غزوہ ہند کی روایات پر بحث کا مقصد کیا؟

105

کیا آج بھی کشمیریوں کو انسانی تاریخ کے بدترین ظلم سے نجات دلانے کے لیے لوگوں کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ مبارک سے پیش گوئی کی صورت نکلے ہوئے الفاظ کی ضرورت ہے کہ ’’میری اُمت میں سے دو گروہ ایسے ہیں جنہیں اللہ نے جہنم کی آگ سے محفوظ کررکھا ہے۔ ایک وہ گروہ جو ہند پر حملہ کرے گا، اور دوسرا گروہ جو حضرت عیسیٰ ابنِ مریمؑ کے ساتھ ہوگا۔‘‘ (السنن الکبری۔ نسائی) ۔
کیا قرآن پاک جہاد فی سبیل اللہ اور قتال فی سبیل اللہ کے احکامات سے بھرا ہوا نہیں ہے! لیکن یار لوگ بھی کمال کے ہیں کہ عین اُس وقت جب ہند یعنی بھارت میں بسنے والے پچیس کروڑ مسلمان بحیثیتِ مجموعی ایسی بدترین زندگی گزار رہے ہیں جس کی مثال گزشتہ پچاس برسوں میں دنیا کے کسی بھی خطے میں نہیں ملتی، نسلی تشدد اور اقلیتی ظلم و ستم سے متعلق ایک تصور گزشتہ پانچ صدیوں سے وابستہ ہے جسے ’’گھیٹو‘‘ (Ghetto) کہا جاتا ہے۔ یہ کسی شہر کے ایسے علاقے کو کہتے ہیں جہاں کسی اقلیتی گروہ کو رہنے پر مجبور کردیا جاتا ہے۔ اس کی حالتِ زار بدترین ہوتی ہے۔ یہ غربت و افلاس کا نمونہ ہوتا ہے۔ اس میں صحت، تعلیم، صفائی، مواصلات غرض کوئی بھی ایسی سہولت میسر نہیں ہوتی جو شہری زندگی کی ضرورت ہو۔ ایسی بستیاں چار صدیوں پہلے یہودیوں کے لیے مخصوص کی جاتی تھیں۔
پہلا ’’گھیٹو‘‘ 1516ء میں اٹلی کے شہر وینس میں قائم ہوا تھا۔ اس وقت دو سو کے قریب ممالک اور سات ارب انسانوں کی دنیا میں سب سے بڑا ’’گھیٹو‘‘ احمد آباد کے پڑوس میں واقع ’’جوہاپورہ‘‘ ہے جس میں تقریباً سات لاکھ مسلمان آباد ہیں جو گجرات کے مسلم کُش فسادات کے بعد وہاں رہنے پر مجبور کردیے گئے تھے۔
احمد آباد شہر کی تمام سہولیات بجلی، پانی، گیس، تعلیم، صحت اور سڑک وغیرہ اس جوہا پورہ کے دروازے پر دم توڑ دیتی ہیں۔ 2002ء میں آباد ہونے والا یہ پہلا ’’گھیٹو‘‘ تھا، جب کہ اس وقت بھارت کے تقریباً ہر شہر میں مسلمانوں کے علاقے ’’گھیٹو‘‘ بن چکے ہیں، اور ان مسلمانوں پر اگلی تلوار یہ لٹک رہی ہے کہ نیشنل سٹیزن شپ رجسٹریشن کے تحت پورے بھارت میں رہنے والوں سے کہا جائے گا کہ اس بات کا ثبوت لاؤ کہ کیا واقعی تم بھارت کے شہری ہو۔ ایسا نہ کرنے والے کو شہریت سے محروم کرکے نظربند سینٹر (Detention Centre) میں منتقل کردیا جائے گا۔
آسام سے چالیس لاکھ مسلمانوں کو بھارتی شہریت کے رجسٹر سے خارج کیا جاچکا ہے۔ گائے ذبح کرنے کے شبہ میں لوگ قتل ہورہے ہیں۔ راستوں میں روک کر غنڈے گھیر لیتے ہیں اور جے شری رام کا نعرہ لگانے کو کہتے ہیں، نہ لگاؤ تو مار مار کر قتل کردیتے ہیں۔ ایسے حالات میں ہمارے کچھ ’’مہربان‘‘ ایسے ہیں جو اس بحث میں لوگوں کو الجھا رہے ہیں کہ کیا واقعی ’’غزوۂ ہند‘‘ ہونا ابھی باقی ہے! ۔
جاوید احمد غامدی کے علمی دستر خوان کے خوشہ چیں عمار خان ناصر اور ان کے معتقد کالم نگاروں نے اسماء الرجال اور غزوۂ ہند کی احادیث کی اسناد پر بحث ایسے وقت میں شروع کی ہے جب بھارت میں کشمیری اپنی زندگی کی سب سے بڑی بازی ہندوؤں سے آزادی کی جنگ لڑنے پر لگائے ہوئے ہیں۔ ان کے قبرستانوں میں ڈیڑھ لاکھ شہید دفن ہوچکے ہیں، ہزاروں مسلمان لاپتا ہیں جن کی بیویوں کو لوگ احتراماً شہدا کی بیوائیں کہہ کر پکارتے ہیں، جہاں جبری جنسی تشدد معمول ہے اور جہاں کمسن لڑکے بدترین جسمانی تشدد کا شکار ہورہے ہیں، ایسے عالم میں آپ قرآن پاک کے صریح احکامات جہاد و قتال کی جانب لوگوں کو نہیں بلا رہے، بلکہ انہیں اس بحث میں الجھا رہے ہیں کہ غزوۂ ہند کی روایات کی اسناد درست نہیں ہیں۔
معاملہ دراصل یہ ہے کہ ایسے ’’عظیم‘‘ محدثین کے رجال کے علم کے مقابلے میں آج میرے آقا سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیاں اب حرف بہ حرف سچ ثابت ہونے لگی ہیں۔
سورج جب نکلتا ہے تو اسے ماننے سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ 57 اسلامی ممالک میں سے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے آخر الزماں میں صرف شام، عراق، یمن، ہند، حجاز اور خراسان کو مرکزِ گفتگو بنایا اور بتایا کہ آخری معرکے انہی سرزمینوں پر برپا ہوں گے۔ آج وہ تمام احادیث جو شام، عراق، یمن، خراسان اور حجاز کے بارے میں مروی ہیں اپنی ترتیب کے اعتبار سے روزِ روشن کی طرح واضح ہوتی جارہی ہیں۔ 57 اسلامی ممالک میں سے صرف یہی پانچ ممالک ہیں جو اس بڑی جنگ کا ویسے ہی میدان بنتے جارہے ہیں جیسے میرے آقاؐ نے فرمایا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اب یہ بحث بے کار ہوچکی ہے کہ کون سی حدیث میں کون سا راوی ثقہ تھا اور کون سا نہیں تھا۔
موصوف عمار خان ناصر تحریرکرتے ہیں اور ان کے خوشہ چیں اپنے کالموں اور بلاگوں میں اسے نقل کرتے ہیں: ’’ہمارے ہاں بعض قصہ گو حضرات اس واہی روایت کی محدثانہ حیثیت اور ’’اگر صحیح ہو‘‘ کو نظرانداز کرکے اس پر ایک نئے جہادی بیانیے کی دنیا کی عمارت کھڑی کرنا چاہ رہے ہیں۔‘‘ چلو عمار خان ناصر کے بہ قول ہم قصہ گو ہی سہی، لیکن ہمارا قصہ مسلمانوں کے خون کی ارزانی سے رنگین ہے۔ اس قصے میں ایران، افغانستان، شام اور فلسطین کے لاتعداد بے گھر ہجرت زدہ مسلمان ہیں، اور لاکھوں شہداء کی لاشیں ہیں۔ ہوسکتا ہے آپ پکار اٹھیں کہ یہ سب تباہی ایک جہادی بیانیے کی وجہ سے ہوئی تھی جیسے آپ کے مدح سرا کالم نگار تحریر کرتے ہیں کہ ’’اس دور میں ان روایات کو افغانستان کے مجاہدین پر منطبق کیا گیا جنہوں نے خانہ جنگی میں ہزاروں مسلمانوں کو قتل اور ایک مسلم معاشرے کو برباد کیا۔‘‘ کیا ’’حُسنِ بیاں‘‘ ہے۔ یعنی دسمبر 1979ء میں روس کی افواج اس لیے افغانستان میں داخل ہوئی تھیں کہ ان احادیث کی بنیاد پر افغانستان میں ایک جہادی بیانیے کی وجہ سے قتل و غارت ہورہی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ روس کی افواج ایک پُرامن افغان مسلم معاشرے پر حملہ آور ہوئی تھیں اور جدید دنیا کی کسی بھی سیکولر، لبرل، جمہوری اخلاقیات کے مطابق یہ ایک آزاد قوم پر حملہ تھا اور اس کے خلاف لڑنا افغانوں کا بنیادی حق تھا۔ اسی طرح جب امریکا اور 48 ملک افغانستان پر حملہ آور ہوئے تھے تو اُس وقت بھی افغانستان میں امن، انصاف، خوش حالی اور استحکام پر قائم طالبان حکومت کے پانچ سال مکمل ہورہے تھے۔ کون سا افغان مسلم معاشرہ تھا جو آپ کے مطابق رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کے انطباق سے تباہ ہورہا تھا؟ معاملہ یہ ہے کہ علت و معلول کی بنیاد پر ایمان کی عمارت کھڑی کرنے والوں کو امریکا اور اُس کے مغربی حواریوں کی افغانستان میں شکست ہضم نہیں ہورہی۔ جن کے دلوں میں ٹیکنالوجی کے بت جگمگاتے ہوں وہاں اللہ کی اس قوت و جبروت کا نور نہیں اتر سکتا کہ وہ اللہ خالق اسباب ہے، وہ نشانی کے طور پر اپنے ماننے والوں کوکبھی اسباب کی دنیا کا محتاج بھی نہیں رکھتا۔ اللہ کو نصرت دینے کے لیے اس پر کامل توّکل اور ثابت قدمی چاہیے ہوتی ہے، بقول اقبال:۔

اللہ کو پامردیٔ مومن پہ بھروسہ
ابلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا

یورپ کی مشینوں کی ذلت آمیز شکست کے بعد ابلیس کو اندازہ ہے کہ اگر یہی توکل اور ثابت قدمی کی روح ہند کے محاذپربھی آزمائی گئی تو پھر شکست یقینی ہے۔
کشمیریوں اور ہند کے مسلمانوں کو توکل کی منزل سے روکنے کا آسان طریقہ یہی تھا کہ سید الانبیا ؐکی بشارتوں کو رجال کی بحث میں ڈال کر مشکوک بنا دو۔ جو اللہ کی راہ میں جہاد اور قتال کے لیے نکلتے ہیں، ان کے لیے غزوۂ ہند کی حدیثیں نہیں بلکہ قرآن پاک میں دیے گئے قتال کے واضح احکام ہی کافی ہیں۔ لیکن وہ جو نہیں نکلنا چاہتے اُن کے بارے میں اللہ قرآن پاک میں وضاحت سے فرماتا ہے: ’’اور جو لوگ ایمان لائے وہ کہتے ہیں کوئی سورت کیوں نازل نہیں کی گئی؟ پھر جب کوئی صاف مطلب والی سورۃ نازل کی جاتی ہے اور اس میں قتال کا ذکر کیا جاتا ہے تو جن لوگوں کے دلوں میں بیماری ہے وہ آپ کی طرف ایسے دیکھتے ہیں جیسے کسی پر موت کی غشی طاری ہو، بڑی خرابی ہے ایسے لوگوں کی۔‘‘ (سورۃ محمد 20) ۔
میں اس محکم آیت کے بعد کچھ نہیں کہنا چاہتا۔

حصہ