حکومتی اعلان جہاد اور فرضیت

103

زبانیں گنگ ہیں اور چہرے سیاہ… عمران خان نے یہ کیا کہہ دیا ’’کشمیریوں کا ساتھ دینا جہاد ہے۔‘‘ اس لفظ ’’جہاد‘‘ کو گالی بنانے میں تو ہمیں نصف صدی لگی تھی۔ یہ لفظ ایک بار پھر کسی مسلمان حکمران کی زبان پر کیسے آگیا! کہاں ہیں ’’نظمِ اجتماعی‘‘ کے جدید غامدی فلسفۂ اسلام کے امین اور شارع، جو گزشتہ دو دہائیاں قلم کی روشنائی، عقل و خِرد کی منطق اور زبان و بیان کی مہارت اس بات پر خرچ کرتے رہے کہ جب مسلمانوں کا ایک نظمِ اجتماعی قائم ہوجائے تو پھر جہاد صرف ریاست کا حق ہے اور اسی کا اختیار ہے۔
پوری دنیا میں امریکا کے ظلم اور قتل و غارت کے خلاف لڑنے والوں کو اپنی چرب زبانی سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کے غلط استنباط سے خارجی اور جہنم کے کتے ثابت کرکے اپنے امریکی اور مغربی آقاؤں کو خوش کرنے والے آج کہاں گم ہیں! ان تمام علمائے کرام اور مفتیانِ عظام کے لب بھی خاموش ہیں جو میدانِ کربلا میں اعلائے کلمۃ الحق کے قافلہ سالار سیدنا امام حسینؓ کی آخری تین شرائط:
(1)مجھے مدینہ واپس جانے دو۔
(2) مجھے سرحدوں پر جانے دو تاکہ میں جہاد میں شریک ہوسکوں۔ یا
(3)مجھے یزید سے اپنا معاملہ طے کرنے دو۔
میں سے دوسری شرط یعنی سرحدوں پر جاکر اسلامی افواج کے شانہ بہ شانہ جہاد میں حصہ لینے کی بنیاد پر یزید کا بحیثیت حکمران دفاع کرتے ہیں، کیا اُن کے نزدیک عمران خان یزید سے بھی بدترحکمران ہے کہ اس کے اعلانِ جہاد پر لبیک نہیں کہا جا سکتا؟ وہ اٹھارہ سو علما جنہوں نے ایک مبسوط اور مدلل فتویٰ دیا تھا کہ جہاد صرف اور صرف ریاست کا حق اور اختیار، اور باقی صرف فساد رہ جاتا ہے۔ وہ تمام علمائے کرام آج کیوں نہیں پکار اُٹھے کہ اس اعلان کے بعد قوم کا خاموش بیٹھنا حرام ہے۔
سیکولر، لبرل، ملحد کی تو بات ہی اور ہے، یہ تو اسلام کے ہر تصور یہاں تک کہ لباس، بودوباش، سلام و کلام، حتیٰ کہ تہواروں سے بھی نفرت کرتے ہیں، ان کے لیے تو یہ لفظ ’’جہاد‘‘ پگھلے ہوئے سیسے کی طرح تھا جو اُن کے کانوں میں انڈیل دیا گیا ہو، اور وہ بھی ایک ایسے شخص کے منہ سے ادا ہورہا تھا جس کے سامنے یہ سیکولر دنیا و مافیہا سے بے نیاز ہوکر بے پایاں رقص کیا کرتے تھے۔
یہ کیا ہوگیا اُن کے ’’ڈارلنگ‘‘ کو، تقریر میں اپنی کامیابیوں پر اپنی منکوحہ اور حجاب میں ملبوس بیوی کا شکریہ ادا کرتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ سب اس کی اللہ سے دعاؤں کا نتیجہ ہے، اور پھر ساتھ ہی کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہونے کو جہاد کہہ دیتا ہے۔ کوئی اور لفظ ہی بول دیتا، بنیادی انسانی حق کہہ دیتا، اسٹرگل (struggle) کہہ دیتا، ضمیر کی آواز کہہ دیتا… کتنے ایسے لفظ ہیں جو ہم نے نیلسن منڈیلا جیسے لوگوں کو ہیرو بنانے کے لیے ایجاد کیے تھے، آنگ سان سوچی کا ساتھ دینے کے لیے لکھے اور بولے تھے۔ عمران خان کو ان میں سے ایک بھی یاد نہ رہا۔ آکسفورڈ سے پڑھا ہوا ہے، اس کے ذخیرۂ الفاظ (vocabulary) میں تو بے شمار لفظ ہوں گے، ان میں سے کوئی اور لفظ بول دیتا، جہاد بولنا ضروری تھا؟ خیر یہ ماتم، سوگ، المیہ تو کارگاہِ سیاست کے ہر لبرل اور میدان ِدانشوری کے ہر کالم نگار، تجزیہ کار، مضمون نویس اور ادیب کے سینے میں برپا ہوگیا ہے۔ ان سب کا ماتم بھی بجا اور سوگ بھی برحق ہے، لیکن وہ جو پوری دنیا کو دین کے معنی سمجھاتے ہیں، ان کے نزدیک اس اعلان کی حیثیت کیا ہے؟ اور کیا اس سے منہ موڑ دینا یا اس سے بھاگنا دین میں ناقابلِ معافی جرم نہیں ہے؟
اللہ تبارک وتعالیٰ نے کشمیر جیسی صورتِ حال کے لیے ہی تو احکامات کھول کھول کر واضح کردیے، فرمایا ’’تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ اللہ کی راہ میں ان کمزور مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر نہیں لڑتے جو کہتے ہیں کہ اے اللہ! ہمیں اس بستی سے نکال جہاں کے لوگ بڑے ظالم و جفا کار ہیں اور ہمارے لیے ایک محافظ اور مددگار مقرر فرما۔‘‘ (النساء: 75)
کس قدر خوبصورت بات ہے کہ اللہ نے مظلوموں کی بستی کا مسلمان ہونا بھی نہیں کہا بلکہ کوئی بھی بستی جہاں ظالم مسلط ہوں، مظلوموں کی مدد کے لیے لڑنا فرض کردیا۔ قرآن پاک میں چوبیس آیات میں اللہ نے لفظ جہاد استعمال کیا ہے۔ ان سب میں جہاد کی فرضیت اور اس کی فضیلت مسلّم ہے۔ اللہ جہاد کرنے والوں کی لغزشوں کو معاف کرنے اور رحمتوں سے نوازنے کا وعدہ کرتا ہے۔ (البقرہ: 218)
اللہ گھر میں بیٹھے رہنے والوں اور اس کی راہ میں جان و مال سے جہاد کرنے والوں کو برابر نہیں سمجھتا، بلکہ جہاد کرنے والوں کو بلند درجہ عطا کرتا ہے (النساء: 95)۔ جان مال سے جہاد کرنے والوں کو ہی کامیاب قرار دیتا ہے۔ (التوبہ: 9)
یہ صرف جہاد کی چند آیات ہیں جن میں جان، مال، قلم اور دیگر وسائل سے باطل، طاغوت اور ظالم کے خلاف لڑنا شامل ہے۔ اگر قتال، یعنی اللہ کے راستے میں قتل کرنے اور قتل ہونے والی آیات کو درج کیا جائے تو پھر شہدا کا وہ افضل مقام و مرتبہ سامنے آتا ہے جس کی آرزو ہر مسلمان کے دل میں شمع کی طرح روشن رہتی ہے۔ یہ تمام کی تمام آیات تو قرآن میں موجود ہیں، مگر ہمارے جدید مذہبی دانشوروں نے اس جہاد اور پھر قتال کی تیاری کے لیے گزشتہ بیس سال سے صرف اور صرف ایک ہی بہانہ تراشا کہ اگر ریاست اعلان کرے گی تو پھر ہم جہاد میں حصہ لیں گے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے بنی اسرائیل کی مثال دے کر دلوں کے اس کھوٹ اور اسی بہانے جہاد سے نفرت کو کس خوب صورتی سے واضح کیا ہے۔ اللہ فرماتا ہے ’’کیا تم نے بنی اسرائیل کے ان سرداروں کا حال نہیں دیکھا جنہوں نے موسیٰؑ کے بعد اپنے زمانے کے نبی سے کہا کہ ہمارے لیے ایک بادشاہ مقرر کردو تاکہ ہم اللہ کی راہ میں قتال (جنگ) کریں۔ نبی نے ان سے کہا کہ تم سے کچھ بعید نہیں ہے کہ اگر تم پر جنگ فرض کردی گئی تو تم نہ لڑو۔ انہوں نے کہا ہم کیسے نہیں لڑیں گے جب کہ ہم اپنے گھروں سے نکالے گئے ہیں اور اپنی اولاد سے چھڑائے گئے ہیں! مگر جب ان کو جنگ کا حکم دیا گیا تو ان میں سے ایک چھوٹی سی جماعت کے سوا سب کے سب نے منہ پھیر لیا۔ اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔(البقرہ: 246)
یہ دراصل نفاق کی وہ علامت ہے جو لوگوں کو جہاد اور قتال سے بچنے کے لیے بہانے تراشنے پر مجبور کرتی ہے اور ان میں سے سب بڑا عذر یہ ہے کہ کوئی اسلامی ریاست ہو، پھر اس ریاست کا کوئی حکمران ہو اور وہ اعلانِ جہاد یا اعلانِ جنگ کرے۔ قتال اور جنگ تو بعد کی بات ہے ہم تو اس جہاد یعنی زبان و بیان سے ساتھ دینے کے لیے بھی شاید تیار نظر نہیں آرہے۔ مگر اب ہمارے علمائے کرام، مفتیانِ عظام اور جدید دینی مفکرین کے پاس کوئی عذر باقی نہیں رہا۔ ہمارے سیکولر، لبرل اور ملحد دانش وروں اور سیاست دانوں کے پاس بھی اب کوئی بہانہ ایسا نہیں کہ وہ انکار کرسکیں۔ نریندر مودی کی ہندو توا پالیسی اور ہندو قومیت کے اعلان کے بعد ان لبرل، سیکولر اور ملحد لوگوں کو مذاہب کی جنگ کے درمیان اب کسی ایک مذہب کا انتخاب کرنا ہوگا۔ ہندو مذہب یا اسلام۔ زمین کی قسمیں کھانے والے قوم پرستوں کو بھی قوم کا ساتھ دینا ہوگا اور انسانیت کا درس دینے والے ملحدوں کو بھی ظالم اور مظلوم کے درمیان مظلوم کا انتخاب کرنا ہوگا۔ اس انتخاب کی گھڑی میں اب زیادہ دیر نہیں ہے۔ اللہ نے نریندرمودی کی صورت میں سیکولر منافقت کا لبادہ تار تار کردیا ہے۔
اب 1925ء سے جس ہندو مذہبی جنون کو پروان چڑھایا گیا اس کا آتش فشاں پھٹ چکا، لاوا سرحدوں کے قریب کھول رہا ہے۔ وہ جو امن کی آشا اور معاشی مستقبل کے گیت گاتے تھے، اُن کے گھر بھی زد میں ہیں۔ عبداللہ، عبدالرحیم اور عبدالرحمن جیسے نام رکھنے والوں کو اب کوئی ڈیوڈ، اینڈریو یا جیمز اسمتھ بھی شاید پناہ نہ دے، اس لیے کہ اب تو وہاں سے بھی کوچ کا وقت آن پہنچا ہے۔ میرے آقاؐ کے فرمان کے مطابق، اب دنیا دو خیموں میں بٹنے والی ہے، ایک جانب مکمل ایمان اور دوسری جانب مکمل کفر۔

حصہ