بندریا شہزادی

88

اِدھر وزیر اعظم کا تجسس تھا کہ بڑھتا ہی جارہا تھا۔ گھر کی کئی بااعتماد کنیزوں کو جاسوسی پر لگایا کہ وہ اس بات کا کھوج لگائیں کہ بندریا زندہ بھی ہے یا مرگئی۔ کیا وجہ ہے کہ شہزادہ ہر وقت خوش و خرم رہتا ہے۔ کئی دنوں کی جاسوسی کے بعد وزیر اعظم کو یہ بتایا گیا کہ جس کمرے میں بندریا رہتی ہے اس میں کوئی روشندان تک کھلا نہیں رکھا جاتا اور شہزادہ جب صبح بیدار ہوکر کمرے سے نکلتا ہے تو بہت ہی خاص تالا دروازے پر لگا دیا جاتا ہے اور تالا لگانے کا کام شہزادہ خود ہی کرتا ہے۔ یہ اطلاع وزیر اعظم کیلئے بہت ہی حیران کن تھی۔ اس نے کہا کہ کیا بندریا زندہ بھی ہے یا نہیں تو کنیزوں نے بتایا کہ وہ زندہ ہی لگتی ہے اس لئے کہ شہزادے کے جانے کے بعد اکثر اس کے کمرے سے بندریا کے خیں خیں کرنے کی آوازیں آیا کرتی ہیں۔
جتنے دن گزرتے گئے وزیر اعظم کا تجسس اور بے قراری بڑھتی گئی۔ ایک دن اس نے فیصلہ کیا کہ وہ خود حالات کا جائزہ لیگا۔
ایک دن اسے کمرے کے پاس ہی اچھی طرح چھپنے کا موقع مل گیا۔ آج شہزادہ بھی امور مملکت میں اتنا زیادہ مصروف رہا کہ معمول سے کچھ زیادہ ہی دیر ہو گئی۔ دیر ہوجانے کی وجہ سے شاید شہزادی بھی پریشان رہی۔ درباری کام سے فارغ ہوکر جب شہزادہ بہت تھکا ہوا لوٹا تو وہ اس بات پر دھیان ہی نہ دے سکا کہ کمرے کے دروازے کے قریب رکھی الماری دیوار سے کافی آگے کیسے آگئی۔ اسی الماری کے پیچھے وزیراعظم چھپا ہوا تھا لیکن شہزادہ اپنی شہزادی سے ملنے کیلئے بہت ہی بے چین تھا اس لئے کہ شادی کے دن سے لیکر آج تک وہ کبھی شہزادی سے اتنی دیر تک دور ہی نہیں رہا تھا۔ یہی کیفیت شاید شہزادی کی بھی رہی ہوگی۔ وہ شہزادے کے انتظار میں دروازے سے لگی ہی کھڑی تھی۔ جیسے ہی شہزادے نے تالا کھولا شہزادی بڑی بے قراری کے عالم میں دروازے سے باہر نکل آئی۔ جیسے ہی حور جیسی شہزادی انسانی روپ میں باہر نکلی، اس کے حسن کو دیکھ کر وزیراعظم کے منہ سے بھی فرط حیرت سے چیخ نکل گئی۔ جیسے ہی شہزادی کی نظریں وزیراعظم سے چار ہوئیں ایک چھماکا سا ہوا اور شہزادی دیکھتے ہی دیکھتے ہوا میں تحلیل ہوکر نگاہوں کے سامنے غائب ہو گئی۔ شہزادے نے وزیر اعظم کو اسی وقت گریبان سے پکڑا اور اپنے والد (بادشاہ) کے حوالے کیا۔ بادشاہ کو ساری حقیقت بتائی اور اجازت چاہی کہ وہ اپنی شہزادی کی جان بچانے کیلئے جائے۔ بادشاہ نے وزیر اعظم کو تو جیل بھجوادیا، اس کے بیٹے کو بھی گرفتار کر لیا تاکہ کوئی فتنہ جنم نہ لے سکے اور شہزادے سے کہا کہ تم سے جو کچھ بن پڑسکے ضرور کرو۔ اللہ تمہارا حامی و ناصر ہو۔
بندریا شہزادی اسے پہلے ہی ساری باتیں بتاچکی تھی اور اس جزیرے کے متعلق بھی بتادیا تھا جس پر جن کا قبضہ تھا لیکن وہاں تک پہنچنا اور پھر جن کی پْراسرار طاقت کا مقابلہ کرنا ایک بہت بڑا مرحلہ اور جان جوکھوں کا کام تھا۔ جن کے ہر قسم کے حملے سے بچنے کیلئے ضروری تھا کہ کوئی پیر کامل یا تو اس کو ایسے وظیفے سکھائے جس کو پڑھنے سے وہ جنوں کے اثر سے محفوظ رہ سکے یا ایسے ہنر سکھادے جس کی مدد سے وہ ہر قسم کے جنوں سے مقابلہ کر سکے۔ محل سے روانہ ہونے سے پہلے اس نے اس معاملے کے ہر پہلو کے متعلق بہت سوچ بچار کیا، ہر قسم کا سفری سامان جمع کیا اور یہی فیصلہ کیا کہ اس ملک کے وہ بزرگ جس کا ذکر بندریا شہزادی نے اس سے کیا تھا، ان سے ضرور ملے اور ان سے ہدایات لے کر کوئی مناسب فیصلہ کرے۔
وہ بزرگ اسی جنگل کے اختتام پر جس میں شہزادے کا تیر جاکر ایک درخت میں پیوست ہو گیا تھا، پہاڑ کے ایک دامن کے غار میں محو عبادت رہا کرتے تھے۔ شہزادہ اس جنگل سے گزرتا ہوا پہاڑ کے دامن میں بنے اس غار کے قریب پہنچا تو دیکھا کہ ایک بزرگ شخصیت غار کے باہر چہل قدمی کر رہی ہے۔ ہاتھ میں ایک بڑی ساری تسبیح ہے اور چہل قدمی کے دوران کچھ ذکر کئے جارہی ہے۔ شہزادہ غار کے قریب جاکر رک گیا۔ بزرگ جو ٹہلتے ٹہلتے غار سے کافی آگے نکل گئے تھے جب لوٹے تو ان کی نظر شہزادے پر پڑی۔ شہزادے کا خیال تھا کہ بزرگ اس کو پہچانتے نہیں ہونگے کہ وہ اس ملک کا شہزادہ ہے یا کوئی عام شہری، لیکن وہ اس وقت بہت حیران ہوا جب بزرگ نے کہا کہ آؤ آؤ شہزادے ہم تمہارا ہی انتظار کر رہے تھے۔ ہم جب کسی کا انتظار کر رہے ہوں تو اپنی روایتی عبادت چھوڑ کر اسی طرح ٹہلتے ہیں تاکہ آنے والا ہمیں غار کے اندر ہی تلاش کرتا نہ رہ جائے۔ یہ کہہ کر انھوں نے شہزادے کا ہاتھ پکڑا اور اسے غار کے اندر لے گئے۔ غار کیا تھا بہت وسیع و عریض عمارت کی طرح پھیلا ہوا تھا۔ اندر داخل ہونے کے بعد شہزادہ حیران رہ گیا کہ اس میں کئی اور راستے بھی ہیں اور ہر راستے پر کئی کئی کمروں والے مکانات بھی بنے ہوئے ہیں۔ سب سے حیرتناک بات یہ تھی کہ غار میں ہر جانب روشنی تھی لیکن یہ اندازہ نہیں ہو پا رہا تھا کہ روشنی کس منبع سے آرہی ہے۔ منبع اس چشمے کو کہتے ہیں جہاں سے روشنی پھوٹ رہی ہو جیسے سورج، چاند، کوئی دیا، موم بتی، لال ٹین یا بلب کی روشنی۔ جب بھی آپ کسی روشنی میں جائیں گے، آپ کو لازماً معلوم ہو جائے گا کہ جس روشنی میں آپ موجود ہیں یا کھڑے ہیں وہ کہاں سے اور کس سے پھوٹ رہی ہے لیکن شہزادہ حیران تھا کہ غار کا ہر راستہ اور اس میں بنا ہر کمرہ روشن تو ضرور تھا لیکن اس کے باوجود بھی اس بات کا علم ہی نہیں ہوپا رہا تھا کہ روشنی کا منبع کیا ہے۔ وہ بزرگ کے ساتھ ساتھ چلتا ہوا ایک ایسے کمرے میں داخل ہوا جو بزرگ کی عبادت کیلئے مختص تھا۔ ایک بہت بڑا سارا بوریا بچھا ہوا تھا جس پر بزرگ بیٹھ گئے اور شہزادے کو بھی اشارے سے بیٹھنے کو کہا۔ شہزادہ ان کے قریب دوزانو ہو کر بیٹھ گیا۔ بزرگ آنکھیں بند کئے کافی دیر تک کچھ پڑھنے میں مشغول رہے پھر آنکھیں کھول کر انھوں نے شہزادے سے کہا کہ مجھے معلوم ہے تم یہاں کیوں آئے ہو۔ میں ملک کے موجودہ بادشاہ سے بہت خوش ہوں کہ وہ اپنی رعایا کا بہت خیال رکھتے ہیں اور ملک کا بچہ بچہ ان سے خوش ہے۔ ہر مذہب انسانیت کا درس دیتا ہے اور انسانوں کی خدمت کرنے کو کہتا ہے۔ سچ پوچھو تو وہ مجھ سے بھی بڑے ولی ہیں کہ لاکھوں انسانوں کا خیال رکھتے ہیں۔ تم جس مہم پر نکلے ہو اس کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں لیکن اگر تم نے حوصلہ نہیں ہارا اور ہر قسم کی مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا تو کامیابی تمہارے قدم چومے گی۔ درست راستے کی نشاندہی میرا فرض ہے لیکن مسافر کو راہ کی ساری مشکلات کا مقابلہ خود ہی کرنا پڑتا ہے۔ کئی سمندر پار کرنے کے سلسلے میں جو جو وسائل تم کو درکار ہیں وہ مختلف ذرائع سے تم کو حاصل ہوتے رہیں گے اس لئے کہ راستے میں جتنے بھی اہم شخصیات ہیں وہ سب میری مرید ہیں۔ میں ایک مخصوص چھڑی تم کو دیدوں گا جس کی مدد سے تم راہ کی ہر رکاوٹ کو دور بھی کرتے جاؤ گے اور جو جو زیارت تمہاری راہ میں آئے گی وہاں کے مجاور تم کو نہ صرف پہچانتے جائیں گے بلکہ تمارے آرام کا خیال بھی رکھیں گے۔ کچھ وظیفے بھی تم کو یاد کرنا ضروری ہیں جن کی وجہ سے تمہارا دل ہر قسم کے خوف و خطر سے آزاد رہے گا۔ اس لئے کچھ دن تو تمہیں میرے پاس ہی رہنا ہوگا تاکہ تم سارے وظیفے یاد کر سکو۔
شہزادے کو آرام اور عبادت کیلئے جو کمرہ دیا گیا وہ عام سا کمرہ ضرور تھا لیکن وظیفے یاد کرتے کرتے جس طرح سکون کی نیند اسے آئی وہ اپنی محل میں بھی کبھی نہیں آئی تھی۔ چار دن کے اندر ہی اندر اس نے سارے وظیفے یاد کر لئے تو بزرگ نے اسے راستوں کی مکمل تفصیل سے آگاہ کیا۔ چھڑی اس کے حوالے کی اور کہا کہ جب تمہارا سمندری سفر شروع ہوگا تو ٹھیک تیسرے جزیرے پر ایک اور بزرگ کے پاس تمہیں جانا ہوگا۔ وہاں تک کی رسائی سے آگے نہ تو میرے وظیفے تمہارے کام آئیں گے اور نہ ہی جنوں سے نمٹنے کے ہنر مجھے آتے ہیں لیکن ان بزرگ کے پاس جنوں سے مقابلے کے سارے گر موجود ہیں۔ تمہاری ہمت اور جرات اور میرے وظیفے بس وہیں تک کے ہیں۔ جس جزیرے میں ان بزرگ کا ڈیرہ ہے وہ بہت وسیع ہے اس لئے وہاں پہنچ کر تمہیں ایک کام یہ بھی کرنا ہے کہ ایک گیند پر اس چھڑی کی ضرب لگانی ہوگی پھر گیند جس سمت بھی جائے اس کے پیچھے پیچھے جانا ہوگا۔ وہ گیند خود بخود تمہیں بزرگ تک لے جائے گی۔ یہ کہہ کر بزرگ نے ایک عجیب و غریب گیند اس کے حوالے کی جس کو ہاتھ میں پکڑ نے پر شہزادے کو ایسا لگا جیسے پانی کے بلبلے سے بھی کوئی ہلکی شے اس نے ہاتھ میں لے لی ہو جبکہ گیند کو دبانے پر اس نے اسے بہت سخت اور ٹھوس پایا۔ بزرگ نے شہزادے کو رخصت کرتے ہوئے ڈھیروں دعائیں دیں اور کہا کہ بالکل بے فکر ہو کر جاؤ، میرا بزرگ سے روحانی رابطہ ہو چکا ہے اور وہ تمہارے منتظر رہیں گے۔
شہزادہ چھڑی ہاتھ میں لئے بزرگ کے بتائے ہوئے راستے پر گامزن رہا۔ اس کے سامنے چھڑی کی کرامات بھی آتی رہیں۔ ہوا یوں کہ ایک گھنے جنگل میں سے گزرتے ہوئے اس نے دیکھا کہ ایک بہت خوفناک اور بہت ہی بڑا اژدہا اس کا راستہ روکے کھڑا ہے۔ اس نے زندگی میں اتنا خوفناک اور بڑا اژدہا کبھی کہانیوں میں بھی نہیں پڑھا تھا۔ اس کے منھ سے آگ کے شعلے بھی نکل رہے تھے اور وہ بہت غضبناک آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔ شہزادہ انسان ہی تو تھا اس لئے اس کا ڈرجانا بجا تھا۔ خوف کی ایک لہر اس کے بدن میں دوڑ گئی تھی۔ اس سے پہلے کہ کہ وہ اپنے ہوش و حواس کھودیتا، اسے بزرگ کی دی ہوئی چھڑی کا خیال آیا۔ اس نے چھڑی کو مضبوطی سے تھاما اور اس کو اژدھے کی جانب کرتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھا۔ اسے حیرت ہوئی کہ پہلے تو اژدھے کے منہ سے نکلنے والے شعلے بند ہوئے پھر اس کا سر آہستہ آہستہ زمین سے جا لگا اور وہ راستہ چھوڑ کر جنگل میں غائب ہو گیا۔ شہزادہ سمجھ گیا کہ عنایت کی ہوئی چھڑی اسے ہر قسم کی آفات، موزی جانوروں، حشرات اور درندوں سے محفوظ رکھنے کیلئے ہی دی گئی ہوگی۔ اب شہزادے کو کا حوصلہ و ہمت بڑھ چکی تھی۔ (جاری ہے)۔

حصہ