اس حمام میں۔۔۔۔

155

ڈاکٹر میمونہ حمزہ
یہ 1990ء کی دہائی کے آغاز کی بات ہے، ہمیں آزاد کشمیر کے دارالحکومت سے پاکستان کے دارالحکومت میں آنا پڑا، بالکل ایسے ہی جیسے ایک دریا کی مچھلی جب سفر کرتے کرتے سمندر کی حدود میںداخل ہوجائے تو سب کچھ نیا نیا اور بہت اچھا لگتا ہے۔ ہم نے سامان کنارے لگایا تو معلوم ہوا کہ ہماری چھوٹی بہن اسلام آباد کے کالج میں ایم اے میں داخلہ لے رہی ہیں۔ ایم اے عربی تو ہمارا خواب تھا، جو بی اے کی تعلیم کے دوران شادی کے سبب ادھورا رہ گیا تھا، اس دوران ہم ایم اے اسلامیات کرچکے تھے، مگر عربی سے ابتدائی محبت اور تعلق نے پرانی خواہشوں کو پھر زندہ کردیا۔ ہمارے میاں صاحب نے آگے بڑھ کر شوق کی تکمیل میں تعاون کا عندیہ دیا تو ہم بھاگم بھاگ ’’اسلام آباد‘‘ کے ایک نامی گرامی پوسٹ گریجویٹ کالج پہنچ گئے، داخلہ فارم لیا، ٹیسٹ دیا اور لیجیے ہمارا اور چھوٹی بہن دونوں ہی کا داخلہ ہوگیا۔
ہماری بہن تو بی اے میں نمایاں کامیابی حاصل کرکے آئی تھیں اور ماشاء اللہ خوب پڑھاکو تھیں، اساتذہ کے ہر لفظ کو غور سے سننا اور اسے پلے باندھ لینا، اور پھر خوب مشق کرنا ان کی ترجیح ہوتی۔ جبکہ ہم تین بچیوں اور ساس صاحبہ کے ساتھ رہتے ہوئے پڑھائی میں گھسٹ رہے تھے۔ میاں صاحب کالج کا راستہ دکھاکر اپنی ڈیوٹی پر جا چکے تھے، اور کچھ مہینوں بعد بیرونِ ملک سدھارے تھے، جہاں انہیں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا تھی۔ کبھی کوئی بچہ بیمار ہوجاتا اور کبھی ساس صاحبہ… اور ہماری چھٹیوں کا سلسلہ دراز ہوجاتا، اور جب ہم کالج پہنچتے تو عربی سے انتہائی محبت کے باوجود اجنبی حروف اور قواعد اور صرف و نحو کے مسائل ہمیں گڑبڑا دیتے۔ ہم کلاس کے وقفوں میں نوٹس پورے کرتے۔ اساتذہ ہم پر کافی مہربان تھیں، اس حوالے سے کہ ہماری چھٹی کی درخواست’’ بلا مین میخ‘‘ قبول ہوجاتی، کلاس میں واحد ’’ماں‘‘ ہونے کی وجہ سے بھی ہمیں کافی پروٹوکول ملتا۔
اسی طرح عربی کے پیچھے بھاگتے ہمارا تعلیمی سال گزر گیا۔ اب امتحان کی تیاری کی چھٹیاں تھیں، اور پھر امتحان!! ہم نے ساری کتابیں، نوٹس اور ادھورے ہوم ورک تھامے اور اپنی چھوٹی بہن کے پاس جا پہنچے، تاکہ سارا نصاب تو تسلی سے دیکھ لیں۔ اور جب دونوں نے اپنے اوراق کا تقابلی جائزہ لیا تو ہاتھوں کے توتے اڑ گئے، ہمارے پاس ایک تہائی نصاب بھی نہ تھا۔ ہماری بہن نے تسلی دی کہ وہ تیاری میں ہمیں بھرپور مدد دیں گی، اور ہم ان سے تسلی پا گئے۔ اگلے روز سے تیاری شروع ہوگئی۔ ہم گھر کے کام کاج نمٹا کر کمرہ بند کرکے پڑھائی شروع کرتے، تو ایک دو تین کرکے ہماری تینوں بیٹیاں یکے بعد دیگرے پہنچ جاتیں، اور پڑھائی کا سلسلہ عارضی طور پر موقوف ہوتا تو کئی گھنٹے اسی طرح گزر جاتے۔ ان حالات کو دیکھ کر بہنا نے مشورہ دیا کہ ہم امتحان میں شامل ہونے کا خیال ترک کردیں۔ ایک اے کلاس اسٹوڈنٹ کے لیے یہ تصور بھی مشکل تھا کہ ان کے گھر سے آنے والی دوسری بہن ناکامی کا سامناکرے۔ جب کہ ہمارا خیال تھا کہ جب اتنے مراحل طے کرلیے ہیں تو امتحان بھی دے ہی دیتے ہیں، شاید پاس ہو ہی جائیں، ورنہ ایک ایم اے کی ڈگری تو ہے ہمارے پاس! ہمارے اتنے ٹھنڈے رویّے پر بہن صاحبہ نے ہمیں ہمارے حال پر چھوڑا اور خود اپنا ٹارگٹ حاصل کرنے میں جت گئیں۔ ہم تھوڑا سا پڑھ کر اُن سے ڈسکشن کرتے تو ہنس کر اتنا ہی پوچھتیں کہ بس ابھی اتنا ہی پڑھا ہے! اور ہم دھیمے سے مسکرا دیتے۔
امتحان کی ڈیٹ شیٹ آئی تو ہم نے پاس ہونے کی آخری کوشش کے طور پر اپنا شیڈول دوبارہ مرتب کیا، اور تیاری شروع کردی۔ ابھی ہمیں سنجیدہ ہوئے دوسرا ہی دن تھا کہ ہماری جیٹھانی صاحبہ کا فون آگیا کہ وہ تین دن کے لیے بچوں کے ہمراہ ہمارے پاس آرہی ہیں، اور ’’اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی‘‘۔
جیٹھانی کی خاطر مدارات کے بعد ہم نے کتابوں سے دوبارہ گرد جھاڑی، ہماری بہنا نے دروازے سے جھانکا اور ہم سے ایک مرتبہ پھر ہمارا ارادہ پوچھا۔ ہم نے اسی عزم سے کہا: ’’امتحان تو دینا ہی ہے، آخر فیس بھری ہے، اتنے دن کالج کی سیر کی ہے، بس اللہ سے رحم مانگا ہے۔‘‘
امتحان والے دن ہماری حالت یہ تھی کہ اللہ کا نام لے کر قرعہ اندازی یا فال کے انداز میں جو صفحہ کھل رہا تھا اسے دہرا رہے تھے، ساتھ ساتھ بہنا سے مدد بھی لے رہے تھے جو وہ بڑی فراخی سے دے رہی تھیں۔ امتحانی ہال سے باہر میدان ِ حشر سے کچھ پہلے کا منظر تھا، کسی کو کسی کا کچھ ہوش نہ تھا، اور ہم سے تو باقی کلاس فیلوز نے بڑا رسمی سا سلام کیا، البتہ دو دو تین تین کی ٹولیوں میں باقی طالبات اجتماعی مطالعے میں مصروف تھیں۔ فلاں سوال دیکھا، اس کا کیا مطلب ہے؟ اور وہ فلاں قاعدہ؟ اور اس دوران کچھ آنکھوں میں اشارے بھی، جو ہماری سمجھ میں نہ آئے۔ امتحان میں بیٹھے، پرچہ سامنے آیا تو حیرت کی انتہا نہ رہی، وہ سب کچھ جو اتفاقیہ طور پر یاد کیا تھا، اکثر و بیشتر پرچے میں موجود تھا۔ پرچہ کرکے باہر نکلے تو ہماری کلاس پھر ہم سے اجنبی تھی، ہم نے اس بات پر زیادہ توجہ نہ دی، اور سب ہی طالبات گھروں کو سدھاریں۔
اگلے دو تین پرچوں میں کلاس کی آپس کی دوستی اور تعلق داری عروج پر تھی، وہ نجانے کیوں ہم دونوں سے نالاں ہورہی تھیں، ہم قریب جاتے تو ان کی گفتگو کبھی دھیمی ہوجاتی اور کبھی مکمل خاموشی، مگر امتحان کا ’’ہوّا‘‘ اتنا شدید تھا کہ ہم کسی سے گلہ بھی نہ کرسکے، البتہ کلاس کی ایک لڑکی بہن سے کافی رہنمائی لیتی رہتی، حالانکہ کالج میں وہ بھی ہم سے الگ ہی رہتی۔
ہم چوتھا پرچہ دے کر واپس آئے تو بہن نے حیرت سے کہا ’’پتا نہیں کیا بات ہے، کلاس کی لڑکیاں جو سوالات آخری وقت میں دہرا رہی ہوتی ہیں وہی سب امتحان میں آجاتے ہیں، اور میں تو تھوڑا سا کورس بھی چھوڑ دوں تو اس حصّے سے سوال موجود ہوتا ہے پرچے میں!‘‘
اس رات اسی طالبہ کا فون آگیا جو بہن سے مدد لیتی تھی، اور فون کا دورانیہ طویل سے طویل تر ہوتا گیا، یہاں تک کہ قریب سے گزرتے ہوئے مجھے بہن کی سسکیوں کی آواز سنائی دی، اس کے ہاتھ تیزی سے چل رہے تھے، اور وہ کاغذ پر کچھ نوٹ کررہی تھی۔ یاالٰہی کیا ماجرا ہے! ہم فون مکمل ہونے کا انتظار کررہے تھے، بہن نے روتے ہوئے بتایا کہ تمام کلاس کے پاس تمام پرچوں کے سوالات پہلے سے موجود ہیں، بلکہ انہیں یہ سوالات تقریباً ایک ماہ پہلے مل چکے تھے، اور یہ طالبہ وقتاً فوقتاً رہنمائی کے نام پر بہن سے اس معاملے میں مدد بھی لیتی رہی ہے، لیکن آج اس کا ’’ضمیر‘‘ جاگ اٹھا ہے، ’’میں آپ کو مزید دھوکا نہیں دے سکتی، پوری کلاس تو محض چند سوالات کی تیاری کرتی ہے اور آپ پورا کورس پڑھتی ہیں، بس میں مزید برداشت نہیں کرسکی۔‘‘
اور جب بہن نے اسے مزید کریدا تو اس نے بتایا کہ آپ دونوں ’’اسلامی جمعیت طالبات‘‘ سے تعلق رکھتی ہیں اسی لیے آپ کو اس دھوکے میں شریک نہیں کیا گیا، کیونکہ پرچہ سب کو فراہم کرنے والی طالبات کی رائے یہی تھی کہ اگر آپ کو اس کی بھنک بھی پڑ گئی تو آپ اس دھوکے کو افشا کردیں گی، اور سب کو ہاتھ آئی نعمتِ غیر مترقبہ سے محروم ہونا پڑے گا۔
اس سب قصّے میں جہاں ہماری رنج، غصے اور افسوس سے بری حالت تھی، وہاں یہ بات اندر تک سرشار کررہی تھی کہ جمعیت کے بارے میں کیا خوبصورت تصور ہے عام طالبات کا! انہیں کتنا یقین تھا کہ ہم اس دھوکے میں شریک نہ ہوں گی، اور اس بات کا بھی کہ ہم اس جھوٹ کا پردہ فاش کردیں گی۔
جی ہاں دوسرا کام ابھی باقی تھا، بہنا نے پانچویں پرچے کے سوالات لکھ لیے تھے، اور اس طالبہ کے اصرار پر بھی اسے یقین دہانی نہ کروائی تھی کہ وہ اب کچھ نہ کرے گی۔ برستی آنکھوں سے ’’یو ایم ایس‘‘ خط تیار کیا گیا، جس میں پانچویں پرچے کے سوالات اور ایک الگ کاغذ پر کنٹرولر امتحانات کو درخواست بھجوائی گئی، کہ یہ پرچہ آئوٹ ہوچکا ہے، اگر یہی پرچہ امتحان میں آرہا ہے تو اسے کینسل کیا جائے۔ ہمارے بہنوئی صاحب نے اپنے ایک لائق اور ہونہار شاگرد سے فون پر بات کی، اُسے مسئلہ سمجھایا اور خط اُس کے نام پوسٹ کیا گیا کہ وہ جاکر دستی طور پر کنٹرولر امتحانات کو تھمائے، تاکہ انہیں معلوم ہو کہ ان کی ناک کے نیچے کیا بددیانتی ہورہی ہے۔ اور پرچہ کینسل ہوجائے۔ تین یا چار دن بعد پرچہ تھا، اور جب ہم کمرۂ امتحان میں پہنچے تو ہو بہو اسی پرچے کو اپنے سامنے دیکھ کر ہم حیران تھے، ہمارے اتنے فوری اقدام کا بھی کوئی اثر نہ ہوا تھا۔ ہم نے افسوس سے اور ہماری بہنا نے سسکتے ہوئے پرچہ حل کیا، بہنوئی صاحب کو بتایا تو انہوں نے شاگرد سے رابطہ کیا، مگر دوسری جانب کسی نے فون کال اٹینڈ نہ کی، پھر پتا چلا کہ وہ’’ہونہار شاگرد ِ رشید‘‘خود بھی ایک ڈپارٹمنٹ میں ایم اے کے پیپر دے رہا تھا۔
ہم نے آخری چارہ کے طور پر اپنی اساتذہ سے رابطہ کیا، کچھ نے سسٹم کے مقابلے میں بے بسی کا اظہار کیا، ایک جرأت مند پروفیسر نے ہیڈ آف دی ڈپارٹمنٹ تک بات پہنچائی، تو ان کا جواب بڑا مختصر اور علم کی جڑیں کھوکھلی کرنے والا تھا:
’’ہماری یہی خواہش ہوتی ہے کہ ہماری طالبات ٹاپ پوزیشنز حاصل کریں، وہ کیسے حاصل کرتی ہیں، یہ ہمارا دردِ سر نہیں!!‘‘۔یعنی آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا تھا۔
اور جب نتیجہ آیا تو انہی کی ایک طالبہ یونیورسٹی میں چوتھے نمبر پر آئی تھی، جو یقینا کالج کے لیے ایک اعزاز تھا، اور دوسرے نمبر پر ہماری بہنا تھی، اور تیسرے نمبر پر ہم!!۔
نقل کے لیے کچھ عقل بھی چاہیے تھی ناں، جو کلاس میں صرف ایک طالبہ ثابت کرسکی!!۔

ظلم بچے جَن رہا ہے کوچہ و بازار میں
عدل کو بھی صاحبِ اولاد ہونا چاہیے

حصہ