شہر مظلوم: کراچی لاوارث کیوں؟۔

134

کراچی لاوارث کیوں؟ یہ وہ سوال ہے جو آج کراچی کے ہر باشعور شہری کی زبان پر ہے۔ سندھ حکومت میں شامل گزشتہ تیس برسوں کے دوران برسراقتدار حکومتی جماعتیں جن میں پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم، تحریک انصاف شامل ہیں، اور خاص طور پر بلدیہ عظمیٰ کراچی میں واضح برتری کے ساتھ میئر شپ رکھنے وا لی جماعت بھی کراچی شہر کے بنیادی مسائل کو حل کرنے میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دیتی ہے۔ کچرا نہ اٹھنا، صحت و صفائی کے فقدان اور ٹرانسپورٹ جیسے بنیادی مسائل ان تیس برسوں میں ہمالیہ پہاڑ کی صورت کراچی کے شہریوں کے سامنے کھڑے ہیں۔ ان مسائل سے چشم پوشی اور اختیارات کے نہ ہونے کا ڈھول پیٹنے کے سوا مذکورہ جماعتوں نے کراچی کے حوالے سے کوئی کام نہیں کیا۔ گزشتہ دنوں کراچی میں شہری و بلدیاتی مسائل کے حل کے لیے نمایاں خدمات انجام دینے والی جماعت اسلامی کی ذیلی تنظیم ’پبلک ایڈ کمیٹی‘ کے زیراہتمام ایک سیمینار بعنوان ’’کراچی لاوارث کیوں؟‘‘ کا انعقاد کیا گیا۔ یہ تقریب کراچی میں سات سال پہلے وقوع پذیر ہونے والے دلخراش سانحۂ بلدیہ فیکٹری میں لسانی جماعت کے ہاتھوں زندہ جلا کر مار دئیے جا نے والے 259 مزدور مرد و خواتین شہدا اور گزشتہ ایک ماہ کے دوران کے۔ الیکٹرک کمپنی کی غفلت اور ناا ہلی کے سبب چند ہی لمحوں میں جاں بحق ہوجانے والے 40 شہدا کے لواحقین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔ شرکاء و متاثرین کی بڑی تعداد تقریب شروع ہونے سے بہت پہلے ہی پنڈال میں موجود تھی۔ جونہی تقریب کا آغاز ہوا، شرکا کی نگاہیں دائیں بائیں موجود بڑی بڑی الیکٹرک اسکرینوں پر جم گئیں جن سے ایک ویڈیو ڈاکومینٹری کے ذریعے کراچی کو تیس سال سے درپیش مسائل سے آگاہ کیا گیا۔ اس مختصر اور نہایت جامع ویڈیو کا اختتام مشہور نظم ’شہرِ مظلوم‘ پر ہوا جس میں سانحۂ بلدیہ فیکٹری کی منظرکشی کی گئی تھی۔ مزید یہ کہ حالیہ بارشوں میں کرنٹ لگنے سے ہلاک ہونے والے، ہیٹ ویوز سے ہلاک ہونے والے دوہزار افراد، اور سانحہ بلدیہ کے حوالے سے لائیو مناظر پر مشتمل ڈاکومینٹری رپورٹ بھی پیش کی گئی، جسے دیکھ کر شرکاء یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ملک کو ستّر فیصد ریونیو فراہم کرنے والا شہر قتل و غارت گری، بھتہ خوری اور لاقانونیت کی بھینٹ چڑھا دیا گیا؟
پنڈال میں سانحہ بلدیہ فیکٹری اور کے۔الیکٹرک کے ہاتھوں مارے جانے والے شہداء کی قد آدم تصاویر آویزاں تھیں، جن پر شرکاء نے گلاب کی پتیاں نچھاور کرکے ان سب کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔
اس تقریب کے مہمانِ خصوصی امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن تھے، جبکہ سول سوسائی سے تعلق رکھنے والی شخصیات میں سندھ بار کے صدر عاقل ایڈووکیٹ، پاکستان بزنس فورم کراچی چیپٹر کے شکیل ہاشمی، یونین کونسل سوسا ئٹی زون کے جنید مکاتی، کنٹونمنٹ بورڈ کلفٹن کے چیئرمین ذکر محنتی اور چیئرمین کلفٹن بورڈ جناب حنیف میمن، سربراہ پبلک ایڈ کراچی جناب سیف الدین ایڈووکیٹ، آرٹس کونسل کے رکن گورننگ باڈی شکیل خان،انٹر نیشنل این جی او کے نمائندے محمد عامر، زین امام ملک، شعراء کرام میں رونق حیات، اختر سعیدی، سید شائق، نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان کے مرکزی جوائنٹ سیکریٹری خالد خان کے علاوہ وکلاء، دانشوروں، صحافیوں اورطلبہ تنظیموں کے نمائندوں سمیت ہر طبقہ زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔
امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے تقریب اظہارِ یکجہتی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب پورا نظام ہی قاتلوں کا سرپرست بن جائے تو مظلوموں کو کیسے انصاف مل سکتا ہے؟35 برس سے کراچی یرغمال بنا ہوا ہے، تمام سیاسی پارٹیوں اور حکومتوں نے ذاتی مفاد کے لیے ایم کیو ایم کے ساتھ تعاون کیا، سانحہ بلدیہ فیکٹری کے لواحقین اور ورثا سے بھی تمام پارٹیوں اور حکومتوں نے صرف وعدے کیے لیکن کسی نے انصاف فراہم نہیں کیا، کے الیکٹرک کی غفلت کے باعث کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہونے والوں کے ورثا بھی انصاف کے منتظر ہیں،35ارب روپے سالانہ منافع کمانے کے باوجود کے الیکٹرک نے کراچی میں بجلی کی ترسیل کا نظام ٹھیک نہیں کیا، 40، 60 اور 80گز کے مکانات پر لاکھوں روپے کا بل بھیج کر عوام کوذہنی ٹارچر کیا جارہا ہے، جماعت اسلامی نے کے الیکٹرک کے خلاف عوامی جدوجہد کی ہے اور عوام کا مقدمہ بھرپور طریقے سے لڑا ہے، اورعدالتِ عظمیٰ میں بھی مقدمہ دائر کیا ہوا ہے، لیکن مقدمے کی کارروائی آگے نہیں بڑھ رہی ہے۔ عوام چوروں، ڈاکوئوں اور لٹیروں کا ساتھ نہ دیں، سچائی اور ایمان داری کا ساتھ دیں۔ حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہاکہ کے الیکٹرک کے سربراہ عارف نقوی وزیراعظم کے ذاتی دوست ہیں اسی لیے اُن کے خلاف کارروائی نہیں کی جاتی۔ کراچی میں پی ٹی آئی کے 14ایم این اے اور درجنوں ایم پی اے ہونے کے باوجود انہوں نے کراچی کو کچھ نہیں دیا، وزیراعظم پاکستان نے کراچی کے لیے 162ارب روپے کے پیکیج کا اعلان تو کیا لیکن عملاً وہ بھی اب تک ادا نہیں کیے۔ پی ٹی آئی کے 80 فیصد ایم این اے اور ایم پی اے ڈیفنس میں رہتے ہیں جنہیں کراچی کے مسائل کے بارے میں معلوم ہی نہیں ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ کوئی بھی پارٹی کراچی کے لوگوں کے ساتھ سنجیدہ نہیں، جماعت اسلامی واحد جماعت ہے جس نے کراچی کی رہنمائی کو اپنی ذمے داری سمجھا۔ عوام دھوکا نہ کھائیں، سراب کے پیچھے نہ بھاگیں، سچائی اور امانت داری کا ساتھ دیں۔ جماعت اسلامی ہمیشہ سے مظلوموں، محروموں اور مجبورو ں کے ساتھ ہے اور آئندہ بھی ساتھ رہے گی۔ سیف الدین ایڈووکیٹ نے کہا کہ پبلک ایڈ کمیٹی جماعت اسلامی عوامی مسائل کے حل کے لیے جدوجہد کررہی ہے۔ یہاں کے الیکٹرک اور نادرا سیل کا انعقاد کیا گیا ہے، روزانہ کی بنیاد پر شناختی کارڈ اور کے الیکٹرک کی جانب سے بھیجے جانے والے غلط بلزکے حوالے سے شہری دفتر ادارہ نورحق آتے ہیں۔
صدر پبلک ایڈ کمیٹی جماعت اسلامی کراچی سیف الدین ایڈووکیٹ نے اپنی گفتگو میں پبلک ایڈ کمیٹی کے اب تک سماجی و شہری مسائل کے حل کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ انھوں نے وکلاء کی مدد سے کے الیکٹرک کے سی او سمیت دیگر ذمہ داران کے خلاف عدالت میں مقدمہ کیا ہوا ہے، اسی طرح بلدیہ فیکٹری کے متاثرہ خاندانوں کو معاوضے کی یکمشت ادائیگی کے لیے بھی عدالت میں مقدمہ کیا ہے جو آخری مراحل میں ہے۔
اس تقریب میں کے الیکٹرک کی غفلت و لاپروائی اورکرنٹ لگنے سے جاں بحق ہونے والوں کے ورثا اور سانحہ بلدیہ کے لواحقین اور ورثا نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور حکومت سے انصاف کی فراہمی کی فریاد کی۔
اس موقع پر انتہائی جذباتی مناظر بھی دیکھنے میں آئے جب شہدا کے لواحقین نے اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔ کوئی آنکھ ایسی نہ تھی جو اشکبار نہ ہوئی ہو۔ کے الیکٹرک کے ہاتھوں جاں بحق ہونے والے نوسالہ بچے محمد عمر کی والدہ سے جب ان کے تاثرات لیے گئے تو انہوں نے بتایا کہ عمر اکلوتی اولاد تھا جو نو سال کی دعاؤں کی دین تھا، مگر تین منٹ کی بارش اور کے۔الیکٹرک کی غفلت نے ان کے اکلوتے سہارے کو چھین لیا۔ ڈیفنس میں کرنٹ لگنے سے تین نوجوان دوست ایک ساتھ ہی لقمہ اجل بن گئے، ان میں سے ایک نوجوان شہید حمزہ بٹ کے والد جذبات سے نڈھال تھے، انہوں نے کہا کہ کے۔الیکٹرک کراچی کے شہریوں کی قاتل ہے اس کو ضرور سزا ملنی چاہیے۔ نوجوان ارشاد بچہ اپنا انٹر کا رزلٹ لینے نکلا تھا کہ اس کو بارش میں کرنٹ لگا اور وہ موقع پر ہی شہید ہوگیا، اس کے والد بچانے آئے، ان کے دونوں ہاتھ مفلوج ہوگئے، نوجوان ارشاد کی والدہ اپنے تاثرات بیان کرنے کے بعد مزید کچھ اور بیان کرنے سے قاصر تھیں۔ اسی طرح سانحہ بلدیہ فیکٹری کے شہدا کے لواحقین بھی اپنے پیاروں اور جگر گوشوں کی تصاویر لیے بڑی تعداد میں موجود تھے۔ یہ مناظر انتہائی المناک تھے۔ ان متاثرہ خاندانوں میں سے ایک شہید کے والد نے بتایا کہ ان کے دو جوان بیٹے اس فیکٹری میں کا م کرتے تھے اور اس ناگہانی آگ کا دونوں ہی شکار ہوکر شہید ہوگئے، اب گھر میں کمانے والا کوئی نہیں رہا۔ ایک باپ ایسا بھی موجود تھا جس کو جب بیٹے کے جل کر مر جانے کی خبر ملی تو وہ صدمے میں چلا گیا، اور سات سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود اب تک صدمے سے باہر نہیں نکل پایا ہے، اور اعصابی نظام کے مفلوج ہوجانے کے سبب سات سال سے آج تک وہ کھڑا رہتا ہے۔ بیٹھنے اور چلنے پھرنے سے معذور ہے۔ ایک خاندان ایسا بھی تھا جس میں میاں بیوی دونوں ہی فیکٹری میں شہید ہوئے۔ اب صرف تین چھوٹے بچے ہیں جن کی پرورش نانی کررہی ہیں۔
اس موقع پر پبلک ایڈ کمیٹی کے جنرل سیکریٹری نجیب ایوبی (راقم الحروف) نے اپنے خطاب میں یہ انکشاف کیا جو بہت حیرت انگیز تھا کہ ’’سانحہ بلدیہ فیکٹری میں جاں بحق ہونے والوں کی اصل تعداد340ہے جبکہ ریکارڈ پر صرف 259 درج ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ڈیلی ویجز پر کام کرنے والے 70افراد کے نام ان شہدا کے ناموں میں نہیں ڈالے گئے۔ اس انکشاف کی تصدیق اُس وقت ہوئی جب ایک شہید کے والد نے اپنے تاثرات بتاتے ہوئے کہا کہ ان کا بیٹا ڈیلی ویجز پر کام کرتا تھا، اس دن تنخواہ ملنی تھی، جب اس کا لڑکا اپنے دوستوں کے ساتھ فیکٹری میں گیا تو آگ لگ گئی اور وہ واپس نہ آسکا۔ اس کی لاش کی بہت تلاش کی، مُردہ خانے چھان مارے، بالآخر معلوم ہوا کہ کچھ سوختہ لاشیں تھیلوں میں بند سیکٹر آفس میں الگ رکھی گئی ہیں اور ان کے بیٹے کی لاش بھی وہیں ہے۔ وہ جب لاش لینے پہنچے تو ان سے کہا گیا کہ دو لا کھ روپے میں لاش حوالے کریں گے، تاکہ اس کے بیٹے کا نام متاثرین کی فہرست میں ڈالیں اور اس کی لاش حوالے کریں۔ بوڑھا باپ دو لا کھ نہ جمع کروا سکا اور یوں اسے اپنے بیٹے کی لاش بھی نہیں مل سکی۔ جناب جنید مکاتی نے اپنی یونین کونسل میں قائم انصاف کمیٹی کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ 2002ء سے اس یوسی میں انصاف کمیٹی قائم ہے جہاں چوری، ڈکیتی، قتل، طلاق سمیت متعدد مسائل پر 15سے 20دن میں فیصلے کردیے جاتے ہیں لیکن پاکستان کی عدالتیں 20سال تک مقدمے کا فیصلہ نہیں کرپاتیں۔ سانحہ بلدیہ فیکٹری کو 7سال کا عرصہ ہوچکا ہے، گواہوں کی موجودگی کے باوجود فیصلہ نہ کرنا عدلیہ کے لیے سوالیہ نشان ہے۔ سندھ ہائی کورٹ بار کے صدر محمد عاقل ایڈووکیٹ نے کہا کہ موجودہ نظام اپنی افادیت کھو بیٹھا ہے، سانحہ بلدیہ کیس کے حوالے سے ذاتی طور پر چیف جسٹس آف پاکستان اور چیف جسٹس سندھ کو درخواست پیش کروں گا اور کوشش کروں گا کہ مظلومین کو انصاف فراہم ہوسکے۔

شہر مظلوم

نجیب ایوبی

شہرِ مظلوم سن یہ ہے نوحہ ترا
سن یہ نوحہ کہ تیرا جو مزدور ہے
کتنا بے بس ہے یہ کتنا مجبور ہے
کارخانوں کی رونق ترے دم سے تھی
عظمت ِدو جہاں جس کا منشور ہے
شہر ِمظلوم سن یہ ہے نوحہ ترا
یوں کہ مسجد تری کارخانے ترے
آج ماتم کدہ ہیں گھرانے ترے
روز آتی ہے اک جان لیوا خبر
کس کو فرصت کہ لکھے فسانے ترے
شہر ِمظلوم سن یہ ہے نوحہ ترا
ہر طرف آگ ہے ہر طرف الامان
جاں بچاتی ہوئی بھاگتی بچیاں
بین کرتی ہوئی جا بجا بیبیاں
کھل نہ پائیں مگر آہنی کھڑکیاں
شہرِ مظلوم سن یہ ہے نوحہ ترا
گارے مٹی سے لپٹے سنہرے بدن
کوئلہ بن گئے ہنستے بستے بدن
چاند کہہ کر پکارا تھا ماں نے جسے
تھک کے سویا ہے اب کیسے پہنے کفن
شہرِ مظلوم سن یہ ہے نوحہ ترا
کتنے بے حس ہیں یہ کس قدر سنگ دل
جانتے ہیں سبھی پھر بھی انجان ہیں
کون کھولے زباں کون بولے یہاں
سب کے اپنے الگ عہد و پیمان ہیں
شہرِ مظلوم سن یہ ہے نوحہ ترا
امن کے دیوتا کچھ تو،تُو ہی بتا
کارِ تخریب سے کس کو کیا مل گیا
سن یہ نوحہ کہ تیرا جو مزدور تھا
آج روٹی کمانے میں ما را گیا
شہرِ مظلوم سن یہ ہے نوحہ ترا

حصہ