد آبادی سے قمر جلالوی، اور قمر جلالوی سے اعجاز رحمانی تک آکر ان کے ساتھ ہی مدفون ہوگیا۔ ویسے تو آج بھی بہت سے شعرا مترنم کلام پیش کرتے ہیں، مگر اہلِ ادب خوب جانتے ہیں کہ ترنم اور فلمی نغموں کی لَے میں مہین فرق کیا ہوتا ہے۔
اعجاز رحمانی کی تصانیف میں خوشبو کا سفر، سلامتی کا سفر، لہو کا آبشار، جذبوں کی زبان، آخری روشنی، پہلی کرن، اعجاز ِ مصطفی،کاغذ کے سفینے، افکار کی خوشبو، لمحوں کی زنجیر، چراغِ مدحت، گل ہائے سلام و منقبت،کلیاتِ نعت و دیگر مجموعے شامل ہیں۔ اعجاز رحمانی نے توفیقِ رحمانی سے دو لازوال تصانیف ایسی بھی اردو ادب کی زینت بنائی ہیں جو انہیں نہ صرف رہتی دنیا تک زندہ رکھیں گی بلکہ روزِ حشر بھی ان کی مغفرت کا باعث بنیں گی۔ منظوم سیرتِ مصطفیؐ پر مبنی اعجاز رحمانی کی کتاب ’’سلامتی کا سفر‘‘ میں پورے عہدِ رسالت کو بیان کیا گیا ہے۔ بعثت سے وصال تک کا احاطہ کرتی اس شاہکار تصنیف میں 6 ہزار سے زائد اشعار شامل ہیں۔ اعجاز رحمانی کی ایک اور بے مثال تصنیف ’’عظمتوں کے مینار‘‘ ہے جس میں چاروں خلفائے راشدین کے حالات ِ زندگی کو منظوم کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں چار سو سے زائد بند شامل ہیں۔ سلاست، روانی، ندرتِ خیال، مضمون آٖفرینی، جذبے کی سچائی، عقیدے کی پاکیزگی، تجاہلِ عارفانہ، مستیِ رندانہ، عشقِ رسولؐ، زبان کا درست استعمال، تہ داری، رمزِ معنویت، محاروں، روزمرہ کا برملا استعمال، شائستگی، آبروئے شرم و حیا، غنائیت، نغمگی، موسیقیت، مترنم اور مشکل بحروں کے استعمال سمیت کون سی ایسی خوبی ہے جو اعجاز رحمانی کے کلام میں دکھائی نہیں دیتی!
پروفیسر منظر ایوبی کے مطابق ’’اعجاز رحمانی کی شاعری اصلاحِ معاشرہ اور تبلیغِ دین سے مزین ہے، تبلیغِ دین کا جذبہ ان کی رگ رگ میں بسا ہوا ہے، شخصی پہلو دیکھا جائے تو انہوں نے ہر دور میں مختلف موضوعات پر زمانے کے اعتبار سے اخلاص کے ساتھ شعر و شاعری کا کام کیا‘‘۔

شکر واجب ہے تیرا رب میرے
کام تُو نے بنائے سب میرے
آدمی سے بنا دیا انساں
تیرا احسان ہے یہ رب میرے
……
درود پڑھ کے اگر کوئی ابتدا نہ کرے
اسے یہ چاہیے پھر ذکرِ مصطفی نہ کرے
……
کسی اور راستے سے نہ ملے گی ہم کو منزل
جو حضورؐ نے بتایا وہی ٹھیک راستہ ہے
……
خلقتِ اوّلیں، خاتم المرسلیں
آپؐ پہلی کرن، آخری روشنی
……
آپؐ نے محنت کی عظمت کا لوگوں کو احساس دیا
آپؐ سے پہلے دنیا میں خوشحال کوئی مزدور نہ تھا
……
عظیم خلق کے مالک رسول اکرمؐ تھے
غریبوں اور یتیموں کے آپؐ ہمدم تھے
ہر اک بشر کے لیے رحمتِ مجسم تھے
نظر میں شاہِ امم کی، تمام عالم تھے
سراپا خیر تھی، اخلاق تھی رسولؐ کی ذات
متاعِ انفس و آفاق تھی رسولؐ کی ذات

آخر میں معروف محقق اور دانشور اطہر ہاشمی کے اعجاز رحمانی کے اعزاز میں منعقد کی گئی تقریب میں کہے گئے ایک جملہ ہائے حسیں پر اپنی بات کا اختتام کروں گا کہ ’’اعجاز رحمانی، رحمانی اعجاز ہیں‘‘۔

آپؐ نے محنت کی عظمت کا لوگوں کو احساس دیا
آپؐ سے پہلے دنیا میں خوش حال کوئی مزدور نہ تھا

اعجاز رحمانی

حصہ