سفر میرا تعاقب کررہا ہے

55

قدسیہ ملک
دوسری قسط
خبر یہ ہے کہ ’’نابالغ کے گاڑی چلانے پر جیل وہ جائے گا جس کے نام پر گاڑی ہوگی‘‘۔ یہ سن کر کچھ لوگوں نے گاڑیاں اپنی اپنی بیویوں کے نام پر ٹرانسفر کروا دیں اور نابالغ لڑکوں سے بول دیا کہ جائو بیٹا جائو،گاڑی چلائو، چالان کی پروا مت کرنا، ابھی تمہارا باپ زندہ ہے۔
کچھ مرد حضرات خواتین کے گاڑی چلانے پر بہت اعتراض کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ خواتین اچھی طرح گاڑی نہیں چلا پاتیں۔ غیر ضروری گیئر اور بریک لگاتی ہیں، جگہ جگہ گاڑی روک دیتی ہیں، موڑ بہت طویل کاٹتی ہیں۔ ان میں سے اکثر باتیں بہت حد تک ٹھیک بھی ہیں۔ گاڑی چلانے کے لیے بہت صبر، حوصلے اور برداشت کی ضرورت ہوتی ہے۔ بعض خواتین جو بات بات پر اپنا پیمانۂ صبر لبریز کرلیتی ہیں، کراچی کی سڑکوں پر اُن کے لیے گاڑی چلانا خاصا مشکل کام ہے۔ ویسے بعض مرد حضرات بھی اس تاک میں رہتے ہیں کہ کہیں کوئی خواتین ڈرائیور مل جائے اور وہ فقرے بازی، غیر ضروری ہارن اور گاڑی آہستہ چلاکر ان کو ہراساں کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیں۔ لیکن بعض مرد حضرات خواتین ڈرائیوروں کی حوصلہ افزائی بھی کرتے ہیں۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ اگر ایک خاتون گاڑی چلانے کراچی کی سڑکوں پر نکل ہی آئی ہے تو اسے صبر و برداشت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ اس کے علاوہ عمدہ مہارت اور ڈرائیونگ پر مکمل عبور بہت ضروری ہے۔ کیونکہ آج کل لاکھوں لوگوں کا خیال ہے کہ گاڑی چلائے بغیر ان کا گزارہ ممکن نہیں۔ لیکن بعض صورتوں میں گاڑی چلانا خطرناک بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
اس کے لیے ہمیں چند اصولوں کو جاننا بہت ضروری ہے، لیکن ان اصولوں سے پہلے میں جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹائون کا فتویٰ آپ سب دوستوں کی خدمت میں پیش کرنا چاہوں گی۔ سوال یہ ہے کہ’’کیا عورت کا گاڑی چلانا جائز ہے؟‘‘ جواب من و عن آپ قارئین کی نذر کیا جارہا ہے:
’’قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو گھروں میں رہنے کا حکم دیا، اور زمانۂ جاہلیت کے دستور کے موافق بے پردگی کے ساتھ اور بلا ضرورت گھر سے باہر نکلنے اور گھومنے پھرنے سے منع کیا ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’عورت چھپانے کی چیز ہے، جب وہ گھر سے باہر نکلتی ہے تو شیطان اس کی تانک جھانک میں لگ جاتا ہے‘‘۔ اس لیے عام حالات میں بلا ضرورت عورت کا گھر سے نکلنا اور گاڑی چلانا درست نہیں ہے، خاص طور پر موجودہ ماحول میں عورت کے لیے گھر سے باہر نکلنے اور گاڑی چلانے میں بہت سے مفاسد وخرابیاں اور احکامِ شرعیہ کی خلاف ورزی لازم آتی ہے، فقہائے کرام نے شرعی وطبعی ضرورتوں کے لیے (جب کہ ضرورت ایسی ہو کہ بغیر باہر نکلے مصیبت ٹلنے یا کام پورا ہونے کی کوئی سبیل نہ ہو) عورت کو گھر سے باہر نکلنے کی اجازت دی ہے، لیکن وہ بھی اس شرط کے ساتھ مقید ہے کہ عورت مکمل پردہ وبرقع کی حالت میں ہو، اور برقع بھی ایسا ہو جو پورے بدن کو چھپاتا ہو۔ دیدہ زیب و نقش ونگار والا، زرق برق، نظروں کو خِیرہ کردینے والا نہ ہو۔ نیز جس طرح مردوں کو حکم ہے کہ وہ عورتوں اور غیر محرم پر نظر نہ ڈالیں، اسی طرح عورتوں کو بھی حکم ہے کہ وہ غیر محرم مردوں پر نظر نہ ڈالیں، جب کہ گاڑی چلاتے وقت ہر طرح کے (یعنی جوان اور بڑی عمر کے) مردوں پر نظر پڑنا لازمی امر ہے، اس سے بچنا ممکن نہیں ہے، اور یہ فتنے کا باعث ہوسکتا ہے، نیز جب کوئی عورت اور نوجوان لڑکی گاڑی چلاتی ہے، تو مردوں کی نگاہیں اس کی طرف زیادہ مائل ہوتی ہیں، اور یہ بھی فتنے کا باعث ہے۔ اس لیے بلا ضرورت عورتوں کا شوقیہ گاڑی چلانا جائز نہیں ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ عورتوں کے لیے شدید ضرورت کی بنا پر، اور کوئی شرعی محذور نہ پائے جانے کی صورت میں پردے کے پورے اہتمام کے ساتھ یعنی برقع پہن کر چہرہ چھپاکر تو گاڑی چلانے کی اجازت ہے، لیکن بلاضرورت یا بے پردگی کے ساتھ نہ تو باہر نکلنا جائز ہوگا اور نہ ہی گاڑی چلانا جائز ہوگا۔ قرآن کریم میں ہے: ’’اور تم اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور قدیم زمانہ جاہلیت کے دستور کے موافق مت پھرو، اور تم نمازوں کی پابندی رکھو اور زکوٰۃ دیا کرو، اور اللہ کا اور اس کے رسول (علیہ السلام) کا کہنا مانو۔‘‘ (احزاب: 33)۔
انتہائی ضرورت کی حالت میں عورتوں کو گاڑی چلانے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے تلوار اٹھانا، نیزہ بازی، گھڑسواری، تیراکی وغیرہ جیسے تمام کاموں سے ایک اسلامی عورت کا آشنا ہونا بہت ضروری ہے تاکہ بوقتِ ضرورت ان تمام مہارتوں کا استعمال کیا جاسکے۔
ڈرائیونگ کے اہم اصولوں سے آشنائی ہر گاڑی چلانے والے کے لیے ضروری ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پوری دنیا میں ہر سال 21 لاکھ سے زائد لوگ ٹریفک کے حادثات میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ لہٰذا اچھا ہوگا کہ ہم اِس بات پر غور کریں کہ ہم احتیاط سے گاڑی کیسے چلا سکتے ہیں۔ آئیے اِس سلسلے میں کچھ عملی اقدامات پر غور کریں۔
اپنا جائزہ لیں: ’آسٹریلین جرنل آف سوشل ایشوز‘ نامی رسالے میں شائع ہونے والی رپورٹ میں بیان کیا گیا کہ حادثات کے امکان کو کم کرنے کے لیے ایک ڈرائیور کو گاڑی چلانے کی اپنی عادات میں بہتری لانی چاہیے۔ لہٰذا، گاڑی چلانے سے پہلے ایک شخص کو خود سے یہ پوچھنا چاہیے ’’کیا میں گاڑی چلانے کی حالت میں ہوں؟‘‘ تھکاوٹ کی صورت میں ایک ڈرائیور کے لیے فوری ردِعمل دکھانا مشکل ہوسکتا ہے۔ فلپائن میں نقل وحمل کے شعبے کے مطابق آپ کے جذبات جیسا کہ غصہ، پریشانی اور جوش آپ کے گاڑی چلانے پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ ایسی حالت میں آپ غیر دانش مندانہ فیصلے کرسکتے ہیں، یہاں تک کہ طیش میں آکر کوئی سنگین قدم اٹھا سکتے ہیں۔
اپنی مہارتوں کا جائزہ لیں: خاص طور پر ترقی پذیر ممالک میں، جہاں روزبروز سڑکوں پر گاڑیوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے وہاں نئے اور ناتجربہ کار ڈرائیوروں کی تعداد بھی بڑھتی جارہی ہے۔
محتاط ہوکر گاڑی چلائیں، چوکس رہیں: سڑک پر امکانی خطرات اور دوسرے ڈرائیوروں کی غلطیوں کے لیے تیار رہیں۔ اکثر گاڑیوں کے آپس میں ٹکرائو کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ڈرائیور آگے والی گاڑی کے بالکل پیچھے پیچھے گاڑی چلاتے ہیں۔ ایک اچھا ڈرائیور اپنی اور دوسری گاڑی میں مناسب فاصلہ رکھے گا۔
محض شیشوں پر بھروسا نہ کریں: یاد رکھیں کہ گاڑی کے اردگرد ایسی جگہیں ہوتی ہیں جو شیشے میں نظر نہیں آتیں۔ لہٰذا شیشوں کو استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ پیچھے کی طرف بھی نظر ڈالیں۔
پوری توجہ سے گاڑی چلائیں: ڈرائیونگ کرتے وقت ایسے کاموں سے گریز کریں جو آپ کا دھیان بٹا سکتے ہیں، جیسے کہ موبائل فون کا استعمال کرنا۔
موٹرسائیکل چلانے کی صورت میں: اعداد و شمار کے مطابق کسی حادثے کی صورت میں موٹر سائیکل چلانے والے کو گاڑی چلانے والے کی نسبت 73 گنا زیادہ موت کے خطرے کا سامنا ہوتا ہے۔
دوسروں کو نظر آئیں: پوری کوشش کریں کہ دوسرے آپ کو دیکھ سکیں۔ اپنی گاڑی کی ہیڈلائٹس کو جلائے رکھیں۔ ایسی جگہوں سے دور رہیں جہاں اگلی گاڑی کا ڈرائیور آپ کو شیشے میں نہیں دیکھ پائے گا۔
تحفظ کے لیے ضروری لباس پہنیں: تیز رنگ کے کپڑے پہنیں تاکہ دوسرے آپ کو دیکھ سکیں۔ نیز ہیلمٹ اور ایسے لباس کا استعمال کریں جو آپ کو زیادہ زخمی ہونے سے بچا سکتا ہے۔ بہت احتیاط سے چلائیں، ڈرائیونگ کرتے ہوئے یہ تصور کریں کہ دوسرے آپ کو نہیں دیکھ سکتے۔
اپنی گاڑی کا جائزہ لیں: ایک ڈرائیور کو ہر لحاظ سے تحفظ کا خیال رکھنا چاہیے۔ اپنی گاڑی کو اچھی حالت میں رکھیں۔ بریک اور گاڑی کے دیگر تمام حصوں کو ٹھیک حالت میں ہونا چاہیے۔ ٹائر کی پکڑ اتنی مضبوط ہونی چاہیے کہ گیلی سڑک پر گاڑی کے پھسلنے کا امکان کم ہو۔ ٹائر میں ہوا کا درست دبائو گاڑی کے اسٹیرنگ کو کنٹرول کرنے اور بریک لگانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ آج کل بہت سی گاڑیوں میں سیٹ بیلٹ لگائی جاتی ہیں۔ اگر اِنہیں استعمال نہ کیا جائے تو اِن کا کوئی فائدہ نہیں۔
گاڑی چلاتے وقت ہمیشہ موسم اور سڑک کی حالت کو ذہن میں رکھیں: برف باری یا گیلی سڑک گاڑی کو کنٹرول کرنے اور اِس کے رکنے کی رفتار پر اثرانداز ہوتی ہے۔ رات کے وقت ڈرائیونگ کرنے کے لیے ہیڈلائٹس کو ٹھیک حالت میں رکھیں۔ نیز گاڑی کی رفتار کم رکھیں۔ چونکہ زندگی خدا کی طرف سے تحفہ ہے اِس لیے ہمیں ہر لحاظ سے اِس کی حفاظت کرنی چاہیے۔ پس یہ بہت ضروری ہے کہ ہم محتاط طریقے سے گاڑی چلانا سیکھیں۔
گاڑی چلاتے وقت پیٹرول کی بچت:
پُرسکون طریقے سے گاڑی چلائیں: باربار رفتار بڑھانے اور بریک لگانے سے پیٹرول ضائع ہوتا ہے۔
جب گاڑی رکی ہو تو انجن بند کریں: آج کل عام طور پر گاڑی چلانے سے پہلے انجن کو گرم کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اگر گاڑی آدھے منٹ سے زیادہ دیر کے لیے روکنی ہے تو انجن کو بند کردیں۔
ٹائر میں ہوا کا دبائو مناسب رکھیں: جب ٹائر میں ہوا کا دبائو مناسب ہوتا ہے تو یہ زیادہ آسانی سے گھومتا ہے جس سے پیٹرول کی بچت ہوتی ہے۔
رفتار کم رکھیں: تیز رفتاری سے گاڑی چلانا خطرناک ہوسکتا ہے اور اِس میں پیٹرول بھی زیادہ لگتا ہے۔
اللہ ہم سب کو ناگہانی آفات سے دور رکھے۔ جاتے جاتے منہ کا مزہ بدلنے کے لیے ایک لطیفہ سنیے۔
بیوی: سنو! کیا تم میرے مرنے کے بعد دوسری شادی کرلو گے؟
شوہر: نہیں بیگم۔ تمہیں پتا ہے میں تم سے کتنا پیار کرتا ہوں۔ میں دوسری شادی نہیں کروں گا۔
بیوی: لیکن تم اتنی لمبی زندگی تنہا بھی تو نہیں گزار سکتے۔ شادی تو تہمیں کرنا ہوگی۔
شوہر: دیکھا جائے گا۔ اگر ضروری ہوا تو کرلوں گا۔
بیوی: (دکھ بھری آواز میں) کیا تم واقعی دوسری شادی کرلو گے؟
شوہر: بیگم! ابھی تم خود ہی تو زور دے رہی تھیں۔
بیوی: اچھا کیا تم اسے اِسی گھر میں لاؤ گے؟
شوہر: ہاں، میرا خیال ہے ہمارا گھر کافی بڑا ہے اور اسے یہیں رہنا ہوگا۔
بیوی: کیا تم اسے اسی کمرے میں رکھو گے؟
شوہر: ہاں، کیونکہ یہی تو ہمارا بیڈ روم ہے۔
بیوی: کیا وہ اسی بیڈ پر سوئے گی؟
شوہر: بھئی بیگم ظاہر ہے اور کہاں سوئے گی!
بیوی: اچھا کیا وہ میری جیولری استعمال کرے گی؟
شوہر: نہیں اس جیولری سے تمہاری سہانی یادیں وابستہ ہیں۔ وہ یہ استعمال نہیں کرسکے گی۔
بیوی: اور میرے کپڑے…؟
شوہر: پیاری بیگم! اگر مجھے شادی کرنا ہوئی تو وہ کپڑے بھی خود ہی لے کر آئے گی۔
بیوی: اور کیا وہ میری گاڑی بھی استعمال کرے گی؟
شوہر: نہیں، اسے گاڑی چلانا نہیں آتی۔ بہت دفعہ بولا لیکن وہ سیکھنا ہی نہیں چاہتی۔
بیوی: کیا………؟
شوہر: اوہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ

حصہ