کشمیر بنے گا پاکستان

131

رمشا جاوید
محمل نے وحشت سے لرزتے دروازے کو دیکھا۔
’’حنا ، نرجس ، ردا تم تینوں اسٹور میں چھپ جائو۔‘‘ اس نے کانپتی آواز میں انہیں ایک جانب دھکیلا۔
’’لیکن آپی آپ؟ ‘‘ ردا کی آنسوؤں سے بھری آنکھیں محمل چہرے پر جمی تھی۔
’’اللہ مالک ہے۔‘‘ محمل نے دل کو سخت کرتے ہوئے ان تینوں کو اسٹور میں دھکیل دیا اور دروازہ لاک کے ماں کے پاس سمٹ گئی۔
’’اب کیا ہوگا ماں…؟‘‘ خوف سے وہ کانپ رہی تھی۔ چالیس دن کی بھوکی بوڑھی ماں غم اور کمزوری سے نڈھال قرآنی سورتوں کا ورد کررہی تھی۔ اسی وقت دروازہ ٹوٹ گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے کئی بھارتی فوجی گھر میں گھس آئے۔ ایک نے آتے ہی محمل کو چوٹی سے پکڑا اور گھسیٹ کر لیجانے لگا۔ ماں نے خوف سے اپنے بوڑھے وجود کو سنبھالا اور محمل کو اپنی پوری طاقت سے پکڑ لیا۔ لیکن بھلا وہ بوڑھی ماں کب تک دس نوجوان بھارتی فوجیوں سے لڑتی۔ پاوں کی ایک زبردست ٹھوکر نے اسے دیور سے جالگایا۔ محمل کا آنسوؤں سے تر چہرہ اور فکرمند آنکھیں ابھی تک اسٹور پر جمی تھی۔ جہاں اس کی تین چھوٹی بہنیں پناہ گزین تھیں۔۔
بوڑھی ماں کو اگلی صبح ہوش آیا تو اس کی یادداشت پر دھندلا دھندلا سا ماضی گھومنے لگا۔
’’میری بچیاں۔‘‘ وہ گھومتے سر کے ساتھ اٹھی اور دیوانہ وار اپنی بچیوں کو ڈھونڈھنے لگی۔ وہ تینوں کم سن بچیاں ابھی تک اسٹور میں بند تھیں۔ بوڑھی عورت نے اسٹور کھولا۔ اسی لمحے باہر شور سنائی دیا۔
’’ماں دیکھو۔۔ لگتا ہے پاکستانی فوجیں آگئیں۔‘‘ شور سن کر سب سے چھوٹی ردا باہر کی طرف دوڑی۔
’’رک جائو ردا! رک جائو…!‘‘ حنا جو اب سب سے بڑی اور محض سترہ سال کی تھی نے ردا کو جاکر پکڑا۔
’’یہ پاکستانی فوج کی آواز نہیں۔ یہ انہی درندوں کی آواز ہے جو ہم روز سنتے ہیں۔‘‘اس نے دھیمی آواز میں اسے سمجھایا۔
’’باجی پاکستانی فوج کب آئے گی…؟ ہماری آپی کو یہ لوگ کہاں لے گئے؟ انہیں کون لے کر آئے گا۔ہم کب تک اسٹور میں چھپیں گے۔ کب تک بھوکے رہیں گے؟‘‘
ردا کے بے ربط جملے جاری تھے جب نرجس چلائی۔’’بھاگو…‘‘ پلٹ کر دیکھنے کا وقت نہیں تھا وہ تینوں سیڑھیوں سے چھت کی جانب بھاگی۔ انہیں اپنے پیچھے بوٹوں کی آوازیں صاف سنائی دے رہی تھی۔
’’ہم کہاں جارہے ہیں؟‘‘ ردا نے پوچھا۔ نرجس چپ رہی اس نے سختی سے ردا کا ہاتھ پکڑ لیا۔ اور ردا نے حنا کا۔
’’آپی نے کہا تھا۔ اگر پاکستانی فوج نہ آئے تو چھت سے کود جانا۔‘‘ ردا بڑبڑائی۔ حنا نے آنکھیں بند کی اور نرجس نے زور سے’’کشمیر بنے گا پاکستان ‘‘ کا نعرہ لگایا… اور فضا میں وحشت زدہ سی خاموشی چھا گئی۔
بوڑھی ماں نے دیکھا فوجی چھت سے خالی ہاتھ لوٹ رہے تھے۔ ماں گم صم سی بیٹھی رہ گئی۔ فوجی اسے ٹھوکر مار کر باہر نکل گئے ان کا رخ دوسرے گھر کی جانب تھا۔
…٭…
’’کشمیریوں پر ہونے والے ظلم و ستم کے خلاف ہم بھرپور احتجاج کریں گے۔ ہر جمعہ کے جمعہ آدھا گھنٹہ ہم کھڑے ہوں گے اور بھارت کو باور کروائیں گے کہ ہم کشمیریوں کے ساتھ ہیں۔ کشمیر بنے گا پاکستان۔‘‘ پاکستانی وزیر اعظم نے نعرہ بلند کیا جبکہ پاکستانی فوج جھنڈے لہرا کر پرجوش نعروں اور اپنی ایمانی قوت سے بزدل بھارتیوں کو للکارنے لگی۔

حصہ