اسرائیل کا تعلیمی نظام

116

عبدالحفیظ بٹ
۔ 14مئی 1948ء میں ارضِ فلسطین پربین الاقوامی سازش کے ذریعے ریاست اسرائیل کا وجودعمل میں لایاگیا۔اسرائیل اپنے محل وقوع کے اعتبار سے بحرِ احمرکے شمالی ساحل پر واقع ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جغرافیائی لحاظ سے یہ نہایت اہم مقام ہے۔ اسرائیل کی زمینی سرحدیں کچھ اس طرح ہیں کہ اس کے شمال میں لبنان اورگولان کی پہاڑیاں،مشرق میں اردن اورفلسطینی علاقہ مغربی کنارہ،شمال مشرق میں شام اورجنوب مغرب میں غزہ کی پٹی اورمصرواقع ہیں۔اس طرح اسرائیل ایشیا،افریقہ اوریورپ کے درمیان ایک پْل کی حیثیت اختیارکرگیاہے۔
اسرائیل کا کْل رقبہ 20ہزار7 سو70کلومیٹرہے۔تاہم اس رقبہ میں 1967ء کی عرب اسرائیل جنگ میں قبضہ کیے گئے عربوں کے علاقے بھی شامل ہیں۔ان مقبوضہ علاقوں کا مجموعی رقبہ 7ہزار99مربع کلومیٹرہے۔
اسرائیل کے مرکزی محکمہ برائے شماریات کے مطابق اسرائیل کی موجودہ آبادی 90لاکھ62 ہزارنفوس پر مشتمل ہے۔اس آبادی میں یہودی75فیصد ہیں۔عرب21 فیصد ہیں جبکہ4 فیصد دیگراقوام ہیں۔
اسرائیل کا دارالحکومت تِل ابیب ہے۔ یہ سائنس اور ٹیکنالوجی کا مرکز ہے۔ جب کہ دیگر شہروں میں بیت المقدس(یروشلم) اورساحلی شہر حیفہ قابلِ ذکر ہیں۔
بیت المقدس(یروشلم) کے بعد حیفہ اسرائیل کادوسرابڑااوراہم شہر ہے اسرائیل کی مجموعی آبادی کا55 فیصد ان شہروں میں سکونت پذیرہے۔ قابلِ ذکربات یہ ہے کہ اسرائیل نیحیرت انگیزطورپر2 ہزارسال پرانی عبرانی زبان کوزندہ کردیاہے۔ موجودہ اسرائیل میں جدید عبرانی زبان بولی جاتی ہے۔ عربی دوسری بڑی سرکاری زبان ہے۔ اگرچہ انگریزی بھی بولی جاتی ہے۔اسرائیل کے قیام کے ساتھ ہی اولین اقدام میں سے ایک اتوار کے بجائے ہفتہ کو سرکاری تعطیل کا اعلان تھا۔
اسرائیل میں یہ کہا جاتاہے کہ خدا کے بعد سب سے بڑا درجہ تعلیم کا ہے۔
اسرائیل کے طول وعرض میں تعلیم کو سورج کی روشنی اورہوا کی طرح مفت قراردیاگیا ہے۔ 1967میں ساری دنیا کے یہودیوں نے چندہ جمع کیا تاکہ ایک بڑا سینیگاگ (یہودی عبادت گاہ) تعمیر کیا جائے۔
یہ مجموی رقم ایک بلین امریکن ڈالر پر مشتمل تھی یہ تمام رقم جب اسرائیل کے چیف ربی (مفتی اعظم اسرائیل) کی خدمت میں پیش کی گئی توچیف ربی نے عبادت گاہ کی تجویز کو یہ کہہ کررد کردیا کہ ’’خداساری دنیا کا مالک ہے۔ساری شان و شوکت اسی کے لیے ہے۔ ہم کون ہوتے ہیں اس کے لیے ایک بلین ڈالر کی رقم کا محل تعمیر کرنے والے اس کی بندگی تو ہر جگہ سوتے جاگتے کی جا سکتی ہے۔ خدا کو جاننے کے لیے علم ضروری ہے۔ جاؤ اس رقم سے ایک تعلیم ٹرسٹ بناؤ تاکہ یہودی بے علم نہ رہیں‘‘۔اس طرح دنیا کا سب سے بڑاتعلیم ٹرسٹ 1970میں اسرائیل میں قائم کیا گیا۔
17مارچ 1969میں مسزگولڈامیراسرائیل کی وزیرِاعظم منتخب ہوئیں۔ وہ اسرائیل کی پہلی اور دنیا کی تیسری خاتون وزیرِاعظم تھیں۔ گولڈامیرپیشہ کے اعتبارسے ایک ٹیچرتھیں، لہٰذاانہوں نے اسرائیل کی ترجیحات میں تعلیم کو سرِفہرست رکھا۔اس کام کے لیے انہوں نے ایک نہایت عمدہ ایجوکیشن پالیسی پروگرام ترتیب دیا۔ جس کے مطابق اسرائیل میں صرف اُس شخص کو پڑھا لکھا تصورکیاجائے گا جو پی ایچ ڈی تک تعلیم حاصل کرے۔
ایجوکیشن پالیسی پروگرام کے لیے قابلِ قدررقم بجٹ میں مختص ہے،یہ رقم اسرائیل کی مجموعی ملکی پیداوارGDPکا6فیصد ہے،جبکہ سعودی عرب جو رقبہ اورآبادی میں اسرائیل سے کافی بڑا ہے تعلیم پر جی ڈی پی کا صرف 5 اعشاریہ 6 فیصد سالانہ خرچ کرتا ہے۔ اسرائیل کا ایجوکیشن پروگرام طلبہ کی تعلیم میں نمایاں کامیابی کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرتا ہے۔ پری اسکول، میڈل اسکول اور ہائی اسکول کی تعلیم، اساتذہ کی تربیت سازی، اعلیٰ درجے کی تعلیم پر خصوصی محنت اور توجہ اور پھر تمام مراحل کی مکمل جانچ پڑتال اور نگرانی کی جاتی ہے۔
تعلیمی پالیسی پروگرام کے افراد مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے سرکردہ محققین اور ماہرین پر مشتمل ہوتے ہیں جس میں وزارتِ تعلیم کے ڈائریکٹر جنرل، عبرانی اورعربی علوم کے ماہرین اور پالیسی تھنک ٹینکس شامل ہوتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ آج اسرائیل میں ہر شخص تعلیم یافتہ ہے اور خواندگی کا تناسب 98 فیصد ہے۔ بین الاقوامی یونیورسٹیز میں اسرائیلی طلبہ کا شمار سب سے زیادہ نمبرز حاصل کرنے والے طلبہ میں کیا جاتا ہے۔ اب تک 9 اسرائیلی سائنس دان مختلف شعبہ جات میں نوبل انعام حاصل کر چکے ہیں۔ دنیا کی 100 بہترین یونیورسٹیز میں اسرائیل کی 3 یونیورسٹیز بھی شامل ہیں۔
اسرائیل میں مطالعہ کا رجحان بہت زیادہ ہے۔ دنیا بھر سے منتخب کردہ کتب کے تراجم سرکاری سرپرستی میں وسیع پیمانے پر کیے جاتے ہیں۔ اس اعتبارسے اسرائیل دنیا میں پہلے نمبر پر ہے جب کہ کتابوں کی اشاعت میں اسرائیل دوسرے نمبر پر ہے۔
اقوامِ متحدہ ہو یا اُس کے ذیلی ادارے، بین الاقوامی مالیاتی ادارے ہوں یا دنیا بھر میں پھیلی ہوئی کثیرالملکی کمپنیاں الغرض آپ کو دنیا کے کلیدی اداروں میں اہم مناصب پر اسرائیلی دکھائی دیں گے۔
معیاری، مساوی اور مفت تعلیم کی بدولت اسرائیل کو ہنر مند اور تعلیم یافتہ افراد کی ایسی زبردست افرادی قوت حاصل ہوگئی ہے جس نے اسے دنیا کی 35 ویں بڑی معاشی طاقت بنا دیا ہے۔ معاشی خوشحالی کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیلی باشندوں کا معیاری زندگی پہلے نمبر پرہے جبکہ اسرائیلی کرنسی شیکل (Shekel) ایشیامیںدسویں نمبر پر ہے۔ ایک شیکل44 پاکستانی روپیہ کے برابر ہے۔ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ اسرائیل کو مشرقِ وسطیٰ کی واحد جمہوری ریاست ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

حصہ