ٹیلی ویزن

72

محمد جاوید بروہی

مضمون کی دوسری قسط پیش خدمت ہے ٹیلی ویژن کا پہلا عوامی مظاہرہ لندن میں 1927ء میں ہوا تھا سب سے پہلے عوامی ٹیلی ویژن 1936ء میں برطانیہ میں شروع ہوا پہلی مرتبہ 1960ء کے اولمپکس جو امریکہ میں منعقد ہوئے تھے کو مکمل طور پر نشر کیا گیا تھا امریکہ کے پہلے ٹی وی اسٹیشن کا نام W3xk تھا اسے چارس فرانس جیکسنس نے قائم کیا تھا۔ اس ٹی وی اسٹیشن نے نشریات کا آغاز 2 جولائی 1928ء میں کیا الیکٹرون ذرات کے ٹکرانے سے ٹی وی پر تصویریں بنتی ہیں پہلا ٹی وی ڈرامہ چالیس منٹ کا The Queen’s messenger 11 ستمبر 1928ء کو نشر کیا گیا برصغیر میں پاکستان پہلا ملک ہے جس نے 22 دسمبر 1972ء کو بین الاقوامی مواصلات کو استعمال میں لاتے ہوئے کراچی کے ناظرین کے لیے آسٹریلیا میں کھیلے جانے والے پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان کرکٹ میچ پر تبصرہ براہ راست نشر کیا ساری دنیا میں ٹی وی کو ایک عام تفریح کی حیثیت حاصل ہے سیٹلائٹ چینل آنے کے بعد اپنا لاگ پروگرام نشر کئے جاتے تھے اب دنیا بھر میں نئے ٹی وی چینل کھل رہے ہیں نت نئے ٹی وی سیٹ بن رہے ہیں دنیا کا سب سے برا ٹی وی سیٹ 98 انچ کا ہے رنگین ٹی وی میکسیکو کے الیکٹریکل انجینئر Guimermo Gonzalez Camarena نے ایجاد کیا تھا پہلا رنگین کارٹون The Flint stones 1962ء میں نشر کیا گیا پہلا رنگین ٹی وی شو بونینزہ تھا تعلیم کے فروغ کے لیے ٹیلی ویژن کا اہم کردار ہے سب سے زیادہ ٹی وی چینل امریکا میں دیکھے جاتے ہیں دوسرے نمر پر پولینڈ اور تیسرے نمبر پر جاپان ہے دنیا کا سب سے زیادہ دیکھا جانے والا ٹی وی چینل Fox ہے دنیا کا پہلا طویل ترین ٹیلی ویژن پروگرام اپالو۔ 11 کا چاند پر جانے کا مشن تھا جسے آسٹریلیا کے جے ٹی وی نے 19 جولائی 1969ء سے 26 جولائی 1969ء تک پورے 163 گھنٹے تک نشر کیا پاکستان کا پہلا ٹی وی اسٹیشن 26 نومبر 1964ء کو لاہور میں قائم کیا گیا ابتدا میں نشریات کا دورانیہ تین گھنٹے رکھا گیا تھا ریکارڈنگ کی سہولت میسر نہ ہونے کی وجہ سے تمام پروگرام براہ راست نشر کیے جاتے تھے۔ پیر کو چھٹی ہوتی تھی کراچی ٹی وی اسٹیشن کی عمارت کا افتتاح 2 نومبر 1967ء کو کیا گیا 20 دسمبر 1976ء کو پاکستان میں رنگین نشریات کا آغاز ہوا نشریات کے پہلے روز تین رنگین پروگرام دکھائے تھے بچوں کا پروگرام ہونہار ایک انگریزی فلم اور ڈرامہ پھول والوں کی سیر، نشر کیے گئے۔

پریشان چڑیا
مرتب: عبداللہ سعد

کسی جنگل میں ایک چڑیا رہتی تھی۔اس نے اپنا گھونسلا ایک درخت کی گھنی شاخوں کے درمیان بنا یا تھا۔اس کے ساتھ اس کے دو بچے اور ایک بوڑھی ماں بھی رہا کرتی تھی۔اس نے رات دن ایک کرکے اپنے بچوں کی پرورش کی تھی۔ننھی چڑیا دور دور سے اپنے بچوں کے لیے کھانے کی چیزیں لایا کرتی تھی۔
چڑیا کو اپنے بچوں سے بہت ہی محبت تھی۔وہ دن کے وقت اپنے بچوں کو گھر سے باہر نکلنے نہیں دیتی تھی اور رات کو اپنے پروں میں چھپا کر سویاکرتی تھی۔اب بچے بھی کچھ بڑے ہو گئے اور اپنی زبان سے ’’چوں ،چوں ،چیں چیں‘‘کرنے لگے۔جب چڑیا کھانے کی تلاش میں گھر سے باہر جاتی تھی تو بچوں کے لیے بہت فکر مند رہتی تھی۔
چڑیا کا یہ معمول تھا کہ صبح سویرے حمد وثناء کرتی۔پھر دانے دْنکے کی تلاش میں نکل جاتی اور جو کچھ مل جاتا لے آتی۔
اس کے بعد پھر نکل جاتی۔ایک دن چڑیا صبح کو گھر سے نکلی اور رات تک واپس نہیں لوٹی۔گھر میں سب پریشان ہونے لگے۔
رات ہو گئی لیکن چڑیا کا نام ونشان تک نہ تھا۔اب تو بچے رونے لگے۔اْدھر چڑیا جیسے ہی کھانے کی تلاش میں ایک گھر میں اْتری ،ایک جال میں پھنس گئی۔ایک بچے نے اسے جال سے نکال کر پنجرے میں بند کر دیا اور اس سے کھیلنے لگا۔
جب شام ہوئی تو بچے نے چڑیا کو پنجرے سے باہر نکالا اور اس پر لال رنگ پھیرنے لگا۔
جب چڑیا کا سارا جسم لال ہو گیا تو اس نے چڑیا کو چھوڑ دیا۔
چڑیانے آزاد ہوتے ہی اللہ کا شکر ادا کیا۔لیکن اب تو رات ہو چکی تھی۔اس لیے اس نے رات ایک باغ میں گزاری اور صبح سویرے گھر کی طرف چلی۔
لیکن یہاں تو ماجرا ہی کچھ اور تھا۔
جب وہ اپنے گھر میں داخل ہوئی تو بچے اسے دیکھ کر ڈرنے لگے۔
چڑیا نے لاکھ سمجھانا چاہا کہ میں تمہاری ہی بیٹی ہوں لیکن کسی نے ایک بھی نہ سْنی اور پڑوس سے آئی ایک چڑیا نے دھکے دے کر باہر نکال دیا۔چڑیا زاروقطار رونے لگی۔
چڑیا نہیں چاہتی تھی کہ اس کے بچے بھوک سے مرجائیں اس لیے وہ بچوں کے ڈرنے کے باوجود روزانہ ان کے لیے دانہ دْنکالا کر گھر میں رکھ جاتی تھی۔
ایک دن جب وہ جنگل کی طرف دانے کی تلاش میں جارہی تھی تو اس کی ملاقات ایک پری سے ہوئی۔چڑیاکو دیکھ کر پری نے کہا:
’’بہن چڑیا!تم بہت پریشان اور دْکھی نظر آرہی ہو…؟‘‘چڑیا نے سارا ماجرا کہہ سنایا۔قصہ سْن کر پری نے کہا:
’’صبح کو اْٹھ کر سورج سے اپنا حال بیان کرنا ،وہ ضرور تمہاری مدد کرے گا‘‘۔
دوسرے دن جب سورج پہاڑوں کے پیچھے سے اْبھرنے لگا تو چڑیا نے اسے اپنا حال سنایا۔
چڑیا کا حال سْن کر سورج کو بھی بہت دْکھ ہوا۔پھر اس نے چڑیا سے کہا:’’کل آسمان پر بادل چھائیں گے اور بارش بھی ہو گی۔بارش کے بعد ایک خوبصورت قوس قزح آسمان پر نمودار ہو گی۔
تم صبح اْٹھ کر شبنم سے غسل کرنا، پھر بڑے درخت کی ایک اونچی سی شاخ پر بیٹھ جانا۔جب میری پہلی کرن نکلے گی تو اس کی روشنی تمہارے جسم پر بھی پڑے گی۔پھر جب قوس قزح کے رنگ غائب ہوں گے تو اس کے ساتھ تمہارا رنگ بھی غائب ہو جائے گا۔
دوسرے دن چڑیا نے ایسا ہی کیا۔سب سے پہلے شبنم سے غسل کیا۔پھر ایک بڑے درخت کی ایک اونچی شاخ پر جا بیٹھی۔تھوڑی دیر کے بعد آسمان پر بادل چھاگئے اور بارش ہونے لگی۔پھر قوس قزح بھی نمودار ہوئی۔جب سورج نکلا تو اس کی روشنی اس پر بھی پڑنے لگی۔
کچھ دیر کے بعد جب قوس قزح کے رنگ آسمان سے غائب ہونے لگے تو اس کے ساتھ ساتھ چڑیا کا رنگ بھی غائب ہونے لگا اور وہ پھر سے پہلے جیسی چڑیا ہو گئی۔یہ دیکھ کر وہ بہت خوش ہوئی اور ایک دم اپنے گھر کی طرف اْڑی۔
بچے اپنی ماں کو صحیح سلامت دیکھ کر اس سے چمٹ گئے۔ماں نے بچوں کو بہت پیار کیا اور پھر اپنا سارا حال بیان کیا۔بچے شرمندہ ہو گئے اور اس سے معافی مانگنے لگے۔چڑیا نے سب کو معاف کر دیا اور پھر وہ پہلے کی طرح ہنسی خوشی رہنے لگے۔

عزم نو
دانیہ آصف

امی کچن کا کام نبٹاتے ہوئے بار بار دروازے کی طرف دیکھ رہی تھیں۔ ایسے میں اچانک زور دار انداز سے دروازہ کھلا اور مصحف منہ پھلائے گھر میں داخل ہوا اور بیگ ایک سائیڈ پہ رکھ کہ صوفے پر بیٹھ گیا۔ امی نے پوچھا ’’کیا ہوا بیٹا! موڈ کیوں آف ہے؟‘‘ تو مصحف بولا: امی! آپ مجھے یہ بتا دیں کہ ابو کب آرہے ہیں؟ امی اس کا سوال ٹالتے ہوئے بولیں: بیٹا ہوا کیا ہے؟ مصحف بولا: ’’امی آج صفوان اپنے ابو کے ساتھ اسکول آیا تھا اور اس کے ابو نے اسے ڈھیر سا لنچ بھی دلایا۔ اور پتا ہے کہ اس کے ابو نے اسے نئی سائیکل بھی دلائی ہے اور وہ روزانہ اپنے ابو کے ساتھ گرائونڈ جا کر سائیکل چلانا سیکھ رہا ہے۔ سائیکل تو میرے پاس بھی ہے اور مجھے تو گلی سے باہر تک جانے کی اجازت نہیں‘‘۔ امی نے کہا تم منہ ہاتھ دھو لو میں کھانا لے کر آتی ہوں پھر بات کرتے ہیں اور مصحف منہ لٹکائے کمرے میں چلا گیا۔
کھانا کھاتے ہوئے امی مصحف کو سمجھاتے ہوئے بولیں: ’’بیٹا! آپ کو پتا ہے کہ آپ کے ابو ایک فوجی ہیں۔ فوجی کے گھر والوں کو اس کے ساتھ خود بھی بہت سی قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ بات یہ ہے کہ اگلے ہفتے جو آپ کے ابو آرہے تھے اب سرحد پر کشیدگی کی وجہ سے ان کی وہ چھٹی بھی منسوخ ہو گئی ہے۔‘‘ امی نے ہچکچاتے ہوئے کہا۔ ’’امی اب یہ تو نہ بولیں‘‘، ’’ابو نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ اب جب وہ آئیں گے تو ہم خوب گھومیں گے میرا سارا پلان خراب ہو گیا‘‘۔ اس نے کھانا چھوڑا اور بستر پر جا کر لیٹ گیا۔ امی برتن اٹھاتے ہوئے سوچنے لگیں کہ جیسے جیسے مصحف بڑا ہو رہا ہے اپنے ابو کو زیادہ بھی مس کرنے لگا ہے اور اگلے دن جب مصحف اسکول سے آیا تو نانا، نانی کو دیکھ کر خوش ہو گیا ۔
یونیفارم تبدیل کرکے ان کے پاس آکر بیٹھ گیا۔ باتوں باتوں میں مصحف اداسی سے بولا: ’’نانا جان! دیکھیں اس بار بھی میرے بابا کی چھٹی منسوخ ہو گئی۔ کیا بابا کے سر کو نہیں پتا کہ میں ان کا انتظار کررہا ہوں‘‘ نانا ابو اس کی بات پر مسکرا دیئے اور بولے ’’دیکھ بیٹا آپ کے ابو ایک بہادر فوجی ہیں اور آپ کو بھی ان کی طرح بہادر بننا ہے۔ آپ کے ابو سرحد پر نگہبانی کرتے ہیں تو آپ کے دوست اور سب لوگ سکون و اطمینان سے اپنے اپنے فرائض سر انجام دیتے ہیں آپ کو تو اپنے ابو پر فخر ہونا چاہیے اور ان کی غیر موجودگی میں اپنی امی کا بھی خیال رکھنا آپ کی ذمہ داری ہے۔‘‘ یہ سن کر مصحف کی آنکھیں چمک اٹھیں نانا نے پیار سے پوچھا ’’ہاں تو بتائو! کیا میرا بیٹا اس قابل ہے؟
مصحف جوش سے بولا! بالکل نانا جان، اب میری سمجھ میں آیا‘‘۔ پھر وہ اپنی امی کی طرف منہ کرکے بولا ’’امی آپ کو میں نے آج تک جتنا بھی پریشان کیا اس کے لیے ’’سوری‘‘۔ میرا آپ سے وعدہ ہے کہ میں آئندہ آپ کو تنگ نہ کروں گا بلکہ ایک سمجھ دار اور ذمہ دار بیٹا بن کر دکھائوں گا۔‘‘ ’’اور نانا جان میں نے سوچ لیا ہے کہ میں بھی ابو کی طرح بہادر فوجی بن کر اپنے وطن کی حفاظت کروں گا۔‘‘ سب نے مصحف کی اس بات پر با آوازِ بلند کہا ان شاء اللہ

حصہ