عثمان پبلک اسکول سسٹم میں تعلیم کا بہترین نظام ہے

70

عثمان پبلک اسکول سسٹم کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر معین الدین نیّر سے جسارت میگزین کی گفتگو

جسارت میگزین: عثمان پبلک اسکول کی کامیابیوں کے بارے میں بتایئے؟
معین الدین نیر: بڑھتے ہوئے جدید تعلیمی نظام اور ماڈرن معلوماتی ذرائع کی رسائی جہاں عام ہوتی جارہی ہے، وہیں ہم اپنی تہذیب و ثقافت سے دور ہوتے چلے جارہے ہیں۔ کسی بھی قوم کی نئی نسل کو تہذیب و تمدن سے آگاہ کرنے کی ذمہ داری ہمیشہ سے خاندانی نظام اور تعلیمی اداروں نے ادا کی ہے۔ ایک نمایاں نام عثمان پبلک اسکول سسٹم یہ کارِخیر سرانجام دے رہا ہے جو ایسی نسلوں کی تیاری میں مشغول ہے جو اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام قائم کریں اور امربالمعروف و نہی عن المنکر کا مثالی نمونہ ہوں۔ عثمان پبلک اسکول سسٹم کی بنیاد 1989ء میں پروفیسر سید لطف اللہ مرحوم نے کراچی کے علاقے نارتھ کراچی میں رکھی، جس کا مقصد ہر علاقے کے لوگوں تک بہترین اسلامی اور جدید نظامِ تعلیم کی رسائی تھا، یہ ادارہ اللہ کے فضل و کرم اور اپنے بہترین معیار کی وجہ سے ترقی کی منازل طے کرتا چلا گیا اور پے درپے اپنی شاخیں نہ صرف ڈسٹرکٹ سینٹرل کراچی میں متعارف کروائیں بلکہ شہر کے دیگر علاقوں میں بھی اپنا لوہا منواتا جارہا ہے۔ اس ادارے پر اللہ کا خاص کرم ہے کہ اس کے منتظمین نے ہمیشہ اس کے لیے بے پناہ کام کیا، اور اپنی صلاحیتوںکا بے لوث استعمال کرتے ہوئے الحمدللہ ادارے کو ایک پہچان دی۔ چونکہ اپنے منفرد نصب العین کی بنا پر ہمیں دیگر تدریسی اداروں پر فوقیت حاصل ہے جس کی بنا پر عثمان پبلک اسکول سسٹم کی انتظامیہ نے والدین کے مسلسل مطالبے کو مدنظر رکھتے ہوئے عثمان پبلک اسکول سسٹم میں ہر سال نئی شاخوں کا اضافہ کیا ہے، تاکہ ہماری نسلوں میں ایسے افرادِ کار پیدا ہوں جو دین کے اصولوں کو قائم کرتے ہوئے اس دنیا میں ترقی کے عَلم کو بلند کریں۔ عثمان پبلک اسکول سسٹم اپنے اس بنیادی مقصد کے حصول میں پوری طرح کوشاں ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ایک قد آور درخت ہے۔ الحمدللہ۔ 1989ء سے 2019ء تک طلبہ و طالبات کے30 کیمپس کا قیام عمل میں آچکا ہے۔ 2014ء سے دو کالج طلبہ و طالبات کے لیے انٹرمیڈیٹ کے امتحانات میں بہترین رزلٹ کے ساتھ موجود ہیں۔ اس سال (2019ء) شعبہ حفظ کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے۔ طلبہ و طالبات کی تعداد 12,000 سے زائد ہے۔
جسارت میگزین: اپنے طریقۂ تعلیم و تربیت کے بارے میں بتایئے کہ دیگر اداروں سے کس طرح الگ ہے؟
معین الدین نیر: ہمارے یہاں تعلیم کے ساتھ اخلاقی و نظریاتی تربیت کا ایک پورا مربوط نظام موجود ہے۔ اسلامیات کا جامع اور مربوط نصاب جس کے ذریعے سے ہماری بنیادی دعوت کی تیاری اور نظریاتی اقدار میں مدد ملتی ہے۔ تمام مضامین میں اسلامی ارتباط مضمون کی پلاننگ میں لازمی ہے۔ سائنس اور معاشرتی علوم ہماری فکری اور نظریاتی تربیت کا ذریعہ ہیں، Concept Development کے لیے انہیں ملٹی میڈیا کی مدد سے پڑھایا جاتا ہے۔ عالم اسلام کو درپیش عصری چیلنجز میں سے اکثر کا تعلق سوشل اسٹڈیز اور کچھ کا تعلق اسلامیات سے ہے، یہ دونوں مضامین خصوصی توجہ سے پڑھائے جاتے ہیں۔ پرائمری کا مکمل نصاب جس کے ذریعے چھوٹے بچوںکی بنیاد مضبوط ہوتی ہے اور آئندہ کی کلاسوں میں انہیں دشواری نہیں ہوتی۔ اسمبلی پروگرام، ماہانہ تھیم، قومی و ملّی ایام کے حوالے سے خصوصی منصوبہ بندی کرکے اسمبلی Presentation کی جاتی ہیں۔
عثمان پبلک اسکول سسٹم اپنے طلبہ کی پوری شخصیت پر نظر رکھتا ہے اور انہیں ہر طرح سے ایک مکمل اور جامع انسان بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ سائنس فیئر، بک فیئر، ہفتۂ طلبہ، اسپورٹس ڈے، انٹر کیمپس کھیلوںکے مقابلے، الیکشن جس میں بچے اپنے ووٹ کے ذریعے ہیڈ بوائے، ہیڈ گرل اور ہائوس انچارجز کو منتخب کرتے ہیں، One Day گورنمنٹ، خودی، لیڈرشپ کیمپس، Excursion Trips، میٹرک کے طلبہ کے لیے ایسی سرگرمیوں کا باقاعدہ انعقاد کیا جاتا ہے جن میں طلبہ کی پوشیدہ صلاحیتیں اجاگر ہوسکیں، اس میں اسٹوڈنٹ ویک، سائنس فیئر، اسپیلنگ بی کمپٹیشن، بک فیئر، شاعری مقابلہ، تقاریر کا مقابلہ، آرٹ مقابلہ، ہفتۂ اقبال، طلبہ الیکشن، مکالمہ سازی سرفہرست ہیں۔ مارننگ اسمبلی کا باقاعدہ انعقاد بھی طلبہ کے ٹیلنٹ کو ابھارنے میں مدد دیتا ہے، اور میٹرک کے طلبہ کے لیے پاکستان ٹور کا بھی انعقاد کیا جاتا ہے۔ الحمدللہ عثمان پبلک اسکول سسٹم اپنے معیار پر قائم ہے اور مزید بہتری کے لیے دن رات مصروف ہے۔ ہمارے اسکول سے فارغ التحصیل طلبہ آج دینی اور دنیاوی لحاظ سے کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔ پاکستان کے اہم اداروں اور ہر شعبۂ زندگی میں بھرپور کردار ادا کررہے ہیں جس کی مثال حسن صدیقی (فلائنگ آفیسر)، حمزہ خان (قومی کرکٹر)، حمزہ صدیقی (معتمد عام اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان) سے لے کر تعلیم اور تحقیق کی دنیا میں امت کی قیادت کے لیے موجود بیش بہا سرمائے کی شکل میں موجود ہے۔
جسارت میگزین: اساتذہ رول ماڈل ہوتے ہیں، اس کے لیے آپ کوئی خاص طریقہ انتخاب یا تربیت کے لیے معاملات کی ہدایت دیتے ہیں؟
معین الدین نیر: اساتذہ کا انتخاب تو ڈگری اور مضمون میں مہارت کی بنیاد پر ہوتا ہے، لیکن تعلیم کے ساتھ اخلاقی و نظریاتی تربیت کا ایک پورا مربوط نظام موجود ہے۔ اسلامیات کا جامع اور مربوط نصاب جس کے ذریعے سے ہماری بنیادی دعوت Shaping Leader of Ummah کی تیاری اور نظریاتی اقدار میں مدد ملتی ہے۔ اساتذہ کے مضامین میں اسلامی ارتباط مضمون کی پلاننگ میں لازمی ہوتا ہے۔ سائنس اور معاشرتی علوم ہماری فکری اور نظریاتی تربیت کا ذریعہ ہیں، Concept Development کے لیے اساتذہ کی مختلف ورکنگ باڈیز عالمِ اسلام کو درپیش عصری چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے طلبہ کے لیے مضامین پر خصوصی توجہ دیتی ہیں، ان کے لیے اساتذہ کو مختلف اداروں سے ٹریننگ بھی دلوائی جاتی ہے اور مختلف مواقع پر گیسٹ اسپیکرز کے سیشنز کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے۔
پری پرائمری، جس کے ذریعے چھوٹے بچوں کی بنیاد مضبوط ہوتی ہے اور آئندہ کلاسوں میں انہیں دشواری نہیں ہوتی، اس کے لیے اساتذہ کو مختلف تھیمز کی ورکشاپس کرائی جاتی ہیں تاکہ طلبہ کا ایک خاص انداز منفرد تعلیمی نظام کے لیے تیاری میں معاون ہو۔ اس تربیت کے لیے باقاعدہ ایک مربوط نظام موجود ہے جس میں اساتذہ مکمل طور پر اپنی پوزیشن اور ترقی کے لیے مسلسل اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کرتے رہتے ہیں۔
جسارت میگزین: والدین سے آپ کیا چاہتے ہیں؟ یا والدین کو بچوںکے لیے کیسا رویہ رکھنا چاہیے؟
معین الدین نیر: والدین، اسکول اور بچہ… یہ تینوں مل کر ایک مثلث ہے جو مکمل ہوکر بہتر مستقبل کے معمار تیار کرتی ہے۔ اس وقت والدین کی ذمہ داری بے انتہا ہے، معیاری اسکول کے انتخاب کے ساتھ ساتھ گھروں میں بھی اس کے لیے تربیت کا تسلسل ہونا چاہیے۔ ہم والدین سے یہی توقع کرتے ہیں کہ وہ بچوں کو گھروں میں بھی وہی ماحول فراہم کریں گے جو اسکول میں مہیا کیا جاتا ہے۔ والدین کو مسلسل سیلبس اور سرگرمی سے آگاہی کا سلسلہ رہتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ والدین کے وژن میں ہم آہنگی کے لیے باقاعدہ بنیادوں پر Parenting Session کا آغاز کیا گیا ہے۔ اس کے لیے ہمارے سسٹم کے کئی ٹول ہیں۔ ایڈمیشن کے وقت اور بعد میں مختلف پروگراموں کے ذریعے والدین کے لیے ورکشاپ رکھی جاتی ہیں، سوشل میڈیا پر پیرنٹنگ کے علاوہ ڈائری کا نظام جو ’’نماز ڈائری‘‘ کے نام سے مشہور ہے، بہت اہمیت کا حامل ہے۔ بچہ اپنی دن رات کی مصروفیات کو بہت سہل طریقے سے اس میں لکھتا رہتا ہے، جس پر والدین اور اساتذہ کی روزانہ اور ماہانہ رائے ملتی رہتی ہے جس میں بچے کی تعلیم، نماز، مطالعہ اور کھیل کی سمری کا معلوم ہوتا رہتا ہے۔ عثمان پبلک اسکول سسٹم اپنے بچوں کے والدین کے لیے مختلف سیشنز کا انعقاد کرتا ہے جس میں جدید چیلنجز کے پروگرام سرفہرست ہیں، اور سوشل میڈیا کے ذریعے بھی مسلسل آگاہی کا انتظام کرتا رہتا ہے۔ ہم والدین سے سب سے بڑا مطالبہ ہی یہ کرتے ہیں کہ بچے کو عزت اور احترام دیں۔ والدین کا بچے کو وقت دینا ہی عزت و احترام ہے۔ ماں باپ بچے کو مطلوبہ وقت دیں تو ہر بچہ کامیاب معمارِ وطن ہے ان شاء اللہ۔ والدین بچوں کو اپنی بساط کے مطابق بھرپور توجہ سے علم کے آسان حصول کے لیے ہر ممکن سہولت دیں اور بچے کو احساسِ ذمہ داری کی راہ پر گامزن رکھیں تو بچے بنیادی تعلیم کے بعد بہت جلد والدین کا سہارا بن جاتے ہیں۔
جسارت میگزین: لڑکیوں اور لڑکوں کی تربیت کے لیے کیا کچھ مختلف اصول رکھے جاتے ہیں آپ کے ہاں؟
معین الدین نیر: لڑکے اور لڑکیوں کی تربیت میں دینِ اسلام نے جو اصول رکھے ہیں ہم انہی کے مطابق اپنے طلبہ و طالبات کو لے کر چلتے ہیں، اسی لیے لڑکے اور لڑکیوں کے کیمپس بھی مکمل الگ ہیں اور اساتذہ بھی مذکورہ جنس کے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ طلبہ و طالبات کی تمام سرگرمیاں ان کے جینڈر اور مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کی جاتی ہیں۔ لڑکے اس ملک و ملت کے آنے والے رہنما، تو لڑکیاں ان گھروں کی نگراں ہیں جہاں سے نئے معاشرے جنم لیتے ہیں اور انہی کے ذریعے تبدیلی انقلاب کی نوید ہے۔ ہمارے رول ماڈل نبیِ مہربان صلی اللہ علیہ وسلم، اصحابؓ ِرسول اور حضرت عائشہؓ و فاطمہؓ ہیں۔ ان کی سیرت ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔
جسارت میگزین: طالب علموں کی طرح اساتذہ کے لیے بھی کیا یونیفارم ہونا چاہیے؟ کیا آپ کے ہاں ایسا ہے؟
معین الدین نیر: ہمارے ہاں اساتذہ، خاص طور پر خواتین و دیگر اسٹاف کے لیے لازمی یونیفارم پالیسی ہے۔ اس کے کئی فائدے ہیں، اساتذہ میں ڈسپلن رہتا ہے اور فیشن کے مرض سے دور رہتے ہیں، اور طلبہ کے لیے بھی استاد کے لباس و جیولری سے زیادہ اس کی شخصیت اور علمی قابلیت کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ کیوں کہ اسکول کا ماحول ایک مکمل علمی ماحول ہے اور علم کا حصول مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے، تو اس فرض کے لیے ایک جامع نظام میں رہنے کے لیے لباس و گفتگو بھی شخصیت کا اہم پہلو ہے اور استاد کو اس میں رہنا چاہیے اور حاصل و حصول صرف تعلیم ہی ہونی چاہیے۔
جسارت میگزین: کتنے بیجز نکل کر زندگی کے کس کس شعبے میں نمایاں کام کررہے ہیں؟
معین الدین نیر: 1989ء سے عثمان پبلک اسکول سسٹم کراچی میں طلبہ کو تعلیمی میدان فراہم کررہا ہے۔ عثمان پبلک اسکول سسٹم کا پہلا بیج 1993ء میں پاس آئوٹ ہوا تھا، آج الحمدللہ 2019ء تک عثمان پبلک اسکول سسٹم کے 27 بیجز زندگی کے مختلف شعبہ جات میں اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں جن میں پوزیشن ہولڈر بھی شامل ہیں۔ ہمارے اسکول سسٹم کے فارغ التحصیل طلبہ دیگر اداروں میں بھی ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں، اور دیگر تمام بورڈز میں بھی نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کا تعلق عثمان پبلک اسکول سے ہوتا ہے۔ عثمان پبلک اسکول کے پلیٹ فارم سے بھی طلبہ اب تک تمام بورڈز کی نمایاں پوزیشن حاصل کرچکے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ ہر سال بورڈ کی ٹاپ لسٹ میں کئی ’’عثمانیز‘‘ شامل ہوتے ہیں۔ الحمدللہ تمام طلبہ نمایاں کامیابیاں میٹرک، انٹر اور اب کیمبرج بورڈ میں بھی سمیٹ رہے ہیں اور تمام کیمپس کا نتیجہ الحمدللہ ہر سال بورڈز کے ریکارڈ میں سرفہرست ہوتا ہے۔ اس سال کی پوزیشن ولیاء نور میٹرک بورڈ کراچی تیسری پوزیشن، جب کہ کیمبرج امتحانات میں احمد گالا نے تمام مضامین میں اسٹار گریڈ لیا ہے۔ گزشتہ سال انٹرمیڈیٹ کے دونوں امتحانات پری میڈیکل و پری انجینئرنگ میں روحانہ اشرف اور خدیجہ اشرف نے پانچویں اور دوسری پوزیشن حاصل کی تھی۔ اِس سال بھی پری انجینئرنگ کی طالبہ علیشبہ عثمان پبلک اسکول کی فارغ التحصیل ہیں جنہوں نے پہلی پوزیشن اپنے نام کی ہے۔
جسارت میگزین: مستقبل میں آپ کے کیا ارادے ہیں؟
معین الدین نیر: تعلیم کے سلسلے میں آگے سے آگے بڑھنا، مزید کیمپس بنانا اُن علاقوں میں جہاں سے ڈیمانڈ ہورہی ہے، ساتھ ہی کالجز بھی بنانا ہے۔ تعلیم کا معیار بہتر سے بہتر رکھتے ہوئے اپنے سفر کو جاری رکھیں گے، ان شاء اللہ مستقبل میں یونیورسٹی بھی قائم کی جائے گی۔ دراصل ساری بات وسائل کی ہے، اگر وسائل موجود ہوں تو ایک ایک بچے کو بہترین تعلیم دینا ہمارا خواب ہے۔

حصہ