کے۔ الیکٹرک۔۔۔۔ ایک ناسور

102

یہ کہانی ہے ایک ایسی کمپنی کی، جو بظاہر بہت صاف ستھری، کارپوریٹ کلچر کی نمائندہ اور کوالٹی ایوارڈ کی حامل ہے۔ یہ کہانی کے۔ الیکٹرک کی ہے، جس نے پاکستان کے حکمرانوں اور بھتّہ مافیا کی لوٹ مار اور ماضی کی ایسٹ انڈیا کمپنی کو بھی بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ یہ کہانی ہے کراچی الیکٹرک کی جسے ’’کے۔ الیکٹرک‘‘ بھی کہا جاتا ہے، مگر عرفِ عام میں ’’قاتل مافیا‘‘، ’’تانبا چور‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک میں پولیس کو پیار سے ’’بوبی‘‘ کہتے ہیں، اسی طرح کراچی میں پولیس کو پیار سے ’’ٹُلّا‘‘ کہنے کا اپنا ہی مزا ہے۔ بالکل اسی طرح کے۔الیکٹرک کے بھی کئی نام ہیں۔ یہ کہانی کوئی بہت زیادہ پرانی بھی نہیں ہے۔ کراچی کو اس کمپنی کے آنے سے پہلے کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن(KESC) کے ذریعے بجلی فراہم کی جاتی تھی، پھر نجکاری کمیشن نے اس کو نجی تحویل میں دینے کا فیصلہ کیا۔ اس کام میں جنرل (ر) پرویزمشرف اور ایک ریٹائرڈ بریگیڈیئر نے جو اُس وقت کے ای ایس ای کے چیئرمین تھے، اچھا خاصا نام کمایا۔ اور پھر نجی تحویل میں لینے والوں نے اس ادارے کا نام ’’کے۔ الیکٹرک‘‘ کردیا۔ آج کل یہ اسی نام سے جانی پہچانی جاتی ہے۔ اس کمپنی کو پہلے سعودی عرب کی ایک کمپنی نے 164ملین ڈالرکے عوض خریدا تھا۔ اس خریداری میں زمین اور اثاثوں کی قیمتوں کا معاملہ اس طرح تھا کہ اس کی قیمت کوڑیوں کے مول لگائی گئی۔
اس کی اہم حصے دار ایک جرمن کمپنی نے اپنے حصے واپس لے لیے، پھر یہ متحدہ عرب امارات کے کچھ ناتجربہ کار تاجروں کے ہاتھ بکی، جو آج کل بھی اس کے مالک ہیں۔ ماضی میں عارف نقوی کی شہرت فنانسرز کمپنی کے حوالے سے تھی، اور یہی عارف نقوی اس کے بانی چیف آفیسر ہیں، جن کو ناجائز پیسے بنانے اور فراڈ کرنے کے جرم میں لندن میں گرفتار بھی کیا گیا تھا۔ موصوف آج کل ضمانت پر باہر ہیں، اور یہ تاریخی ریکارڈ کے حامل فرد ہیں جن پر دبئی کی عدالت نے دبئی کی تاریخ کا سب سے بڑا جرمانہ عائد کیا۔ حد یہ ہے کہ بانی سی ای او عارف نقوی پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے قریبی دوستوں میں ہیں اور پاکستان کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے رکن بھی ہیں اور اکثر فنانس منسٹر کے ساتھ دیکھے جاتے ہیں۔
ان کے فراڈ اور دھوکہ دہی کی کہانی اُس وقت سے شروع ہوتی ہے جب انھوں نے کمپنی خریدتے وقت حکومت کو یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ ٹرانسمیشن اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ کریں گے۔ مگر ایسا نہ ہوسکا، اور آج تک ایک میگاواٹ بجلی بھی اضافی نہیں پیدا کرسکے۔ اس کے برعکس بجلی کے نرخوں میں ہر تین ماہ بعد ہوشربا اضافے کی ’’خوش خبری‘‘ کراچی کے عوام کو سنائی دیتی ہے۔ بجائے کراچی کے پرانے تاروں اور سپلائی سسٹم کو جدید طرز سے لیس کرتے، صرف پرانے قرضے اکٹھے کرنے شروع کردیئے۔ نتیجتاً کراچی میں بجلی کا بحران اب بھی شدت سے موجود ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ اس میں بہت بڑے بڑے پاکستانی سیاست دانوں یا سیاسی پارٹیوں کو کمیشن جاتا ہے، اس لیے کوئی اس پر شور بھی نہیں مچاتا، سوائے جماعت اسلامی کے، جو گزشتہ تین سال سے مستقل طور پر کے۔ الیکٹرک کی لوٹ مار اور بے ضابطگیوں کی نشاندہی کررہی ہے۔ اس کا کریڈٹ بھی جماعت اسلامی کراچی کی جانب سے قائم کی گئی پبلک ایڈ کمیٹی کو جاتا ہے۔ اب اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ کے۔ الیکٹرک اپنے فرائض ادا کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔ آج اس کے مالکان کے پاس اربوں روپے جمع ہوگئے ہیں۔ بجلی اور پانی فراہم کرنے والے اداروں کو یوٹیلٹی کمپنیز کہا جاتا ہے۔کراچی میں تو کہانی ہی کچھ اور ہے۔ جس طرح پاناما لیکس وزیراعظم نوازشریف کے لیے نااہلی کی وجہ بنا، اسی طرح کے۔ الیکٹرک کا معاملہ ہے جو شریف برادران پر آسمانی بجلی کی طرح نئے عذاب کی صورت میں نمایاں ہوا۔ امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ نے کھوج کھاج کر چونکا دینے والا انکشاف کیا کہ کے۔ الیکٹرک جسے شنگھائی الیکٹرک کمپنی خریدنے میں دلچسپی رکھتی تھی، اسے 64.3 فیصد حصے کے مالک ہونے کا اختیار ہوتا۔ عارف نقوی اور دوسری بااثر شخصیات نے اس ڈیل کو مکمل ہونے سے روک دیا۔ وال اسٹریٹ جرنل نے الزام لگایا کہ شریف برادران کو 20 ملین ڈالر رشوت دی گئی تھی جس سے کے۔ الیکٹرک کی فروخت رک گئی۔
اسی طرح کا معاملہ تحریک انصاف کا بھی ہے۔ سابق چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ وجیہ الدین صدیقی نے پبلک فورمز پر بارہا کہا کہ جب وہ تحریک انصاف کے نائب صدر تھے اُس وقت کے۔الیکٹرک نے دبئی کے بینکوں سے بھاری رقوم تحریک انصاف کے الیکشن فنڈ، شوکت خانم میموریل ہسپتال اور دیگر امدادی حوالوں سے براہِ راست عمران خان کو دیں۔ اس کی عمران خان نے آج تک تردید بھی نہیں کی۔
پیپلز پارٹی، آصف زرداری اور دیگر بڑے عہدیداران کو بھی نوازنے کا عمل جاری رکھا گیا۔ جبکہ ایم کیو ایم کے ارکانِ قومی و صوبائی اسمبلی کے قریبی رشتے داروں کو اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز کرکے ان کی زبانیں بھی بند کی گئیں۔ سیاسی رشوتوں کی ایک طویل فہرست ہے جو کہ کے۔ الیکٹرک کا وتیرہ رہا ہے۔
اب آئیے آگے کی جانب کہ کے۔ الیکٹرک نے راتوں رات مالی فوائد کیسے بٹورے؟
سب سے پہلا کام تو انھوں نے یہ کیا کہ بہت بڑی تعداد میں سابقہ کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کے پکے اور کچے ملازمین کو ملازمت سے فارغ کیا، جن کے فنڈز آج تک روکے ہوئے ہیں اور ان متاثرہ گھرانوں میں نوبت فاقوں تک پہنچ چکی ہے۔ ہائی کورٹ میں اس حوالے سے دو کیسز بھی ہیں جن کی کوئی شنوائی نہیں ہورہی۔ اس طرح تنخواہوں کی مد میں اربوں روپے بچائے گئے اور ان تجربہ کار ملازمین کی جگہ کنٹریکٹ کی بنیاد پر متحدہ قومی موومنٹ، پیپلز پارٹی اور دیگر عناصر کو بھرتی کیا گیا تاکہ سیاسی رشوت کے نام پر سیاسی جماعتوں کا منہ بند رکھا جاسکے۔
دوسرا مالی فائدہ اس طرح اٹھایا کہ راتوں رات تانبے کے قیمتی تار بجلی کے کھمبوں سے اتارکر اس کی جگہ سلور کے تار لگادیے گئے، جو کہ ٹیکنیکل اعتبار سے انتہائی گھٹیا ہیں، ذرا سا وولٹیج بڑھ جانے پر یہ پگھل کر زمین پر آجاتے ہیں اور وولٹیج بھی زیادہ لیتے ہیں، نتیجتاً اس کا نقصان صارف کو پہنچتا ہے، اور بل زیادہ آنے کی صورت میں فائدہ کے۔ الیکٹرک اٹھاتی ہے۔
ایک اور دھندہ ریکوری کے نام پر جاری ہے۔ پہلے جعلی بل جو لاکھوں روپوں میں ہوتے ہیں، بھیج دیئے جاتے ہیں، اور پھر ریکوری انسپکٹرز کے ذریعے صارف کو خوف زدہ کرکے پیسے بٹورے جاتے ہیں۔ ریکوری کے نام پر بھی غنڈوں کی فوجِ ظفر موج بھرتی کررکھی ہے، جو ظاہر ہے سیکٹرز کی سطح کے نامی گرامی غنڈہ عناصر پر مشتمل ہے۔ باقاعدہ تشدد اور گرفتاری کی خبریں بھی آئے دن اخبارات کی زینت بنتی رہتی ہیں۔
جبکہ دیکھا جائے تو کسی بھی قانون کے تحت ایک نجی ادارہ اپنی پولیس بنانے کا اختیار نہیں رکھتا، اور نہ ہی اسے گرفتاری کے اختیارات حاصل ہیں۔
ایک اور مالی اسکینڈل یہ ہے کہ اس کی فروخت کے وقت ایک سازش کے تحت اس کے حصص کی قیمتیں گرائی گئیں، تاکہ قیمت کم سے کم لگ سکے۔ حالانکہ فروخت کی خبروں کے آنے سے پہلے تک اس کے حصص اسٹاک مارکیٹ میں پندرہ سے اٹھارہ روپے تک تھے، مگر فوری طور پر سات روپے پر آگئے۔ یعنی پورے پچاس فیصد کا مالی فائدہ کے۔ الیکٹرک کی نجکاری کے وقت حاصل کیا گیا۔
کے۔ الیکٹرک نے لوٹ مار کے سوا کچھ نہیں دیا، بلکہ اس کی جگہ کراچی کے شہریوں کو لاشیں تھمائیں۔ کراچی کے رہنے والے 2015ء میں آنے والی ہیٹ ویو کو کیسے بھول سکتے ہیں، جب شدید ترین گرمی، حبس اور گھٹن میں کے۔ الیکٹرک نے صلاحیت ہونے کے باوجود ڈیزل پر پلانٹ چلانے سے انکار کردیا تھا اور گیس پر پلانٹ چلانے کو کوشش کی۔ شدید ترین گرمی میں تین سو فیڈر ٹرپ کرگئے، آٹھ نو گھنٹے بجلی بند رہی اور چار ہزار سے زیادہ اموات ہوئیں۔ عالم یہ تھا کہ بس اسٹاپوں پر موجود بزرگ، مزدور، بھکاری پٹ پٹ گرنے لگے اور چند گھنٹوں کے اندر چار ہزار افراد لقمۂ اجل بن گئے۔ ایدھی کے سرد خانوں میں جگہ کم پڑ گئی۔ دو ہزار کیسز رجسٹر ہوئے اور اتنی ہی تعداد ان کی تھی جن کا تھانوں میں اندراج نہ ہوسکا۔ کراچی کی حکومت نے البتہ یہ ضرور کیا کہ گڑھے کھود کر چار ہزار لاشوں کو اجتماعی طور پر دفن کروا دیا۔ یہ مناظر کسی زمانے میں بوسنیا ہرزیگووینیا میں مسلمانوں کے اجتماعی قتلِ عام میں دیکھے تھے، یا پھر کراچی میں دیکھنے کو ملے۔
تازہ ترین اموات حالیہ بارشوں اور رواں سیزن میں دیکھنے کو ملیں، جب پچاس سے زائد شہری تاروں کے گرنے اور کرنٹ لگنے سے ہلاک ہوئے، مگر اب تک کوئی بھی ادارہ ذمہ دار نہیں ٹھیرایا گیا۔ البتہ نیپرا اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے اس کو کے۔ الیکٹرک کی ’’مہربانی‘‘ قرار دیتے ہوئے اس پر جرمانہ عائد کرنے کی سفارش کی ہے۔
کے۔ الیکٹرک اور حکومتوں کی سازباز کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کے۔ الیکٹرک کو حکومت نے 90 ارب روپے کی سبسڈی دی تاکہ واجب الادا قرضے اتارے جاسکیں۔ اس ملی بھگت کا فائدہ یہ ہوا کہ مارکیٹ میں کے۔ الیکٹرک کی قیمت گر گئی اور ادارہ محض 15 ارب 85 کروڑ روپے میں فروخت کردیا گیا۔ حالانکہ دیکھا جائے تو 15 ارب 85 کروڑ روپے خالی کھبوں کی قیمت بھی نہیں ہے۔ لاکھوں ایکڑ زمین، مشینری، پلانٹ اور دیگر اثاثے زیرو روپے میں خریدے گئے، مگر ظلم کی انتہا یہ ہوئی کہ کے۔ الیکٹرک نے اس 90 ارب روپے کی سبسڈی کا فائدہ صارف کی جانب نہیں لوٹایا، بلکہ اس طرح اُس نے اپنے ڈپازٹ بڑھائے۔
اس اعتبار سے کے۔ الیکٹرک نے چار سو سال پہلے کی ایسٹ انڈیا کمپنی کو بھی بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نے مغل حکومت کو مالی فوائد کے ساتھ ساتھ ڈویلپمنٹ کی مد میں سڑکیں، پل، نہریں اور ریلوے کا نظام دیا تھا۔
اس حوالے سے جب پبلک ایڈ کمیٹی جماعت اسلامی کے الیکٹرک سیل کے ذمہ دار جناب عمران شاہد سے بات کی گئی تو انھوں نے راقم الحروف کو بتایا کہ پبلک ایڈ کمیٹی نے گزشتہ تین سال قبل کے۔ الیکٹرک کے گرد گھیرا تنگ کرنا شروع کیا جب عوام الناس کو کے۔ الیکٹرک کی لوٹ مار کا کوئی اندازہ نہیں تھا، جماعت اسلامی کراچی نے عوام میں اس حوالے سے سیاسی شعور بیدار کرنے کا بیڑہ اٹھایا اور ہم نے کے۔ الیکٹرک کی دھوکہ دہی کو منظرعام پر لانے کا فیصلہ کیا۔ سب سے پہلے رائے عامہ کو بیدار کیا اور مجبور ہوکر سڑکوں پر بھی نکلے، گورنر ہائوس پر چار دن مستقل دھرنا دئیے رکھا، ہمارے کارکنوں کو گولیاں بھی لگیں، گرفتاریاں بھی ہوئیں، کراچی جماعت اسلامی کی مرکزی قیادت بھی گرفتار ہوئی، مگر ہم نے اپنی تحریک کو تھمنے نہیں دیا۔ ہم نے سندھ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ جماعت اسلامی واحد جماعت ہے جو نیپرا میں کے۔ الیکٹرک کے خلاف مقدمہ لے کر گئی ہے۔ سپریم کورٹ نے پہلی سماعت اسلام آباد میں کی، اور ایک سال بعد دوسری پیشی کا نمبر آیا۔ پھر ہم نے سپریم کورٹ سے استدعا کی کہ یہ مقدمہ کراچی میں چلایا جائے۔ چنانچہ سپریم کورٹ کی اضافی بینچ کراچی میں قائم کی گئی اور اب تک موجود ہے، مگر کے۔ الیکٹرک نے بھاری رشوت دے کر عدالتی کارروائی میں تاخیری حربے استعمال کرکے پیشیاں رکوائی ہوئی ہیں۔ یہی معاملہ ہائی کورٹ میں دیکھنے میں آرہا ہے۔ کے۔ الیکٹرک کے سی ای او کے خلاف کے۔ الیکٹرک کی غفلت سے جاں بحق ہونے والے افراد کے حوالے سے ہرجانے کے تین کیس دائر کیے، اس میں بھی روایتی سُستی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے۔ وکلا کو خریدنے کا معاملہ سمجھنے کے لیے یہ کافی ہے کہ کے۔ الیکٹرک نے ایک سال میں 83 کروڑ روپے وکیلوں کی مد میں خرچ کیے ہیں۔
پبلک ایڈ کمیٹی جماعت اسلامی، اور امیر جماعت اسلامی کراچی انجینئر حافظ نعیم الرحمن صاحب کی بدولت کراچی کے لوگوں کو معلوم ہوا کہ کے۔ الیکٹرک نے کراچی کے صارفین سے 50 ارب روپے میٹر رینٹ کے نام پر اضافی وصول کرلیے ہیں۔ ڈویلپمنٹ کے نام پر 250 ارب روپے کی رقم اب تک کے۔ الیکٹرک صارفین سے وصول کرچکی ہے، مگر کوئی ڈویلپمنٹ تاحال دیکھنے میں نہیں آرہی۔
انھوں نے بتایا کہ جماعت اسلامی نے اوور بلنگ کو روکنے کے لیے مرکزی طور پر پبلک ایڈ کمیٹی کراچی کے دفتر میں شعبہ قائم کیا جس نے وفاقی محتسب کی عدالت سے کراچی کے شہریوں کے اب تک 50کروڑ روپے کے اضافی بل ختم کروائے ہیں، جبکہ میٹر رینٹ میں لیے جانے والے اربوں روپے بھی واپس بل میں منہا کروائے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ہماری جدوجہد جاری ہے اور ان شاء اللہ کراچی کے شہریوں کو کے۔ الیکٹرک کے چنگل سے آزادی دلوانے کی یہ جدوجہد کامیاب ہونے تک جاری رہے گی۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنا سب کچھ جاننے اور سمجھنے کے باوجود عدالتیں کے۔ الیکٹرک کے خلاف کسی کارروائی سے کیوں گھبرا رہی ہیں؟
کب تک نجی کمپنیاں صارفین کا خون نچوڑتی رہیں گی؟ اور آخر کب تک لوگوں کی حق حلال کی کمائی کے۔ الیکٹرک اور نجی سرکاری اداروں کی جیب میں جاتی رہے گی؟
ظاہر ہے اس کے پیچھے ایک ایسا مافیا موجود ہے جس نے اقتدار کے مزے لوٹنے والی تمام جماعتوں کی زبانوں کو بند کیے رکھا ہے۔ جب تک اس مافیا کو بے نقاب نہیں کیا جائے گا اُس وقت تک پاکستانی ایسٹ انڈین کمپنیوں سے نجات نہیں مل سکے گی۔ اس کے لیے ہم سب کو اجتماعی طور پر آگے بڑھنا ہوگا، اپنے حق کے لیے لڑنا ہوگا، اور جو جدوجہد پبلک ایڈ کمیٹی نے کراچی کے عوام کے لیے عملی طور پر کرکے دکھائی ہے اس میں اُس کا دست و بازو بننا ہوگا۔

حصہ