ساہیوال سے ٹک ٹک ۔۔۔۔ حکومتی چرچے

150

دَجاّل کی نشانیوں کے تناظر میں ایک صاحب علم کے ساتھ گفتگو ہو رہی تھی ۔ کچھ نتائج اخذ کیے اور معاشرے پر ٹیسٹ کی نیت کے ساتھ اپنی فیس بک وال پر کچھ تجربات کیے ۔ یقین کریں ایسے ایسے لوگ اس کے شکار پائے کہ اس پر فتن دور کو دیکھ کر اللہ سے پناہ مانگنے کے سوا کوئی راستہ نظر نہیں آیا۔اس ہفتہ بھی کئی اہم خبریں ، واقعات اور موضوعات سوشل میڈیا پر زیر بحث رہے ، تاہم حکومت یا حکمرانوں کی کمزوریاں نہ ہی اب چھپ سکتی ہیں اور نہ ہی کوئی انہیں چھوڑتا ہے۔کچھ نہیں معلوم کہ آپ کی کہی ہوئی کیا بات خود آپ کے گلے پڑ جائے ۔ آپ کیا بات لکھنا چاہ رہے ہوں ، اس کے کوئی کیا معنی نکال لے ۔صرف معنی ہی نہیں بلکہ وہ خود جتنا سماجی میڈیا کا اپنے آپ کو چمپئن سمجھتا ہو، وہ ویسا ہی اس کے ساتھ سلوک کرتا ہے،چونکہ معاشرے کی کوئی اخلاقیات نہیں بچ سکی ہیں تو ایسے شتر بے مہار سماجی میڈیا کی کوئی اخلاقیات کیسے ہو سکتی ہیں ۔
اینٹی ٹیررسٹ کورٹ نے سانحہ ساہیوال کے کیس میں گرفتار سی ٹی ڈی کے 6گرفتار ملزمان کو شک کا فائدہ ہونے کی بنیاد پر بری کر نے کا حکم جاری کر دیا۔عین ممکن ہے کہ کیس کا چالان اور دیگر کاغذی کارروائی اسی انداز سے ترتیب دی گئی ہو کہ عدالت کو یہی فیصلہ دینا پڑ گیا ہو۔بہر حال عدالتی فیصلہ #Sahiwalکے ہیش ٹیگ کی صورت چلا اور کچھ ہی دیر میں ٹرینڈ بن کر اس پورے عدالتی، انصافی نظام کے منہ پر (ایک اور)تھپڑ رسیدکرتا نظر آیا۔مجھے دُکھ اس بات کا ہو رہا تھا اس پورے تنقیدی عمل میں ریاست مدینہ کو بھی بار بار لایا جا رہا تھا۔ اب چونکہ حکمران دعویٰ ہی ایسا کر رہے تھے کہ لوگ بھی مجبور تھے۔خود عمران خان نے تحریری وعدہ بشکل ٹوئیٹ کیا تھا کہ سانحہ کے ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے ۔اب یہ کیا ہوا کہ کوئی بھی شناخت نہ ہو سکا؟حکومت ویسے ہی مولانا فضل الرحمٰن کے مبینہ و ممکنہ مارچ نما دھرنے سے خوف زدہ تھی ،روزانہ اب تو ایک نہ ایک ٹرینڈ مولانا کی ٹیم بنا نے لگی ہے ۔ ایسے میں میاں نواز شریف کے پتے نے گڑ بڑ کر دی اور ان کے خون کے پلیٹ لیٹس نے تیزی سے کم ہو کر وجود باری تعالیٰ اور اللہ کی لاٹھی کے لہرانے کا احساس دلایا ،لیکن کیا کریں کہ انسان اور وہ بھی حکمران ۔۔وہ تو بس۔۔بہر حال سانحہ ساہیوال کے ملزمان کی بریت کی خبر پر مختلف تبصروں کے ساتھ ساتھ کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے نوجوان شاعر راغب تحسین کے یہ اشعار بہت زیادہ شیئر ہوتے نظر آئے۔

جس کے پلّو سے چمکتے ہوں شہنشاہ کے بوٹ
ایسی دربار سے بخشی ہوئی دستار پہ تھُو
زور کے سامنے کمزور، تو کمزور پہ زور
عادلِ شہرتیرے عدل کے معیار پہ تھُو

ان تبصروں کے ساتھ سانحہ ساہیوال کے لیے انصاف کے متلاشی متاثرین معصوم بچوں کی تصاویر بھی شیئر ہو کر ’نیٹیزن ‘کے سامنے ’ظلم‘ کی حقیقی تعریف بھی بیان کرتی نظر آئی۔اہم بات یہ ہوئی کہ سانحہ ساہیوال کا شکار ہونے والے کیس کے مدعی اور مقتول کے اپنے بھائی کا ویڈیوبیان حیرت انگیز تھا جو اسے حادثہ اور عدالتی فیصلہ کو دل سے تسلیم کر نے کا کہہ رہا تھا۔سانحہ خروٹ آباد سے چلنا شروع کریں، کراچی آجائیں، ریمنڈ ڈیوس دیکھ لیں لوگ عدالت سے زیادہ وقت کے تمام حکمرانوں پر بھڑاس نکالتے نظرا ٓئے، کیونکہ اس معاملے میں سب کو ایک ہی پایاگیا۔ابھی چند دن قبل ہی پولیس تحویل میں ہلاک ہونے والے صلاح الدین(فیصل آباد اے ٹی ایم )کے قتل کو اُس کے والد نے مسجدمیں جا کر اعلانیہ معاف کرنے کا اعلان کیا تھا۔نقیب اللہ محسود اور اس کے اہل خانہ ابھی تک انصاف کی نام لیوا حکومت میں انصاف کے لیے سوالیہ نشان ہیں ۔یہ ٹھیک ہے کہ نوا ز شریف اورمشرف کو ان کے تمام اعمال ِبد کی سزا ضرور ملے گی ۔ یہ دنیا تو ویسے بھی ’دار الجزا ‘ نہیں ہے ، لیکن جب ’ دار الجزا‘ قائم ہوگا اس دن ہمارا ایمان ہے کہ چھوٹے سے چھوٹے یا بڑے سے بڑے ہر ہر عمل کا ، ہر ہر نعمت کا پورا حساب ہوگا ۔ پس جو انسان اس بات کو سمجھ کر آزمائشی دنیا کوگزارگیا وہی کامیاب ہوگا۔
اس صورتحال کو صہیب جمال نے اپنے مخصوص منظوم انداز میں یوں بیان کیا:
مبارک تم سب کو انصاف مبارک
یہاں کا قانون
یہاں کی عدالت
یہاں کے فیصلے مبارک
یہ نظام …صاف اور شفاف مبارک
ہر قتل یہاں شک
باقی میری تمہاری بک بک
ہمیں مبارک
طاقتور کو طاقت مبارک
کمزور کو ذلّت مبارک
اب اگر کہیں آنسو نظر آئیں
دیکھ کر پلٹنا نہیں
رکنا نہیں
ایک بھی بات نہ کرنا
ہم سب کو خاموشی مبارک
یہ تینوں جب جوان ہوں گے
ان میں پلتا خوف مبارک
ان کی نفرت مبارک
مبارک مبارک مبارک
تمہیں کرسی کی چمک
ہمیں تبدیلی مبارک
تمہیں تبدیلی مبارک
24اکتوبر کو ٹیلی نار نے اپنی پروڈکٹ مارکیٹنگ کی غرض سے اپنی نئی اشتہاری مہم کی ٹیگ لائن MoreseZyada کو بطور ہیش ٹیگ متعارف کرایا، لوگ انعامات کے چکر میں ایسا دوڑے کے ٹرینڈ لسٹ تک کھینچ لے آئے۔اب جو کچھ اس کے ذیل میں ہو رہا تھا اس میں لوگ اپنے اپنے حد سے زیادہ شوق یا مشاغل پر روشنی ڈالتے رہے۔اسی دن WorldPolioDay بھی پوری آب و تاب سے ٹرینڈ لسٹ میں جگہ بنا کر پولیو سے بچاؤ کے لیے عالمی سطح پر خصوصاً اہل پاکستان کے نیٹیزن میں آگہی فراہم کرتا رہا۔ مگر اہم بات یہ تھی کہ پاکستان میں جو لوگ اس ابلاغی مہم کے حوالے سے ٹارگٹ آڈینس ہیں وہ کم از کم ٹوئٹر یا سوشل میڈیا تو استعمال کرنا نہیں جانتے ۔اسی طرح کشمیر ایشو اب سرکاری سطح پر سوشل میڈیا پر نظر نہیں آیا ، جبکہ وہاں لاک ڈاؤن اب بھی جاری ہے ۔ کرتاار پور راہداری کھولنے کے لیے بے تاب حکومت نے بارڈر کھولنے کے معاہدے پر دستخط کی عالی شان تقریب ٹوئٹر ٹرینڈ کی صورت پیش کر کے اہل کشمیر کے زخموں پر نمک ڈالنے کا کام کیا۔
واپس اپنے موضوع پر چلتے ہیں ، وہ ’اخلاقیات ‘والے موضوع پر۔پچھلے ہفتہ ایک مثال معروف ٹی وی اداکارہ ’ اشنا شاہ‘ کی پیزا بوائے والی ایک ٹوئیٹ کی دی تھی ۔ اسکے بعد نمبر آیا اداکارہ ’نیلم منیرخان‘ کا ۔موصوفہ نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ کے ذریعہ اپنے 28لاکھ سے زائد مداحوں کو اپنی آنے والی فلم کی پروموشن کی خاطر ایک پوسٹ ڈالی ،جس میں انہوں نے اپنی سادگی میں وطن سے محبت کی خاطراپنی زندگی کا پہلا و آخری آئیٹم سانگ کرنے کا اقرار کیا۔ فلم کی پروڈکشن کو آئی ایس پی آر کا بتا کر اہم راز سے پردہ فاش کیا۔ انہوں نے اس کام کو قابل فخر قرار دیا کہ ملک کے لیے انکی جان بھی ہمیشہ حاضر ہے۔ اب لفظ پہلا و آخری آئیٹم سانگ لکھنے کا مطلب یہ بھی ہے کہ وہ یہ مانتی ہیں کہ یہ کوئی درست چیز نہیں لیکن یہ صرف ایک بڑے مقصد کی خاطرفخر سے کیا جا سکتا ہے۔میں نے فلم نہیں دیکھی البتہ یہ سوال ضرور ذہن میں گونجا کہ اگر واقعی آئی ایس پی آر کو پاکستان کا کوئی بیانیہ بتانے کے لیے فلم بنانی ہی ہے تو اس میں ’آئیٹم سانگ ( فحش و نیم عریاں طرز ڈانس )ڈالنے کی کیا ضرورت تھی۔ اگر ڈالنا بھی تھا تو اپنے ساتھ نتھی کیوں کرایا گیا۔اس فلم کے بارے میں یہ بات نہیں منظر عام پر لائی جاتی کہ یہ فلم آئی ایس پی آر کی ہے اور مصنف و ہدایتکار’خلیل الرحمٰن قمر‘ کے پروجیکٹ کو ہی سامنے رکھا جا تا تو ایک کیا چار آئیٹم سانگ بھی ہوتے تو شاید اتنا فرق نہیں پڑتا ۔اس سے زیادہ بے ہودہ ناچ گانے و موضوعات پرفلمیں پاکستان میں پروڈیوس ہوتی رہی ہیں لیکن ان سب میں سے کسی پر بھی سوشل میڈیا پر پاک فوج کی بھد نہیں اڑائی گئی۔
اس کے بعد 23اکتوبر کو سوشل میڈیا کی سب سے بدنام زمانہ ایپلیکیشن ’ٹک ٹاک‘ سے نقالی کی شہرت پانے والی پاکستانی خاتون ’حریم شاہ ‘ ایک ہی ویڈیو سے مزید بڑی اسٹار بن گئیں۔ بظاہر تو انہوں نے کچھ خاص نہیں کیا ۔ پاکستان کی وزرات خارجہ کے دفتر کے ایک میٹنگ یا کانفرنس ہال کا دورہ کیا اور خالی پا کر اپنی ایک ویڈیو بھی بنائی ۔بات یہاں نہیں رکی ویڈیو ٹک ٹاک پر اپ لوڈ بھی کر دی۔حریم کے ٹک ٹاک پر 16لاکھ سے زائد فالوورز ہیں ۔اب ویڈیو میں ڈسکرپشن ڈالا یا نہیں اس کا کوئی ثبوت نہیں ملا ، البتہ2ویڈیوز میں دو بھارتی گانے کے اشعار ضرور پائے گئے ۔اسلیے یہی مانا جائے گاکہ ویڈیو کے ساتھ کوئی تفصیل نہیں تھی ۔البتہ ٹوئٹر اکاؤنٹ کے بارے میں انہوں نے وضاحت کی کہ وہ اکاؤنٹ انکانہیں تھا۔اسی لیے عوام نے اپنی معلومات کے مطابق اس ویڈیو کے ساتھ جو سلوک کرنا تھا کیا۔جیسے ہی اس کو پرائم منسٹر سیکریٹیریٹ قرار دے کر کسی صحافی نے شیئر کیا ، تو جنگل میں آگ نہیں بلکہ بلاسٹ ہو گیا ۔ وزیر اعظم ہاؤس کے حوالے سے ایسا ایسا مواد آنا شروع ہوا کہ الفاظ نہیں ہیں بتانے کے لیے ۔
پھر یہی نہیں بلکہ پی ایم ہاؤس کی چوتھی منزل کے بھی چرچے شروع ہو گئے ۔ ایک نے کچھ یوں لکھا کہ ’لگتاہے خان نے پی ایم ہاؤس کو یونیورسٹی بنانے کا وعدہ پورا کر دیا۔ یونیورسٹی کی پہلی طالبہ جسکو نعیم الحق کے میرٹ کی بنیاد پر داخلہ ملا۔‘ایک دن بعد تک کسی کو توفیق نہیں ہوئی کہ باوجود حقیقت جاننے کے اپنی تصحیح کر لے جب پتہ چل گیا کہ یہ فارن آفس ہے۔ لوگ تو ویڈیو شیئر کر کے مائیک کو لیپ ٹاپ قرار دے کر یہ تک کہہ رہے تھے کہ دیکھو ہال میں موجود لیپ ٹاپ میں حساس معلومات ہوں گی وہ کہیں نہ نکال لی جائیں ۔ وغیر وغیرہ۔موصوفہ نے ملک کے اہم سیاستدانوں بشمول حکمرانوں کے ساتھ اپنی کئی ویڈیوز و تصاویر اپنے اکاؤنٹ پر شیئر کر رکھی ہیں۔ اب لوگ یا تو حسد یا کم معلومات یا حکومت سے بغض کی خاطر چاقو چھریاں لے کر اتر گئے ۔ اب مزے دار بات یہ ہوئی کہ موجودہ دور حکومت میں ـ’خواتین نوازی ‘ کی ایک سیریز سی بن گئی تھی۔ سب سے پہلے ’وینا ملک‘ از خود میدان میں اتریں اور اب تک ڈوبی ہوئی ہیں ۔پھر مہوش حیات کو تمغہ امتیازکا ایشو اُٹھا پھر کچھ ہی دن قبل خواتین حقوق کے حوالے سے ایمبیسڈر کا معاملہ زیر بحث آیا۔اس کے بعد نیلم منیرکا نمبر آگیا اور اب حریم شاہ ۔ حریم شاہ نے اپنے عمل کی مناسب وضاحت بھی کی اور اس ویڈیو کو زبردستی قومی سلامتی کا ایشو بنانے سے عوام کو روکنے کی اپیل بھی کی مگر بہت دیر ہو چکی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے باقاعدہ اجازت سے دفتر تک رسائی حاصل کی۔
’حساس عمارت کے اندر سفارش سے جانا اور موبائل فون سے ویڈیو بنانے پر حریم شاہ کو سائبر کرائیم فوری گرفتار کرے اور اس کے سہولت کاروں کو بھی شامل تفتیش کیا جائے۔ ایسے تو کل کوئی حسینا دہشتگردی بھی کر سکتی ہے! لیجنڈ دے لشکارے! ‘ اسی طرح جو لوگ مستقل وضاحت آنے کے باوجود اسے وزیر اعظم ہاؤس قرار دیتے رہے ان کا یہ اسٹائل تھا۔’جس کرسی پر وزیراعظم عمران خان کو بیٹھنے میں بائیس سال لگ گئے۔ ایک ٹِک ٹاک لڑکی کو اس کرسی پر بیٹھنے میں بائیس سیکنڈ بھی نہ لگے۔آج کا دن پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے۔ جنرل رانی کے دور کی یاد تازہ ہو گئی ۔مبارک تمہیں تبدیلی مبارک۔‘
اب مجموعی تبصروں کی شکل کچھ یوں رہی :’ ففتھ جنریشن وار۔وینا ملک ٹویٹر و فیس بک سے بھارت پر گولے برسا رہی ہیں، نیلم منیر آئٹم نمبر سے قوم کے حوصلے بڑھا رہی ہیں، مہوش حیات کی بیباکیوں سیبھارتی ویسے ہی خوف میں مبتلا تھے، اوپر سے اب حریم شاہ وزارتِ خارجہ سنبھال کر بھارت کو ناکوں چنے چبوانے کے پروگرام بنا رہی ہیں۔‘ ایک دوست نے تبصرہ کیا: ’ حریم شاہ کو چیئرمین نیب کا فون ، نیب آفس کے دورے کی دعوت۔‘ پی ٹی آئی کے حق میں اور خان صاحب کی شان میں سائبر وار لڑنے والی یوتھیوں میں ا ب حریم شاہ کی وجہ سے ٹک ٹاک پر اکاؤنٹ بنانے کا راستہ اور فائدہ سمجھ آگیا ہے ۔‘
ویسے اسریٰ غوری کی وال سے سب سے جامع اور گہرا طنزیہ تبصرہ مجھے یہ لگا ،’حریم شاہ نے پوری قوم کو یہ بتایا کہ اس ملک میں سوشل میڈیا سے حکومت کے ایوانوں تک سب ٹک ٹاک ہے۔آواز کسی اور کی اور اداکاری کسی اور سے کروائی جارہی ہے۔مطلب گاتا کوئی اور ناچتا کوئی اورباقی سب ٹک ٹاک ۔‘

حصہ