سفر میرا تعاقب کررہا ہے

120

قدسیہ ملک

کہاں آرام لمحہ بھر رہا ہے
سفر، میرا تعاقب کر رہا ہے

کچھ عرصے پہلے کی بات ہے، گھر میں گاڑی کھڑی تھی، سوچا ڈرائیونگ بھی سیکھ لی جائے۔ اس غرض سے محلے کے ایک ڈرائیونگ اسکول میں داخلہ لے لیا۔ ہمارے ڈرائیونگ استادکی گاڑیوں کی اپنی ورکشاپ تھی۔ اسی جگہ ایک کمرے میں اتوار کے اتوار ہماری تھیوری کلاسز ہوتی تھیں۔10 ہزار روپے کے کورس میں 6 دن ڈرائیونگ کی کلاس ہوئی۔ تھیوری کی کلاس میں تیسرے روز ہم سے مزید 10 ہزارروپے مستقل لائسنس کی مد میں مانگے گئے، جو ہماری طرح بیشتر لڑکیوں نے دینے سے انکار کیا تو انہوں نے ہمیں لرننگ لائسنس دینے سے بھی انکار کردیا۔ کہا کہ اگر آپ اپنا مستقل لائسنس نہیں بنوانا چاہتیں تو لرننگ لائسنس بھی خود نکلوا لیں۔ جو ہم نے دوسرے دن ہی جاکر مفت میں نکلوا لیا، اور کچھ عرصے بعد مستقل لائسنس بھی۔ لیکن اس ڈرائیونگ اسکول کے چکر میںاپنے اتنے سارے پیسے گنوائے، نہ ڈرائیونگ صحیح سے آئی، نہ ڈرائیونگ سیٹ پر خود اعتمادی… لیکن اس کی کمی ہمارے گھر ہی میں پوری ہوگئی۔ لیکن اس تجربے سے تمام ڈرائیونگ اسکولوں سے نہ صرف یہ کہ اعتماد اٹھ گیا بلکہ کراچی میں آئے روز ہونے والے ٹریفک حادثات کی اصل وجہ بھی سمجھ میں آگئی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق شہر کراچی میں 38 لاکھ گاڑیاں رجسٹرڈ ہیں لیکن لائسنس صرف 12 لاکھ لوگوں نے حاصل کیا ہے۔ اس حساب سے 26 لاکھ سے زائد لائسنس کا اجراء ممکنہ طور پر ہونا ہے۔
رمضان رفیق ڈان نیوز میں لکھتے ہیں کہ یورپ میں جرمانوں کی وجوہات کچھ اس طرح کی بھی ہوتی ہیں، جیسے دو ٹریک والی سڑک پر تیز ٹریک میں ہی چلتے جانا، سڑک پر اس طرح گاڑی چلانا کہ دوسرے ڈرائیور آپ کی وجہ سے آہستہ گاڑی چلانے پر مجبور ہوں، غلط سائیڈ سے اوورٹیک کرنا، سارے مسافروں کے لیے سیٹ بیلٹ نہ ہونا، ایک سے زیادہ ٹون والا ہارن استعمال کرنا، اپنی گاڑی کی ساخت سے بڑی گاڑی کا ہارن استعمال کرنا، گاڑی کا دھواں چھوڑنا، ٹائروں کا مقررہ حد سے زیادہ گھسا ہونا، بچوں کو ان کی مخصوص نشست کے بغیر بٹھانا، بلاوجہ یا بار بار ٹریک تبدیل کرنا آپ پر جرمانہ کروا سکتا ہے۔ لیکن جرمانوں کے اس نظام سے پہلے وہ ڈرائیوروں کو اس حد تک تعلیم دے چکے ہوتے ہیں کہ وہ اپنی گاڑی اور ڈرائیونگ کی قابلیت کے بارے میں بہتر اندازہ کرسکتے ہیں۔ مزید برآں سڑک پر چلنے کے آداب بچوں کو اسکول سے ہی سکھانے شروع کردیے جاتے ہیں۔
تسنیم نیوز میں غلام مرتضیٰ جعفری بھی ٹریفک حادثات کی چند اہم وجوہات بیان کرتے ہیں:
گاڑی چلانے کی مہارت سکھانے والے اداروں کا فقدان: دنیا بھر میں سرکاری سطح پر ڈرائیونگ اسکول بنے ہوئے ہیں اور گاڑی چلانے کا خواہش مند ہر شخص کئی دنوں تک اسکول جاتا ہے اور اسے باقاعدہ طور پر ٹریفک قوانین کے ساتھ ساتھ گاڑی چلانے کی مہارت بھی سکھائی جاتی ہے۔ ہمارے ہاں اس قسم کا نظام نہ ہونے کے برابر ہے، اکثر لوگ اپنے رشتے داروں یا دوستوں سے گاڑی چلانا سیکھ لیتے ہیں، اور ایسا کرنا جرم بھی نہیں سمجھتے، جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں مخصوص ادارے ہی ڈرائیونگ سکھانے کے مجاز ہوتے ہیں۔
ناتجربہ کار ڈرائیور: پوری دنیا میں ڈرائیونگ لائسنس (گاڑی چلانے کا اجازت نامہ) وصول کرنا سخت ترین مرحلہ ہوتا ہے، لیکن ہمارے ملک میں اس کی کوئی اہمیت ہی نہیں ہے۔ بس کسی دوست یا رشتے دار سے گاڑی چلانا سیکھ لی اور ملکی شاہراہوں پر 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گاڑی دوڑانا شروع کردیتے ہیں۔ کبھی کبھار کہیں کوئی چیکنگ ہوجائے تو رشوت یا سفارش کے ذریعے جان چھڑانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
مسلسل کئی گھنٹوں تک گاڑی چلانا: بسوں اور ٹرکوں کے ڈرائیور اکثر و بیشتر مسلسل سولہ سولہ گھنٹے سے زائد ڈرائیونگ کرتے ہیں، جو کہ تھکن اور نیند کی وجہ سے خوفناک حادثے کا شکار ہوتے ہیں۔
جعلی لائسنس کی روک تھام نہ ہونا: یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ملک بھر میں ہزاروں افراد ایسے ہیں جن کے پاس لائسنس تو ہے لیکن انہوں نے کسی تربیت گاہ یا اسکول کا دروازہ تک نہیں دیکھا، بس کسی متعلقہ ادارے کے افسرکو چند پیسے دیے اور لائسنس حاصل کرلیا۔ رشوت لے کر اس طرح جعلی لائسنس دینے والے افسران کے خلاف بھرپور کارروائی ہونی چاہیے اور معاشرے کے ہرفرد کی ذمہ داری ہے کہ اس قسم کے خائن افراد کی موجودگی کی اطلاع قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دے۔ یہ ہمارا قومی، شرعی اور انسانی فریضہ ہے، اور قانون نافذکرنے والے اداروں کو چاہیے کہ ملک بھر میں جعلی لائسنس کی روک تھام کے لیے کیو آر کوڈ لائسنس متعارف کرائیں، تاکہ جعلی لائسنس جاری کرنے والے افراد کی حوصلہ شکنی ہوسکے۔
ملک بھر میں یکساں لائسنس کا اجراء نہ ہونا: پاکستان کے ہر صوبے میں الگ الگ قسم کے لائسنس کارڈ جاری کیے جاتے ہیں جس کی وجہ سے ٹریفک پولیس اہلکاروں کو مشکلات کا سامنا کرنے کے ساتھ ساتھ جعلی کارڈ کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ لائسنس کارڈ قومی شناختی کارڈ کی طرح مرکز’’اسلام آباد‘‘ سے ہی جاری کیا جائے تاکہ جعلی کارڈ کی روک تھام میں بھی مدد مل سکے۔
ٹریفک قوانین کی عدم پاسداری: ٹریفک حادثات کی اہم ترین وجہ معاشرے میں ٹریفک قوانین سے عدم آشنائی اور قوانین پر عمل درآمد نہ ہونا ہے۔ اکثر ڈرائیور حضرات ملکی شاہراہوں پر لگے سائن بورڈ کی علامتوں اور اشاروں پر عمل کرنے کی کوشش ہی نہیں کرتے، کیونکہ انہیں کسی قسم کے جرمانے کا خوف نہیں ہوتا۔ معاشرے میں سگنل توڑنا جرم نہیں سمجھا جاتا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے علاوہ علمائے کرام بھی اس سلسلے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ علمائے کرام کو باقاعدہ طور پر فتویٰ جاری کرنا چاہیے کہ سگنل توڑنا شرعاً حرام ہے۔
موبائل فون کا استعمال: گاڑی چلاتے وقت موبائل کا استعمال ٹریفک قوانین میں ممنوع قرار دیا جاچکا ہے۔ اس کے باوجود اکثر اوقات دیکھنے میں آتا ہے کہ گاڑی چلانے والا بغیر کسی خوف کے موبائل استعمال کرتا ہے اور کوئی روکنے والا نہیں ہوتا۔ اب تک کی تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ موبائل کا استعمال ہی روڈ حادثات میں اہم ترین وجہ بن کر سامنے آیا ہے۔ موبائل پر کال آتے ہی جواب دینے کی کوشش کی جاتی ہے، اور جواب دینے والا اس بات سے بالکل غافل ہوتا ہے کہ سامنے سے فون پر کیا خبر دی جائے گی۔ کبھی کبھار فون پر بری یا اچھی خبر ملنے سے انسان اپنی اصلی حالت میں نہیں رہتا، جس کی وجہ سے تصادم کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے، کیونکہ ڈرائیور کی توجہ بٹ جاتی ہے۔ نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی ایڈمنسٹریشن (NHTSA) امریکا کی رپورٹ کے مطابق گاڑیوں کے کُل ایکسیڈنٹ میں سے تقریباً 25 فیصد ایکسیڈنٹ دوران ِ ڈرائیونگ موبائل فون کے استعمال کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ ڈرائیونگ کے دوران موبائل فون کا استعمال کرنے والے نوجوان کا کسی ایمرجنسی کی صورت میں ردعمل ایک 70 سال کے بوڑھے آدمی کے برابر ہوجاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ شاہراہوں پر ڈرائیونگ کے دوران موبائل فون پر واٹس ایپ یا ٹیکسٹ میسج کرنا بہت ہی خطرناک ثابت ہوتا ہے۔ لہٰذا اگر بہت ایمرجنسی ہو تو فوری طور پر گاڑی روک لی جائے اور پھر بات کی جائے۔ ٹریفک قوانین لاگو کرنے والے پولیس افسران کی ذمہ داری ہے کہ ڈرائیور کو دورانِِ ڈرائیونگ ہاتھ میں موبائل فون پکڑے دیکھ لیں تو اُس کا فوری طور پر چالان کردیں تاکہ وہ دوبارہ اس قسم کی غلطی نہ کرے۔
سڑکوں پر سفید اور زرد لائنوں کا نہ ہونا: دنیا بھر میں سڑکوں پر سفید یا زرد رنگ کی خاص علامتی لکیریں کھینچی جاتی ہیں تاکہ گاڑی چلانے والے کو آسانی ہو، اور دوسرے ڈرائیور کے لیے پریشانی کا باعث نہ بنے۔ ڈرائیونگ کے لیے ان لائنوں کا جاننا انتہائی ضروری ہے۔
گاڑی کا فٹنس ٹیسٹ سرٹیفکیٹ نہ ہونا: دنیا کے اکثر ممالک میں کسی بھی گاڑی کو ’’فٹنس ٹیسٹ سرٹیفکیٹ‘‘ کے بغیر ٹرمینل سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی جاتی، لیکن ہمارے ملک میں یہ نظام برائے نام ہے۔ ملک بھر میں دھواں چھوڑتی اور شور مچاتی ہزاروں گاڑیاں سڑکوں اور قومی شاہراہوں پر دوڑتی نظرآتی ہیں، اور یہی گاڑیاں روزانہ درجنوں شہریوں کو خاک وخوں میں غلطاں کردیتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ فٹنس سرٹیفکیٹ اور روٹ پرمٹ کے بغیرچلنے والی گاڑیوں اور کمپنیوں کی رجسٹریشن بھی منسوخ کروائی جائے۔
مسافر بسوں میں ہنگامی دروازہ نہ ہونا: مسافر بسیں بنانے والی دنیا کی معروف کمپنیوں نے ہر بس میں کم سے کم دو دروازے اور ایک ہنگامی دروازے کا ہونا لازمی قرار دیا ہے، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان میں اکثر بسوں کا ایک ہی دروازہ ہوتا ہے، اور حادثے کی صورت میں مسافروں کے پاس نکلنے کے لیے راستہ ہی نہیں ہوتا۔
آگ بجھانے والے آلات اور فرسٹ ایڈ باکس کا نہ ہونا: ہمارے ہاں مسافر بسوں میں آگ بجھانے والے آلات اور فرسٹ ایڈ باکس نہ ہونے کے برابر ہیں، جس کی وجہ سے کسی بھی حادثے کی صورت میں متعدد مسافر زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔
مسافر گاڑی کو مال بردار گاڑی کے طور پر استعمال کرنا: دنیا کے اکثر و بیشترممالک میں گاڑیوں کی چھتوں پر سامان رکھنے کے لیے کوئی اسٹینڈ نہیں بنا ہوتا۔ اگرکسی گاڑی کی چھت پر ’’سامان کے لیے‘‘ مخصوص جگہ ہو بھی، تو سامان رکھنے کی حد معین اور سامان بندھا ہوا ہونا شرط ہے۔ ہمارے ہاں خاص کر سرحدی علاقوں کی اکثر مسافر بسوں کو مال بردار گاڑی کے طور پر استمعال کیا جاتا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ مسافر بسوں کی چھتوں پر پیٹرول سے بھرے ڈرم اور گیس سے بھرے سیلنڈر بھی دیکھنے کو ملتے ہیں جس کی وجہ سے آئے روز خوفناک حادثات پیش آتے رہتے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔
گاڑی میں حد سے زیادہ مسافر سوار کرنا: مسافر بسوں میں حد سے زیادہ افراد سوار کرنا بھی آئے روز حادثات کا سبب بن رہا ہے۔ بعض اوقات تو مسافر بسوں کی چھتوں پر بھی لوگوں کو سفرکرتے دیکھا جاسکتا ہے۔ بس یا کسی بھی گاڑی کی چھت پر سوار ہوکر سفر کرنا نہایت خطرناک ہے۔ اس قسم کی تجارت کرنے والی بس کمپنیوں کے خلاف کارروائی کی ضرورت ہے۔
پرانی گاڑیوں کا بے دریغ استعمال: ملک بھرمیں ہزاروں ایسی گاڑیاں سڑکوں پر دوڑتی نظرآرہی ہیں جو استعمال کے قابل ہی نہیں ہیں۔
نشہ آور چیزوں کا استعمال: عمومی طور پر ڈرائیور نشے میں دھت گاڑی چلاتے ہیں جس کی وجہ سے حادثات رونما ہوتے ہیں۔ ڈرائیونگ لائسنس کے اجراء کے لیے قوانین پر سخت عمل درآمد کرایا جائے۔ ڈرائیونگ لائسنس نشے کے عادی افراد کو ہرگز نہ دیا جائے۔ ڈرائیونگ لائسنس کے اجراء سے پہلے ان کا میڈیکل ٹیسٹ کرایا جائے اور آئندہ بھی اس علت میں ملوث ہونے پر ڈرائیونگ لائسنس منسوخ کیا جائے۔
(جاری ہے)

حصہ