نرم مزاجی

367

فرح اخلاق
زندگی کے اکثر مقامات پر ہم ایسے بہت سے لوگوں سے ملتے ہیں جو بیجا سختی، غصہ اور تلخ رویے کی وجہ سے ہمیں پسند نہیں آتے اور ہم حتیٰ الامکان ان سے دور رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس طرح کے مزاج کے لوگ اکثر ایک آسان اور سیدھے سادھے معاملے کو اپنے مزاج کی سختی کے باعث پیچیدہ بنادیتے ہیں۔ بعض دفعہ خود ہمیں بھی ایسی صورتحال سے دوچار ہونا پڑتا ہے جس میں ہم جذبات سے مغلوب ہوکر ایسا رویہ اختیار کرلیتے ہیں جو نتیجہ خیز اور کارگر نہیں ہوتا بلکہ معاملے کو مزید گھمبیر بنادیتا ہے۔
اسلام کیونکہ دینِ فطرت ہے اس لیے یہ زندگی کے ہر شعبے میں اعتدال کا حکم دیتا ہے ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صل اللہ علیہ وسلم نے امت کو نرم خوئی اور نرم مزاجی کی طرف جتنی اہمیت کے ساتھ متوجہ کیا ہے اس کا اندازہ احادیث مبارکہ سے ہوتا ہے ۔ رسول اللہ صہ کی احادیث کا نصف سے زیادہ حصہ خوش اخلاقی, نرم مزاجی, معاملہ فہمی اور گھر والوں کے ساتھ احسن سلوک پر مشتمل ہے خود رسول اللہ صہ نے اس سب کا عملی مظاہرہ کرکے دکھایا اور مثالیں قائم کیں۔
حدیثِ مبارکہ میں فرمایا گیا! ” تم (لوگوں) میں سب سے اچھا وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ اچھا ہے اور میں اپنے گھر والوں کے ساتھ تم میں سب سے بہتر ہوں”۔ لیکن ہمارے ہاں حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے ہمارا رویّہ اکثر اوقات اپنے گھر والوں کے ساتھ ہی زیادہ خراب ہوتا ہے , چھوٹی چھوٹی باتوں پر بہت زیادہ مشتعل ہوجانا, غصے میں آجانا ایک عام سی بات سمجھی جاتی ہے جبکہ ایک گھر میں مل کر رہتے ہوئے ضروری نہیں ہے کہ سب گھر والوں کا مزاج ایک جیسا ہو۔ جب ایک سے زیادہ لوگ مل کر رہتے ہیں تو بہت سی چیزیں فرد کے مزاج اور سوچ کے خلاف بھی ہوتی ہیں, رشتوں کو نبھانے کے لیے بہت سے معاملات میں کمپرومائز کرنا پڑتا ہے ۔ ناگوار باتوں اور جو چیزیں مزاج کے خلاف ہوں انہیں صبر اور تحمل کے ساتھ برداشت کرنے کا حوصلہ ہمیں اپنے اندر پیدا کرنا چاہیے غلط باتوں پر غصے میں ٹوکنے کے بجائے نرمی اور محبت سے سمجھائیں دوسرے کو وضاحت کا موقع دیں یاد رکھیں آپ کے اچھے اخلاق کے سب سے زیادہ حقدار آپ کے گھر والے ہیں۔
ابن القیم رح فرماتے ہیں! ” جب کبھی تمہیں احساس ہو اپنی عبادات میں کمی کا پس تم اچھے اخلاق میں کمی نہ کرنا، تحقیق یہ ہے کہ یہ تمہارے لئے جنت میں داخلے کی کنجی ہے”۔
ہم میں سے اکثر لوگ نماز، روزہ اور دیگر دینی امور کی تو خوب پابندی کرتے ہیں لیکن کہیں نہ کہیں اپنے رویے اور لہجے سے لوگوں کو دین سے متنفر کرنے کا باعث بھی بن رہے ہوتے ہیں جبکہ ہمارا دین تو پھیلا ہی رسول اللہ صہ کے اچھے اخلاق و کردار کی وجہ سے ہے۔
والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی اس حوالے سے تربیت کریں انہیں بتائیں کہ غصہ حرام ہے انہیں یہ بھی بتائیں کہ غصے اور تلخ رویے سے لوگوں کو خاموش تو کرایا جاسکتا ہے لیکن ان کے دل میں جگہ نہیں بنائی جاسکتی, بچوں کے سامنے خود بھی کسی پر غصہ نہ کریں اور حتی الامکان نرم رویہ رکھنے کی کوشش کریں۔
اصل خوش اخلاقی تو یہ ہے کہ جب کوئی آپ پر غصہ کرے, خفا ہو یا چیخے چلائے تو آپ خاموش ہوجائیں, تحمل سے برداشت کریں گو کہ یہ کوئی آسان کام نہیں ہے لیکن یہ ہمارے نبی صہ کا اسوہ ہے اور ہمیں ہر حال میں اپنے نبی صہ کے اسوہ کو اپنانا ہے۔
نبی کریم صہ نے فرمایا: ام سلمہ ” اخلاق والے جنت لوٹ کرلے گئے ” پوچھا اخلاق والے جنت کیسے لوٹ کرلے گئے ؟
فرمایا: کڑواہٹوں, تلخیوں اور زخم زخم دل کے باوجود جب زبان سے اس کڑواہٹ کا شائبہ تک نہ ہو اور ایک لفظ بھی یہ سوچ کر کہا جائے کہ کسی کی دلآزاری نہ ہوجائے تو رب خود پوچھتا ہے
ھل جزاء الاحسان ألا الاحسان؟
بس اللہ تعالٰی ہمیں اخلاق کے اس درجے کا اہل بنادیں کہ جس کے لئے جنت کی بشارت دی گئی ہے (آمین)۔

حصہ