محمدؐ کو جانیں، مانیں اور پیروی کریں

101

سید مہرالدین افضل
تیسرا حصہ

ہمیں اسلامی پاکستان سے پیار ہے

آج کل ریاست مدینہ کا بہت چرچا ہے! شہر میں مختلف بینرز لگائے گئے ہیں، جِس میں ریاست مد ینہ کی مُختلف خصوصیات لکھی ہوئی ہیں، بِلا شُبہ یہ خصوصیات دُرست ہیں اور جو ریاست اِن خصوصیات کو جتِنا زیادہ اپنے اندر لائے گی۔۔۔اُتنی زیادہ ریاست مدینہ سے قریب کہلائے گی۔ ریاستِ مدینہ کے بارے میں یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ ریاستِ مدینہ کوئی بنا بنایا، ماڈل نہیں تھا، جو ایک جگہ سے اُٹھا کر دوسری جگہ فٹ کر دیا گیا ہو، بلکہ یہ ایک فرد کی اَن تھک جد و جہد کا نتیجہ تھی، اِسی جِد و جہد کو واضح کرنے کے لیے یہ سلسلہ مضامین شروع کیا گیا ہے۔۔۔ آج آپ اِس کا تیسرا حِصہ پڑھ رہے ہیں۔ اِس تشہیری مہم سے، جو تاثر مِلتا ہے، وہ یہ ہے کہ کچھ لوگوں کو یہ بتایا جا رہا ہے، کہ تُم اور ریاست مدینہ؟ یہ منہ اور مسور کی دال!!! یہ تو ہمارا کام ہے۔ اِسلام کی ٹھیکے داری کا یہ ’’ماینڈ سیٹ‘‘ ہے، جو لوگوں کو اِسلام سے دور کرنے کا سب سے بڑا سبب ہے۔ اِس مہم میں دیا جانے والا ایک سلوگن (ہمیں اِسلامی پاکستان سے پیار ہے) اِنتہائی قابل توجہ ہے۔ بات تو اَیسی ہے جِس سے کوئی اِنکار نہیں کر سکتا، اِنکار کرے تو شدید قابل مذمت ہو گا۔ لیکن اِس سادہ بات سے، جو سوچ بنتی اور پروان چڑھتی ہے وہ اِنتہائی تباہ کن ہے۔۔۔ جب ہمارے رہنما اِنتہائی جذباتی ماحول میں اِس موضوع پر خطاب کرتے ہیں تو ہمارے نوجوان اِسے دل میں بسا لیتے ہیں، لیکن جب وہ حقیقی دُنیا کو دیکھتے ہیں تو اِس منزل کو بہت دور پاتے ہیں اور جب اُنہیں اَیسے لوگ ملتے ہیں جو اُن کے کانوں میں پھونکتے ہیں کہ پاکستان کو اِسلامی ملک کہنا بالکل غلط ہے۔ بلکہ یہ دار الکفر ہے اور ایک دار الکفر میں زِندہ رہنے سے مر جانا بہتر ہے۔ تو پھر کیوں نہ اکیلے مرنے کے بجائے، فُلاں کافر گروہ کو ساتھ لے کر مرو۔ تُم جنت میں جاؤ گے اور باقی سب جہنم میں جائیں گے اور تمہارے بعد اِسلامی پاکستان کی منزل قریب ہو جائے گی۔ گزشتہ کئی دہائیوں میں شعوری اِسلام پسند اپنے صالح نوجوانوں کا بہت نقصان اُٹھا چکے ہیں۔ (نوجوانوں سے قریبی رابطہ بھی ضروری ہے، ان کے کانوں میں جو زہر گھولا جاتا ہے، اس زہر کا تریاق بھی کانوں کے ذریعے ہی دیا جانا چاہیے۔ اس کے لیے سب سے پہلے نو جوانوں سے اِن کے خیالات سننا اور اُن کے ذہن میں پیدا ہونے والے سوالات معلوم کرنا بہت ضروری ہے اور یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اپنی گفتگو کو نوجوان ذہن کے سوالات و شبہات کے مطابق ترتیب دیں اور ون وے خطاب کے بجائے، تبادلہ خیال کا طریقہ اختیار کریں) اب ضرورت اِس بات کی ہے کہ ہم اپنے بیانات، خطابات، نعروں اور ترانوں کا جائزہ لیں اور اِس میں سے منفی رجحانات پیدا کرنے والے شاملِات کو نکالیں۔ اُصولی بات یہ ہے کہ مسلمان کو، اِسلام کو اور ہمارے رَب کو، تمام اِنسانوں کے رب کو، تمام اِنسانوں سے غیر مشروط پیار ہے۔ اِسی لیے تو وحی و رسالت کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ اِسی لیے تو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے جد وجہد کی۔ اِسی لیے تو ہمارا فرض ہے کہ ہم تما م اِنسانوں کو اُن کے غلط طرزِ عمل کے، دُنیا اور آخرت میں پیش آنے والے بُرے انجام سے ڈرا ئیں اور اچھا طرز عمل اختیار کرنے کی دعوت دیں اور دنیا اور آخرت کی بھلائی اور کامیابی کی خوش خبری اور بشارت دیں۔

حضرت محمد مصطفیٰؐ دور جدید کے بانی

آج دنیا میں کوئی بھی اِنسانوں کی فلاح اور بہتری کے لیے، سیاست، ریاست اور حکومت کے ذریعے کام کرنا چاہے تو وہ مجبور ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اور ریاست مدینہ کو کاپی کرے۔ چاہے وہ اپنے دَعوے میں سچا ہو یا جھوٹا، اور چاہے وہ اِس کا اعلان و اعترف کرے یا نہ کرے۔ آپ دنیا کی تاریخ پر ایک مجموعی نظر ڈالیں۔ آپ دیکھیں گے کہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم، جو ساڑھے چودہ سو برس پہلے کے تاریک دور میں، پیدا ہوئے تھے، دراصل دور جدید کے بانی اور تمام دنیا کے لیڈر ہیں۔ وہ صرف اُن ہی کے لیڈر نہیں، جو اُن کو لیڈر مانتے ہیں، بلکہ اُن کے بھی لیڈر ہیں جو اُنہیں نہیں مانتے، اُن کو اس بات کا احساس تک نہیں ہے کہ جن کے خلاف وہ زبان کھولتے ہیں۔۔۔ اُن کی رہنمائی کس طرح اُن کے خیالات میں، اُن کے اصولِ حیات اور قوانینِ عمل میں اور جدید دور کی روح میں رچی بسی ہے۔
آپ ﷺ سے پہلے ا ِنسان وہم کی پیروی کرتا تھا، اور وسوسہ کا شِکار تھا ، کوئی خیال آیا کہ یہ کام کرکے فائدہ ہوگا، چاہے اُس سے نقصان ہی ہو کر گزرے۔ کوئی منفی خیال آیا اور ایک نفع بخش کام کرتے ہوئے چھوڑ دیا۔ وہم اِنسان کی قوت عمل کو کمزور کرتا ہے۔ نتیجہ آپ کے سامنے ہے اِنسان کی ہزاروں سال کی تاریخ دیکھ لیجیے اس پر ترقی کے دروازے کھولنے والی ہستی، آپﷺ کی ذاتِ مبارک ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ”تم عقل سے کام نہیں لیتے” اورانسان نے وہم کو چھوڑ کر عقل سے کام لیا اور اُس پر ریاست ا ور معاشرت کی ترقی کے دروازے کھل گئے۔ آپ ﷺسے پہلے اِنسان کا حال یہ تھاکہ ہرچیز جس میں کوئی غیر معمولی بات نظر آتی۔ اُس کے سامنے اپنے آپ کو جھکالیتا، اور اپنی ذِلَّت، وپستی، کا اظہار کرتا۔ کوئی درخت صدیوں پرانا ہیاور بڑھتا جارہاہے۔ کوئی بکری مسلسل نر بچے پیدا کررہی ہے۔۔۔ آپﷺ نے بتایا کہ اِن اَشیا میں اَپنا کچھ نہیں، بلکہ سب اُس کا دیا ہوا ہے جس نے اِنہیں پیدا کیا، اُسی نے تمہیں بھی پیدا کیا ہے اور اِن اشیاء کا علم تمہارے باپ آدم علیہ السلام کو دیا تھاکہ تم اِنہیں تسخیرکرو۔ یہ سب تمہارے خدمت گار ہیں اور تم اللہ کے بندے ہو اور اس طرح اِ نسان عجوبہ پرستی، کو چھوڑ کر تسخیرکائنات کی جانب متوجہ ہوا۔ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم، نے دُنیا کے تصورات کا رخ، توہمات اور عجائب پرستی اور رہبانیت کی طرف سے ہٹاکر۔ عقلیت اور حقیقت پسندی اور متقتیانہ دنیاداری کی طرف پھیردیا۔ اُنھوں نے اَخلاق اور روحانیت کے بنیادی تصورات کو بدلا۔ جو لوگ ترکِ دُنیا، اور نفس کُشی کو عین اَخلاق سمجھتے تھے، جن کے نزدیک اَپنے نفس ا ور جِسم کے حقوق ادا کرنے اور دُنیاوی زندگی کے معاملات میں حصہ لینے سے روحانی ترقی اور نجات ممکن ہی نہ تھی۔ اُن کو انھوں نے تمدن اور سماج اور دنیوی عمل کے اندر فضیلتِ اَخلاق، روحانی ترقی اور حصول نجات کا راستہ دکھایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِنسان کو اُس کی حقیقی قدروقیمت سے آگاہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ اِنسان اور تمہارے ہی جیسا اِنسان، آسمانی بادشاہت کا نمائندہ اور خداوند عالم کا خلیفہ ہو سکتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھایا کہ اِنسان سوائے انسان کے اور کچھ نہیں ہے۔ نہ کوئی شخص پاکیزگی اور حکمرانی اور آقائی کا پیدائشی حق لے کر آیا ہے اور نہ ہی کسی پر ناپاکی اور محکومیت اور غلامی کا پیدائشی داغ لگا ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم نے دنیا میں وحَدتِ اِنسانی اور مساوات اور جمہوریت اور آزادی کے خیالات پیدا کیے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی لیڈر شپ کے عملی نتائج دنیا کے قوانین اور طریقوں اور معاملات میں اِس کثرت سے موجود ہیں کہ اُن کا شُمار مُشکل ہے۔ اخلاق اور تہذیب، شائستگی اور طہارت و نظافت کے کتنے ہی اصول ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم سے نکل کر تمام دنیا میں پھیل گئے ہیں۔ معاشرت کے جو قوانین آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنائے تھے۔ دُنیا نے کس قدر ان کی خوشہ چینی کی، اور اب تک کیے جاری ہے۔ معاشیات کے جو اُصول آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکِھائے تھے اُن سے دُنیا میں کتنی تحریکیں پیدا ہوئیں اور اَب تک پیدا ہوئے جارہی ہیں۔ حکومت کے جو طریقے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اَختیار کیے تھے، اُن سے دنیا کے سیاسی نظریات میں کِتنے اِنقلابات برپا ہوئے اور ہورہے ہیں۔ عدل اور قانون کے جو اُصول آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وَضَع کیے تھے، اُنھوں نے دُنیا کے عدالتی نظاموں اور قانونی اَفکار کو کِس قدر متاثر کیا اور اَب تک اُن کی تاثیر خاموشی سے جاری ہے۔ جنگ اور صلح اور بین الاقوامی تعلقات کی تہذیب جس ذات پاک نے عملاً دنیا میں قائم کی، وہ دراصل حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، ورنہ پہلے دنیا اِس سے ناواقف تھی کہ جنگ کی بھی کوئی تہذیب ہوسکتی ہے اور مختلف قوموں میں مُشترک اِنسانیت کی بنیاد پر بھی معاملات ہونے ممکن ہیں۔ انہوں نے 23 سال کے اندر 12 لاکھ مربع میل میں پھیلے ہوئے ریگستان کے منتشر، جنگجو، جاہل، سرکش، غیر متمدن اور ہمیشہ آپس میں لڑنے والے قبائل کو، پریس، ٹی وی، ریڈیو اور اِنٹر نیٹ کی مدد کے بغیر، ایک مذہب، ایک تہذیب، ایک قانون اور ایک نظام حکومت کا تابع بنا دیا۔ اُنہوں نے ان کے خیالات بدل دیے۔ اُن کے اَخلاق بدل دیے۔ اُن کی ناشائستگی کو اعلیٰ درجے کی شائستگی میں، ان کی وحشت کو بہترین مدنیت میں، ان کی بدکرداری اور بد اخلاقی کو صلاح و تقویٰ اور مکارم اخلاق میں، اُن کی سرکشی اور اَنارکی کو اِنتہا درجے کی پابندیٔ قانون اور اِطاعت اَمر میں تبدیل کردیا۔ اُس بانجھ قوم کو، جس کی گود میں صدیوں سے کوئی ایک بھی قابل ذِکر اِنسان پیدا نہ ہوا تھا، اُنہوں نے اَیسا مردم خیز بنادیا کہ اُ ن میں سے ہزار وں با ہمت رہنما بن گئے، اورانسانوں کو کو دین اور اَخلاق اور تہذیب کا درس دینے کے لیے تمام دنیا میں پھیل گئے۔ آپ یقین کریں اگر محمد ﷺ یہ دکھ نہ جھیلتے تو انسانوں کو کوئی سکھ نہ ملتا اور دنیا کبھی کی لپیٹی جا چکی ہوتی۔ (ماخوذ اَز رسالت محمدی کا عقلی ثبوت)۔
اللہ سُبٰحانہٗ و تعٰالیٰ ہَم سَب کو اَپنے دین کا صحیح فہم بخشے، اَور اُس فہم کے مُطابق دین کے سارے تقاضے، اَور مُطالبے پُورے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ۔
وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

حصہ