سوشل میڈیا پر فن تقریر گونج اور چینی مسلم اعضا کی فروخت

210

وزیراعظم پاکستان عمران خان کو حاصل ’فنِ تقریر‘ میں کمال پر میری کوئی دو رائے نہیں ہیں۔ چاہے وہ تقریر دیکھ کر کریں یا بغیر دیکھے… کنٹینر پر کریں یا قوم سے خطاب میں… قومی اسمبلی میں کریں یا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں… سب دھواں دھار، مزے دار، جذباتی، وژنری، نظریاتی، سیاسی، سماجی، معاشی دائرہ کار کی بہترین مثال ہی ہوتی ہیں۔ سب میں بلند بانگ دعوے، عوامی امنگوںکے عین مطابق بہترین وعدے وعید اورعظیم ارادے ہوتے ہیں۔ پھر ساتھ ہی ملکی مفادکے ساتھ ساتھ وہ عوام کے دینی جذبات کا بھی خاص خیال رکھتے ہیں۔ اللہ کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مدینہ کے اذکار تو تھے ہی، پھر جب آر ایس ایس کی پول پٹی کھولی تو مزید چار چاند لگ گئے۔ یہی نہیں بلکہ ناموسِ رسالتؐ اور یہودو ہنود گٹھ جوڑ کا بھی ذکر کرکے اُن دلوں میں جگہ بنالی جہاں پہلے ہی ’ہاؤس فل‘ کا بورڈ تھا۔ اب تو کوئی ’کنجوس‘ ہی ہوگا جو ’تقریر‘ کی تعریف نہ کرے۔ ایسا بھی کیا بھائی۔ تقریر کرنے گئے تھے، تقریر کر ڈالی۔ اور صرف تقریر ہی نہیں تھی بلکہ اب کی بار تو کلمہ پڑھ کر اپنے عزائم کا اظہار کردیا۔ جس کے بعد وہ صرف تقریر نہیں بلکہ پالیسی، دھمکی، ارادہ، منصوبہ بن گیا۔ جی جناب یہ اسی چرچے کا چرچا ہے جسے وزیراعظم پاکستان عمران خان کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے74ویں اجلاس میں شرکت اور تاریخی، مشہور و مقبول ترین تقریر قرار دے رہے ہیں۔ پاکستان واپسی پراسلام آباد ایئرپورٹ پر تقریر ایک منتخب مقبول وزیراعظم کی حیثیت سے انتہائی اہمیت کی حامل رہی۔ سوشل میڈیا پر ان تقاریر کا خاصا شور مختلف پیرائے میں مستقل جاری ہے۔ تقریر کے حامیان کی بڑی تعداد ناقدین پر غالب نظر آئی۔ غلبے کی حدکا اندازہ وزیراعظم پاکستان کی کابینہ میں شامل وزیر ماحولیات ’زرتاج گل وزیر‘ کی تقریر کے ایک ٹکڑے سے بھی ہوا۔خاص بات یہ تھی کہ ان کے الفاظ سے صاف معلوم ہورہا تھاکہ خود وزیر موصوفہ نے وہ ’تاریخی تقریر‘ نہیں سنی تھی اور وہ بڑے فخر سے عوام کو بتا رہی تھیں کہ ’عمران خان نے اقوام متحدہ میں بھی اردو زبان میں تقریر کی‘۔ اس پر جو کمنٹس موصوفہ کی تقریر پر ہوئے اس تاریخی ’چھترول‘ نے مزید رنگ جما دیا۔ اگلے روز ’ہم‘ ٹی وی کے شو میں انہوں نے وضاحت کی کہ یہ ایک پرانی تقریر ہے جس کو غلط انداز سے ایڈٹ کرکے پیش کیا گیا ہے۔ انہوں نے اسی ویڈیو میں اگلے جملے میں تصحیح کی تھی کہ وہ وزیراعظم عمران خان کی نہیں بلکہ گزشتہ سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی اردو تقریر کی بات کررہی تھیں۔ اب اس میں افسوس ناک پہلو خود یہ نکل آیا کہ وہ فروغِ اردو کے ضمن میں وزیراعظم کی حمایت فرما رہی تھیں، جبکہ وزیراعظم صاحب نے تو انگریزی میں تقریر کی۔ مختلف تجزیوں، تنقید و تبصروں سے ایک بات یہ بھی سامنے آئی کہ موجودہ سماجی میڈیا والی نسل کو یہ معلوم نہیں تھا کہ اس ایجنڈے یعنی کشمیر میں بھارتی مظالم کے موضوع پر تقاریر ماضی میں بھی حکمرانوں کی جانب سے کی جاتی رہی ہیں۔ کسی نے سابق صدر ضیاء الحق کی اقوام متحدہ کی تاریخی تقریر یوٹیوب پر یہ بتا کر ڈال دی کہ دیکھو اس ایوان میں پہلی بار تلاوتِ کلام پاک کرانے کا اعزاز ضیاء الحق کو حاصل ہوا، جبکہ حقیقت کچھ اور تھی۔ پھرکسی نے شیئر کی سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو مرحومہ کی اسی ایوان میں کی گئی تقریر کی آڈیو ۔ میاں صاحب کے شائقین نے بھی اپنے تین دفعہ کے وزیراعظم کے کردار کو نمایاں کیا۔ یقین کریں، بلکہ سن کر دیکھ لیں، سب نے بھارت کو لتاڑا تھا اور کشمیریوں کے حق میں مناسب آواز اٹھائی تھی۔ لیکن یہ بھی ٹھیک ہے کہ تقریری مواد میں جذباتیت کے اعتبار سے عمرا ن خان پہلے نمبر پر ہی آئے ہیں۔ لیکن میں اس مقابلے کو ایسا ہی کہوں گا کہ آپ 2005ء میں نوکیا کے سیٹ کا مقابلہ 2019کے آئی فون 11 سے کرنا چاہیں۔
ایک ناقد کشمیر کی صورت حال کے تناظر میں لکھتے ہیں کہ ’’کنٹرول لائن پر اسپیکر نصب کردیئے گئے ہیں، جیسے ہی انڈیا فائرنگ کرے گا میری اقوام متحدہ والی تقریر چلا کر دشمن کے دانت کھٹے کیے جائیں گے۔‘‘ کشمیر کا مسئلہ یا کشمیر میں جاری لاک ڈاؤن تو کیا ختم ہوتا، صورت حال مزید یوں بھی خراب ہوئی کہ روزمرہ استعمال کی اشیاء کی بے قابو مہنگائی، پنجاب میں ڈینگی،کراچی میں کچرے نے سر درد مزید بڑھادیا۔ پھر پیٹرول کی قیمتیں کم کرنے کی سمری مسترد ہوگئی اور ساتھ ہی بجلی کی قیمت بڑھا دی۔ ملیحہ لودھی کو تبدیل کردیا، ان کی جگہ جس کو لگایا اُس کے بارے میں قادیانی رہنما ہونے کے کئی دعوے سامنے آگئے۔ ناقص کارکردگی پر وزراء کی یا وفاقی کابینہ میں تیسری بار تبدیلی کا معاملہ خوب موضوع گفتگو بن گیا۔ چنانچہ تقریر پر تبصروں نے یہ شکل بھی اختیار کرلی: ’’بجلی کی قیمت میں 1 روپے 66 پیسے اضافہ کردیا گیا، عوام پر 22 ارب 60 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ ڈال دیا گیا۔ طبیعت زیادہ خراب ہو تو تقریر سن لو۔‘‘ متحدہ مجلس عمل کے رکن سندھ اسمبلی اور جماعت اسلامی کے رہنما سید عبدالرشید نے بھی کہاکہ ’’وزیراعظم عمران خان کی تقریر قوم کی ترجمانی تھی۔ اللہ ثابت قدم رکھے، عمل کی توفیق دے‘‘۔ یہی نہیں، جماعت اسلامی کی جانب سے بھی تقریر کا خیرمقدم کیا گیا اور عوامی جذبات کا ترجمان کہا گیا۔ ایک اور ناقد لکھتے ہیں کہ ’’جو لوگ ایک تقریر سے متاثر ہوجائیں ایسے لوگ دجال کے زمانے میں کیا کریں گے؟ وہ تو مُردوں کو بھی زندہ کرے گا۔‘‘ اسی طرح ایک اور ناقد لکھتے ہیں کہ’’صرف اچھی تقریر سے کیا ہوگا! عمران خان کو آخر میں ہوائی فائرنگ بھی کرنی چاہیے تھی۔ اپوزیشن کا ردعمل۔‘‘ اِسی طرح عالمی اثرات بتاتے ہوئے خان صاحب کی تقریر کے بعد دنیا کے حالات کے عنوان سے ایک صاحب لکھتے ہیں کہ ’’اسرائیل: اسرائیلی وزیراعظم نے وزیر دفاع سے ملاقات میں کہا ہے کہ اب ہمارا وقت ختم ہوگیا ہے۔ بیت المقدس کی کنجی اب عمران خان کو دینا ہوگی، ورنہ وہ ہمیں تباہ کردے گا۔ امریکا: ٹرمپ نے عمران خان سے موبائل پر بات کرنے کی کوشش کی لیکن خان نے کال اٹینڈ نہیں کی۔ ٹرمپ کا خان سے پرانی بے وفائیوں پر معافی مانگنے کا اعلان۔ روس: روس نے بھارت کو مزید اسلحہ دینے سے انکار کردیا ہے اور کہا ہے کہ ہم مزید پاکستان کے ساتھ دشمنی نہیں مول لے سکتے۔ افغانستان: حکومت نے پاکستان کا پانچواں صوبہ بننے کا فیصلہ کرلیا۔ معاشی صورت حال: پاکستان میں دنیا بھر سے سرمایہ کاری۔ ایک روپے میں 150 ڈالر۔ گروتھ ریٹ 2.7 سے بڑھ کر 200 ہوگیا۔ اسٹاک ایکسچینج ایک لاکھ کراس کرگئی۔ کمپیوٹرز جواب دے گئے۔ تعلیمی صورت حال: خان صاحب کی اچھی انگریزی سن کر برٹش کونسل نے فیصلہ کیا ہے کہ IELTSکا امتحان خان لے گا۔البتہ بھارت سے ابھی کوئی خبر موصول نہیں ہوئی۔ شاید ہرکسی کی زبان ڈر کے مارے خاموش ہے۔ باقی خبریں جلد ہی…‘‘
یہ سب تو چل ہی رہا تھا، ایسے میں جماعت اسلامی ہند کی جانب سے ایک دلیر، جرأت مند قدم ایک پریس کانفرنس و اعلامیے کی صورت اٹھایا گیا۔ امیر جماعت اسلامی ہند نے بھارت کے اقدام کو جمہوریت کے برخلاف قرار دیتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے جائز حق کی حمایت میں آواز بلند کردی، یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہاں آر ایس ایس کی کس قدر غنڈہ گردی جاری ہے اور اس کے بعد میں کیا نتائج مجموعی طور پر مسلمانوں پر سامنے آئیں گے۔ ایسے میں جبکہ جمعیت علمائے ہند نے ڈٹ کر کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دے کر مودی کے اقدامات کی حمایت کی ہو،یہ معاملہ اور بھی خطرناک ہوجاتا ہے۔ اسی طرح اقوام متحدہ کے سیشن کے بعد وطن واپسی کے وقت وزیراعظم پاکستان عمران خان کے جہاز کی خرابی کی خبر پر بھی خاصی متفرق خبریں وائرل رہیں۔کسی نے کہا کہ سعودی عرب ناراض ہوگیا تھا اور جہاز واپس منگوا لیا، کسی نے نعیم الحق کے خواب کا ذکر کیا، کسی نے جان لیوا حملہ ٹائپ کی بونگی ماری۔ بہرحال کوئی یہ نہیں سمجھا سکا کہ جہاز میں اگر تکنیکی خرابی تھی تو وہ دو گھنٹے کا سفر کرکے واپس نیویارک کیوں آیا؟
اب ہم لیے چلتے ہیں اسی سے متعلق ایک اصل بات کی طرف۔ ایک اہم بات جو لوگ پوچھ رہے تھے وہ یہ کہ سعودی عرب نے جہاز تو دیا پَر کشمیری مسلمانوں کے حق میں بھارت کے خلاف ووٹ نہیں دیا؟ اتنا سب کچھ ہوا، ملاقاتیں، وعدے وعید… لیکن لوگ شاید بھول گئے کہ ابھی کچھ عرصہ پہلے تو مودی کو اہم ایوارڈ دیا گیا سعودی شاہی خاندان کی بیٹی کو بحفاظت واپس پہنچانے کے صلے میں۔ پھر یہی نہیں، سب جانتے ہیں کہ سعودی عرب کو بھارت (بھارتی) ہی عملاً چلا رہے ہیں، اتنے سارے معاشی مفادات کے خلاف کوئی کیسے بھارت کے خلاف جا سکتا تھا؟ ویسے دیکھیں ناں پاکستان نے بھی تو یمن ایشو پر سعودی عرب کے حق میں ووٹ دے دیا۔ وہاں بھی تو کئی بے گناہ انسان مارے جارہے ہیں۔ چنانچہ اسے کہتے ہیں معاشی مفادات۔ آئیے اس کی ایک اور شکل اسی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں سے دکھاتے ہیں۔کشمیر کے تو مظلوم 80لاکھ مسلمانوں کو اپنے گھروں میں محصور کردیا گیا ہے۔ باہر نکلو، احتجاج کرو توگرفتار کررہے ہیں، تشدد کررہے ہیں، یا قتل کررہے ہیں۔ پوری دنیا میں ان کے حق کے لیے احتجاج ہورہا ہے۔ پاکستان نے بھی بھارتی درندگی بے نقاب کرنے کی کوشش کی۔ کئی ممالک نے ساتھ بھی دیا۔ لیکن میں آپ کو بتاتا ہوں ایک کروڑ اویغور مسلمانوں کی بے بسی، جن کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔
اس سے معلوم ہوگا امت …امتِ مسلمہ کا ڈرامہ کرنے والوں کا اصل چہرہ …کیوں…کیا چین میں رہنے والے مسلمان بھائی نہیں؟ یا انسان بھی نہیں؟ چین کے صوبے سنکیانگ میں لگ بھگ ایک کروڑ کے قریب مسلمان آباد ہیں۔ ایک اور اہم بات، صوبہ سنکیانگ کا رقبہ پاکستان سے دوگنا ہے۔15ویں صدی عیسوی میں یہاں اسلام بذریعہ تجارت متعارف ہوا۔ سوا کروڑ کے قریب مسلم آبادی کے لیے یہاں 24000 سے زائد مساجد اسلام کی شان و شوکت کی داستان بیان کرتی ہیں۔ اس خطے کی جغرافیائی اہمیت کا اندازہ یوں لگائیں کہ چین کی سرحد 14ممالک سے ملتی ہے جن میں سے 8کی سرحدیں چین کے صوبے سنکیانگ کے ذریعے ملتی ہیں، ان میں پاکستان بھی شامل ہے۔ اب اچانک سے یا بقول چین کے نائن الیون کے بعد چین کو عجیب قسم کا ’اسلام فوبیا‘ لاحق ہوگیا ہے۔ مسلمانوں کے تاریخ اور مذہب سے لگاؤ کو جانتے ہوئے بھی اذہان سے اسلام کو نکالنے کی ظالمانہ مہم پر گامزن ہے۔ کوئی دس لاکھ سے زائد مسلمان اس وقت چین کے مختلف کیمپوں میں قید ہیں جن کے اذہان سے اسلامی شدت پسندی یا دہشت گردی کی سوچ نکالنے کے مشن پر چین کاربند ہے۔ بات جسمانی و ذہنی تشدد سے آگے بڑھ کر یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ اب ان کے جسموں سے اعضاء کو نکال کر بیچا جارہا ہے۔ اصل میں چین کو بیچنا بہت اچھا آتا ہے۔ دنیا بھر میں اس کی مصنوعات چھائی ہوئی ہیں۔ یہی مالی و معاشی مفادات ہیں جن کی وجہ سے خاموشی کی بڑی لہر ہے۔ یہ بھی بتاتا چلوں کہ اس حوالے سے کئی اطلاعات آرہی ہیں، مگر سب مغربی ذرائع ابلاغ سے آرہی ہیں۔ امریکا مذمت کررہا ہے، کہہ رہا ہے کہ چینی مسلمانوں پر غیر انسانی ظلم ہورہا ہے۔ سب چپ کیوں ہیں؟ حتیٰ کہ معروف امریکی جریدہ یہ سرخی لگانے پر مجبور ہوجاتا ہے
The Deafening Silence of Pakistani Jihadists and Radicals on China’s Uyghurs
الجزیرہ بھی یہ سرخی لگانے پر مجبور ہوتا ہے کہ
US leads China condemnation over ‘horrific’ Xinjiang repression
مغربی ذرائع ابلاغ کا معروف ادارہ دی انڈی پینڈنٹ لکھتا ہے
China is killing religious and ethnic minorities and harvesting their organs, UN Human Rights Council told
اب بھلا بتاؤ، کیسے ممکن ہے کہ مسلمانوں کے مرنے کا اتنا درد امریکا کے پیٹ میں اٹھے! یہ تو سرخیاں ہیں، تفصیلی خبر میں تو آپ اندازہ کرلیں کیا کچھ لکھا ہوگا۔ میں قطعاً یہ نہیں کہہ رہا کہ چین میں ایسا کچھ نہیں ہورہا ہوگا۔ مگر عجیب بات یہ ہے کہ اسی مغرب کو فلسطین، برما، کشمیر، عراق، افغانستان اس طرح یاد نہیں آتے۔ کیوں؟ کیا اس لیے کہ وہ خود وہاں مظالم ڈھا رہا ہے؟ اب چین جیسی سپر پاور اگر وہی کام کررہی ہے تو اُس سے وہ بھی برداشت نہیں ہورہا۔ اقوام متحدہ میں ایک اور تقریر کا چرچا بھی مغربی سوشل میڈیا پر رہا۔ اس کے اپنے سیکریٹری جنرل کی تقریر۔ اس تقریر میں اُس نے چین کے اویغور مسلمانوں پر بدترین غیر انسانی تشدد اور انسانی اعضاء کی فروخت پر سخت تنقید کی۔ لیکن نہ اس کی تقریر سے کچھ ہوا، نہ امریکا، یورپ کے سخت بیانات سے چین پر کوئی فرق پڑا۔ یہ تو بالکل ایسا ہی ہے جیسا کشمیر کے سلسلے میں ہونے والی مختلف تقاریر سے بھارت پر پڑنے والے اثرات۔
nn

حصہ