نسخہ فکر

45

ڈاکٹر نثار احمد نثار

تنقید کو تخلیق میں محض کیڑے نکالنے کا عمل نہ سمجھا جائے بلکہ اسے تخلیق کی تفہیم کا ذریعہ سمجھنا چاہیے۔ تخلیق بے شک تنقید سے برتر ہے اور کسی کا یہ کہنا درست ہے کہ تنقید‘ تخلیق کے پیچھے چلتی ہے۔ مگر یہ بھی ماننا چاہیے کہ تخلیق میں موجود حسن و قبیح کی نشان دہی بھی تنقید ہی کرتی ہے۔ تنقید دراصل سچ کی تلاش ہے‘ اس سچ کوجو خوبیوں اور خامیوں کے تناظر میں‘ تخلیقی فن پارہ منعکس کرتا ہے۔ جب ایک تنقیدی و تحقیقی شعور کا حامل ذہن مطالعے کا آغاز کرتا ہے تو وہ اس ادبی‘ منظوم یانثری اظہار کے محاسن و معائب ذہن میں ذخیرہ کرتا جاتا ہے اور کسی مضمون میں سپردِقلم کر دیتا ہے۔ اس ضمن میں اگر دیانت داری کو ملحوظ خاطر رکھا گیا ہو‘ تو رائے دینے کا یہی قرینہ متوازن تنقید کی ذیل میں شمار کیا جائے گا۔
’’نسخہ ہائے فکر‘‘ ڈاکٹر نزہت عباسی کی وہ تازہ ترین تصنیف ہے جو ان کے تحقیقی و تنقیدی مضامین پر مشتمل ہے‘ منظر عام پر آنے والی یہ کتاب کئی زایوں سے اہم ہے اوّل یہ کہ شائع ہونے والے شعری مجموعوں اور کچھ افسانوی مجموعوں کے ہجوم میں سامنے آنے والی مضامین کی یہ کتاب الگ سے نظر آرہی ہے‘ دوم یہ کہ تجزیہ اور تنقید بڑی عرق ریزی اور دل جمعی سے کرنے کے کام ہیں‘ یہ چلتے پھرتے نہیں ہو سکتے‘ اس کے لیے آپ کو جم کر بیٹھنا پڑتا ہے۔ ڈاکٹر نزہت عباسی کی محنت مضامین کی جہات سے واضح ہے اور تیسری بات یہ کہ کسی خاتون قلم کار کی طرف سے ان تحقیقی مضامین کا سامنے آنا خوش گوار یوں بھی ہے کہ کم خواتین تنقیدی اور تجزیاتی تحریروں کے لیے درکار ارتکاز کی متحمل ہو سکتی ہیں۔ لہٰذا ڈاکٹر نزہت عباسی کے لیے یہ اعتراف کرنا ضروری ہے کہ انہوں نے اپنی اس کتاب کے ذریعے خواتین قلم کاروں کے ادب سے سنجیدہ لگائو کا بھر رکھا ہے۔
اس کتاب کے 40 مضامین میں سے آٹھ مضامین موضوعاتی جب کہ 32 مضامین شخصیات اور دو مضامین موجود ہیں۔ ان مین قرۃ العین حیدر‘ فیض احمد فیض‘ ڈاکٹر ایس ایم معین قریشی اور ظفر محمد خان ظفر شامل ہیں۔ کچھ مضامین ایسی شخصیات اور کتابوں پر ہیں جو نسبتاً نئے لکھنے والے ہیں‘ اس ضمن میں غالباً ڈاکٹر نزہت عباسی نے ان کی حوصلہ افزائی کو مدنظر رکھا ہے۔ دھیمے اور سمجھانے والے انداز میں لکھے گئے ان مضامین میں علمی اور تاثراتی جہت نمایاں ہیں۔ ان میں کسی کی تضحیک نہیں ہے‘ کسی کی تحریروں کا مضحکہ نہیں اڑایا گیا اور نہ کہیں بے جا اعتراض اٹھتے جملے ہیں۔ اگرچہ ایسا کرنا قلم کار کے لیے مشکل نہیں تھا۔ لکھنے والے کا مزاج اس کی تحریر میں جھلکتا ہے۔ ڈاکٹر نزہت عباسی صلح جو اور نرم مزاج رکھنے والی خاتون ہیں۔ انہوںنے اپنی اکثر مضامین میں زیر تبصرہ شخصیات اور تخلقیات کے مثبت پہلوئوں کو اجاگر کیا ہے۔ بقول پروفیسر احتشام الدین ’’نقاد کا کام تخریب نہیں‘ تنظیم‘ ترتیب‘ انتخاب اور تعمیر ہے‘ نقاد کو یہ سمجھ کر لکھنا چاہیے کہ کسی کو کچھ سمجھا رہا ہے‘ کسی کی رہنمائی کر رہا ہے‘ کسی کو ادبی رموز و نکات سمجھنے میں مدد دے رہا ہے۔‘‘ ڈاکٹر نزہت عباسی کے مضامین میں تنقید کے وہی تہذیب ملحوظ رکھی گئی ہے جس کی طرف پروفیسر احتشام الدین اشارہ کر رہے ہیں۔
ڈاکٹر نزہت عباسی نے اپنے مضامین میں تحقیق طرز نگارش کو پیش نظر رکھا ہے۔ سب جہانتے ہیں کہ تحقیق کا عمل زیاہ جاں فشانی کا طالب ہے‘ اس میں حوالے تلاش کرنا پڑتے ہیں‘ جس کے لیے کتابوں کی تلاش‘ ان کے حصول کا مرحلہ پھر تفصیلی مطالعہ تاکہ آپ درکار حوالہ جات علیحدہ کرسکیں اور پھر انہیں مضمون کی بُنت میں اس طرح شامل کرنا کہ وہ بے محل محسوس نہ کیے جائیں‘ ایک الگ توجہ کا طالب ہے۔ مثال کے طور پر اس کتاب کا پہلا مضمون دیکھیے‘ عنوان ہے ’’اردو کی نعتیہ شاعری میں شاعرات کا حصہ‘‘ اس میں نعت کی مختصر تعریف سے آغاز کرکے خواتین کی طرف سے نعت میں بیان کیے گئے موضوعات کا ذکر کرتے ہوئے نعت لکھنے والی اور نعتیہ مجموعے سامنے لانے والی شاعرات کو الگ الگ اہمیت کے ساتھ نام بہ نام واضح کیا گیا ہے۔ ان میں 38 نام اُن شاعرات کے ہیں جو نعت گو ہیں اور 25 نام ان شاعرات کے ہیں جن کے نعتیہ مجموعے منظر عام پر آ چکے ہیں۔ مضمون میں ان شاعرات کے مجموعوں کے نام بھی درج کیے گئے ہیں علاوہ ازیں تمام نعت گو اور نعتیہ مجموعوں کی حامل شاعرات کا ایک ایک منتخب شعر بھی مضمون میں درج ہے۔ سو یہ مضمون خالصتاً تحقیقی نوعیت کا ہے اور اس کا بیانیہ شاید ہے کہ ڈاکٹر نزہت عباسی نے ان معلومات کے حصول کے لیے کتنی محنت کی ہوگی۔ ’’نسخہ ہائے فکر‘‘ کے دیگر موضوعاتی مضامین میں بھی اسی طرز کا تحقیقی طریقۂ کار اختیار کیا گیا ہے۔ مثلاً اپنے مضمون بہ عنوان ’’اردو ادب کی ڈراما نگار خواتین‘‘ میں بھی مضمون نگار نے ڈراما نگاری میں خواتین کی خدمات کو ایک معلوماتی مضمون میں یکجا کیا ہے۔ انہوں نے بہت توازن سے خواتین ڈراما نگاروں کے نام اور کام کو یکجا کرکے بیان کرنے کے ساتھ کئی اہم نقادوں کے ان ڈراما نگاروں کے کام پر قابل ذکر تبصروں کے حوالے بھی درج کیے ہیں جن سے ان خواتین ڈراما نگاروں کے فن کی پذیرائی کا اندازہ ہوتا ہے۔ جن ڈراما نگار خواتین کا ذکر اس مضمون میں شامل ہے ان کی فہرست طویل ہے مگر چند اہم نام یہ ہیں رشیدہ جہاں‘ عصمت چغتائی‘ آمنہ نازلی‘ حمیدہ بیگم‘ صالحہ عابد حسین‘ بیگم عابدہ حسین‘ حاجرہ مسرور‘ حجاب امتیاز‘ بانو قدسیہ‘ خدیجہ مستور‘ فاطمہ ثریا بجیا‘ حسینہ معین اور نورالہدیٰ شام کے علاوہ کئی ہندوستانی خواتین ڈراما نگاروں کے نام بھی شامل ہیں۔ اس مضمون میں ڈاکٹر نزہت عباسی نے نہ صرف یہ کہ ان ڈراما نگاروں کے موضوعات کو واضح کیا ہے بلکہ ان کے لکھے ڈراموں کی بُنت‘ کردار نگاری‘ مکالموں کی ساخت اور سماجی و معاشرتی مسائل سے آگاہی کو بھی اجاگر کیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ خواتین ڈراما نگاروں کے پاس موضوعات کا تنوع اور عصری مسائل سے آگاہی مرد ڈراما نگاروں سے کسی طرح بھی کم درجے کی نہیں ہے۔
کتاب میں شامل دو اہم شخصی مضامین قرۃ العین حیدر کے حوالے سے ہیں یہ دونوں مضامین بہ عنوان ’’قراۃ العین حیدر کے ناولوں میں تہذیب شعور‘‘ اور ’’روشنی کی رفتا۔ ایک تجزیاتی مطالعہ‘‘ اس لیے زیادہ اہمیت کے حامل ہیں کہ یہ اردو کی ایک نہایت اہم دانش ور ناول و افسانہ نگار کے بارے میں ہیں۔ پہلے مضمون میں ڈاکٹر نزہت عباسی نے قرۃ العین حیدر کی ناول نگاری پر طائرانہ نظر ڈالتے ہوئے ان کے ناولوں میں تہذیبی شعور کے عنصر کو موضوع بنایا ہے‘ اس مضمون سے قرۃ العین حیدر کی ناول نگاری پر ایک مبسوط مطالعہ سامنے آتا ہے اور پڑھنے والا ان کے ناولوں کے عنوانات‘ کرداروں‘ واقعات کی بُنت اور موضوعات کے علاوہ ان کے تہذیبی پس منظر سے بھی آگاہی حاصل کرتا ہے۔ اسی تسلسل میں مضمون نگار نے قرۃ العین حیدر کے افسانوی مجموعے ’’روشنی کی رفتار۔ ایک تجزیاتی مطالعہ‘‘ پر قلم اٹھایا ہے‘ اس مجموعے پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر نزہت عباسی نے قراۃ العین حیدر کے دیگر 3 افسانوی مجموعوں ستاروں سے آگے‘ پت جھڑ کی آواز اور جگنوئوں کی دنیا کا بھی ذکر کیا ہے مگر انہوں نے ’’روشنی کی رفتار‘‘ کے افسانوں کا تفصیلی محاکمہ تحریر کیا ہے۔ ان افسانوں کا جائزہ لیتے ہوئے انہوں نے قرار دیا ہے کہ یہ افسانے جدید اسلوب کے تقاضے پورے کرتے ہیں اور ان میں تجریدیت بھی پائی جاتی ہے۔ انہوں نے اپنے مضمون میں کئی افسانوں کا خلاصہ بھی پیش کیا ہے۔ ڈاکٹر نزہت کے خیال میں ’’روشنی کی رفتار‘‘ میں قراۃ العین حیدر نے نسائی کرداروں کو اس طرح پیش کیا ہے کہ عورت کی جسمانی ہئیت سے زیادہ اس کے روحانی اور نفسیاتی مسائل اجاگر ہوئے ہیں۔
’’جوش ملیح آبادی کی اردو نثر‘‘ نامی مضمون میں جوش کی نثری تصانیف کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ڈاکٹر نزہت عباسی کے خیال میں جوش کی نثری اقلیم بہت وسیع تو نہیں ہے مگر متنوع اور ہمہ گیر ہے‘ وہ نثر میں خاص فلسفیانہ نقطہ نظر اور منفرد اسلوبِ بیان کے مالک ہیں۔ فیض احمد فیض کی شعری تمثیلات‘‘ فیض لی شاعری میں تمثیلی عناصر کو اجاگر کرتا مضمون ہے۔ فیض کے تمام مجموعہ ہائے کلام میں اجتماعی طور پر تمثیلاتی طرز اظہار کو ڈاکٹر نزہت عباسی نے قابل ذکر عنصر قرار دیا ہے۔ ان کے خیالات میں فیض نے روایت اور جدّت دونوں سے اکتساب کرتے ہوئے مشرق و مغرب کے رنگوں کے متناسب امتزاج سے اپنی شعری تمثیلات کے حسن میں اضافہ کیا ہے۔ ان کی نظموں میں بھی تمثیلی پرکاری موجود ہے‘ ان کی نظم ’’تنہائی‘‘ ایک پوری تمثیلی کہانی ہے۔
’’غزالاں تم تو واقف ہو‘‘ کی شاعرہ ادا جعفری کی فن و شخصیت‘ ادا جعفری کی شخصیت‘ فکری عناصر‘ زندگی اور شاعری پر ایک سیر حاصل مضمون ہے۔ بظاہر یہ مضمون ان کے تیسرے مجموعے ’’غزالاں تم تو واقف ہو‘‘ کے سرنامے کے ساتھ ہے۔ مگر اس میں ان کے پانچوں شعری مجموعوں اور کلیات ’’موسم موسم‘‘ کے حوالے سے مضمون نگار نے اپنی مختصر رائے بھی تحریر کی ہے۔ نزہت کے مطابق ادا جعفری کے مشاہدے اور تمثیل کی دنیا بڑی وسیع و عریض ہے‘ وہ زندگی کے سردوگرم سہتی رہیںاور نہایت بردباری‘ متانت‘ سنجیدگی اور وقار کے ساتھ انہیں بیان بھی کرتی رہیں۔
’’شیخ ایاز کی اردو شاعری‘‘ ایک اہم مضمون اس لیے بھی ہے کہ شیخ ایاز کی اردو شاعری پر بہت کم لکھا گیا۔ اس مضمون میں شیخ ایاز کی اردو شاعری کے جو اوصاف سامنے آتے ہیں ان میں انقلابی و مزاحمتی لہجہ‘ غمِ دوراں اور غمِ جاناں کی جھلک‘ فطرت کا حسن اور رومان کی لطافت شامل ہیں۔
فانی بدایونی‘ مصطفی زیدی‘ فرمان فتح پوری‘ سرشار صدیقی‘ احمد فراز‘ سحر انصاری‘ ڈاکٹر ایس ایم معین قریشی اور ڈاکٹر پیرزادہ قاسم رضا صدیقی کے حوالے سے کتاب میں شامل مضامین ان شاعروں اور نثر نگاروں کی شخصیت اور تخلیقی صلاحیتوں کو سمجھنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ ایک مضمون نزہت عباسی نے اپنے شاعر والد کے حوالے سے شامل کیا ہے۔ محمد حسین عباسی ظفر انجمی‘‘ یہ مختصر مضمون ایک تعارف ہے مجموعہ کلام’’متاع زیست‘‘ کے شاعر کا جس میں ان کے ہم عصروں کا بھی ذکر ہے۔ رسا چغتائی کے حوالے سے مضمون’’آنے والے وقت کی آواز ہوں‘ رسا چغتائی‘‘ ایک تاثراتی مضمون میں ان کی زندگی‘ شخصیت اور شاعری کا مختصر جائزہ نزہت نے تحریر کیا ہے اور خیال ظاہر کیا ہے کہ ’’انہوں نے شہر کراچی کو غزل کی تہذیب سے آشنا کیا۔‘‘ ان کی غز میں سادگی‘ تہذیب اور رکھ رکھائو نمایاں ہے۔
آخر میں اس کتاب کے دو موضوعاتی مضامین جن کا ذکر کرکے بات ختم کرنی ہے‘ اوّل ’’فلسفۂ وجودیت اور اردو شاعری‘‘ دوم ’’اردو افسانے میں نسائی نفیسات‘‘ ہیں۔ یہ مضامین اردو شاعری اور افسانے کو دو مختلف جہات کے تجزیے سے متعلق ہیں۔ پہلے مضمون میں نزہت نے وجودیت کے فلسفے کو مختلف شعرا کی اظہارِ ذات کے حوالے سے سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ اردو شاعری میں فلسفیانہ نقطۂ نظر سے یہی سب سے نمایاں جہت ہے۔ اردو شاعروں کے اظہار کا بیشتر حصہ اظہارِ ذات‘ تلاش ذات اور فروغِ ذات کے علاوہ اپنی ذات میں پناہ ڈھونڈنے کی کوشش سے عبارت ہے۔ ڈاکٹر نزہت عباسی نے جس طرح میر تقی میر کی شاعری کے علاوہ ن۔ م راشد‘ میرا جی‘ مجید امجد اور فہمیدہ ریاض کی نظموں کے حوالے سے وجودی فلسفے کا عکس دکھانے کی کوشش کی وہ قابل قدر تو ہے مگر مضمون نگار کو بات اور آگے بڑھانی چاہیے تھی‘ یک لخت ختم ہو جانے والے اس مضمون میں تشنگی رہ گئی ہے۔
’’اردو افسانے میں نسائی نفسیات‘‘ ایک اہم موضوع کا حامل مضمون ہے جس میں نزہت عباسی نے نسبتاً وضاحت سے اردو افسانے میں اس عنصر کو اجاگر کیا ہے‘ اس مضمون سے واضح ہوتا ہے کہ مختلف افسانہ نگاروں نے نسائی نفسیات کو کس کس طرح موضوع بنا کر عورت کی مظلومیت‘ بے بسی اور اسے دوسرے درجے کا فرد سمجھنے کی ذہنیت کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ سجاد حیدر یلدرم سے نسیم انجم تک بہت سے اہم افسانہ نگاروں کی تحریروں میں عورت کی تنہائی‘ عدم آسودگی اور بے چارگی کو موضوعاتی تنوع کے ساتھ جس طرح کہانی بنا کر پیش کیا گیا ہے نزہت عباسی نے ان پر اپنی بات کہنے کی کوشش کی ہے جس سے ان افسانہ نگاروں کے ہاں نسائی استیصال کی مختلف شکلوںکو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔
کتاب کے آخری حصے میں تواتر سے کئی مضامین پروین شاکر‘ گلنار آفرین‘ رضیہ سبحان‘ صبیحہ صبا‘ ذکیہ غزل اور تزئین راز کے حوالے سے ہیں۔ ان مضامین سے تخلیقی پیش کشوں کے پس پشت کار فرما اذہان کی سطح‘ تخلیقی صلاحیتوں اور فکری روّیوں تک رسائی کی طلب رکھنے والے قاری کی مطالعاتی تسکین ہو سکتی ہے۔ ’’نسخہ ہائے فکر‘‘ کے مضامین ڈاکٹر نزہت عباسی کے گہرے مطالعے‘ تنقیدی شعور اور تجزیاتی صلاحیت کی بھی غماز ہیں۔ جمیل جالبی نے کہا کہ ’’ہر عہد کی تخلیق اپنا ناقد ساتھ لاتی ہے۔‘‘ ہمارے عہد کی تخلیق اپنے ناقد کے انتظار میںہے۔ ڈاکٹر نزہت عباسی اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
nn

حصہ