اکادمی ادبیات کراچی کا مذاکرہ اور مشاعرہ

55

اکادمی ادبیات پاکستان کراچی کے زیراہتمام ’’ناول نگاری میں خواتین کا کردار‘‘ پر مذاکرہ اور مشاعرے کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت معروف شاعر اختر سعیدی نے کی۔ مہمان خاص ڈاکٹر نثار احمد نثار‘ اور پروین حیدر تھیں جب کہ خصوصی مقالہ ڈاکٹر راحیل نے پڑھا اس موقع پر اختر سعیدی نے کہا کہ علم و ادب کا ہر طالب علم جانتا ہے کہ ناول کہ ناول کا نام فرانسیسی زبان کا لفظ ’’وویلا‘‘ سے ہے جس کے معنی کہانی کے ہیں۔ سادہ لفظوں میں ناول ایک ایسی طویل کہانی ہے جو کسی زندگی کی داستان کو اس کی سارے تعلقات اور تنوع کے ساتھ پیش کرتی ہے۔ ناول براہ راست انگریزی ادب سے ہی لیا گیا ہے۔ انگریزی ناول کے انداز میں ہی اس کو لکھا گیا اور دیکھتے ہی دیکھے ادب پر چھا گیا لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ ہمارے یہاں قصے کہانیوں کا وجود نہ تھا یاداستان سرائی رائج نہ تھی۔ یہ کہنا واقعات سے انکار ہوگا البتہ ان قصوں کہانیوں اور ناولوں میں بہت بڑا فرق ہے۔ قصہ گوئی انسانیت کی ابتدا سے سے ملی ہے جب کہ ناول مہذب انسانوں کی ایجاد ہے۔ ناول میں زندگی کے مختلف تجربات اور مناظر ہوتے ہیں‘ واقعات کا ایک سلسلہ ہوتا ہے۔ ڈاکٹر نثار احمد نثار نے کہا کہ بقول ڈاکٹر عبدالسلام اردو ناول ایسے شخص کے ہاتھوں وجود میں آیا جو فنی تقاضوں سے ناواقف تھے اس اعتبار سے ڈپٹی نذیر احمد کویہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے تمثیلی تیکنیک کے ذریعے ایک ایسی صنف ادب کی بنیاد رکھی جو فی زمانہ انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ مجموعی طور پر ’’امرائو جان ادا‘‘ ایسا ناول ہے جو اردو ادب میں بڑی اہمیت کا حامل ہے لیکن طبقہ نسواں میں ڈپٹی نذیر احمد کو غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی اور نذیر احمد کی آواز کو خلق کی آواز بنانے کے لیے خواتین بھی کمربستہ ہوگئیں۔ یہ امر واقعہ ہے کہ عورتوں نے مردوں کے بہت بعد اس میدان میں قدم رکھا اور ان کے لکھے ہوئے ایسے قصے جنہیں ناول کی ابتدائی شکل کہا جاسکتا ہے‘ بیسویں صدی کے آغاز سے پہلے نہیں ملتے۔ ڈاکٹر نادیہ راحیل نے کہا کہ آج کے عہد تک نظر دوڑاتے ہیں تو یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ ڈپٹی نذیر احمد کا لگایا ہوا پودا ایک تناور درخت میں تبدیل ہو چکا ہے اس کے بعد ہندوستان بھر میں جس ناول کو شہرت ملی وہ مرزا محمد ہادی رسوا کا ناول امرائو جان ادا ہے لیکن کل کی طرح آج بھی یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ یہ ناوِل کب لکھا گیا یہ کہنا مشکل ہے اور یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ یہ ناول مرزا رسوا کے دوسرے ناولوں سے پہلے یا بعد میں لکھا گیا تاہم ایک بات صاف ہے کہ فنی اعتبار سے امرائو جان ادا نہایت مختلف ہے اس میں لکھنؤ کی تہذیب کی بلندی اور پستی دونوں ہیں اس میں 1857 کا غدر ہے۔ معروف شاعر‘ افسانہ نگار و ناول نگار عرفان علی عابدی نے کہا کہ تخلیق کار خواتین نے عورتوں اور مردوں کی زندگی کو خانوں میں تقسیم نہیں کیا بلکہ گھروں کے اندر ہونے والے استحصال کے خلاف قلم لے کر سامنے آئیں اور اپنی زندگی کو سنوارنے سجانے کی کوشش میں لگ گئیں اور زندگی کے بہتر علوم کو حاصل کرنے کی حمایت کی۔ عبدالمغنی کے لفظوں میں میرا بائی زیب النساء سے لے کر خواتین ہر دور میں کسی نہ کسی انداز اور نسبت سے اپنے فطرت اور حدود کے اندر رہتے ہوئے تہذیبی سرگرمیوں میں شریک رہیں۔ اکادمی ادبیات پاکستان کے ریزیڈنٹ ڈائریکٹر قادر بخش سومرو نے کہا کہ عورتوں کی نال نگاری کا اگلا دور تخیل تصور حقیقت صداقت مقصد فن سادگی حسن بیان جذباتیت توازن غور و فکر کی گہرائی اور نفسیات کے غلبے کا دور ہے اور اس دور میں ناول نگار خواتین نے اپنی نظر میں وسعت پیدا کرکے کہانیوں کے پس منظر میں زیادہ پھیلائو پیدا کیا ہے چنانچہ رفتہ رفتہ اس دور کے ناولوں نے فنی حیثیت سے ایک ایسا رتبہ حاصل کیا ہے کہ ان کے کارنامے مرد نال نگاروں کے لیے رشک کا باعث بنے ہیں۔ عورتوں کی ناول نگاری کی اس اہمدور میں جن میلانات کا عکس ان کے ناولوں میں نمایاں دکھائی دیتا ہے ان کا ایک تصور حجاب امتیاز علی اور صالحہ عابد حسین کی علاوہ عصمت چغتائی‘ رضیہ سجاد ظہیر‘ اے آر خاتون‘ فاطمہ مبین‘ قرۃ العین حیدر‘ خدیجہ مستور‘ جمیلہ ہاشمی‘ بانو قدسیہ‘ رضیہ فصیح‘ احمد رشیدہ رضویہ‘ الطاف فاطمہ‘ مرحب قاسمی‘ ڈاکٹر فردوس جہاں قاسمی‘ فردوس حیدر‘ عذرا اصغر اور رشیدہ حنا تک کئی نام آتے ہیں جنہوں نے قیام پاکستان کے بعد اس صنف ادب کو آگے بڑھایا‘ اس کی رہبری کی اور اسے نئی منزلوںتک پہنچایا۔ مشاعرے میں ڈاکٹر نثار احمد نثار‘ اختر سعیدی‘ پروین حیدر‘ ڈاکٹر نادیہ راحیل‘ شہناز رضوی‘ عرفان علی عابدی‘ وحید محسن‘ سید ضیا حیدر زیدی‘ شجاع الزماں خان‘ صدیق راز ایڈووکیٹ‘ عشرت حبیب‘ کوثر گل‘ الحاج نجمی‘ عبدالستار رستمانی‘ ارجمند خواجہ فرح دیبا‘ دلشاد احمد دہلوی‘ محمد رفیق مگل‘ تنویر سخن‘ ذوالفقار حیدر پرواز‘ حمیدہ کشش‘ قمر جہاں قمر‘ ارحم ملک‘ شکیل احمر‘ شاہد علی صوف ابڑو‘ نظر فاطمی‘ جمیل ادیب‘ سید فرخ جعفری نے اپنا کلام سنایا۔

عمارت کار ادبی فورم کا مشاعرہ

حیات رضوی امروہوی ایک سینئر شاعر ہونے کے علاوہ عمارت کار مجلّے کے مدیر اعلیٰ بھی ہیں‘ وہ انجینئرنگ کے شعبے سے وابستہ ہیںاور مختلف ممالک کا دورہ کر چکے ہیں‘ وہ آزاد خیال ادبی فورم کے پندرہ روزہ مشاعرے کے صدر کے طور پر بھی اپنی پہچان رکھتے ہیں۔ بدقسمتی سے ان کا پائوں پھسل گیا جس کے باعث ان کی ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ وہ گزشتہ چھ ماہ سے اپنے گھر پر آرام کرنے کے سبب ادبی محفلوں میں شریک نہیں ہو پارہے تھے لہٰذا انہوں نے اپنی رہائش گاہ پر مشاعرے کا اہتمام کیا جس کی صدارت سرور جاوید نے کی۔ مسلم شمیم مہمان خصوصی تھی اور حامد علی سید نے نظامت کے فرائض انجام دیے اس موقع پر سرور جاوید نے کہا کہ انہیں بڑی خوشی ہے کہ آج ہم حیات رضوی امروہوی کے ساتھ ان کے گھر پر مشاعرے سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ آج بہت اچھے اشعار پیش کیے گئے۔ سامعین میں اے خیام اور محمود اختر خان موجود ہیں یہ دونوں علم دوست شخصیات ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اربابِ سخن کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے میں ہونے والی ظلم و زیادتی کے خلاف آواز بلند کریں اور ادب اور زندگی میں چولی دامن کا ساتھ ہے اچھا ادب تخلیق کرنا ہماری ضرورت ہے۔ اس مشاعرے میں صاحب صدر‘ مہمان خصوصی اور ناظم مشاعرہ کے علاوہ حیات رضوی امروہوی‘ غلام علی وفا‘ شمش الغنی‘ اختر سعیدی‘ راقم الحروف ڈاکٹر نثار احمد‘ احمدسعید فیض آبادی‘ عبدالمجید محور‘ شاعر علی شاعر‘ نجیب عمر‘ علی اوسط جعفری‘ دلاور علی آذر اور قضی دانش صدیقی نے اپنا کلام نذر سامعین کیا۔ حیات رضوی امروہوی نے خطبۂ استقبالیہ میں تمام شرکائے محفل کا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ یہ اعلان بھی کیا کہ وہ ہر دو تین ماہ بعد مشاعرہ اور مذاکرہ ترتیب دیا کریں گے۔

مشاعرہ زبان و ادب کی ترقی کا اہم حصہ ہے‘ پروفیسر جاذب قریشی

مشاعرے ہر زمانے میں اردو زبان و ادب کی ترقی میں اہم کردار کے حامل رہے ہیں جو معاشرہ قلم کاروں کو نظر انداز کرتا ہے وہ ترقی نہیں کرسکتا کیوں کہ اربابِ سخن وہ طبقہ ہے جس کے ذریعے ہمارے سامنے بہت مسائل آتے ہیں‘ ان کا حل بھی اربابِ سخن بتاتے ہیں ادب معاشرے کا عکاس ہوتا ہے اور ہر شاعر معاشرے کا نباض ہوتا ہے۔ شعر و سخن کی محفل سجانا قابل ستائش اقدام ہے۔ بزم سراج الادب کے روح روں سراج الدین سراج قابل مبارک باد ہیں کہ وہ طویل عرصے سے ادبی پروگرام منعقد کر رہے ہیں۔ آج کے مشاعرے میں شہر کے بہت سے اہم شعرا موجود ہیں جنہوں نے بہترین اشعار پیش کیے۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر جاذب قریشی نے بزم سراج الادب کے مشاعرے کے موقع پر صدارتی خطاب میں کیا انہوں نے مزید کہا کہ کراچی میں بہت اچھے اشعار کہنے والے موجود ہیں انہیں تلاش کرکے سامنے لانا جائے میرے نزدیک آج کا مشاعرہ اس سال کا سب سے اچھا مشاعرہ ہے یہ ایک یادگار تقریب ہے‘ مشاعرے کا ٹیمپو کہیں بھی نہیں ٹوٹا۔ پروفیسر جاذب قریشی نے اس مشاعرے میں کئی اہم شعرا کا تعارف کرایا جس کو بہت سے لوگوں نے پسند کیا اور کئی حضرات نے اپنی ناپسندیدگی ظاہر کی۔ تقریب کے مہمان خصوصی پروفیسر ڈاکٹر شاداب احسانی تھے‘ سعیدالظفر صدیقی اور فیروز ناطق خسرو مہمانانِ اعزازی تھے جب کہ رشید خان رشید نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔ سراج الدین سراج نے خطبۂ استقبالیہ اور کلماتِ تشکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ اردو زبان و ادب کی خدمت کرنا ان کے مشاغلِ زندگی میں شامل ہیں۔ میں تقریباً 30 برسوں سے مشاعرے کرا رہا ہوں تاہم چند ناگزیر وجوہات کی بنا پر کچھ عرصے کے لیے یہ سلسلہ موقوف رہا ہے اب ان شاء اللہ تواتر کے ساتھ ادبی پروگرام ہوں گے۔ جو لوگ آج تشریف لائے ہیں میں ان کا ممنون و شکر گازار ہوں کہ ان کے دم سے مشاعرہ کامیاب ہوا۔ امید ہے کہ آپ اسی طرح سے میری حوصلہ افزائی کرتے رہیں گے۔ فیروز ناطق خسرو نے کہا کہ سراج بھائی کی حال ہی میں انجیو گرافی ہوئی ہے تاہم انہوں نے مشاعرہ ملتوی نہیں کیا یہ ان کا علم دوست ہونے کا واضح ثبوت ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر شاداب احسانی نے کہا کہ مشاعروں کا عمل جاری رہنا چاہیے اس سے ہمیں توانائی ملتی ہے مشاعرہ ہماری تہذیب و ثقافت کا آئینہ دار ہوتا ہے ہر زمانے میں اس ادارے نے لوگوں میں شعور بیدار کیا ہے۔ سعید الظفر صدیقی نے کہا کہ سراج الدین سراج کی ادبی خدمات سے انکار ممکن نہیں‘ ان کے کریڈٹ پر کئی شان دار مشاعرے موجود ہیں یہ اپنی مدد آپ کے تحت ادبی پروگرام کر رہے ہیں میں انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ مشاعرے میں صاحب صدر‘ مہمان خصوصی‘ مہمان اعزازی اور ناظم مشاعرہ کے علاوہ جن شعرا نے کلام نذر سامعین کیا ان میں ظفر محمد خان ظفر‘ ڈاکٹر رخسانہ صبا‘ اختر سعیدی‘ اجمل سراج‘ سلمان صدیقی‘ سلیم فوز‘ انور علی روِمی‘ حیدر حسنین جلیسی‘ سراج الدین سراج‘ راقم الحروف ڈاکٹر نثار‘ عبدالمجید محور‘ کشور عدیل جعفری‘ نظر فاطمی‘ شوکت جمال‘ رضی عظیم آبادی‘ یاسمین یاس‘ الحاج نجمی‘ تنویر سخن‘ یاسر سعید صدیقی‘ کاشف علی ہاشمی‘ عاشق شوقی‘ ظفر معین بلّے‘ علی کوثر‘ ہما اعظمی اور شائستہ سحر شامل تھے۔

غزلیں

فیصل محمود سید

برگشتہ بہت دیر زمانے سے رہا میں
پھر ہار کے بھی کون ٹھکانے سے رہا میں
اک عمر گزاری ہے تری یاد میں کھو کر
اس عمر میں اب آپ میں آنے سے رہا میں
میں گھر گیا جن میں وہ میرے لوگ نہیں ہیں
اس بھیڑ کو یہ بات بتانے سے رہا میں
ہم درد میرا درد سمجھتے ہی نہیں ہیں
ہر ایک کو تو زخم دکھانے سے رہا میں
چلتا ہوں کہ آتی ہے صدا کوہِ ندا سے
رخصت دو کہ اب لوٹ کے آنے سے رہا میں
کھلتا نہیں احوال مرا چاند کی مانند
کس کس کے شبستان میں بہانے سے رہا میں
اس شوخ کا در تھام کے رکھا جو ہمیشہ
در در نہیں بھٹکا تھا ٹھکانے سے رہا میں

سعید سعدی

دل کی بات زباں پر لائو پھر دیکھو تو
ہم کو اپنا حال سنائو پھر دیکھو
ہم تیری باتوں میں بھی آ سکتے ہیں
سچ میں تھوڑا جھوٹ ملائو پھر دیکھو
سورج‘ چاند ستارے توڑ کے لا دوں گا
تھوڑی سی امید دلائو پھر دیکھو
وحشت‘ ہو کا عالم سناٹا اور ہم
تم اپنے اطراف سجائو پھر دیکھو
اِس چہرے کے پیچھے کتنے چہرے ہیں
آئینے کے سامنے آئو پھر دیکھو
ویسے اکثر بنتے ہیں سقراط یہاں
تم لوگوں کو زہر پلائو پھر دیکھو
اجڑی بستی والو مت ہمت ہارو
کوئی زندہ شہر بسائو پھر دیکھو
ہر خواہش پوری ہو یہ ناممکن ہے
آنکھوں میں تم خواب سجائو پھر دیکھو
سعدیؔ وہ ٹوٹے ہوئے دل کی سنتا ہے
اس کے در سے آس لگائو پھر دیکھو

روحی جانان

مرا ہی ذکر مرے ہی بیاں سی لگتی ہے
تیری کہانی میری داستاں سی لگتی ہے
جو تیرا سنگ ہو موسم حسین لگتا ہے
بہار بھی تو تیرے بن خزاں سی لگتی ہے
کڑی ہے دھوپ مسافت طویل ہے تو کیا
تیری دعا بھی مجھے سائباں سی لگتی ہے
کمال یہ ہے مجھے اپنے دل کی دھڑکن بھی
تیرے وجود کی اب ترجماں سی لگتی ہے
یہ دن یہ رات ہی کیا ہے کہ زندگی جانانؔ
تیرے بغیر مجھے رائیگاں سی لگتی ہے

حصہ