شریک مطالعہ اسکندر مرزا کی یاداشتیں

78

نعیم الرحمن

قیام ِ پاکستان کو ابھی صرف 72 سال ہوئے ہیں، تاہم اس ملک کی مختصر تاریخ بھی واضح نہیں۔ پاکستان کی تاریخ کے مختلف پہلو اسرار کے پردے میں چھپے ہیں۔ بانیِ پاکستان قائداعظم کی 11 اگست1947ء کی تقریر ہو، قائد کی بہن فاطمہ جناح کی تحریرکردہ ’’میرا بھائی‘‘ کے چند صفحات کا آج تک جاری سنسر، قائد کے ذاتی معالج کرنل الٰہی بخش کی کتاب کی عدم دستیابی، قائداعظم کے پاکستان کے پہلے یوم آزادی 14 اگست پر پیغام کے ساتھ سلوک، بانیِ پاکستان کو ڈاکٹروں کے مشورے پر نواب بہاولپور کے ملیر باغات میں واقع بنگلے میں منتقلی کے لیے نواب صاحب کی اجازت کئی روز تک نہ ملنا، یا ان کی کوئٹہ سے کراچی آمد پر بغیر کسی نرس کے خراب ایمبولینس کا کراچی ائرپورٹ پر آنا، ایسے بہت سے پراسرار واقعات میں سے محض چند ہیں۔ پھر لیاقت علی خان کے قتل پر چیف سیکریٹری چودھری محمد علی کے بنگلے پر بلایا گیا کابینہ کا اجلاس، جہاں گورنر جنرل خواجہ ناظم الدین سے کہا گیا کہ ’’گورنر جنرل تو صرف علامتی عہدہ ہے، حکومت تو وزیراعظم چلاتا ہے، اس لیے آپ وزیراعظم کا عہدہ سنبھال لیں اور بیمار غلام محمد کوگورنرجنرل بنا دیا جائے‘‘۔ وہی بیمار غلام محمد وزیراعظم خواجہ ناظم الدین کی حکومت اور اسمبلیاں برطرف کردیتا ہے۔
پاکستانی سیاست کا ایسا ہی پُراسرار اور با اختیار کردار اسکندر مرزا ہے، جس نے سنڈھرسٹ کالج لندن سے کنگز کمیشن حاصل کیا۔ اس نے عملی زندگی بطور ڈپٹی کمشنر شروع کی اور پاکستان کا آخری گورنر جنرل اور 1956ء کا آئین بننے کے بعد پہلا صدرِ مملکت بھی رہا۔ ہماری تاریخ اور صحافت نے اسکندر مرزا کو پاکستانی سیاست کے ایک ایسے کردارکے طور پر پیش کیا ہے جس کے اشارے پر ایوب خان نے ملک سے جمہوریت کی بساط لپیٹی، جس کے نتیجے میںآج نصف صدی بعد بھی ملک چار بار مارشل لا کا شکار بنا اور آج بھی جمہوریت پٹڑی پر نہ چڑھ سکی۔ تمام الزامات اور منفی باتوں کے باوجود اسکندر مرزا نے اپنی خاموشی نہیں توڑی اور ان کا نقطہ نظرکبھی عوام کے سامنے نہ آسکا۔ 72 سال بعد ’’اسکندر مرزا کی یادداشتیں‘‘ عقیل عباس جعفری کی کوششوں سے ان کے ادارے ورثہ پبلشرز کے تحت شائع ہوئی ہے جس سے قارئین کو تصویر کا دوسرا رُخ بھی جاننے اور تاریخ کے کچھ گمشدہ اوراق پڑھنے کا موقع ملا ہے۔
پاکستان کے نامور صحافی اور ’معیار‘ کے مدیر محمود شام صاحب اسکندر مرزا کی خودنوشت کی اشاعت کا ذریعہ تھے۔ محمود شام کی مرزا صاحب کے خاندانی ذرائع تک رسائی بھی تھی۔ شام صاحب کے مطابق اسکندر مرزا اپنی یادداشتوں کو ’’میرا وطن، صحیح یا غلط‘‘ کے نام سے شائع کرنا چاہتے تھے۔ پاکستان کے آخری گورنر جنرل، پہلے منتخب صدر، پاکستان کا پہلا آئین نافذ کرنے اور پھر اسے توڑنے، پاکستان کا پہلا انقلاب لانے اور پہلا مارشل لا لگانے والے شخص کی یہ خودنوشت ایک اہم دستاویز ہے جس میں ملک کے ابتدائی برسوں کے اُن اہم واقعات کو بیان کیا گیا ہے جن کی بنیاد پر پاکستان کا سیاسی اور فوجی ڈھانچا کھڑا ہوا اور جن کا سایہ شایدکبھی دور نہ ہوسکا۔
128 صفحات پر مبنی اس مختصر آپ بیتی کا ترجمہ پاکستان کے نامور صحافی، منفرد ناول و افسانہ نگار اشرف شاد نے 1976ء میں کیا تھا جو محمودشام کے سیاسی ہفت روزہ ’معیار‘ میں قسط وار شائع ہوا۔ قسطیں مکمل ہونے کے بعد اسے کتابی شکل میں شائع کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ تاہم اُس وقت لندن سے اسکندر مرزا کی بیگم ناہید مرزا کے وکیلوں کا نوٹس ملا کہ وہ اسکندر مرزا کی اس ذاتی تحریر کے مالک ہیں اور ادارہ ان کی اجازت کے بغیر اسے شائع نہیں کرسکتا۔ شاید یہ قانونی معاملات طے ہوجاتے مگر اُسی زمانے میں ضیاالحق کا مارشل لا لگ گیا اور اس کتاب کی اشاعت معرضِ التوا میں پڑگئی۔
اشرف شاد معروف سیاسی ہفت روزہ ’الفتح‘ کے مدیر اور ناشر تھے۔ جنرل ضیا الحق کے مارشل لا کا نشانہ صحافت، اخبارات و رسائل سب سے زیادہ بنے۔ رسائل کی بندش پر اس جبرکا خاتمہ نہیں ہوا بلکہ کارکن صحافیوں کو گرفتاری اور کوڑوں کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ ان حالات میں اشرف شاد صاحب نے ملک سے رختِ سفر باندھا۔ تاہم ملک سے ان کی رخصتی اردو ادب کے لیے بہت سازگار ثابت ہوئی۔ انہوں نے اس دوران ’’جلا وطن‘‘، ’’وزیراعظم‘‘، ’’صدر محترم‘‘، ’’جج صاحب‘‘ اور ’’بی اے رستم اینکر پرسن‘‘ جیسے منفرد اور بے مثال ناول اردو ادب کو دیے، اور ان کا قلم ابھی رواں دواں ہے جس سے مزید ناولوں کی اشاعت متوقع ہے۔
اشرف شاد ’’اسکندر مرزا کی یادداشتیں‘‘ کے پیش لفظ میں لکھتے ہیں: ’’جنرل اسکندر مرزا کے انتقال کے پچاس سال بعد اُن یادداشتوں کی اشاعت کا سہرا اردو لغت بورڈ کے سربراہ اور معروف محقق اور شاعر عقیل عباس جعفری کے سر ہے۔ میں جب پاکستان آتا تھا وہ مجھے اس کی اشاعت کی یاددہانی کرواتے تھے۔ میرے پاس وقت نہیں تھا۔ یہ انہی کا کمال ہے کہ انہوں نے ’معیار‘کی پرانی فائلوں سے قسط وار شائع ہونے والی یادداشتیں جمع کیں۔ کہیں کہیں جو صفحات غائب تھے ان کے لیے ڈاکٹر جعفر احمدکی مدد حاصل کی۔ ان کا بھی شکریہ۔ عقیل عباس جعفری نے کتاب مدون کرنے اور پروف ریڈنگ تک تمام اشاعتی مراحل میں مدد کی ہے جس کے بغیر اس کتاب کی اشاعت ممکن نہیں تھی۔ مجھے امید ہے کہ پاکستان کے ابتدائی برسوں کی تاریخ کے انتہائی اہم کردار کی یادداشتیں تاریخ کے طلبہ اور پاکستان کی تاریخ مدون کرنے والوں کو اہم حوالہ جات فراہم کریں گی۔‘‘
کتاب کے مرتب اور ناشر عقیل عباس جعفری بھی ملک کی انتہائی قابلِ احترام شخصیت ہیں۔ انہوں نے ’’پاکستان کرانیکل‘‘ کے نام سے پاکستان کی 72 سالہ تاریخ کے تمام اہم واقعات یکجا کردیے ہیں۔ یہ انتہائی کارآمد کتاب ہے۔ اردو ڈکشنری بورڈ کے سربراہ کی حیثیت سے اردو کی 22 جلدوں پر مبنی لغت نہ صرف مکمل شائع کردی بلکہ دو سی ڈیز میں بھی یہ لغت دستیاب ہے۔ قائداعظم کی بیوی رتی جناح اور پاکستان کے قومی ترانے کے بارے میں مستندکتب بھی شائع کیں۔ جون ایلیا کی بھتیجی کی ’’میرے چچا‘‘ اور حال ہی میں جون ایلیا پر ڈاکٹر نیہا اقبال کی کتب بھی شائع کرچکے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ملک کی ہر اہم شخصیت کی پیدائش اور وفات عقیل عباس جعفری ہی یاد دلاتے ہیں۔
اسکندر مرزا کی آپ بیتی اُن خودنوشتوں سے مختلف ہے جن کی بازار میں بھرمار ہے، اور آئے دن کوئی نئی آپ بیتی منظرعام پر آجاتی ہے جو سیاست دانوں، فوج، نوکر شاہی اور عدلیہ کے ریٹائرڈ ججوں، جنرلوں اور افسروں کا عذرِ گناہ قرار دی جاسکتی ہیں، جن کے بارے میں معروف مؤرخ مبارک علی کہتے ہیں کہ ’’آپ بیتیاں انفرادی طور پر لکھنے والوں نے جو غلطیاں کی ہیں، جن سازشوں میں شریک رہے ہیں، جوڑ توڑ کیا ہے، دھوکا دہی، فریب اور بدعنوانیاں کی ہیں، سب ان داغوں کو دھوکر اپنی بے گناہی اور معصومیت ثابت کرنے کے لیے لکھی گئی ہیں۔‘‘
اشرف شاد اس آپ بیتی کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’پاکستان کے ماضی کی تشکیل کے لیے اسکندر مرزا کی زیرنظر خودنوشت ایک اہم شہادت کی حیثیت سے جانی جائے گی۔ اس لیے بھی کہ اس میں جو واقعات بیان کیے گئے ہیں اُن کی صحت پر کبھی شبہ کا اظہار نہیں کیا گیا۔ ان یادداشتوں میں قیام ِ پاکستان کی تحریک میں شریک اور بعد میں کاروبارِ سیاست چلانے والے تمام اہم رہنماؤں سے ملاقاتوں کا احوال اور ان کے ساتھ کام کرنے کے تجربات بیان کیے گئے ہیں۔ ان رہنماؤں میں قائداعظم، لیاقت علی خان، خواجہ ناظم الدین، غلام محمد، سردارعبدالرب نشتر، عبدالغفار خان، ڈاکٹر خان صاحب، چودھری محمد علی، سہروردی، دولتانہ اور اُس دورکے تمام وزرائے اعظم اور دیگر رہنما شامل ہیں۔ اسکندرمرزا نے اپنے تجربات کی روشنی میں ان رہنماؤں کی شخصیتوں کا جو نقشہ کھینچا ہے وہ صحیح یا غلط ہوسکتا ہے، تاہم واقعاتی تفصیلات غلط قرار نہیں دی جاسکتیں۔‘‘
اسکندر مرزا کی سوچ اور اس کی بنیاد پر اُن کے فیصلوں کے صحیح یا غلط ہونے پر بحث ہوسکتی ہے۔ ریاستی اُمور میں مذہب کی مداخلت اور پارلیمانی نظام کے بارے میں اُن کے خیالات درست بھی مان لیے جائیں تو اب بہت دیر ہوچکی ہے اور واپسی کے راستے مسدود ہوچکے ہیں۔ سیاست میں مذہب کی مداخلت تمام حدیں عبور کرچکی ہے اور پارلیمانی نظام کو آسمان سے اترا ہوا مقدس آئین سمجھ لیا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں جو خرابیاں پیدا ہوئی ہیں اُنہیں ملک بری طرح بھگت رہا ہے۔
اکتوبر 1958ء کے انقلاب کے وقت ملک فیروزخان نون پاکستان کے وزیراعظم تھے۔ 1956ء کا آئین ختم اور اسمبلیاں توڑ کر انہیں معزول کیا گیا۔ فیروز خان نون نے اپنی برطرفی کے بعد اپنی یادداشتیں تحریرکی تھیں جو نظرثانی کے بعد 1966ء میں “From Memory” کے نام سے اسکندر مرزا کی وفات سے کئی سال قبل شائع ہوئی تھیں۔ اس آپ بیتی کا ترجمہ 1970ء کی دہائی میں ’’چشم دید‘‘ کے نام سے کیا گیا تھا۔ یہ ترجمہ 2005ء میں بھی شائع ہوا۔ تاہم اب پھرکئی سال سے نایاب ہے۔ فیروز خان نون کی خودنوشت کو اسکندر مرزا کی یادداشتوں سے ملا کر پڑھا جائے تو بڑی حد تک دونوں کتابیں ایک دوسرے کی تائید کرتی نظر آتی ہیں۔ ساتھ ہی ان میں کئی باتوں کی پردہ کشائی بھی ہوتی ہے۔ فیروز خان نون کے مطابق اسکندر مرزا پابند جمہوریت کے حامی تھے اور تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتے تھے۔ فیروز خان نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اسکندر مرزا آئین توڑنے اور مارشل لا لگانے کا فیصلہ کئی ماہ پہلے کرچکے تھے۔ اسکندر مرزا نے اپنی یادداشتوں میں پابند جمہوریت کے بارے میں اپنے عزائم پوشیدہ نہیں رکھے اور پارلیمانی جمہوریت کے خلاف کھل کر اپنے خیالات کا اظہارکیا ہے۔
سر فیروزخان نون بہت محتاط انسان تھے اور انہوں نے حقائق لکھتے ہوئے بھی لوگوں کی دل آزاری کا خیال رکھا۔ اس کے برعکس اسکندر مرزا نے تمام حقائق بلاکم وکاست بیان کیے ہیں اور ان سے کئی نئے حقائق سامنے آتے ہیں۔
اسکندر مرزا 13 نومبر 1899ء کو بمبئی میں پیدا ہوئے۔ ان کے اجداد بنگال، اڑیسہ اور بہار کے نواب ناظم کے عہدے پر فائز تھے اور مرشد آباد میں ان کا دربار تھا۔ 1918ء میں ہندوستان کے شہری کنگزکمیشن حاصل کرنے کے حق دار بنے تو اسکندر مرزا نے بھی درخواست دی اور انٹرویو کے لیے شملہ گئے۔ زیادہ تر ہندوستانی کیڈٹ، اندور کے کیڈٹ کالج بھیج دیے گئے۔ اسکندر مرزا سمیت پانچ افراد اس پہلے گروپ میں شامل تھے جنہیں سینڈھرسٹ لندن کے لیے چنا گیا۔ لندن میں دو انڈین کیڈٹوں کا انتقال ہوگیا اور دو کو خارج کردیا گیا۔ اس طرح اسکندر مرزا پہلے بیچ میں سینڈھرسٹ سے کامیاب واحد ہندوستانی کیڈٹ بنے۔ جولائی 1920ء میں انہیں کمیشن ملا اور وہ کیمرونیز سیکنڈ بٹالین سے کئی سال وابستہ رہے۔ وہ ایک اسکواڈرن کی کمانڈ کے لیے بنوں اور میراں شاہ کے درمیان واقع قلعہ میں متعین رہے جو شمالی وزیرستان میں پولیٹکل ایجنٹ کا ہیڈ کوارٹر تھا۔ اس علاقے میں اسکندر مرزا نے پولیٹکل ایجنٹ کے طور پر بھی کئی برس کام کیا۔ اگست 1946ء میں ان کا تقرر آئی پی ایس میں ہوا اور وہ یوپی کے ضلع علی گڑھ میں مجسٹریٹ کی تربیت کے لیے بھیج دیے گئے۔ اس حیثیت میں ان کی پہلی تقرری سپر نیومریری اسسٹنٹ کمشنر ہزارہ میں کی گئی۔ یہیں محمد زئی قبیلے کے ڈاکٹر خان صاحب اور اُن کے بھائی عبدالغفار خان سے ان کی شناسائی ہوئی۔ پہلی بار آزادانہ حیثیت سے ٹانک کے اسسٹنٹ کمشنر کا چارج ملا۔ بطور اسسٹنٹ کمشنر نوشہرہ ان کا ہیڈ کوارٹر تھا۔ اس دور میں ضلع پشاور تشدد آمیز تصادم کا مرکز تھا، باچاخان کے سرخ پوش یہاں سرگرم تھے، اور پھر قبائلی لشکر تھے جو قریبی پہاڑیوں سے کارروائی کرتے تھے۔ دسمبر 1930ء میں حکومت نے انڈین نیشنل کانگریس کو غیر قانونی تنظیم قرار دے دیا، جس کے ساتھ سرخ پوش بھی زد میں آئے۔ حکومت کے خلاف سرگرمیوں کا مرکز نوشہرہ سب ڈویژن کا ایک گاؤں تھا جو پبی کہلاتا تھا۔ اسکندر مرزا نے برٹش پیدل دستوں کی بٹالین اور پولیس کی نفری کے ذریعے کس طرح ان پر قابو پایا، یہ بھی دل چسپ کہانی ہے۔ ایک ہزار سرخ پوشوں کے منتشر ہونے کا حکم نہ ماننے پر لاٹھی چارج کروایا۔ سرخ پوش اس موقع کو یادگار بنانا چاہتے تھے، لہٰذا خود کو زخمی ظاہر کرتے ہوئے ان کی اکثریت زمین پر لیٹ گئی۔ اس روز گرمی بہت تھی۔ انہیں پانی کی فراہمی بند کردی گئی۔ گرمی کی شدت سے یہ سب لوگ خود ہی ایک ایک کرکے چلے گئے۔
1940ء میں پشاورکا ڈپٹی کمشنر بننے کے بعد اسکندر مرزا کو ڈاکٹر خان اور اُن کے بھائی باچا خان کے حوالے سے یقین تھا کہ کانگریس جنگ کے دنوں میں ہندوستان میں امن برقرار نہ رہنے دے گی۔ ایجنٹوں کے ذریعے دو سرخ پوش جنرل مستقل اسکندر مرزا سے رابطے میں رہے۔ دو سال بعد جب صورت حال خطرناک ہونے لگی تو ان سے کہا کہ کسی طرح وہ سرخ پوشوں کے کیمپ میں خوراک کا انتظام سنبھال لیں۔ جب وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہوگئے تو انہیں بوتلوں میں جمال گوٹہ بھرکے دیا اور ہدایت کی کہ صبح کی چائے میں اسے ملا دیں۔ ہزاروں سرخ پوش جب یہ چائے پینے کے بعد پریڈ کے لیے اپنے کمانڈرکے سامنے پہنچے تو جلد ہی ان کی صفیں ٹوٹنے لگیں۔ زیادہ تر کا رخ نہرکی جانب تھا۔ لیکن جب تک وہ شلواریں اتارتے، انہیں پولیس کے ڈنڈوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بیشتر کی شلواریں خراب ہوئیں جو کہ پٹھانوں کے لیے سخت شرم کی بات تھی۔ اُس دن کے بعد سے حکومت کے خلاف سرخ پوشوں کی تحریک ختم ہوگئی۔
مارچ 1943ء میں پشاور واپس جاتے ہوئے اسکندر مرزا دہلی میں ٹھیرے اور پرانے دوست لیاقت علی خان سے ملاقات کی۔ وہیں انہیں قائداعظم کی جانب سے ملاقات کا پیغام ملا۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’مجھے کوئی علم نہیں تھا کہ وہ مجھ سے کیوں ملنا چاہتے ہیں، تاہم میں گیا۔ جناح صاحب مجھے اپنے اسٹڈی روم لے گئے اور یہ کہہ کر بات چیت کا آغازکیا کہ وہ میری والدہ کو اچھی طرح جانتے تھے۔ بلقان کی جنگ کے دوران ترکی کو امدادی سامان بھیجنے کے سلسلے میں انہوں نے میری والدہ کے ساتھ کام کیا تھا۔ انہوں نے بڑا حیرت انگیز سوال کیا ’’کیا تم مسلمان ہو؟‘‘ میں نے انہیں جواب دیا ’’ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے مسلمان ہیں۔‘‘ پھرجناح صاحب نے کہا ’’تم مجھے مسلمانوں کا سربراہ تسلیم کرتے ہو؟‘‘ میں نے جواب دیا ’’میں آپ کو ہندوستان کے مسلمانوں کا سیاسی سربراہ تسلیم کرتا ہوں۔‘‘ انہوں نے مجھ سے مزید کہاکہ انہیں باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اگر میں کوشش کروں تو صوبہ سرحد میں مسلم لیگ کی حکومت قائم کرا سکتا ہوں۔ میں نے کہا ’’میں محض پشاورکا ڈپٹی کمشنر ہوں اور یہ کام صرف سرجارج کننگھم ہی کرسکتے ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ وہ مجھ سے صرف وعدہ لینا چاہتے ہیں کہ میں ہر ممکن کوشش کروں گا۔‘‘
(جاری ہے)

حصہ