فارن فنڈنگ اور لنگر خانہ

199

وزیراعظم عمران خان نے ’عوامی وعدے‘ نبھاتے ہوئے پہلے تو ’شیلٹر ہوم‘ شروع کیے، اور اب ’لنگر خانوں‘ سے عوامی خدمت کا سلسلہ شروع کیا۔ مگر کیا کریں، ناقدین ہوں یا مخالفین، کسی حال میں خوش نہیں۔ سوشل میڈیا پر خان صاحب کی سالگرہ، پھر دورۂ چین، اور جاتے جاتے لنگر خانے کا افتتاح سوشل میڈیا پر ایک اور موضوع برائے گفتگو، تنقید و تبصرہ رہے۔ اکثریت کا کہنا تھا کہ غریبوں کو ہنر سکھا کر کسی کام کے لائق بنانے کے بجائے بھکاری بناکر لائن میں لگا دینا حکومت کو زیب نہیں دیتا۔ مچھلی پکڑنا سکھائیں، مچھلی نہ پکڑائیں۔ یہ اُن ہزاروں پوسٹوں میں سب سے معقول اور مناسب تنقیدی تجزیہ تھا جو کہ غریبوں کی غربت دور کرنے اور اُنہیں ہمیشہ کی محتاجی سے نکالنے کی جانب مثبت انداز سے متوجہ کررہا تھا۔سابقہ اہلیہ ریحام خان کہتی ہیں کہ ’’ایک کروڑ نوکریوں والے اب لنگر دے رہے ہیں، اگر آپ کو لنگر ہی چلانا ہے تو حکومت پھر داتا دربار والوں کو دے دیتے ہیں۔ ‘‘اب جس جس نے بھی لنگر خانے پر تنقید کی مثبت یا بے تکی…اس کے ساتھ یوتھیو ںنے جو کچھ کیا وہ میں یہاں تحریرنہیں کرسکتا۔ اسی طرح ایک اور مہذب تنقید یہ بھی تھی:’’ذرا غور کریں،ہم عمران کے ساتھ ہیں، مگر جہاں کوئی بہتر بات سمجھ آ ئے تو تعریف کرنی چاہیے۔ کیا ہاتھوں سے کما کر کھانے میں فخر وعزت محسوس ہوتی ہے یا مفت کھانے میں ؟یہ لنگر پیشہ ور بھکاریوں، نشہ کرنے والوں کے لیے تو بہتر، مگر سفید پوش لوگوں کو اس میں بہت شرم آتی ہے۔‘‘
ایک جانب ملکی سیاست میں مولانا فضل الرحمن کا ’مارچ نما دھرنا‘ اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ سوشل میڈیا پر بھی چھایا ہوا تھا۔ اس کی بدولت پیپلزپارٹی، نون لیگ اور پی ٹی آئی کے بعد جے یو آئی کا سوشل میڈیا ونگ بھی متحرک نظر آنے میں لگا رہا، مگر ان کے ٹوئٹر فالوورز ابھی صرف 36 ہزار تک ہی پہنچے ہیں۔ اس محاذ پر انہیں مستقل شدید محنت کی ضرورت ہے۔ مارچ کی اضافی پبلسٹی اور زیادہ جوش و ولولے سے شرکت کروانے کے لیے پہلے تو حکومت سخت ماحول بناتی رہی۔ اس کے لیے وزراء و دیگر کے بیانات جلتی پر تیل چھڑکتے رہے۔ لیکن سوشل میڈیا پر تو ان کی ٹیم کئی ہاتھ آگے نکل گئی۔ تحریک انصاف نے اِس بار بھی مخالفین کو سائیڈ لگانے کے لیے حد سے زیادہ بد اخلاقی کا مظاہرہ کیا۔ ممکنہ طور پر 27 اکتوبر کو اسلام آباد میں ہونے والے اس ’آزادی مارچ‘ کے لیے کوئی 22 دن قبل جاری کیے گئے ’ازخود ہدایت نامہ‘ میں فوٹو شاپ سے الفاظ کی بدترین تبدیلی کرکے سوشل میڈیا پر خوب وائرل کیاگیا۔ ازخود اس لیے بھی کہ 22۔25دن قبل کوئی ہدایت جاری کرنے کی معقول وجہ نہیں بنتی، خصوصاً ایسے ماحول میں جب مارچ کا انعقاد ہی سوالیہ نشان بنا ہوا ہو۔ ویسے یوتھیوں نے اپنے اس کریہہ عمل سے پہل کرکے باقیوں کو بھی لائن کرائی۔ یاد رہے کہ مخالف کو بدنام کرنے کی پریکٹس ہماری انتخابی سیاسی تاریخ میں کئی بار ہوچکی ہے۔ میاں نوازشریف بھی بے نظیر بھٹو کے خلاف 1993ء کی الیکشن مہم کے دوران ہیلی کاپٹر سے بے نظیر بھٹو کی تصاویر والے ’پرچے‘ پھنکوا چکے ہیں۔ہیلی کاپٹر سے پھینکے گئے پرچے تو محدود دائرے اور ووٹر کی رائے سازی تک محدود تھا لیکن سوشل میڈیااس سے کہیں زیادہ وسیع ابلاغی دائرہ کار رکھتا ہے۔ ایم کیو ایم نے کراچی میں’سیتا وائٹ‘ و دیگر کو انصاف دلانے کی جدوجہد شہر کے در و دیوار پر بھرپور انداز میں کی تھی۔ یوتھیوں نے ویسے ہی مولانا فضل الرحمن کی شخصیت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہوا تھا۔ اب کی بار ’آزادی مارچ‘ کے تناظر میں جو غلیظ حرکت جمعیت علمائے اسلام کے سرکلر کو بنیاد بناکر کی گئی اس کی کوئی بھی دلیل کسی کو بھی قبول نہیں۔ اب معاملہ یہ ہے کہ جب اس ’سرکلر‘کی تصویری پوسٹ کو وفاقی وزیر فواد چودھری جیسے افراد ٹوئٹ کریں گے جن کے کوئی 2.5 ملین فالوورز ہوں تو پھر مزید کیا ہوگا، یہ آپ سوچ سکتے ہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ بعد میں انہوں نے ٹوئٹ ڈیلیٹ کردی تھی، لیکن مقصد تو پورا ہوگیا ناں۔ دنیا نیوز کے ایک ٹی وی پروگرام میں فواد چودھری نے ڈھٹائی کے ساتھ یہ بیان دیا کہ ’’ہمارے خلاف جو ٹرینڈ چلتے ہیں تب کیوں نہیں مذمت ہوتی، اور پی ٹی آئی کی تمام سوشل میڈیا ٹیم انتہائی مہذب ہے‘‘۔ ویسے یہ بتانا بھول گیا تھاکہ جے یو آئی نے بھی اس کی وضاحت جاری کی کہ ایسا کوئی سرکلر جاری ہی نہیں ہوا، لیکن پانی سر سے گزر چکا تھا۔ اس معاملے کو لے کر سیکولر طبقات نے دینی مدارس پر خوب لعن طعن کی اور تمام مولوی حضرات کو بلا وجہ سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
پاکستان سری لنکا سیریز نے بھی شائقینِ کرکٹ کو سوشل میڈیا پر احساسات وجذبات کی ترجمانی میں مصروف رکھا۔ پاکستان نے ٹی ٹوئنٹی سیریز میں جس طرح تینوں میچوں میں کارکردگی دکھائی وہ یا تو دیگر ممالک کو پاکستان میں آنے کی دعوت کے لیے تھی، یا پھر واقعی کارکردگی ہی تھی۔ ویسے ہمیشہ کی طرح کئی ہیش ٹیگ ٹرینڈ کی صورت اختیار کرگئے۔ کئی میم بنیں۔ خواتین سوچ رہی تھیں کہ اتنا مہنگا ٹکٹ لینے سے بہتر تھا کہ لان کا سوٹ ہی لے لیتیں۔ کئی پاکستانی کرکٹ شائقین بے چارے کپتان سرفراز کی تصاویر پر غصہ نکالتے نظر آئے۔ ایک دوست لکھتے ہیں کہ ’’عمران، بزدار اور سرفراز میں رابطہ…کارکردگی پر اطمینان کا اظہار! سلیکٹرز حیران و پریشان‘‘۔ ویسے جو کوچ مصباح اور کپتان سرفرازکی ذمہ داری والی پریس کانفرنس ہوئی اس پر بھی دلچسپ تبصرے جاری رہے: ’’ہر سیریزکے بعد بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے، لیکن یہ تو بدترین کارکردگی کی ذمہ داری ایسے قبول کررہے ہیں جیسے طالبان خودکش حملے کی فوراً ذمہ داری قبول کرتے تھے۔‘‘
اسی طرح کشمیر کے زخموں کو بھی سوشل میڈیا پر تازہ رکھا گیا۔ یہ تو سب نے دیکھ لیا کہ کشمیر کے لیے تقریر کرنے والوں کی کوئی کمی نہیں، لیکن تقریر سے کچھ بھی نہیں ہوتا۔ کشمیر لاک ڈاؤن میں ستّر دن پورے کررہا ہے۔ الم ناک داستان روزانہ سوشل میڈیا کی کسی نہ کسی صورت داستان بنتی ہے۔ اسی ہفتے بھارت نے فرانس سے رافیل جنگی طیارے اپنی فضائیہ کے لیے خریدے تو اس کی کسی تعارفی تقریب کی تصاویر وائرل ہوگئیں جن میں ہندو مذہب کی کوئی رسم جہاز کے ساتھ لیموں اور ناریل کے چڑھاوے کی صورت کی گئی۔ اس پر پاکستان کو جب بھارتیوں نے مینشن کیا تو پاکستان کی جانب سے کرارا جواب ملا اور #Runaway_IAF یعنی بھگوڑی انڈین ایئر فورس کا ہیش ٹیگ ٹرینڈ کی صورت اختیار کر گیا۔ ساتھ ہی بھارت میں بھی مودی مخالف جذبات رکھنے والوں نے #RafalePujaPoliticsکے نام سے ہیش ٹیگ کو ٹرینڈ بنایا۔ جب سے انڈیا نے رافیل خریدا ہے ہر پاکستانی نے چولہے پر چائے کی دیگچی چڑھا رکھی ہے کہ ہم چائے سے بھی طیارے گرا لیتے ہیں۔ رافیل کا نام سن کر کلبھوشن کی طرف خیال چلا جاتا ہے، اور پھر ان دو لفظوں کا مفہوم سمجھ میں آتا ہے: رافیل یعنی راء-فیل۔ ویسے اس پر بھی ٹرینڈ ہونا چاہیے تھا۔ 15 ارب روپے کا رافیل طیارہ بھارت نے لیا، پھر وزیر صاحب نے پوجا کے نام پر اس کا پینٹ ہی برباد کر دیا ناریل، لیمو اور دوسرے لوازمات سے نظر اتارنے کے لیے، اور صرف اس لیے کہ پاکستان کے جہاز ان کو تباہ نہ کردیں۔ اگر 15 ارب روپے کے طیارے پر ایک لیموں خرچ کرکے ہی بچانا ہے تو پھر چوڑیاں پہن کر گھر بیٹھ جاؤ بھارتیو! ویسے لیموں پر لگ رہا ہے نمک ہم ہی لگائیں گے۔ ان کی پوجا پاٹ ان کے کسی کام نہیں آے گی، کیونکہ ان کے پاس ابھی نندن جیسے پائلٹ ہیں، اور پاکستان کے پاس اللہ کے شیر، اللہ کے مجاہد ایم ایم عالم کے نقشِ قدم پر چلنے والے حسن جیسے جوان ہیں۔
اسی طرح پاکستان تحریک انصاف کا بیرونِ ملک فنڈنگ کیس بھی توجہ حاصل کررہا ہے اور مخالفین کو بدلہ لینے کا خوب موقع فراہم کررہا ہے۔ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کی کیس روکنے یا خفیہ کرنے کی درخواستیں مسترد کردیں۔ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔ اب اس پر اسرائیل اور انڈیا کی بھاری فنڈنگ کے الزامات پوری شدت کے ساتھ سرائیت کرتے جا رہے ہیں، جو معمولی بات نہیں ہے۔ سب جانتے ہیں کہ پاک فوج اور حکومت ’ایک پیج‘ پر ہیں، اور اگر اس پیج کے پیچھے خدانخواستہ انڈیا اور اسرائیل کی فنڈنگ نکل آئی تو جان لیں یہ وہ الزامات تھے جو مولانا فضل الرحمن 2013ء سے عمران خان پر لگاتے آرہے تھے، اور پھر ملعونہ آسیہ کی رہائی، اسرائیلی طیارے کی اسلام آباد موجودگی، قادیانی نواز عمل، اور اسرائیل تسلیم کرنے کی باتوں کو جوڑنا مشکل نہیں ہوگا۔ مشہورِ زمانہ اور پانچ سال سے رینگتا ہوا پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس بالآخر اپنی منزلِ مقصود پر پہنچ رہا ہے۔ الیکشن کمیشن میں اس بابت دورانِ سماعت بتایا گیا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو تحریک انصاف کے خفیہ 23 اکاؤنٹس کے بارے میں تفصیلات مل گئی ہیں۔ اب جب صادقوں اور امینوں کی دُم پر پورا پاؤں پڑا ہے تو وہ چیخ رہے ہیں کہ اسکروٹنی کمیٹی سے متعلق غلط خبریں چلوائی جا رہی ہیں اور اس حوالے سے خبریں چلوانے کا مقصد بدنام کرنا ہے، لہٰذا کمیٹی کی کارروائی باہر نہ جانے دی جائے۔ حقائق یہ ہیں کہ اسٹیٹ بینک نے جس’اسکروٹنی کمیٹی‘ کو تحریک انصاف کے خفیہ 23 اکاؤنٹس کے بارے میں بتایا ہے، اس کمیٹی کی ہر میٹنگ میں تحریک انصاف کی نمائندگی موجود ہوتی تھی۔ اب چونکہ پی ٹی آئی کے اربوں روپے کے فراڈ کا کٹّا کھلنے والا ہے بلکہ سمجھیے کہ کھل چکا ہے، اس لیے صادق، امین اب منہ چھپانے کے لیے معلومات لیک کرنے کا بہانہ بناکر راہِ فرار اختیار کررہے ہیں۔ اس کیس کے مدعی اکبر ایس بابر پی ٹی آئی کے بانیوں میں سے ایک ہیں اور ایک عرصے تک عمران خان کی صداقت اور دیانت کے بارے میں کالم لکھتے رہے ہیں۔ نومبر 2014ء سے اس کیس کی پیروی کرتے کرتے حقیقی معنوں میں بابر صاحب کی جوتیاں گھس گئی ہیں، ان کی ہمت قابلِ داد ہے اور ان کی ہمت کے طفیل ہی اٹھارہ ماہ کے طویل وقفے کے بعد آج سے الیکشن کمیشن آف پاکستان کا تین رکنی بینچ اس کیس کی باضابطہ سماعت کررہا ہے۔ واضح رہے فارن فنڈنگ کے اس کیس میں پی ٹی آئی فنڈ کے نام پر بیرونیِ ممالک میں دو آف شور کمپنیاں جو عمران خان کے نام سے رجسٹرڈ ہیں، ان کے ذریعے پاکستان میں تین ملین ڈالر کی خطیر رقم پارٹی کے مختلف عہدیداروں اور ان کے ملازمین کے نام پر منتقل کی گئی، اور یہ تمام پیسہ غیر قانونی طریقے سے یعنی ہنڈی کے ذریعے پاکستان منتقل ہوا۔ اب دیکھنا ہے نیو ریاست ِ مدینہ کے خلیفہ کہلوانے والے عمران خان سے ’’صادق‘‘ اور ’’امین‘‘ ہونے کا اعزاز کب واپس لیا جاتا ہے۔‘‘ اسی طرح ایک اور پوسٹ بھی وائرل رہی کہ ’’یاد رکھیں!70 برسوں سے اسٹیبلشمنٹ جب بھی کسی وزیراعظم کی چھٹی کرانا چاہتی تو وہ کبھی بھی کروا سکتی ہے۔ جب پانامہ سے اقامہ نکل سکتا ہے تو پھر الیکشن کمیشن یا سپریم کورٹ سے کسی بھی طریقے سے پھٹیچر نیازی کی نااہلی ہوسکتی ہے۔ ویسے اہم بات یہ ہے کہ پہلے خوب چوری کرو پھر وزیراعظم بن جاؤ اور استثنیٰ لے لو۔ یہ تو بالکل این آر او جیسا ہی ہوا ناں۔ فارن فنڈنگ کیس میں ’’صدر اور وزیراعظم کو آرٹیکل 248 کے تحت استثنیٰ حاصل ہے، اٹارنی جنرل کا سپریم کورٹ میں جواب۔ ریاست مدینہ اور حضرت عمرؓ کے کرتے کی مثالیں دینے والے عمران خان نے پہلے ہی احتساب میں عدالت سے استثنیٰ مانگ لیا۔’’فارن فنڈنگ کیس‘‘ بھی احتساب سے فرار اور قول و فعل میں تضاد کی واضح مثال ہے۔‘‘اب دیکھیں کہ غریبوں، مسکینوں کو کھانا کھلانا حکومت کے لیے کتنا کام آتا ہے،کیونکہ بہرحال ایک جانب مولانا، تو دوسری جانب یہ فارن فنڈنگ کیس، پھر ناکام دورۂ چین کی بازگشت ایک عذاب کی صورت ساتھ ساتھ نازل ہوئی ہیں۔

حصہ