دِھی رانی

91

سیدہ عنبرین عالم
صبا، وڈیرہ لال حسین کی اکلوتی بیٹی تھی جو سندھ میں بڑی جاگیروں کے مالک تھے۔ وڈیرے کے صبا سے بڑے چار بیٹے تھے۔ صبا تو سمجھو بڑھاپے کی اولاد تھی، آخری بھائی سے بھی 15 سال چھوٹی۔ وڈیرہ لال حسین صبا کو بہت چاہتے تھے۔ میٹرک تو گائوں میں ہی کرایا، پھر کراچی پڑھنے بھیج دیا۔ کراچی میں فلیٹ لے کر دیا۔ صبا اپنی ماں اور چار نوکروں کے ساتھ کراچی میں رہ کر تعلیم حاصل کرنے لگی۔ وہ شادی سے گھبراتی تھی، وڈیرہ لال حسین بھی چاہتا تھا کہ بیٹی نظروںکے سامنے رہے، رخصت نہ کرنا پڑے، سو پڑھاتا گیا… حالانکہ بیٹے، بہوئیں بڑی مخالفت کرتے تھے۔ آخرکار صبا نے فزکس میں MSc کرلیا۔ نوکری کی اجازت نہ تھی، لہٰذا ایک مدرسے میں داخلہ لے کر عالمہ کا کورس کرنے لگی۔ وڈیرہ بوڑھا ہوگیا تھا، چاہتا تھا کہ اس کی زندگی میں صبا اپنے گھر کی ہوجائے، سو عالمہ کا کورس ختم کرتے ہی اسے گائوں بلاکر اپنے بھتیجے سے منگنی کردی۔ بھتیجا صبا سے چھ سال چھوٹا تھا، مگر کہیں باہر شادی کرتے تو جائداد باہر چلی جاتی، اس لیے وڈیرے کو یہی فیصلہ مناسب لگا۔ صبا نے گھر پر عصر کے بعد بڑی عورتوں کی تعلیم کا سلسلہ شروع کردیا، گھر گھر جاکر دعوت دی، عصر سے مغرب تک پڑھنے والی عورتوں کے بچوں کو سنبھالنے، کھلانے، پلانے کا انتظام بھی کیا، تاکہ عورتیںتوجہ سے پڑھ سکیں۔ ایک گھنٹہ قرآن پڑھاتی، ایک گھنٹہ حساب کتاب اور اردو سکھاتی۔ تقریباً 60 عورتیں روز آنے لگیں۔ جمعہ کو چھٹی ہوتی اور اتوار کو ہفتے بھر کا امتحان ہوا کرتا تھا۔ گائوں میں تقریباً 700 عورتیں ایسی تھیں جو 20 سے 50 سال کے درمیان تھیں، اور انہیں یہاں پڑھنے آنا چاہیے تھا، مگر تعداد 50 سے 60 کے درمیان رہی۔ صبا امتحان میں تحائف کا سلسلہ بھی رکھتی تاکہ پڑھنے والیوں میں شوق پیدا ہو۔ اس کا منگیتر پڑھنے کے لیے برطانیہ چلا گیا تھا۔
صبا نیٹ پر آن لائن ٹیچر بن کر بھی فزکس کی بڑی کلاسوں کو بلا معاوضہ پڑھاتی تھی۔ بہت مصروف رہتی تھی اور اپنے کمرے سے کم ہی باہر نکلتی تھی۔ اس کے چاروں بڑے بھائی میٹرک کے بعد زمینیں سنبھالنے لگے تھے، وڈیرہ لال حسین اب تک اپنے علاقے سے الیکشن لڑتا تھا اور ہمیشہ جیتتا آیا تھا۔ ایک دن وڈیرہ خود صبا کے کمرے میں آیا اور کہا ’’دھی رانی کبھی تو بڈھے باپ کے ساتھ بھی بیٹھا کر، پتا نہیں کتنی زندگی رہ گئی ہے، برسوں سے تیری شکل دیکھنے کو ترستا رہا ہوں، اب تو باپ کو لفٹ کرائو۔‘‘
صبا خجل سی ہوگئی۔ ’’سوری بابا جانی، ابھی چلیے، آج سے روز آپ کے پاس آئوں گی، کم از کم دو گھنٹے باتیں کروںگی، ٹھیک ہے نا بابا؟‘‘ اس نے مسکرا کر کہا اور اپنے بابا جانی کے کمرے میں چلی گئی۔ کھانے کا وقت ہوا تو بابا کے ساتھ ہی کھانے والے کمرے میں چلی گئی۔ لمبا سا دسترخوان بچھا ہوا تھا، گوشت، چاول، چرغے، میٹھے سب موجود۔ دستر خوان پر 20 لوگ موجود تھے، اس کے چار بھائی، ان کے بہت سے بیٹے، اماں، بابا اور صبا۔ کھانا لگا ہوا تھا اور کافی تھا، پھر بھی چاروں بھابھیاں نوکروں کی طرح کھڑی تھیں اور بھائیوں کی بچیاں دوڑ دوڑ کر پلیٹوں میں کھانا نکال کر دے رہی تھیں۔ صرف تین ہی بیٹیاں تھیں چار بھائیوں کی ملا کر۔
’’آیئے بھابھی! آپ لوگ بھی آیئے نا۔‘‘ صبا نے کہا۔ بڑی بھابھی ایک دم سہم گئیں۔ ’’نہیں دھی رانی، ہم کو کھانا لاکر دینا ہوتا ہے، بیٹھ نہیں سکتے۔‘‘ انہوں نے کہا۔ ’’کھانا تو شریف چاچا اور رخسانہ چاچی لے آئیں گے۔‘‘ صبا نے پرانے ملازم میاں بیوی کا نام لیا۔ ’’ہم کیا نوکروںکے ہاتھ سے کھانا کھائیں گے! پھر زنانیوں کا فائدہ کیا؟‘‘ صبا کے سب سے بڑے بھائی کامران نے کڑک دار آواز میں کہا۔ ’’یہ شہر میں ہوتا ہوگا کہ عورتیں مردوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھائیں۔ یہ گائوں ہے، عورتیں اپنے مردوں کو کھلا کر پھر کھانا کھاتی ہیں، یہ ایسے ہی کھڑی رہیں گی۔‘‘ اس نے فیصلہ کن لہجے میں کہا۔
’’مگر اماں تو ہمارے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتی تھیں، بچپن میں ہم سب فیملی ہیں۔‘‘ صبا نے جواب پیش کیا۔’’ابا جی کو عورتوں کو سر پر چڑھانے کی عادت ہے، جیسے تیرا دماغ خراب کردیا ہے۔‘‘ کامران نے غصے سے کہا۔
’’او چپ کر…‘‘ بابا نے للکارا۔ ’’دھی رانی تُو کھانا کھا، گھر جیسے چل رہا ہے، چلنے دے۔ خوا مخواہ کا فساد۔‘‘ انہوں نے کہا۔
’’بابا! یہ تو میں نے بھارتی فلموں میں دیکھا تھا کہ مائیں غلاموں کی طرح کھڑی ہیں، شوہر، بچے اور سسرال والے کھانا کھا رہے ہیں۔ یہ ہندو رواج ہے، اسلام میں تو ماں کی بہت عزت ہے۔ ہم گھر والے ہی تو ہیں، بڑی پتیلیاں بھی دستر خوان پر رکھ کر کھانا کھا سکتے ہیں تاکہ بار بار نہ لانا پڑے۔‘‘ صبا نے نرمی سے تجویز پیش کی۔ مگر اس کا اثر یہ ہوا کہ چاروں بھائی کھانا چھوڑ کر اٹھ گئے۔ ’’تُو کھالے، بس کافی ہے۔‘‘ صبا کے بھائی عمران نے کہا۔
صبا نے محسوس کرلیا تھا کہ چاروں بھائیوں کا رویہ اس سے بہت خراب ہے۔ شاید یہ حسد تھا کہ صبا بہت پڑھی لکھی ہے، یا یہ حسد تھاکہ بابا کی بہت منہ چڑھی ہے، حتیٰ کہ تقریبات میں استعمال ہونے والا حویلی کا سب سے بڑا ہال بھی صبا کو گائوں کی عورتوں کو پڑھانے کے لیے دے دیا گیا تھا۔ ایک روز کھانے والے کمرے میں چاروں بھابھیاں بیٹھی تھیں، کوئی سبزی بنا رہی تھی، کوئی چاول چن رہی تھی۔ کھانا پکانے کی تیاری تھی۔ کھانا بھی اتنا پکتا کہ 30 کے قریب گھر والے اور 50 کے قریب مل ملا کر حویلی کے نوکر کھاتے۔ چاروں بہوئیں صبح سے شام تک پکاتی ہی رہتیں۔ حکم تھا کہ کھانا پکانے میں کسی نوکر کا ہاتھ استعمال نہ ہو، ورنہ کھانا پلید ہوجائے گا۔ کسی دن دعوت ہوتی تو گھر کے مرد مل کر دیگوں میں کھانا پکاتے۔ بہرحال صبا بھی جاکر بھابھیوں کے ساتھ بیٹھ گئی۔
’’بھابھی! آپ لوگ مجھ سے تھوڑا قرآن اور حساب کتاب سیکھ لو، بچیاں بھی اسکول نہیں جاتیں۔‘‘ اس نے کہا۔ چاروں بھابھیاں ایک دوسرے کی شکل دیکھنے لگیں۔
بڑی بھابھی صائمہ نے ایک گہرا سانس لیا، ’’تم نے پڑھ لیا نا، کافی ہے، ہم پڑھیں گے تو تمہارے بھائی سمجھیں گے کہ ہم بھی ان کے کنٹرول سے باہر نکل جائیں گے جیسے تم اپنی مرضی کی مالک ہو۔ اور ہماری تین بچیوں کو پیدا ہونے کی اجازت مل گئی، ہمارے لیے یہی بہت ہے، ورنہ جیسے ہی پتا چلتا ہے کہ لڑکی ہونے والی ہے، سب ختم۔‘‘ انہوں نے دھمی آواز میں کہا۔
صبا تاسف سے سر ہلا کر رہ گئی۔ ’’اور یہ بیس کلو پالک کاٹنا، 15 کلو آلو کاٹنا کوئی آسان کام ہے؟ کم از کم سبزی تو نوکروں سے کٹوا لیا کریں بھلے پکائیں خود، تاکہ ذائقہ بہترین آئے، یہ تو ظلم ہے۔‘‘ اس نے دکھ سے کہا۔
صائمہ بھابھی نے قہقہہ لگایا، ’’نوکر نیچ ہوتے ہیں، ان کے ہاتھ بھی پلید ہوتے ہیں، ہم ہیں نا غلام سب کرنے کے لیے۔‘‘ انہوں نے کہا۔
’’یہ کیا بات ہوئی! یہی میرے بھائی کراچی آتے ہیں تو ہوٹلوں میں کھانا کھاتے ہیں، وہاں کے پکانے والے نوکر کیا وڈیروں کے خاندان کے ہوتے ہیں؟ اسلام میں سب مسلمان بھائی بھائی ہوتے ہیں، کوئی نیچ نہیں ہوتا۔‘‘ صبا نے کہا۔
صائمہ بھابھی نے اثبات میں سر ہلایا، ’’ہم سب سمجھتے ہیں، مگر مَردوں کی کھوپڑی میں فرعونیت اتنی ہوتی ہے کہ اس کھوپڑی میں عقل کی جگہ نہیں بچتی، اور مرد بھی وہ جو وڈیرہ ہو۔ دھی رانی! یہ سندھ ہے، یہاں ہندو بہت ہیں، تو ان کے ساتھ رہتے رہتے ان کے رسم و رواج مسلمانوں میں حلول کرگئے ہیں، اب چھٹکارا مشکل ہے۔‘‘ انہوں نے کہا۔ ’’مرد ہو یا عورت، سب اللہ کے بندے ہیں اور عافیت اسی میں ہے کہ خود کو بندہ ہی سمجھا جائے، خدا نہیں۔ آخر بابا جانی بھی تو ہیں، کتنا پیار کرتے ہیں۔ آج بھی شریف چاچا پھل کاٹ کر کھلا رہے تھے انہیں۔‘‘ صبا نے جواب دیا۔
’’جائو بی بی! دل نہ جلائو ہمارا، تمہارا باپ تم سے پیار کرتا ہے، ہمارے لیے وہ بھی فرعون ہے۔‘‘ صائمہ بھابھی نے بے زاری سے جواب دیا۔ باقی تین بھابھیوں کے چہروں پر خوف پھیل گیا، مگر صائمہ بھابھی کے شاید اب تک سب ڈر ختم ہوگئے تھے۔ صبا بوجھل دل لیے اٹھ کھڑی ہوئی، وہ جانتی تھی کہ وہ اپنی بھابھیوں سے کبھی گل مل نہیں سکتی۔
بابا اپنے چاروں بیٹوں کے ساتھ اپنے کمرے میں بیٹھے ہوئے تھے، کچھ فصلوں کے متعلق بات چیت چل رہی تھی، صبا کمرے میں داخل ہوئی اور بآوازِ بلند سب کوسلام کیا اور بابا کے برابر جا کر بیٹھ گئی۔ بڑے بھائی کامران نے بڑے غصے سے اسے دیکھا۔ ’’دھی رانی! کیا بالکل ہی انگریز ہوگئی ہے، ہمارے تو پائوں چھوتی ہی نہیں تھی، اب بابا کے پائوں بھی چھونے چھوڑ دیے، اوپر سے سارے مردوں کے بیچ آکر بیٹھ گئی ہے، عورت ہے عورت بن کر رہ۔‘‘ اس نے کہا۔
صبا اپنے بھائی کے لہجے پر حیران رہ گئی۔ ’’کون سے مرد بھائی؟ کیا میں اپنے سگے باپ بھائیوں کے ساتھ بھی نہیں بیٹھ سکتی؟ کون سا گناہ کیا ہے میں نے؟ ہاں اللہ کے سوا کسی کے آگے جھکنا ضرور گناہ ہے، وہ نہیں کروں گی۔‘‘ وہ بولی۔
بابا نے قہقہہ لگایا۔ ’’او میں جھکا تھا اللہ کے سامنے، تو رب پاک نے مجھے صبا دی، یہ میرے آگے کیوں جھکے گی! یہ تو بابا کی جان ہے، بابا کے دل میں رہتی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا اور جیب سے دو لاکھ کی گڈیاں نکال کر بیٹی کے حوالے کردیں۔
’’بابا! ہم کماتے ہیں اور یہ اُڑاتی ہے، کوئی حساب تو رکھو کہ اسے مہینے میں کتنا دینا ہے؟‘‘ صبا کے بھائی غفران نے کہا۔ ’’زمینیں میری ہیں، صبا کا بھی حصہ ہے، اس کا حصہ دیتا ہوں، تُو چھوٹی بہن سے مقابلہ کرنا چاہتا ہے؟‘‘ بابا نے کہا۔
صبا بھائیوں کا رویہ دیکھ چکی تھی، بھابھیوں کی حالت بھی اس کے سامنے تھے، وہ جانتی تھی کہ آج اگر بابا کو کچھ ہوجائے تو بھائی اس کا بھرکس نکال دیں گے، ایک ایک ٹکے کو ترسنا پڑے گا، غلامی الگ کرنی پڑے گی، لہٰذا اس نے ہمت کرکے کہا ’’بابا! میرا جوحصہ بنتا ہے، وہ دے دیں، میں کراچی میں کاروبار کروںگی اور وہیں اپنے فلیٹ میں رہوں گی۔‘‘
چاروں بھائی سر جوڑ کر بیٹھے تھے۔ ’’ادا! ہم جتنا فساد کرسکتے تھے کرچکے، بابا نے بات نہیں ماننی، وہ تو زمینیں بیچ کر بھی صبا کا حصہ دینے کو تیار بیٹھے ہیں، حویلی بھی اس کے نام کرنا چاہتے ہیں، کراچی کا فلیٹ تو ہے ہی اس کے نام، پھر بابا کے جتنے اکائونٹ ہیں، ان کی وراثت میں بھی بابا نے صبا کا نام لکھوایا ہے۔‘‘ عمران نے کہا۔’’صحیح کہتے ہو، بہت چالاک ہے صبا، بھلا عورتیں بھی کاروبار کرتی ہیں! کیا کاروبار کرے گی یہ!‘‘کامران بولا۔ ’’کہہ رہی تھی کراچی میں کوچنگ سینٹر بہت چلتے ہیں، اپنی دوستوں کو ملا کر کوچنگ سینٹر کھولے گی۔‘‘ غفران نے کہا۔
سب سے چھوٹا بھائی وجدان اپنے بھائیوں سے متفق نہیں تھا۔ ’’ادا ہم سب تو مرد ہیں، کچھ بھی کرلیں گے، وہ لڑکی ذات ہے، کھیتی باڑی تو نہیں کرسکتی، اپنے حصے سے کاروبار کرنا چاہتی ہے، کرنے دو۔‘‘ اس نے جھجکتے ہوئے کہا۔
’’ارے حویلی اس کے نام ہوگئی تو ہم کہاں رہیں گے! ہماری ساری شان ہی حویلی سے ہے۔‘‘ کامران نے غصے سے کہا۔ ’’اب ایسا بھی نہیں ہے کہ وہ سب کو دھکے مار کر حویلی سے نکال دے، آپ پیار سے بات کرکے تو دیکھو۔‘‘ وجدان بولا۔ ’’میرے خیال میں واحد حل یہ ہے کہ اس کے منگیتر بہرام کو بلاکر اس کی شادی کردی جائے، بس جہیز دے کر ٹال دیں گے۔ پھر زمینیں، حویلی اور کراچی کا فلیٹ تو بچ ہی جائے گا، آج ہی بہرام کو بلاتا ہوں۔‘‘ عمران بولا۔
بہرام کو فون کیا گیا تو پتا چلا کہ وہ وہاں کسی انگریز عورت سے شادی کرچکا ہے اور اس کا واپس آنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ بہرام کے باپ سے بات کی تو وہ معافیاں مانگنے لگا اور اپنا بہرام سے بھی چھوٹا بیٹا صبا کے لیے پیش کردیا جو صرف 15 سال کا تھا، جب کہ صبا تقریباً 27 برس کی تھی۔ صبا نے شادی سے صاف انکار کردیا اور جائداد میں اپنا حصہ مزید پُرزور طریقے سے مانگنے لگی، اس نے کراچی سے ایک وکیل کو بھی بلا لیا تھا۔ بھائی سارے کے سارے غصے سے بے حال تھے، جہاں صبا کو دیکھتے ذلیل کرنا شروع کردیتے۔ بابا نے ایک کروڑ روپے صباکے اکائونٹ میں ٹرانسفر کردیے تھے کہ جاکر کراچی میں کاروبار شروع کرو، بعد میں اور پیسے بھیجوں گا۔ حویلی بھی صبا کے نام کرنے کی کارروائی جاری تھی۔ بابا کو ڈر تھا کہ ان کے بعد ان کے بیٹے صبا کو گھر سے نہ نکال دیں، اس لیے وہ حویلی صبا کے نام کرنا چاہتے تھے۔
چاروں بھائی مل کر پھر خفیہ میٹنگ کررہے تھے۔ ’’اگر صبا کل کراچی کے لیے نکل گئی تو ہم سب ہاتھ ملتے رہ جائیں گے۔‘‘ عمران نے کہا۔ ’’ہاں! پھر وہ قابو میں نہیں آنے کی، اس کا وکیل بھی آج کراچی چلا گیا ہے، بس آج کی رات ہے، جو کرنا ہے کرلو، ورنہ یہ سب لُوٹ کر لے جائے گی۔ وراثت کا قصہ تو بعد کی بات ہے، زندگی میں بابا جو کچھ اس کے نام کردیں گے وہ اسی کا ہے، وہ ہم وراثت کے طور پر واپس نہیں لے سکتے، کچھ کرنا پڑے گا۔‘‘ کامران بولا۔
وجدان جزبز تھا۔ ’’جب وہ شروع میں آئی تھی تو صرف پڑھائی لکھائی میں لگی رہتی تھی، کسی طرف دھیان نہیں تھا اس کا، آپ لوگوں کے خراب رویّے نے اسے مستقبل کی طرف سے خوف زدہ کردیا، اور وہ جائداد مانگنے لگی۔ ابھی بھی اسے پیار سے سمجھائو، بچی ہی تو ہے، مان جائے گی۔‘‘ اس نے سب سے کہا۔
مگر وجدان کی بات کسی نے نہیں سنی۔ پھر ایک انہونی ہوگئی۔ جس دن صبا کراچی کے لیے روانہ ہونے والی تھی اسی روز بابا اپنے کمرے میں مُردہ پائے گئے، خوب رونا پیٹنا شروع ہوگیا، آخری رسومات کی تیاریاں… صبا اپنی ماں کو اس وقت چھوڑ کر نہیں جاسکتی تھی۔ اس ہنگامے میں وہ فائل بھی غائب ہوگئی جس میں حویلی صبا کے نام کرنے کے کاغذات تھے۔ صبا ڈھونڈ ڈھونڈ کر پاگل ہوگئی۔
بابا کی وفات کو دو ہفتے ہوگئے تھے۔ آنا جانا، گہما گہمی اب تقریباً ختم ہوگئی تھی۔ اب صبا ماں کو لے کر روانہ ہونا چاہتی تھی کہ چاروں بھائی اس کے کمرے میں آئے اور اسے جانے سے منع کیا اور بتایا کہ کل صبا کی شادی ہے۔ صبا حیران پریشان سنتی رہی، پوچھا بھی کہ کس سے شادی ہورہی ہے؟ مگر جواب ندارد۔ اس کے کمرے کی کھڑکی، دروازوں کو باہر سے تالے ڈال دیے گئے۔ فون، کمپیوٹر اور ٹی وی چھین لیے گئے۔ شادی کا ایک جوڑا اور سفید رنگ کے 15 جوڑے فراہم کیے گئے۔ وہ حیران تھی کہ میں دلہن ہوں تو مجھے سفید رنگ کے جوڑے اتنے سارے کیوں دیے گئے؟ دوسرے دن سینکڑوں مہمانوں کی موجودگی میں اس کا نکاح قرآن سے کردیا گیا۔ بھائیوں کے چہروں پر طمانیت بھری مسکراہٹ تھی، صبا کی چیخیں اور سسکیاں ان کے کانوں میں رس گھول رہی تھیں، چاروں بھابھیوں نے لے کر اسے دوبارہ اس کے کمرے میں بند کردیا۔ اب اسے ساری عمر سفید کپڑے ہی پہننے تھے۔ گائوں کے دونوں اسکول بند کردیے گئے، کیوں کہ خطرہ تھا کہ لڑکیاں اگر پڑھ لکھ گئیں تو صبا کی طرح خودسر نہ ہوجائیں۔ ہر تھوڑے دن بعد مار پیٹ کر صبا سے کسی نہ کسی کاغذ یا چیک پر دستخط لے لیے جاتے تھے۔ اس کی ماں کو بھی اس سے ملنے کی اجازت نہ تھی۔
صبا اپنے کمرے میں اداس بیٹھی ہوئی تھی، سوائے ایک قرآن کے کوئی کتاب یا اخبار بھی فراہم نہیں کیا گیا تھا، صائمہ بھابھی کمرے میں داخل ہوئیں۔ چار بوریاں کمرے میں نوکروں نے رکھ دیں۔ ’’یہ15 کلو آلو، 15 کلو پیاز اور 15 کلو ٹماٹر ہیں، ساتھ میں 10 کلو بینگن ہیں، یہ سب کاٹ کر رکھ دینا، آج شام کی ہانڈی کے لیے چاہیے۔ تمہارا بھی وقت اچھا گزر جائے گا۔‘‘ انہوں نے بڑے پیار سے کہا۔
’’مگر میں اتنی سبزی کیسے بنائوں گی؟ بچیوں کو میرے پاس بھیج دیجیے، سب مل کر کرلیں گے۔‘‘ صبا نے کہا۔ صائمہ بھابھی کے چہرے پر مسکراہٹ ابھری، ’’دھی رانی! یہ تمہارے باپ کا بنایا ہوا اصول ہے کہ کھانے کی چیز کو نوکروں کے ہاتھ نہ لگیں، ورنہ تمہاری ماں کے زمانے میں تو شریف چچا آٹھ دس نوکر ساتھ لگا کر کھانا بناتے تھے۔ بہوئیں آئیں تو نیا اصول بنا۔ تمہارے باپ کا اصول تم ہی بھگتو گی، ہماری بچیاں نہیں۔‘‘ انہوں نے کہا۔ صبا سکتے میں آگئی۔
آج صبا 65 سال کی ہوچکی ہے، حویلی کی آبادی اب 150 نفوس پر مشتمل ہے، سب کو پتا ہے کہ اس کمرے سے سبزیاں کٹ کر آتی ہیں، مگرموجودہ بچے یہ نہیں جانتے کہ اس کمرے میں کون ہے۔ اسی کمرے میں اب صباکی تین بھتیجیاں رہتی ہیں، کیوں کہ ان کے حصے کی جائداد کھانے کے لیے ان کے بھائیوں نے بھی ان کی شادی قرآن سے کردی ہے۔ چاروں یہی سوچتی رہتی ہیں کہ ’’اسلام میں خودکشی کیوں حرام ہے…؟‘‘

حصہ