حُسن و گَنج

112

عروج دبیر
جدید تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ ڈھلتی عمر کا سب سے پہلا اثر انسانی جسم کے جس حصے پر ہوتا ہے وہ سر ہے۔ یہ اثر خواتین اور مردوں پر مختلف ہوتا ہے کہ عمر کے ساتھ ساتھ خواتین کا سر اندر سے جبکہ مردوں کا باہر سے خالی ہونے لگتا ہے۔ اس تحقیق کا یہاں ذکر کرنے کا واحد مقصد مردوں کو excite کرنا تھا تاکہ وہ اس مضمون کو مکمل پڑھ لیں۔
اظہار نہ کرنے والے مرد گُھنے ہوتے ہیں اور شریف کہلاتے ہیں۔ اس کے برعکس اظہار کردینے والے مرد معاشرے کی مکمل توجہ حاصل کرلیتے ہیں، سب ان پر کڑی نگاہ رکھتے ہیں، چنانچہ مجبوراً انہیں شریف بنا رہنا پڑتا ہے۔ چونکہ عورتیں بطور علامتِ حسن ہر طرف موجود ہیں سو اپنی فطرت اور عادت سے مجبور نیک مرد ان کو سراہنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ لہٰذا معاشرے میں بہت عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں مگر خواتین ان سے مناسب فاصلہ رکھتی ہیں۔
ان نیک مردوں کو میں کھڑکی کہتا ہوں اور اس طرح کی اصطلاحات صرف اجمل سراج اور علی فیصل کی ایما پر ایجاد ہوتی ہیں۔ ویسے آپ چاہیں تو کھڑکی کی جگہ کوئی اور ہم وزن لفظ استعمال کرسکتے ہیں۔ ایسے مرد کہیں بھی ہوں کھڑکی ہی بن جاتے ہیں، کیونکہ کھڑکی کا ایک اہم کام تانک جھانک میں مدد دینا بھی ہے۔
قدرت نے عورت کو حسن سے نوازنے کے معاملے میں بہت فیاضی سے کام لیا ہے۔ عورتوں پر یہ الزام سراسر غلط ہے کہ وہ اپنے حسن میں اضافہ کرنے کے لیے میک اَپ کا سہارا لیتی ہیں۔ اگر ایسا ہے بھی تو اس کی وجہ مرد کی فطرت ہے، اور ویسے بھی یہ کھڑکی ٹائپ کے مردوں کو قابو رکھنے کا ایک کارآمد نسخہ ہے، مگر عورتوں کی آرائشِ حسن کی انڈسٹری مردوں کے گنج پن کے سدباب کی اشیاء بنانے والی انڈسٹری کے مقابلے میں بہت چھوٹی ہے۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ جب مرد اپنے بناؤ سنگھار پر توجہ دینا شروع کرتا ہے تو اس پر کھلتا ہے کہ بالوں کے سوا اس کے پاس کچھ نہیں جسے سنوارا جا سکے۔ نتیجتاً وہ اپنے بالوں پر نت نئے اسٹائل آزماتا ہے۔ دن میں کئی مرتبہ آئینے کے سامنے کھڑا ہوکر بال سنوارتا رہتا ہے۔ لیکن دیکھا گیا ہے کہ وہی مرد جلد گنجا ہوجاتا ہے جو بالوں پر زیادہ وقت اور روپیہ خرچ کرتا ہے۔ کہا جاتا ہے جب مرد کے پاس گنج پن آتا ہے تو وہ مالی طور پر بہت مستحکم ہوجاتا ہے۔ اگر یہ بات درست ہوتی تو ہر امیر آدمی گنجا ہوتا۔
کھڑکی قسم کے گنجے ہی دراصل اس مضمون کا موضوع ہیں۔ تمام گنجوں کو بہت سی محرومیوں میں مبتلا ہونا پڑتا ہے۔ گنج پن کا شکار افراد کی عادتیں، رہن سہن، لباس، حتیٰ کہ پسند بھی تبدیل ہوجاتی ہے۔ دروغ برگردنِ راوی، گنج پن حاصل کرلینے کے بعد زیادہ تر افراد وقت کی فراوانی کے باعث باغبانی پر توجہ دینے لگتے ہیں۔ ان افراد کے گھر اور لان میں موجود درخت اتنے بدنصیب ہوتے ہیں کہ وہ کبھی بڑے نہیں ہوتے، کیونکہ گنجے ان پودوں کو اپنی مقرر کردہ اور قابلِ برداشت حد سے آگے بڑھنے نہیں دیتے۔ ان لوگوں کے گھروں میں درخت بھی Bonsai ہوتے ہیں۔
دراصل ان پودوں اور درختوں کی بار بار تراش خراش کرکے یہ گنجے اپنے گنج پن کا بدلہ لے لیتے ہیں۔ جس طرح حیرت انگیز طور پر ڈھونڈنے پر قلم یعنی پین ہمیشہ جاہل آدمی کے پاس سے برآمد ہوتا ہے بالکل اسی طرح کنگھا بھی ہر گنجے کی جیب میں لازمی ہوتا ہے۔ اور یہ بے چارے نفسیاتی طور پر بار بار جیب سے کنگھا نکال کر بچے کھچے بالوں کو سنوارنے کی کوشش کرکے ان کو مجبور کردیتے ہیں کہ وہ بھی جلد از جلد اپنے مقام سے رخصت ہوکر خالی جگہ کو کھجانے کے لیے چھوڑ دیں۔
گنجے افراد کے پاس پیسہ اور وقت ہر وقت موجود رہتا ہے، کیونکہ ان کا وقت اور پیسہ کنگھا، شیمپو، ہیئرڈرائیرر اور تولیہ کی دھلائی پر ضائع نہیں ہوتا!
گنجے افراد کو کبھی نظر نہیں لگتی جس کی وجہ یہ ہے کہ نظر لگنے کے لیے نظر کا کہیں ٹھیرنا ضروری ہے، جبکہ گنجوں کے سر پر تو جڑیں رکھنے کے باوجود بال ہی ٹھیر نہیں پاتے تو نظر بے چاری کیا بگاڑ سکتی ہے!۔
کبھی کبھی قدرت بھی گنجوں سے عجیب انتقام لیتی ہے جس کی سب سے اعلیٰ مثال اُس وقت دیکھنے کو ملتی ہے جب کوئی پرندہ اچانک کسی گنجے کے سر پر ”پرندہ بم“ گرا دیتا ہے۔
خوش نصیب ہیں وہ خواتین جن کے خاندان میں گنجے بزرگ موجود ہیں، کیونکہ گنجے بزرگ کبھی بھی چھوٹوں کے سروں پر ہاتھ رکھ کر دعائیں دیتے ہوئے ہیئر اسٹائل خراب نہیں کرتے، اور اس کی نفسیاتی وجہ یہ ہے کہ گنجے، بالوں والوں سے جلن رکھتے ہیں تو بالوں کے لمس سے اس جلن کی شدت میں اضافے کے خدشے کے پیش نظر سر پر ہاتھ پھیرنے سے اجتناب برتتے ہیں۔
حسن اور گنج پن کا کوئی مقابلہ ممکن ہی نہیں ہے، کیونکہ حسن، حسن ہوتا ہے اور اس کے لیے کسی مقابلے کی ضرورت نہیں، جبکہ گنج پن تو وہ شے ہے جو گنجوں کو مقابلے میں نہیں جنگ میں مشغول رکھتی ہے، اور اس جنگ میں گنج پن کی اضافی خصوصیت گنجوں کو تاعمر شکست خوردہ رکھتی ہے۔
کچھ لوگ گنجوں کو چاند سے تشبیہ دیتے ہیں، میں اس بات سے متفق نہیں ہوں۔ کیونکہ گنج پن ہر عمر میں مختلف شکلوں میں نمایاں ہوتا ہے۔ نوجوان گنجا، معصوم ادھیڑ عمر گنجا، مظلوم اور بوڑھا گنجا چاند جیسا ہوتا ہے۔ کیونکہ اگر چاند کی کوئی نزدیکی تصویر کھینچی جائے تو اس پر گڑھے نمایاں نظر آتے ہیں، اسی طرح بوڑھے گنجوں کے سروں پر کھجانے اور دیگر واقعات کی وجہ سے پرانے دانے اور زخموں کے نشان بالکل چاند کے گڑھوں کی طرح نظر آتے ہیں۔
اچانک مجھے لکھتے لکھتے کچھ تھکن محسوس ہوئی تو میں نے ذرا ہاتھ پھیلائے اور میرا ہاتھ اپنے ہی سر پر لگ گیا، لہٰذا مجھے یہ مضمون لپیٹنا پڑا، کیونکہ سر پر ہاتھ ٹھیرا ہی نہیں پھسل گیا۔ کیونکہ میں تو وہ ہوں جس کے بارے میں کہا جاتا ہے:۔

آپ گنجے باپ گنجے اور گنجی دادی
کچھ گنجے آج کل کے ہم گنجے بنیادی

ابھی پچھلے دنوں ٹی وی پر بہت چرچا رہا کہ انڈیا چاند پر اتر رہا ہے۔ پھر دنیا نے دیکھا کہ یہ مشن ناکام ہو گیا۔ سنا ہے کہ 900 کروڑ کا پروجیکٹ تھا جو سب ضائع ہوگیا۔ ہندوستان ہمیں دوست سمجھے یا نہ سمجھے ہم پاکستان اور پاکستانی ہندوستان کو اپنا پڑوسی اور دوست سمجھتے ہوئے ہر بار دوست ہونے کا حق ادا کرتے رہتے ہیں۔ لہٰذا اس امن مشن اور دوستی کا تقاضا ہے کہ اپنے دیرینہ دوست ہندوستان کا وہ پیسہ بچانے میں اس کی مدد کی جائے جو وہ اس تحقیق پر کررہا ہے کہ اس کا راکٹ چاند پر اترنے میں کیوں نا کام ہوا۔
پیارے ہندوستان آپ کا راکٹ ہر لحاظ سے بہترین تھا بس آپ کا پروجیکٹ اس آدمی کی غلطی کی وجہ سے ناکام ہوا جس نے اس راکٹ پر Destination کو سیٹ کرنا تھا۔ اس سے غلطی یہ ہوئی کہ کمپیوٹر کو Destination command دیتے وقت وہ چاند یعنی Moon کی جگہ یہ لکھ بیٹھا کہ ایسی جگہ پر لینڈ کرو جو زمین سے بلند ہوتے ہی سب سے زیادہ روشن، گول اور چمکدار ہو۔
راکٹ بیچارا بالکل صحیح سمت میں اڑا، جیسے ہی چاند کے نزدیک پہنچا کنفیوز ہو گیا، کیونکہ چاند سے بھی روشن، گول اور چمکدار شے اس کو نظر آگئی اور وہ اس تک پہنچ بھی گیا اور لینڈ کرتے وقت جیسے ہی اس شے سے Touch ہوا ،دور تک پھسلتا چلا گیا اور بری طرح تباہ ہو گیا۔
یہ بات تو بچہ بھی جانتا ہے کہ گنجے کے سر پر کوئی بھی چیز کسی بھی ساخت کی ہو، ٹک ہی نہیں سکتی تو بیچارا راکٹ کیا اوقات رکھتا ہے! ہندوستان دوست تحقیقی تحفہ قبول فرما کر شکریہ ادا نہ کریں۔ آپ کی دوستی ہمیں محب وطن رکھتی ہے، جس کے لیے شکریہ۔

حصہ