میں نماز کیوں پڑھوں؟

51

ناصر محمود بیگ

اسلام محض ایک مذہب نہیں کیونکہ مذہب صرف مخصوص عقائد اور عبادات کا مجموعہ ہوتا ہے جبکہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات کا نام ہے جو انسان کی انفرادی اور اجتما عی زندگی کے تمام مسائل کا حل پیش کرتا ہے۔اسلام میںنماز روزہ اور دوسری عبادات کا تصور عام مذاہب سے بہت مختلف ہے۔ ایک نماز کو ہی لے لیجیے جو صرف پوجا پاٹ یا دعائیہ تقریب کا نام نہیں۔اس کی ایک مکمل فلاسفی ہے۔ ہم اللہ کی عبادت کیوں کرتے ہیں ۔۔۔؟ویسے تو اس سوال کا عام مسلمان کے پاس سیدھا سادہ جواب یہ ہوتا ہے کہ یہ اللہ عزو جل کا حکم ہے یا ہم اپنے رب کو راضی کرنے کے لیے اس کی عبادت کرتے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کا حکم بجا لانے کے لیے ہمیں کسی دلیل کی ضرورت نہیں ۔مگر اس کے ساتھ ہمیں یہ بات بھی جاننی ہو گی کہ دین اسلام ایک روشن راستے کا نام ہے جو اپنے ماننے والوں کوکسی اندھیرے میں نہیں رکھتایہاں تک کہ اللہ کریم نے قران پاک میں اپنی ذات اوروجود کو منوانے کے لیے بھی عقلی دلائل بیان فرمائے ہیں(حوالہ :سورت ق )۔حضرت ابراہیم کا آخرت پر مکمل ایمان تھا مگر پھر بھی اللہ پاک نے پرندوں کے گوشت سے دوبارہ پرندے بنا کر دکھائے تاکہ مر کردوبارہ زندہ ہونے پر یقین اورزیادہ مضبوط ہو جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں نماز کیوں پڑھوں ۔۔۔؟ یہ بھی ایسا ہی ایک سوال ہے جس کے بہت سے منطقی اور عقلی جوابات ہمیں مل سکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔عقل والوں کے لیے بہت سی نشا نیاں ہمارے ارد گرد موجود ہوتی ہیں مگر شاید ہم غور نہیں کرتے ۔۔۔۔۔ان میں سے چند دلائل کا یہاں پر راقم الحروف احاطہ کرنے کی کوشش کی ہے ۔اس امید کے ساتھ کہ۔۔۔۔۔ شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات۔۔۔۔۔۔۔۔!
1)انسان زیادہ سمجھدار یا موبائل فون۔۔۔؟
موبائل فون بنانے والے نے اسے ایک خاص مقصد کے تحت بنایا تھا اور وہ مقصد ہے ایک دوسرے سے بات کرنا ۔پھر اس کے ساتھ مختلف فنکشنز بھی شامل کر دیئے گئے لیکن جب بھی کال آتی ہے تب سارے فنکشنز بند ہو جاتے ہیںاور کال کنیکٹ ہوتی ہے۔غور کرنے کی بات ہے کہ یہ بے جان آلہ اپنی تخلیق کے مقصد کو نہیں بھولا۔اور ایک ہم ہیں کہ ہم نے اپنی تخلیق کے مقصد کو بھلا دیا ہے۔حالانکہ اللہ پاک قرآن پاک میں فرماتا ہے:’’ہم نے انسانوں اور جنات کو محض اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف میری عبادت کریں۔‘‘ہونا تو یہ چاہیے کہ جب اللہ کی جانب سے کال آئے تب ہمیں اپنے تمام دنیاوی فنکشنز کو منقطع کر کے اللہ کی کال کنیکٹ کرنی چاہیئے۔مگر ہم ہر روز دن میں پانچ مرتبہ آذان کو سن کے اَن سنا کر دیتے ہیں۔ہم سے تو موبائل فون زیادہ سمجھدار ہے جو اپنے مقصد کو نہیں بھولتا ۔
2)تجدید عہد کا ذریعہ
انسان کا مادہ نسیان سے ہے یعنی یہ بہت جلد بھول جاتا ہے یہاں تک کہ اپنے مالک اور خالق کو بھی بھول جاتا ہے ۔اسی لیے دائرہ اسلام میں داخل ہونے والے ہر عاقل بالغ انسان پر پانچ وقت کی نماز فرض کی گئی ہے ۔تاکہ وہ بار بار اپنے رب کے حضور پیش ہو کر اپنی خطائوں اور لغزشوں کا جائزہ لے کر ان کی تلافی کی کوشش کرتا ہے۔اسی لیے وہ بار باریہ وعدہ دہراتا ہے کہ وہ صرف اپنے رب کا غلام ہے ، اسی سے مدد چاہتا ہے اور سیدھے رستے پر چلنے کی اللہ سے دعا بھی کرتا ہے۔اصل میں وہ ایک اچھا انسان بننے کااپنے آپ سے وعدہ کرتا ہے کیونکہ ایک اچھا انسان ہی اچھا مسلمان ہو سکتا ہے۔
3)مراقبہ کی بہترین صورت:
جدید دور میں اسٹریس اور ڈپریشن کی بیماری بہت پھیل چکی ہے اس کے علاج کے لیے ماہرین نفسیات مائنڈ فل نیس کا طریقہ تجویز کرتے ہیں جس میں ایک شخص کو کچھ دیر کے لیے بالکل ساکت اور پر سکون رہنا ہوتا ہے ۔صوفیا کرام اسی کو مراقبہ کا نام دیتے ہیں۔لیکن آج سے چودہ صدیاں پہلے ہی جب کہ زندگی اتنی تیز بھی نہیں تھی،انسان کو اسٹریس بھگانے کا کامیاب نسخہ نماز کی صورت میں دے دیا گیا۔
4)بہترین ورزش :بہترین یوگا:
یورپ کے ایک پارک میں ایک آرتھو پیڈک ڈاکٹر ایک مسلمان کو نماز پڑھتے دیکھ کر پوچھتا ہے کہ ورزش کا یہ اتنا زبردست طریقہ تم نے کہاں سے سیکھا۔تو مسلمان جواب دیتا ہے کہ یہ کوئی ورزش نہیں بلکہ یہ ہماری عبادت کا طریقہ ہے۔اس پر وہ ڈاکٹر انکشاف کرتا ہے کہ اس نماز میںبہت سے ارکان ایسے ہیںجو ہم اپنے مریضوں کو ورزش کے طور پر تجویز کرتے ہیں۔
5)مشکلوں سے کہہ دو، میرا خدا بڑا ہے:
جدید تحقیق سے یہ بات ثابت ہے کہ دعا کرنے والا انسان کبھی مایوس نہیں ہوتااس میں اسٹریس کا لیول بھی دعا نہ کرنے والوں سے کم ہی ہوتا ہے ۔کیونکہ وہ ہمیشہ ممکنات اورخوش فہمی کی دنیا میں رہتا ہے۔نماز بھی دعا کا ایک طریقہ ہے انسان بیسیوں بار یہ بات کہتا ہے کہ میرا اللہ سب سے بڑا ہے ۔۔۔۔اللہ سب سے بڑا ہے۔۔۔۔۔گویاوہ یہ اپنے آپ سے کہتا ہے ۔۔۔۔۔یہ نہ کہو خدا سے کہ میری مشکلیں بڑی ہیں۔۔۔۔۔۔مشکلوں سے کہہ دو میرا خدا بڑا ہے۔
6)منفی سوچ بھگائو :مثبت توانائی لائو:
اکثر یہ بات راقم الحروف کے مشاہدے میں آئی ہے کہ نماز سے پہلے بہت سی منفی سوچیں ذہن میں آرہی ہوتی ہیں مگر جونہی نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں ایک مثبت توانائی کی لہر اٹھتی ہے جو سب منفی سوچوں کو اپنے ساتھ بہا کر لے جاتی ہے۔مثال کے طور پر اگر کسی شخص کے بارے بد گمانی پیدا ہورہی ہو یا حسد اور بغض کے خیالات جنم لے رہے ہوں تو نماز کے بعد اس شخص کے لیے ہمارے دل کے کسی کونے میں نرم سا گوشہ پیدا ہو جاتا ہے۔
7)حرکت میں برکت ہے :
جمود چاہے خیالات کا ہو یا جسم کا، اسلام میں یہ پسندیدہ نہیں ہے۔اسلام حرکت پزیری کا فلسفہ پیش کرتا ہے ۔اسی لیے با جماعت نماز سے لے کر حج کے مناسک تک ،ہر ایک عبادت مومن کو حرکت کا پیغام دیتی ہے۔فجر کی نماز میں رزق کی برکت رکھی گئی ہے بلا شبہ اس وقت جاگنا انسان کے اندرونی اعضاء کو مثبت توانائی اور تحریک دیتا ہے۔
8) ٹائم مینجمنٹ سکھائے نماز:
ہر نماز کا ایک وقت مقرر ہے جس پر اسے ادا کرنا ضروری ہے۔یہ انسان کو اپنے وقت کو تقسیم کرنے اور اسے بہتر طور پر استعمال کرنے کا عادی بناتی ہے۔وقت کی پابندی سکھاتی ہے۔ہمیں اپنے روز مرہ کے کاموں کو ترتیب دینے کی سہولت دیتی ہے۔ہمارے ایک ڈاکٹر صاحب ہیں جو دوائی لینے کے اوقات کو نماز کے ساتھ منسلک کر دیتے ہیں ۔اس سے مریض کی نماز کی عادت بھی پختہ ہو جاتی ہے اور ساتھ ساتھ اس کی دوا کا وقت بھی مقرر ہو جاتا ہے۔
9)جسم کی پاکیزگی سے دل کی پاکیزگی تک:
پانچ وقت نماز پڑھنے والا اپنے جسم اور لباس کی صفائی اور پاکیزگی کا بھی خیال رکھتا ہے۔لباس کی نفاست سے اس کی شخصیت میں ایک نکھار پیدا ہو جاتا ہے ۔یہ نکھار اسے دوسروں سے منفرد بناتا ہے۔جس طرح وہ جسم کو ماحول کی آلائشوں سے بچانے کی کوشش کرتا ہے اسی طرح وہ برائیوں اور نا پسندیدہ کاموں سے بھی حتی الامکان اجتناب کرتا ہے۔
10)سماجی رابطے کا پلیٹ فارم:
باجماعت نماز اسی لیے لازم کی گئی ہے کہ اس سے مسلمان آپس میں مل جل کر ایک دوسرے کے مسائل حل کریں ۔ایک دوسرے کی خبر گیری کریں۔اسلام میں مسجدوں کو صرف ایک عبادت گاہ نہیں بلکہ کمیونٹی سنٹر کا درجہ حاصل ہے۔جس میں ہر قسم کے اجتمائی فیصلے کئے جاتے تھے ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ نماز بندے اور اس کے رب کے درمیان رابطہ کا ایک ذریعہ ہے۔مگرجب تک ہم نماز کا یہ وسیع مفہوم اور فلسفہ نہیں سمجھیں گے ہم اس کے فیوض وبرکات سے محروم رہیں گے۔ میں نماز کیوں پڑھوں ۔۔۔۔۔؟ جب ہم اپنے اندر کے انسان کو اس سوال کے یہ جوابات دیں گے تو اس کی برف ضرور پگھلے گی۔اگر ہم نماز کے پابند ہیں تو یہ سوال پوچھیں کہ میں نماز کیوں پڑھتا ہوں ۔۔۔۔۔؟ تو یہ دلائل ہمیں نماز کے اندر مزید رغبت پیدا کریں گے‘ ان شاء اللہ۔

جھوٹ ایک عظیم گناہ
محمد مبین جوئیہ

اہل دانش سے یہ بات مخفی نہیں کہ ہم جس دور سے گزر رہے ہیں وہ انتہائی پر فتن اور پر خطر دور ہے، جس میں ایک طرف طغیانی اور نافرمانی کا سیلاب امڈ رہا ہے، تو دوسری طرف فحاشی و عریانی کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا ہے، ایک طرف ایمان اور عمل صالح سے دوری تو دوسری طرف بے ایمانی، بد عملی اور دیگر گناہوں اور برائیوں کی آندھی چل رہی ہے۔آ ج ہمارے درمیان جھوٹ ایک عام چیز سمجھی جاتی ہے، اور اکثر ہم مذاق کرتے ہوئے، من گھڑت اور جھوٹ پر مبنی لطیفے سناتے ہوئے اور بے ادبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، بات کرتے وقت جھوٹ بولنا انتہائی گھٹیا حرکت اور بڑا سخت گناہ ہے۔
اللہ رب العزت نے جھوٹ بولنے پر سخت وعید کی ہے، ارشاد الٰہی ہے ’’جھوٹ تو وہ لوگ گھڑتے ہیں جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے، اور وہی لوگ جھوٹے ہیں‘‘،(النحل: 105)
جھوٹ بولنے والا شخص اللہ تعالیٰ کی لعنت کا مستحق ہے ’’پس جو کوئی آپ سے اس بارے میں آپ کے پاس علم آجانے کے بعد جھگڑے، تو کہہ دیجیے کہ آئو ہم اور تم اپنے اپنے بیٹوں، عورتوں اور اپنے آپ کو اکھٹا کریں پھر عاجزی کے ساتھ دعا کریں اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت بھیجیں‘‘۔
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’بلاشبہ جھوٹ برائی کی طرف لے جاتا ہے اور برائی جہنم کی طرف، ایک آدمی جھوٹ بولتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ کے ہاں بڑا جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے‘‘۔
جھوٹ کے بہت سے ذیلی عنوان باندھے جا سکتے ہیں، لیکن چند ایک اہم عنوانات ذکر کروں گا۔
بدگمانی: بدگمانی سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ جیسا کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’بد گمانی سے بچو، کیونکہ یہ سب سے بڑا جھوٹ ہے‘‘۔
جھوٹی گواہی:کسی لالچ یا تعلق داری وغیرہ کی وجہ سے جھوٹی گواہی دینا بھی بڑا سنگین جرم ہے، چنانچہ اللہ تعالی نے جھوٹی گواہی دینے سے منع کرتے ہوئے فرمایا:’’پس تم لوگ گندگی یعنی بتوں کی عبادت اور جھوٹی بات کہنے سے بچو‘‘۔
ایک دوسرے مقام پر اہل ایمان کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا:’’اور وہ لوگ جھوٹی گواہی نہیں دیتے‘‘۔ یعنی وہ جھوٹ نہیں بولتے ہیں اور نہ جھوٹی گواہی دیتے ہیں،بلکہ اپنے نفس کو ان دونوں خبیث چیزوں سے بچاتے ہیں۔
جھوٹا خواب بیان کرنا:
لوگوں پر برتری حاصل کرنے، مالی فوائد سمیٹنے، کسی سے کوئی عداوت ہے تو اسے خوف میں مبتلا کرنے یا کسی اور مقصد کے حصول کے لیے کوئی ایسا خواب بیان کرنا جو نہ دیکھا ہو، انتہائی سخت گناہ ہے۔ حدیث میں جھوٹا خواب بیان کرنے والے کے لیے بڑی سخت وعید وارد ہوئی ہے، چنانچہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’جس شخص نے ایسا خواب بیان کیا جو اس نے دیکھا ہی نہیں، قیامت کے روز اسے مکلّف کیا جائے گا کہ جو کے دو دانوں کو گرہ لگائے، اور وہ یہ ہر گز نہیں کر پائے گا‘‘۔
لوگوں کو ہنسانے کے لیے جھوٹ بولنا:
لوگوں کو محض ہنسانے کے لیے جھوٹ بولنا بھی بڑا سخت گناہ ہے، بلکہ موجب ہلاکت ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مبارک ہے:’’اس آدمی کے لیے ہلاکت ہے، جو لوگوں کو ہنسانے کے لیے باتوں میں جھوٹ بولتا ہے، اس کے لیے ہلاکت ہے‘‘۔
یہ چند ایسے گناہ تھے جو آج کے معاشرہ میں باکثرت پائے جاتے ہے، اور ہم انہیں معمولی سمجھتے ہیں جبکہ قرآن و حدیث میں ان گناہوں کی سخت وعید آئی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو برے اعمال کے ارتکاب سے بچنے، نیک اعمال کے کرنے کی توفیق بخشے، اور روز قیامت ہمیں اپنی خاص رحمت سے نواز کر جنت میں اعلی مقام عطا فرمائے۔ آمین یا ربّ العالمین۔

حصہ