اردو ناول نگاری میں خواتین کا کردار بہت اہم ہے‘ ڈاکٹر نادیہ راحیل

74

طبقہئ نسواں کسی بھی معاشرے کا اہم جزو ہے اور کوئی بھی معاشرہ اس وقت تک مہذب نہیں ہوسکتا جب تک اس معاشرہ کا نسوانی طبقہ تعلیم و تربیت سے آشنا نہ ہو۔ یعنی خواتین کی تعلیم معاشرتی ترقی کے لیے ناگزیر ہے اسی مقصد کے تحت ڈپٹی نذیر احمد نے 1869ء میں ”مراۃ العروس“ کے نام سے ایک ناول لکھا جس میں تعلیم یافتہ اور غیر تعلیم یافتہ خواتین کے تقابلی جائزے سے تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔ نذیر احمد کے بعد دیگر لکھنے والوں نے بھی اسی مقصد کے تحت ناول لکھے۔ ابتدا میں اردو ادب پر مردوں کی حاکمیت رہی لہٰذا خواتین نے اس میدان میں ذرا بعد میں قدم جمائے۔ رشیدہ النساء نے1881ء ”اصلاح النساء“ کے نام سے ایک ناول لکھا اس کا مقصد ہندوستانی خواتین اور بچیوں کی علمی‘ اخلاقی‘ ذہنی‘ معاشرتی اور مذہبی تربیت تھی تاکہ توہمات کا شکار خواتین کی اصلاح ہو سکے۔ یہ ناول خالص گھریلو زبان‘ الفاظ‘ محاوروں پر مشتمل ہے۔ رشیدہ نے خواتین کے مسائل کو خواتین کی زبان میں بیان کیا۔ رشیدہ النساء کی ایک ہم عصر محمدی بیگم نے تین ناول لکھے ”صفیہ بیگم“، ”آج کل“ اور ”شریف بیٹی“ ان میں خواتین کی اصلاح کے ساتھ ساتھ خواتین کے حقوق کی بات بھی کی گئی ہے‘ وہ حقوق جو مذہب اسلام خواتین کو دیتا ہے لیکن ہندو معاشرے کے زیر اثر ہم اس کو فراموش کر گئے تھے۔ خاندانی روایت اور غلط رسموں میں لڑکیوں کو قربان کرنے کے خلاف آواز اٹھائی گئی ہے ان ناولوں کی زبان صاف اور تعلیم یافتہ گھرانوں کی زبان تھی‘ ان کے علاوہ دیگر لکھنے والوں میں ا۔ض۔ بیگم‘ عباسی بیگم‘ حمیدہ سلطان‘ صغریٰ ہمایوں‘ طیبہ بیگم‘ ضیابانو‘ بیگم شاہنواز‘ تراب علی سدید وغیرہ کا نام آتا ہے جنہوں نے مجموعی طور پر خواتین کی اصلاح اور تعلیم کی غرض سے ناول لکھے اس کے لیے اصلاح معاشرہ‘ فرسودہ رسومات کا خاتمہ‘ معاشرتی پابندیاں‘ شادی کی آزادی‘ اولاد کی تربیت جیسے مسائل کو ناول کا حصہ بنایا ساتھ ہی جدید تعلیم کی خوبیاں بھی بیان کیں۔ ان ناولوں میں اُس عہد کی بھرپور تصویر کشی ملتی ہے رسومات کا تفصیلی بیان ملتا ہے ساتھ ہی اچھی اور بری رائے کا اظہار ملتا ہے یہ ناول قدیم اور جدید آمیزش کے آئینہ دار ہیں جس میں آزادیئ نسواں کی دبی دبی خواہش ہے اور تعلیم نسواں کے مثبت پہلو بھی۔
خواتین ناول نگار میں ایک اہم نام اکبری بیگم کا ہے‘ انہوں نے ”گلدستہ محبت“، ”عفتِ نسواں“، شعلوہ پنہاں“ اور ”گودڑ کا لال“ بھی لکھے۔ ان کی کتاب اشاعت کے فوری بعد شہرت کے عروج کو پہنچ گئی۔ بقول قراۃ العین حیدر یہ لڑکیوں کو جہیز میں دی جانے لگی۔ یہ ایک ترقی یافتہ ناول ہے اس میں آزادیئ نسواں کا تصور کھل کر بیان کیا گیا ہے۔ لڑکیوں کی مخلوط تعلیم کا تصور دیا گیا ہے اور پردے کے خلاف آواز اٹھائی گئی ہے۔ اُس عہد کے متوسط اور اعلیٰ متوسط مسلمان گھرانوں میں خواتین کو درپیش تقریباً تمام مسائل کو پیش کیا گیا ہے اور ان برائیوں کی نشان دہی کی گئی ہے جو معاشرے میں خرابی کا باعث بنتے ہیں۔ مثبت اور منفی رویوں کے تقابلی جائزے سے گھریلو فضا کو بیان کیا‘ کثرت ازواج کے مسئلے کو قران و حدیث کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے۔ ”گودڑ کا لال“ اپنے موضوع اور فنی تکنیک کے حوالے سے اردو ادب میں اہم مقام رکھتا ہے۔ فاطمہ بیگم اور تراب علی سدید کے ناولوں کا جائزہ لیا جائے تو ان کے نالوں میں عقل‘ مذہب‘ سماج اور ترقی کا تحرک شامل ہے۔ جاگیردارانہ ماحول کی عکاسی کی ہے لیکن مشرقیت پر مغربیت کو فوقیت نہیں دی بلکہ درمیان کی راہ نکالی گئی ہے۔
بیسویں صدی کا ابتدائی دور سیاسی و سماجی تبدیلیوں کا دور تھا‘ اس دور میں معاشرتی نظام میں بڑے تغیرات رونما ہو رہے تھے‘ آزادی ئنسواں کے نعرے لگ رہے تھے ایسے میں نذر سجاد بھی آزادی ئ نسواں کے علمبردار کے طور پر سامنے آتی ہیں‘ خواتین کی تعلیم ان کی آزادی‘ ان کے حقوق کی بات کرتی ہیں اور خواتین کو معاشرے میں ایک اہم فرد کی حیثیت سے منوانے اور ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف آواز اٹھاتی ہیں غرض ان کے ناولوں میں نسائیت کا بھرپور شعور ملتاہے۔ اختر النساء‘ جاں باز‘ آہ مظلوماں‘ ثریا‘ نجمہ‘ حرماں‘ نصیب ان کے ناول ہیں۔ اسی دور میں ترقی پسند تحریک بھی اپنا سر اٹھاتی ہے اس تحریک کے تحت لکھنے والے باغیانہ انداز رکھتے تھے‘ ادب نے معاشرے میں ہونے والے ظلم اور استحصال کو من و عن بیان کرنا شروع کردیا تھا‘ ان لکھنے والوں میں اگرچہ مردوں کی تعداد زیادہ تھی لیکن اس میدان میں خواتین بھی شامل تھیں‘ ان میں سب سے اہم نام عصمت چغتائی کا ہے۔ عصمت نے بڑی بے باکی اور کامیابی سے معاشرے کے اُن سنگین اور پیچیدہ مسائل پر قلم اٹھایا جس میں مرد بھی ابھی لکھنے سے کترا رہے تھے۔ منٹو اور عصمت نے اپنے منفرد انداز کی وجہ سے شہرت پائی عصمت کی زبان میں ایک اکھڑ پن ہے جس سے وہ معاشرے کی تلخ حقیقت کو عیاں کرتی ہیں‘ ضدی‘ ٹیڑھی لکیر‘ معصومہ وغیرہ ان کے ناول ہیں۔
سیاسی و سماجی پیچیدگیوں کے باعث ادیبوں کے ایک طبقے نے ایک ایسی راہ نکالی جس کو ہم سرسید کی عقلی تحریک کی ضد کہہ سکتے ہیں۔ یہ رجحان رومانی رجحان کہلاتا ہے‘ ان ادیبوں نے زندگی کے مسائل سے کناہ کش ہو کر اپنی تخیل کی مدد سے دنیا کی خوب صورتی کو بیان کیا ایسے ہی لکھنے والوں میں حجاب امتیاز ہیں۔ ان کے دو ناول ”میری نام تمام محبت“ اور ”ظالم محبت“ دونوں کا موضوع محبت ہے‘ اسی طرح ایک نفسیاتی ناول بھی تحریر کیا جس کا نام ”اندھیرا خواب“ ہے۔ مجموعی طور پر حجاب کے بنیادی موضوع حسن و عشق ہے جس کو بیان کرنے کے لیے وہ اپنی تخیل کی حسین کائنات سے متعارف کرواتی ہیں جہاں حُسن ہے‘ عشق ہے‘ مسرت ہے اور غم بھی ہے۔ ناولوں میں معاشرے کی تلخ روایتی پابندیاں بھی ملتی ہیں‘ یہی کیفیت حجاب کو منفرد بناتی ہیں۔
قراۃ العین حیدر اردو ناول کی دنیا میں ایک قد آور اور اہم شخصیت ہیں‘ ان کا یہ امتیاز صرف خواتین تک محدود نہیں بلکہ مردوں میں بھی قائم ہے انہوں نے ناول کی سمت میں بہت سے تجربات کیے شعور کی روکی تیکنک اور وقتی جتربات متعارف کروائے۔ وہ ایک دانش ور ذہن کی مالک تھیں‘ خواتین کو ایک خود مختاری عطا کی اور فکشن پر گہرا اثر ڈالا ان کے ناولوں میں ”میرے بھی صنم خانے“، سفینہئ غمِ دل“، آگ کا دریا“،“کارِ جہاں دراز“، ”آخر شب کے ہم سفر“ وغیرہ شامل ہیں۔ آزادی کے بعد لکھنے والوں میں ایک اہم نام خدیجہ مستور کا ہے۔ ”آنگن“ اور ”زمین“ دو اہم ناول ہیں۔ ”آنگن“ ایک سیاسی اور تہذیبی ناول ہے۔ تقسیمِ ہند اور اس سے پہلے کے سیاسی حالات کو تفصیلی بیان کیا گیا ہے۔ جمیلہ ہاشمی کے ناول ”چہ بہ چہر“، ”روبرو“، دشتِ سوز“ ”تلاشِ بہاراں“ میں زندگی کے مسائل اور واقعات بیان کیے ہیں ان کا طرزِ بیان ان کی خوبی ہے۔
رضیہ فصیح احمد جدید ناول نگاروں میں ایک اہم نام ہے‘ ان کا مشہور ناول ”آبلہ پا“ آدم جی ایوارڈ یافتہ ہے اس میں انسان کی سوچ کے مختلف زاویوں کا مطالعہ ملتا ہے‘ جیلانی بانو نے اپنے ناول میں ہندوستان میں موجود جاگیردارانہ نظام کو موضوع بنایا اور اس معاشرت کو بیان کیا ہے جو زوال کے آخری زینہ پر کھڑا ہے۔
بانو قدسیہ کا ناول ”راجا گدھ“ میں اسلامی تصورِ رزق حلال کے فوائد اور رزقِ حرام کے باعث ہونے والی ذہنی و معاشرتی زوال کو موضوع بنایا ہے۔ اس ناول میں رزق حرام کو کئی معنوں میں بیان کیا ہے اور تہ داری کے ساتھ۔ صالحہ عابد حسین‘ رضیہ سجاد ظہیر‘ رضیہ بٹ‘ آمنہ ابوالحسن‘ واجدہ تبسم‘ الطاف فاطمہ جدید لکھنے والوں میں شامل ہیں۔ قدیم سے لے کر جدید عہد تک اردو ناولوں کا جائزہ لیا جائے تو خواتین نے کم و بیش تمام ہی موضوعات اور رجحانات کے تحت ناول لکھے جن کا تعلق براہِ راست ہمارے معاشرے سے ہے۔ کبھی معاشرہ ناول کے اثر کو قبول کرتا ہے تو کبھی ناول معاشرے کے اثر کو قبول کرتا ہی‘ اس وابستگی کو بیان کرنے میں ناول نگاروں نے اہم کردار ادا کیا لیکن اس کا سہرا صرف مردوں کے سر ہی نہیں سجتا بلکہ خواتین بھی ناول کے ارتقائی سفر میں مردوں کے شانہ بشانہ فرائض انجام دیتی رہی ہیں اور آج بھی متعدد خواتین ناول نگار مختلف معاشرتی مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے فنِ ناول نگاری کو آگے بڑھا رہی ہیں اور ترقی دے رہی ہیں۔

ماسٹر پبلشر کے تحت شعری نشست

ماسٹر پبلشر کے زیر اہتمام 18 اکتوبر کو سات بجے شام محمد محسن کی رہائش گاہ پر ایک شعری نشست کا اہتمام کیا گیا جس کی صدارت غلام علی وفا نے کی۔ رشید خان رشید نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔ اس شعری نشست کے دو حصے تھے پہلے حصے میں پاکستان کی افادیت اور اہمیت کے موضوع پرگفتتگو کی گئی صاحبِ صدر نے کہا کہ انگریز ہندوستان میں تجارت کے بہانے آئے ان کی ایسٹ انڈیا کمپنی نے آہستہ آہستہ اپنے قدم جمائے اور 1857ء کی جنگ میں مغلیہ سلطنت کے آخری بادشاہ کو شکست ہوئی انگریز پورے ہندوستان پر حاکم ہوگئے انہوں نے ہندوؤں اور سکھوں کی حوصلہ افزائی کی اور مسلمانوں پر زندگی کے تمام شعبوں میں ظلم و زیادتی کی جس کے سبب مسلمانوں کی ترقی کا سفر رک گیا پھر ایک وقت آیا کہ 1906ء میں مسلمانوں نے مسلم لیگ بنائی اور قائد اعظم محمد علی جناح کی سربراہی میں 14 اگست 1947ء کو پاکستان عالم وجود میں آیا۔ پاکستان کے قیام کا ایک اہم مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کے لیے کوئی ایسی سرزمین ہو کہ جہاں وہ اپنی مذہبی روایات کے تحت زندگی گزار سکیں اس مقصد کے لیے لاکھوں جانوں کا نذرانہ پیش کیا گیا۔ آج ہم آزاد مملکت کے باشندے ہیں لیکن ہماری آزادی کے دشمن ہمیں اندر ہی اندر کھوکھلا کر رہے ہیں‘ ہم مختلف طبقوں میں بٹ گئے ہیں اور تنزلی کا شکار ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم متحد ہو کر اپنے دشمنوں کا مقابلہ کریں انہوں نے مزید کہا کہ آزادی کی تحریک میں ہر طبقہئ فکر نے اپنا حصہ ڈالا تھا۔ شاعروں نے اپنے اشعار کے ذریعے عوام الناس میں آزادی کا شعور پیدا کیا۔ اس سلسلے میں کئی اہم شعرا کے نام انتہائی اہمیت کے حامل ہیں آج کے زمانے میں بھی شعرائے کرام نظریہئ پاکستان کے پرچار میں مصروف عمل ہیں اس کے علاوہ اربابِ سخن ہمارے معاشرتی مسائل اجاگر کر رہے ہیں‘ ہمیں امن وامان کا درس دے رہے ہیں۔ شعرائے کرام کا طبقہ ہر دور میں معاشرے کی ضرورت رہا ہے کیوں کہ یہ طبقہ انتہائی حساس ہوتا ہے‘ یہ اپنے اردگرد پھیلے ہوئے معاشرتی معاملات پر گہری نظر رکھتا ہے باالفاظ دیگر شاعر معاشرے کا نباض ہوتا ہے۔ اختر سعیدی نے کہاکہ پاکستان کی حفاظت ہمارا قومی فریضہ ہے اس سلسلے میں ہمیں ایک پلیٹ فارم پر آنا ہوگا۔ ہمارے دشمن ہمارے سامنے ہیں ہم انہیں ہر محاذ پر شکست دیں گے اگر ہم متحد ہو جائیں‘ معاشرتی نشوونما میں شعرائے کرام کے کردار سے انکار ممکن نہیں انہوں نے مزید کہا کہ مشاعروں کے ذریعے بھی ہم اپنے اشعار سامعین تک پہنچاتے ہیں‘ ادب کو سرحدی زنجیروں میں جکڑا نہیں جا سکتا۔ ہر اچھا شعر حالتِ سفر میں رہتا ہے۔ ادب اور زندگی میں چولی دامن کا ساتھ ہے‘ ہر شاعر امن و محبت کا پیغام بر ہوتا ہے۔ ماسٹر پبلشر کے روح رواں محمد محسن نے خطبہئ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ادارہ زبان و ادب کی ترقی کے لیے حاضر ہے‘ ہم ہر تنظیم کے ساتھ تعاون کے لیے حاضر ہیں۔ آج اس مختصر سی نشست میں بہت اچھے اشعار سنائے گئے میں تمام شعرا کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ اس موقع پر غلام علی وفا‘ اختر سعیدی‘ راقم الحروف ڈاکٹر نثار‘ محمد علی گوہر‘ رشید خان‘ یوسف چشتی‘ محسن سلیم‘ اسحاق خان اسحاق‘ افضل ہزاروی‘ علی کوثر‘ عاشق شوکی‘ عارف شیخ عارف اور خالد محمود قیصر نے اپنے اپنے اشعار نذر سامعین کیے۔

سکھرین فورم کے زیراہتمام یوم حسینؓ اور محفل ِ مسالمہ

کراچی میں مقیم سکھر (سندھ) کے شہریوں کی سماجی و فلاحی تنظیم ”سکھرین“ کے تحت 12 اکتوبر 2019ء کو کے ایم سی آفیسر کلب کشمیر روڈ میں یوم حسینؓ اور محفل مسالمہ کا اہتمام کیا گیا جس کی صدارت سرور جاوید نے کی۔ غلام علی وفا مہمان خصوصی تھے۔ تلاوتِ کلام مجید کی سعادت انور صدیقی نے حاصل کی۔ عشرت حبیب نے نعت رسولؐ پیش کی۔ عارف شیخ عارف نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔ ارشاد محمد خان نے حضرت امام حسینؓ کے بارے میں کہا کہ انہوں نے اسلام کو نئی زندگی دی‘ انہوں نے باطل کا ساتھ نہیں دیا بلکہ راہِ حق میں اپنے 72 ساتھیوں کی قربانی سے ایک نئی تاریخ مرتب کی۔ کربلا نے ہمیں یہ پیغام دیا ہے کہ حق اور سچائی پر ڈٹ جانے کا نام اسلام ہے چاہے اس سلسلے میں ہمیں اپنی جانوں سے بھی ہاتھ دھونا پڑیں تو کوئی بات نہیں ہے اللہ کی راہ میں شہید ہونا بہت اہم اعزاز ہے۔ ناصر رضوان ایڈووکیٹ نے کہا کہ کربلا کی جنگ کا نتیجہ یہ نکلا کہ یزید کا نام و نشان مٹ گیا لیکن حضرت امام حسینؓ زندہ و جاوید ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق آل رسول اور اہل بیت سے محبت ایمان کا حصہ ہے لہٰذا مسلمانوں پر فرض ہے کہ حسینی راستے پر گامزن ہوکردین ِا سلام کی ترویج و اشاعت کے لیے کام کریں۔ اقبال سہوانی نے کہا کہ جب خلافت کو ملوکیت میں تبدیل کیا گیا تو حضرت امام حسینؓ نے صدائے احتجاج بلند کی۔ حاکم وقت نے ان کے خلاف اعلان جنگ کیا اور حضرت امام حسینؓ اور ان کے 72 رفقائے کار کے سروں کو نیزے پر بلند کرکے اپنی جیت کا اعلان کیا لیکن وہ جیت یزید کی رسوائی کا باعث بن گئی۔ نواسہئ رسولؓ نے یزید کی بیعت نہیں کی اور عالمِ اسلام کو یہ سبق دیا کہ ہمیشہ حق کا بول بالا ہوگا‘ باطل کا منہ کالا ہوگا۔ آج حسینؓ کے نام لیوا زندہ ہیں اور کوئی یزید کا حامی نہیں ہے۔ صاحبِ صدر نے اپنے خطاب میں کہا کہ دنیا میں دو بڑے گروہ ہیں ایک حسینی اور دوسرا یزیدی‘ دونوں کے نظریات سے ہم آگاہ ہیں‘ اب ہماری مرضی ہے کہ ہم کون سا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ کربلا کے میدان میں حضرت امام حسینؓ نے شکست و فتح کے مطلب و معنی بدل دیے جن لوگوں کو بظاہر فتح نصیب ہوئی لیکن وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکے وہ حضرت امام حسینؓ سے یزید کے لیے بیعت نہ لے سکے۔ آل رسولؐ نے اپنی جانیں قربان کرکے ہمیں یہ پیغام دیا ہے کہ حق کے لیے ظالموں کے سامنے ڈٹ جاؤ کہ یہ منشورِ اسلام ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ رہتی دنیا تک کربلا کا تسلسل قائم رہے گا‘ ہرزمانے کے یزید کے لیے ہمیں حضرت امام حسینؓ جیسے کردار کی ضرورت ہے۔ ناظم مشاعرہ نے کہا کہ ہمارے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ میرے اہل بیت سے محبت کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے‘ ہم اپنی نمازوں میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ آپ کے اہلِ بیعت پر بھی درود پڑھتے ہیں۔ حضرت امام حسینؓ نواسہئ رسول ہیں خہ جنہوں نے میدانِ کربلا میں ایک تاریخ رقم کی‘ وہ جرأت و شجاعت کا استعارہ بن کر ہمارے سامنے آئے۔ یزیدی فوج نے آلِ رسول پر (میدان کربلا)پانی بند کر دیا اور 72 رفیقان حسینؓ کو شہید کیا۔ عورتوں اور بچوں کو قیدی بنایا۔ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ یزید مٹ گیا اور حضرت امام حسینؓ زندہ ہیں۔ حسینی پیغام ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ سکھرین فورم کے صدر سید ظہیر احمد نے خطبہئ استقبالیہ پیش کیا انہوں نے کہا کہ ہم اپنی تنظیم کے تحت اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے کوشاں ہیں اس کے ساتھ ساتھ ہم اسلامی تعلیمات کی ترویج و اشاعت میں بھی مصروف عمل ہیں۔ آج ہم سب یوم حسینؓ کے عنوان ایک جگہ جمع ہوئے ہیں ہمیں علم ہے کہ ذکرِ حسینؓ بھی عین عبادت ہے۔ مسز نسیم بخاری نے کلماتِ پیش کیے انہوں نے کہا کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل کرکے ہم دین و دنیا میں نام پیدا کرسکتے ہیں۔ آپ کے نواسے حضرت امام حسینؓ نے کربلا میں دینِ اسلام کو زندہ کیا‘ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے اپنے پروگرام کو مقررہ وقت پر شروع نہیں کرسکے کیوں کہ سامعین موجود نہیں تھے۔ مقامِ افسوس ہے کہ ہم نے وقت کی پابندی کرنا چھوڑ دی ہے۔ اس تقریب کے دوسرے دور میں محفلِ مسالمہ منعقد ہوئی جس میں سرور جاوید‘ غلام علی وفا‘ اختر سعیدی‘ پروین حیدر‘ راقم الحروف ڈاکٹر نثار‘ نظر فاطمی‘ شہناز رضوی‘ عشرت حبیب اور عارف شیخ عارف نے سلامِ امام حسینؓ پیش کیے۔

حصہ