بندریا شہزادی

36

اس زمانے کے رواج کے مطابق اس قسم کے فیصلوں میں بھی بادشاہ اپنے وزیراعظم سے لازماً مشورے کیا کرتا تھا۔ ایک رواج بادشاہ کی اپنی ریاست میں بھی تھا اور وہ یہ تھا کہ بچوں کی شادیاں کبھی شاہی خاندان میں نہیں ہوا کرتی تھی۔ جس ملک کا وہ بادشاہ تھا، اس کے اجداد کا خیال تھا کہ شاہی خاندانوں میں شادیاں کبھی نہ کبھی فتنہ و فساد کا سبب ضرور بنتی ہیں اس لئے اس ملک کی سیکڑوں برسوں سے یہی روایت رہی تھی کہ لڑکوں کی شادیاں عام لیکن شریف شہریوں کے گھرانوں میں ہی ہوا کرتی تھیں۔
وزیر اعظم کو جب یہ خبر ہوئی تو اس نے بادشاہ کے سامنے اپنی ایک تجویز رکھی۔ اس نے کہا کہ کیوں نہ کسی بستی کے قریب، کھلے میدان میں آپ کے بیٹے کمان سے تیر ہوا میں بلند کریں۔ تیر بستی کے جس گھر یا گھر کے قریب گرے گا، اس گھر کے قریب یا گھر میں جو بھی لڑکی ہوگی اس سے شہزادوں کی شادیاں کرادی جائیں البتہ گھر والوں کی مرضی کا خیال ضرور رکھا جائے۔ بادشاہ کو وزیر اعظم کی تجویز معقول لگی چنانچہ پہلے دن سب سے بڑے شہزادے نے کسی بستی کے قریب جاکر تیر ہوا میں اچھالا۔ تیر جس گھر میں گرا وہ بہت ہی غریب لوگ تھے۔ معلومات کرنے پر معلوم ہوا کہ اس گھر میں ایک بچی ہے۔ رنگت اس کی سانولی ہے لیکن نقوش بہت پر کشش ہیں۔ جب غریب گھر والوں کو اس بات کا علم ہوا کہ ان کی لڑکی شہزادی بنائی جانے والی ہے تو وہ بہت پریشان ہوئے۔ دربار میں جاکر عرض کیا کہ بادشاہ سلامت ہم کہاں اور آپ کہاں۔ ہم بہت غریب لوگ ہیں۔ اس قابل کہاں کہ ہم آپ کی برابری کر سکیں۔ بادشاہ نے کہا کہ غریبی اور امیری، عزت اور ذلت سب اللہ کی طرف سے ہے۔ ہم بادشاہ ضرور ہیں لیکن آپ کی رضامندی کے بغیر ہم آپ کی لڑکی کبھی نہیں لیں گے۔ اگر آپ انکار بھی کریں گے تو ہمیں کوئی شکایت نہیں ہوگی۔ آپ اپنی برادری سے مشورہ کرلیں اور لڑکی سے بھی ضرور رائے لے لیں۔ وہ غریب خاندان بادشاہ کی بات سن کر حیران رہ گیا۔ وہ تو یہ سمجھ رہا تھا کہ انکار کی صورت میں بادشاہ شاید خفا ہوکر کوئی سزا ہی سنادے لیکن بادشاہ نے تو بھائیوں والے انداز میں بات کی۔ ان کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو جاری ہوگئے اور انھوں نے کہا کہ آپ مالک ہیں اللہ آپ کی عمر دراز کرے۔ ہماری جانب سے کوئی انکار نہیں۔ بادشاہ نے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہم خود چل کر آپ کے گھر آپ کا آخری جواب لینے آئیں گے۔ آج سے ہم بھائی بھائی ہیں۔
دوسرے دم بڑے سے چھوٹے شہزادے نے اپنا تیر ہوا میں اچھالا۔ وہ تیر جس گھر میں گرا وہ متوسط گھرانے کے لوگ تھے۔ ان کے گھر بھی مناسب شکل و صورت کی ایک جوان بیٹی تھی۔ جب ان کو شاہی خاندان کے ارادے کا پتا چلا تو حیرت سے ان کی چیخ نکل گئی۔ کہاں وہ اور کہاں شہزادے کے ساتھ شادی کا پیغام۔ انھوں نے بھی بہت چاہا کہ ایسا نہ ہو اس لئے کہ وہ اپنے آپ کو اس قابل سمجھتے ہی نہیں تھے لیکن جب انھیں بادشاہ کی جانب سے بھائیوں جیسے انداز میں رشتے کا پیغام ملا تو پھر ان کے پاس انکار کی کوئی گنجائش ہی نہیں رہ گئی۔
تیسرے دن سب سے چھوٹے بیٹے کی باری تھی۔ کیونکہ یہ بہت شوخ، چنچل اور چلبلا تھا اس لئے جب اس نے تیر فضا میں اچھالا تو وہ گھوڑے کی پشت پر پورے قد کے ساتھ کھڑا ہو گیا، کمان کو بہت ہی زور سے کھینچا اور پوری قوت کے ساتھ اچھل کر تیر کو ہوا میں اچھال دیا۔ اس نے اس بات کا بھی خیال نہ کیا کہ تیر بستی کی جانب اچھالنا ہے۔ جب تیر فضا میں بلند ہوا تو گھوڑا بدک چکا تھا اور اس کا رخ بستی کی بجائے جنگل کی جانب مڑچکا تھا۔ چند لمحوں میں ہی تیر نگاہوں سے اوجھل ہوکر نہ جانے جنگل کے کس حصے کی جانب غائب ہوگیا۔ سب درباری جس میں خود وزیراعظم بھی شریک تھا، شہزادے کے ہمراہ تیر کی تلاش میں روانہ ہوگئے۔ تیر کی سمت کا اندازہ کرکے وہ جنگل میں داخل ہوگئے۔ کافی تلاش کے بعد انھیں ایک بڑے درخت کی اونچی سی شاخ پر تیر نظر آگیا۔ جونہی شہزادہ درخت پر چڑھ کر تیر کے قریب پہنچا اور تیر کو شاخ سے نکالا، ایک بندریا اس کے کندھوں پر سوار ہوگئی۔ پہلے تو وہ ڈرا لیکن بندریا کا حلیہ دیکھ کر وہ ہی کیا سب درباری اور وزیراعظم حیران رہ گئے۔ قد و قامت کے اعتبار سے وہ عام بندروں سے دراز قد تھی۔ اس کے بدن پر بیش قیمت لباس تھا اور چہرے کی شباہت بہت حد تک انسانوں سے ملتی جلتی تھی لیکن تھی وہ بندریا ہی۔ البتہ جس انداز میں وہ شہزادے کے ساتھ نیچے اتر کو سب سے ملی وہ انداز مکمل طریقے سے انسانوں کا سا ہی تھا۔ اور بندروں نسبت اس کے چہرے پر بال نہیں تھے۔ ہاتھوں کی انگلیاں اور پیربھی انسانوں کے سے ہی تھے۔ لیکن پورابدن بالکل بندروں کا سا ہی تھا۔ وہ بندروں ہی کی طرح خیں خیں کررہی تھی۔ اگر کوئی اسکا چہرہ یا ہاتھ پاؤں ہی دیکھ پاتا تو اسے کوئی لڑکی ہی سمجھتا۔ سب بڑے حیران تھے کہ اب کیا ہوگا؟۔ کیا شہزادے کو اس بندریا سے شادی کرنی پڑے گی؟۔ کیا بادشاہ اس بندریا کو اپنی بہو بنانا پسند کریگا۔ کیا مروجہ اصول اور قوانین کے تحت بادشاہ اس بندریا کو اپنی بہو بنانے سے انکار کرسکتا ہے؟۔ ہر فرد مسلسل یہ سوچے جارہا تھا لیکن وزیر اعظم دل ہی دل میں بہت خوش تھا۔ اسے معلوم تھا کہ طے شدہ اصول کے مطابق بادشاہ کسی طور شادی سے انکار نہیں کرسکتا تھا البتہ شہزادے کو ضرور اختیار تھا کہ وہ ایسا کرے لیکن اس صورت میں اسے پوری زندگی کنوارہ ہی رہنا ہوگا اور ملک کے قانون کے اعتبار سے کنوارہ بادشاہ نہیں بن سکتا تھا۔ شہزادہ اگر بندریا سے شادی کرلیتا تو وہ وہ ملک کا بادشاہ بنایا جاسکتا تھا لیکن سوال یہ تھا کہ شہزادہ پوری زندگی بندریا کے ساتھ کیسے رہ سکتا تھا۔
ایک جانب وزیر اعظم کا دل ہی دل میں خوش ہونا اور دوسری جانب رعایا کے اندر درد و کرب کی لہر کا دوڑ جانا ایک قیامت بنتا جارہا تھا۔ تیر کے مقام سے بندریا کے ملنے کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پورے ملک میں پھیلتی جارہی تھی۔ اڑتے اڑتے یہ خبر جب بادشاہ کے کانوں تک پہنچی تو بادشاہ تو دل پکڑ کر بیٹھ گیا۔ انسانوں کی انسانوں سے شادی کا اصول تو یہ تھا کہ والدین کو انکار کرنے کا مکمل اختیار تھا لیکن لیکن کسی بندریا کے والدین کس کو معلوم ہو سکتے تھے۔ اب ایک ہی طریقہ کار رہ گیا تھا کہ یاتو شہزادہ شادی اور بادشاہت دونوں سے انکار کردے یا پھر بندریا سے جب پوچھا جائے تو وہ انکار میں سر ہلادے۔ ان دو راستوں کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں تھا جس سے اس انوکھی شادی سے بچا جا سکے۔
بادشاہ، بادشاہت کو ایک آنی جانی شے سمجھتا تھا۔ اس کا ایمان تھا کہ عزت و ذلت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ وہ بھی کبھی صرف کسی وزیر اعظم کا بیٹا ہی تو ہوا کرتا تھا۔ اس کا دادا بھی کوئی امیر آدمی نہیں تھا لیکن باپ اپنی اعلیٰ صلاحیتوں اور قابلیت کی وجہ سے اس کے دادا کے دور میں بادشاہ کا وزیر اعظم بن گیا تھا اور کیونکہ اس وقت کے بادشاہ کی کوئی نرینہ اولاد نہیں تھی اس لئے اصول و قانون کے مطابق اسے (اس وقت کے وزیر اعظم کے بیٹے) کو بادشاہ بنالیا گیا تھا۔ اسے اگر فکر تھی تو اپنی رعایا کی تھی کیونکہ اس کے علم میں یہ بات اچھی طرح تھی کہ اس کے وزیر اعظم کا بیٹا اچھے کردار کا مالک نہیں ہے اور وہ عوام کیلئے کوئی اچھی رائے نہیں رکھتا۔
یہ ایک ایسی آزمائش تھی جو اچانک اس پر ٹوٹ پڑی تھی لیکن اسے اپنے رب پر مکمل یقین تھا کہ اس کا اللہ کوئی نہ کوئی اچھی راہ ضرور نکالے گا۔ بادشاہ چاہتا تو ملک کے قوانین کو کسی شاہی حکم سے بدل بھی سکتا تھا۔ اسے معلوم تھا عوام اس کو بے حد پسند کرتے ہیں جبکہ وہ وزیر اعظم اور اس کے بیٹے سے بہت خوف زدہ رہتے ہیں اس لئے قوانین میں تبدیلی سے ملک کے استحکام میں کسی قسم کا کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن اس نے سوچا کہ میرے بعد اگر کوئی برا حکمران ملک پر مسلط ہوگیا تو وہ اس تبدیل شدہ قانون سے بہت ہی ناجائز فائدہ اٹھا کر عوام کیلئے قیامت بھی ڈھا سکتا ہے اور ملک کے قوانین کی تابعداری کی بجائے قانون کو اپنا غلام بھی بنا سکتا ہے اس لئے اس نے ایسا سوچنے سے بھی انکار کرتے ہوئے سارے معاملات اپنے اللہ پر چھوڑ دیئے۔
سب کی شادیوں کا ایک ہی دن اور ایک ہی وقت مقرر کردیا گیا۔ اس پوری عرصے میں پورا شاہی خاندان حیران تھا کہ بندریا کا سارا انداز بالکل کنواری لڑکیوں کا سا ہی رہا۔ اگر اس کی شکل و صورت بندروں جیسے نہ ہوتی تو بلاشبہ وہ ایک نہایت مہذب لڑکی ہی نظر آتی۔ اس عجیب و غریب صورت حال میں بادشاہ کو یہ حیرانی بھی ہوتی کہ جب جب وہ بندریا کے متعلق کسی منفی سوچ کا شکار ہوتا تو اسے یوں لگتا جیسے بندریا اس کے کانوں میں سرگوشی کرکے اسے ابو ابو کہہ کر پکار رہی ہو۔ اس کی کوئی لڑکی تو نہیں تھی لیکن اسے اس پر نہ جانے کیوں اپنی بچیوں جیسا ہی پیار آنے لگتا تھا۔ یہی عالم شہزادے کا تھا۔ وہ سخت حیران بھی تھا اور پریشان بھی۔ پریشان اس لئے کہ اس کی منچلی طبعیت کی وجہ سے آج پورا خاندان نہایت اذیت میں ہے اور خود اس کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ وہ کیا کرے۔ ساری زندگی کنوارہ رہ کر بادشاہت کے مزے لوٹے یا شادی سے انکار کرکے بادشاہت سے دست بردار ہوجائے۔ وہ جب بھی ان دونوں میں سے کوئی ایک بات سوچتا تو اسے یوں لگتا کہ بندریا ایک نہایت خوبصورت شہزادی کے روپ میں اس کے سینے کے ساتھ لپٹ کر اپنی جھیل جیسی آنکھوں سے آنسوؤں کا دریا بہارہی ہے۔ وہ جتنا بھی اپنے ذہن کو اس تصور سے جھٹکنے کی کوشش کرتا، بندریا سے اس کی محبت اتنی ہی بڑھتی چلی جاتی۔ شادی سے پہلے ایک دن اس نے اپنے والد کے سامنے اپنی ساری کیفیت من و عن بیان کردی۔ بادشاہ سن کر بہت حیران ہوا۔ کہنے لگا کہ بیٹے اگر سچ پوچھو تو کچھ ایسا ہی میرا حال بھی ہے۔ (جاری ہے)
میں جب جب بندریا کے متعلق اسی قسم کی کوئی بات سوچتا ہوں تووہ میرے سارے حواس پر اس طرح چھاجاتی ہے جیسی اگر میری کوئی بیٹی ہوتی تو وہ میرے حواس پر چھا جاتی۔
سب دولھا تیار ہوکر بیٹھے ہوئے تھے۔ پورے ملک میں شادیانے بج رہے تھے۔ شہزادوں کی آج شادیاں تھیں۔ ایک جانب بے شک ہر گھر میں خوشی پھیلی ہوئی تھی تو دوسری جانب پورے ملک میں ہر آنکھ اشکبار بھی تھی اس لئے کہ ملک کے ایک ایک فرد کو یہ احساس ہو چلا تھا کہ اب مہربان بادشاہت کہ دن کم ہی رہ گئے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بادشاہ کی زندگی تک تو اس سے تخت و تاج کوئی نہیں چھین سکتا تھا لیکن بادشاہ کی وفات کے بعد وزیر اعظم کا بیٹا ہی ملک کا بادشاہ بنے کا البتہ اگر عین شادی کے وقت قاضی کے پوچھنے پر بندریا نے اللہ کی رضا سے انکار میں سر ہلادیا تو پھر بادشاہت بچ سکتی ہے اس لئے پورے ملک کے عوام و خواص محل کے گرد جمع ہوگئے تھے کہ دیکھیں اب کیا ہوتا ہے۔ ملک کے قوانین کے مطابق قاضی کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ دلہنوں سے بھی اجازت خود طلب کر سکتا تھا چنانچہ اس نے ایک ایک کرکے سب سے اجازت طلب کی تو وہ آخری امید بھی دم توڑ گئی کیونکہ جب بندریا سے قاضی نے بہت بلند آواز میں پوچھا کہ وہ ایک انسان کے ساتھ شادی کرنے پر تیار ہے تو اس نے بالکل انسانوں کے سے انداز میں شرماکے ہاں میں تین بار سر ہلادیا اور خوشی سے نکلتے آنسوؤں کو بالکل انسانوں کے سے انداز میں اپنے ہاتھ میں پکڑے رومال سے صاف کرنے لگی۔ سارا مجموعہ یہ منظر دیکھ کر حیران ہو گیا۔
اب آخری فیصلہ پھر شہزادے کہ پاس آگیا لیکن شہزادہ باوجود ہزار کوشش کسی طرح بھی انکار میں نہ تو سر ہلا سکا اور نہ ہی منہ سے انکار کر سکا۔ اس طرح سب کی شادیاں ہو گئیں۔
شادی سے کہیں پہلے تینوں شہزادوں کیلئے الگ الگ محل بنادیئے گئے تھے۔ سب دلہنوں کو ان کے اپنے اپنے محل کے حجلہ عروسی میں پہنچا دیا گیا تھا۔ سب اپنے اپنے والدین سے ملنے کے بعد اپنے اپنے محلوں کی جانب روانہ ہوگئے تھے۔
سب سے چھوٹا شہزادہ بھی نہایت بوجھل قدموں سے چلتا ہوا اپنے محل کے اس کمرے میں داخل ہوا جس میں بندریا کو بٹھا دیا گیا تھا۔ اسے اتنا تو معلوم تھا کہ وہ ایک بندریا ہی ہے لیکن اس سارے دورانیہ میں وہ ایک نہایت تربیت یافتہ بندریا ہی اسے لگی تھی اس لئے اس نے اپنا ذہن بنالیا تھا کہ اور کچھ نہیں تو وہ اس کے ساتھ کسی نہ کسی طرح زندگی گزار ہی لے گا۔ اپنے خاندان کی بادشاہت کو برقرار رکھے گا اور کسی بہت ہی نیک انسان کی اولاد کو اپنا وزیر اعظم بنائے گا تاکہ اس کے ملک کی رعایا کو کسی قسم کے دکھ کے دن نہ دیکھنے پڑیں۔ جب وہ کمرے میں داخل ہوا تو بندریا پیٹھ موڑ کر بیٹھی ہوئی تھی۔ بندریا نے پیٹھ موڑے ہی موڑے ہاتھ کے اشارے سے اسے دروازہ بند کرنے کا کہا۔ جب وہ کمرے میں داخل ہوا تھا تو اس نے کمرے کا دروازہ کھلا ہی چھوڑدیا تھا۔ اسے کمرہ بند کرنا ایک فضول سا ہی کام لگا تھا۔ بندریا کا اشارہ سمجھ کر وہ بہت ہی حیران ہوا لیکن وہ کمرہ بند کرنے سے انکار نہ کر سکا۔ اس نے پلٹ کر کمرہ بند کیا تو بندریا سیدھی ہوکر بیٹھ گئی۔ اس کا سارا جسم اور چہرہ دبیز چادر سے ڈھکا ہوا تھا۔ بندریا کے اس انداز پر شہزادہ بہت ہی ششدر رہ گیا اور بڑھ کر اس نے گھونگھٹ کی طرح لٹکی ہوئی دبیز چادر کو ہٹایا تو مارے حیرت کے اپنی سیج سے اچھل کر کھڑا ہو گیا۔ کہاں کا بندر اور کہاں کی بندریا۔ وہاں تو جنت کی حوروں سے بھی حسین ایک لڑکی بیٹھی ہوئی تھی جس کی غزال جیسی آنکھیں شرم و حیا سے جھکی ہوئی تھیں اور چہرے پر حیا کی سرخی چھائی ہوئی تھی۔
وہ گھبرا کر کمرے سے باہر بھاگنے کیلئے اٹھا کہ شاید وہ کسی غلط کمرے میں بھیج دیا گیا ہے تو ایک نہایت نرم و گزاز ہاتھ نے اس کا کندھا پکڑ لیا۔ رک جاؤ شہزادے یہ میں ہی ہوں۔ حسین و نرم و گداز ہاتھ اور پھر کانوں میں رس گھول دینے والی آواز نے اس کی حالت غیر کرکے رکھ دی۔ خوف کی ایک سرد لہر اس کے پورے جسم میں دوڑ گئی اور اس نے بصد مشکل لرزتی ہوئی آواز میں پوچھا کہ “تم کون ہو”۔ وہ اسے کوئی جنوں کی مخلوق سمجھ بیٹھا تھا جو پہلے بندریا کی صورت میں اس کے اور اس کے باپ کے ہوش و حواس پر سوار ہوئی اور اب انسانوں کا سا روپ دھار کر اس کے سامنے موجود ہے اور کچھ نہیں معلوم کہ مستقبل میں اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔
آواز آئی کہ شہزادے ڈرو نہیں۔ میں نے تمہاری کیفیت سے اندازہ لگا لیا ہے کہ تم مجھے کوئی “جنی” خیال کر رہے ہو اس لئے خوف زدہ ہوگئے ہو۔ تم میرے پاس بیٹھو، میں تم جیسی ہی ایک انسان ہوں۔ تم میرے پاس بیٹھو گے تو میں اپنی کہانی تم کو سناؤں گی۔
یہ اس کی آواز کا جادو تھا یا معلوم نہیں کیا، شہزادے کا سارا ڈر اور خوف جاتا رہا۔ وہ اس کے پاس بیٹھ گیا لیکن اس کا حسن ایسا تھا کہ نظر بھرکر وہ اسے دیکھ نہیں سکتا تھا۔ اس نے کہا کہ میں فلاں ملک کے بادشاہ کی بیٹی ہوں۔ جب اس نے ملک کا نام بتایا تو وہ چونک پڑا کیونکہ اس کے اپنے ملک سے ہزاروں میل دور ایک بہت رحم دل بادشاہ تھا اور اس کی رعایا اس سے بہت خوش رہتی تھی۔ بندریا شہزادی کی بات اسے یوں بھی سچ لگی کہ اسے اس بات کی خبر تھی کہ اس ملک کے بادشاہ کی بیٹی کے حسن کی شہرت کا چرچہ ہر زبان پر تھا اور پھر یہ افسوسناک خبر بھی سننے میں آئی تھی کہ شہزادی کو کچھ نامعلوم لوگوں نے اغوا بھی کر لیا ہے۔ شہزادی کے اغوا کے بعد وہاں کے بادشاہ کی حالت بہت خراب رہنے لگی ہے اور اسی ڈھونڈ کر لانے والوں کیلئے بہت بھاری انعامات کا اعلان کیا جاچکا ہے۔
شہزادے نے کہا کہ تمہاری بات مجھے سچ ہی لگتی ہے لیکن کسی انسان کا بندر بن جانا اور پھر جب چاہے انسانی روپ میں آجانے والی بات سمجھ سے باہر ہے۔
شہزادی نے کہا کہ دراصل مجھے انسانوں نے نہیں ایک جن نے میرے حسن کی وجہ سے اغوا کیا ہے ہوا ہے۔ پھر اس نے اس جن کے اس جزیرے کے بارے میں بتایا کہ وہ کہاں واقع ہے اور ساتھ ہی ایک غار کی نشاندہی کی کہ اس غار میں ایک پنجرہ ہے اور اس پنجرے میں ایک طوطا ہے اور اس طوطے میں اس جن کی جان ہے۔ اگر کوئی وہاں پہنچنے میں کامیاب ہوجائے اور کسی طرح طوطے کی گردن مروڑ کر اسے ماردے تو جن مرجائے گا۔ اگر جن مرجائے گا تو میں جادو کے اثر سے آزاد ہو جاؤں گی اور ہمیشہ ہمیشہ کیلئے انسان بن جاؤں گی۔
شہزادی نے پوچھا کہ جب اس نے تم کو اغوا کر لیا تھا اور جزیرے میں بند کر دیا تھا تو پھر تم وہاں سے ہزاروں میل دور میرے ملک کے جنگل میں کیسے پہنچیں اور بندریا کیسے بنیں۔
شہزادی نے کہا کہ مجھے یقین تھا کہ میری کہانی سن کر تم مجھ سے یہ سوال ضرور کروگے۔ انسانوں کی طرح جنوں میں بھی کچھ کمزوریاں ہوتی ہیں۔ کیونکہ میں نے اپنی گرفتاری کے بعد کسی شدید رد عمل کا اظہار نہیں کیا تھا بلکہ حالات کا مقابلہ کرنے کیلئے اپنے ذہن کو تیار کر لیا تھا اور یہ طے کر لیا تھا کہ جب تک عزت یا جان تک بات نہیں پہنچے گی میں کسی معاملے میں بھی کسی شدید رد عمل کا اظہار نہیں کرونگی۔ میں حقیقتاً بہت خوف زدہ تھی لیکن اس خوف کا اظہار میں نے ہونے ہی نہیں دیا۔ میں جاننا چاہتی تھی کہ جن مجھ سے کیا چاہتا ہے اس لئے خاموشی سے جائزہ لیتی رہی۔ میرے اس طرح ہتھیار ڈال دینے کی وجہ سے جن میری جانب سے کسی حد تک مطمئن ہو گیا۔ وہاں چند گھنٹوں میں ہی مجھے یہ احساس بھی ہوا کہ جن کے دیکھنے، سننے یا سونگھنے کی حس ہر وقت ایک جیسی نہیں ہوتی بلکہ جب وہ کسی مشن پر ہوتا ہے تو وہ میلوں دور کی آہٹیں سن لیتے ہیں، میلوں فاصلے تک نہ صرف دیکھ لیا کرتے ہیں بلکہ وہ جس کو پہچاننا چاہیں پہچان لیتے ہیں اور جس کی بو سونگھنا چاہیں سونگھ لیتے ہیں۔ سونگھنے کی اسی صلاحیت کی وجہ سے انھیں سات پردو میں چھپا ہوا انسان بھی نظر آجاتا ہے۔ یہ سب باتیں جان لینے کی وجہ سے مجھے اس کے کئی راز معلوم ہوگئے جو وہ اپنے جن دوستوں سے کیا کرتا تھا۔ اسی میں مجھے پتا چلا کہ اس کے جن دوستوں میں سے ایک دوست اس سے دشمنی بھی رکھتا ہے۔ ایک مرتبہ اس کی نظر مجھ پر پڑ گئی۔ بس پھر کیا تھا وہ میرے چکر میں پڑ گیا اور اس کی غیر موجودگی میں مجھ سے ملنے آگیا۔ میں نے کہا کہ میں تمہاری ہر بات مان لونگی لیکن وہ (جن کا دشمن جن) کسی طرح مجھے تمہارے ملک میں لے جائے۔ اسے حیرت ہوئی کہ میں اپنے ملک کی بجائے تمہارے ملک کیوں آنا چاہتی ہوں۔ یہ ایک راز کی بات تھی لیکن پریشانی کی بات یہ تھی کہ جس جن نے مجھے اغوا کیا تھا وہ میری بو سونگ کر کہیں بھی پہنچ سکتا تھا اور یہ بات اس کے غضب کا سبب بن سکتی تھی۔ دوسری اہم بات یہ تھی کہ مجھے اللہ نے بنایا ہی بہت خوبصورت تھا اس لئے اپنی اصل شکل و صورت میں میں کسی جگہ بھی محفوظ نہیں رہ سکتی تھی۔ جب یہ دونوں باتیں میں نے اس جن کے سامنے رکھیں تو اس نے کہا یہ بات میرے لئے بہت مشکل نہیں۔ میں تمہیں بندریا بناسکتا ہوں جس کی وجہ سے تمہاری شکل بھی بدل جائے گی اور تمہارے جسم کی بو بھی بندروں جیسی ہوجائے گی لیکن اس شکل میں تم ایک دن رات یعنی 24 گھنٹوں سے زیادہ نہیں رہ سکو گی۔ لیکن۔۔۔۔ لیکن کہہ کر وہ کسی سوچ میں پڑ گیا۔ میں نے اس سے کہا جو بھی کہنا ہے جلدی کہو اور جو بھی کرنا ہے وہ جلدی کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ مجھے اغوا کرنے والا اور تمہارا دوست جن لوٹ کر آجائے۔ اس نے کہا، لیکن بات یہ ہے کہ اگر اس ملک کا شہزادہ تم کو لے جائے خواہ وہ تم کو بندریا سمجھ کر ہی کیوں نہ لیجائے، پھر نہ تو میں تم کو کبھی دیکھ پاؤں گا اور نہ ہی وہ جن جس کا میں بظاہر بہت ہمدرد اور دوست ہوں۔ میں نے کہا ایسا اول تو ممکن نہیں کہ شہزادہ جنگل میں آئے بھی اور مجھے لے بھی جائے لیکن یہ بتاؤ کہ اگر بقول تمہارے 24 گھنٹے گزر گئے اور میں اصل شکل میں واپس آگئی تو پھر کیا ہوگا۔ اس صورت میں میں تمہارے دوست جن سے کیسے بچ سکوں گی۔ وہ کہنے لگا کہ اس کا ایک حل میرے پاس ہے لیکن اس کیلئے مجھے بہت تیزی کے ساتھ ایک عمل کرنا ہوگا لیکن مجھے کیا کرنا ہے یہ میں تم کو کسی صورت نہیں بتا سکتا۔ میرے لئے بھی جلد فیصلہ سنانا ضروری تھا لہٰذا میں نے یہی سوچا کہ فی الحال تو یہاں سے نکلا جائے۔ میں نے اس سے کہا کہ پھر دیر کیسی، چلوں اور مجھے لے چلو کہیں تمہارا دوست جن آہی نہ جائے۔ اس نے بھی دیر نہیں لگائی اور ہم پلک چھپکتے میں تمہارے اس جنگل میں آگئے۔ یہاں ایک گھنا درخت تھا جس پر وہ وہ مجھے چھوڑ کر اپنے کسی عمل کرنے کا کہہ کر فوراً ہی چلا گیا۔ میں نے درمیان میں بتایا تھا کہ ایک بات میں نے بھی اس جن سے چھپائی تھی جو مجھے یہاں لانے کیلئے تیار ہو گیا تھا۔ میں اس ملک میں محض اس لئے آنا چاہتی تھی کہ مجھے یہاں کے ایک بہت بڑے بزرگ کاعلم تھا جسے تم بھی جانتے ہوگے۔ اگر میں سب کی نظروں سے بچتے بچاتے ان تک پہنچ جاتی تو وہ مجھے دنیا کے ہر جن سے محفوظ کر سکتے تھے البتہ پریشانی یہ تھی کہ میں کسی کے سامنے بھی انسانی شکل میں نہیں آسکتی تھی۔ یہی وہ بات میرے لئے شدید پریشانی کا سبب تھی لیکن اس وقت مجھے صرف اور صرف اپنی عزت اور جان کے علاوہ کسی بھی چیز کی پرواہ نہیں تھی خواہ مجھے پوری عمر بندریا ہی بن کر گزارنا پڑجاتی یا میرا اللہ مجھے کوئی اور راہ نہ دکھا دیتا۔ جس عمل کے تحت میں بندریا بنائی گئی تھی اس عمل کے دوران مجھے بندریا بنانے والا جن جو کچھ پڑھ رہا تھا اس میں ایک بات ایسی بھی تھی جو میں سمجھ گئی تھی اور وہ یہ تھی کہ اگر کسی انسان نے مجھ سے شادی کرلی تو میں اپنی مرضی سے لڑکی بن سکتی ہوں اور اپنی مرضی سے بندریا لیکن شادی کے بعد کسی بھی انسان نے، خواہ وہ تمہار سگا بھائی، ماں یا باپ ہی کیوں نہ ہو، گھروں میں کام کرنے والیاں یا والے ہی کیوں نہ ہوں اگر ان کی نظر کسی ایسے وقت مجھ پر پڑگئی جبکہ میں لڑکی کی شکل میں ہوں تو پلک چھپتے میں میں اسی غار میں قید ہوجاؤں گی جو مجھے اغوا کرنے والے جن کے قبضے میں ہے۔ میں بے شک دنیا کے کسی جن کو نظر تو نہیں آ سکوں گی لیکن میں اس وقت تک اس غار سے نہ نکل سکوں گی جب تک کوئی اس غار تک پہنچ کر اس طوطے کی گردن مروڑ کر اس کو ہلاک نہ کردے۔
اللہ سے مدد مانگی جائے تو مرادیں ضرور پوری ہوتی ہیں۔ کیا یہ ضروری تھا کہ اِدھر میں درخت پر اتاری جاؤں اْدھر کوئی تیر آکر ٹھیک میرے پاس گرے وہ بھی اس ملک کے شہزادے کا۔ تیر جیسے ہی ایک تنے میں آکر پیوست ہوا تو میں بہت ہی خوف زدہ ہوگئی تھی۔ مجھے خیال آیا کہ مجھے دیکھ لیا گیا ہے۔ میری شکل و صورت بندریاؤں جیسی ہی تھی لیکن شرم و حیا کی وجہ سے میں نے یہاں آنے سے پہلے ہی اپنے کپڑے اپنے ساتھ ہی رکھ لئے تھے۔ اس لئے میں پریشان تھی کہ اگر کسی نے مجھے دیکھ ہی لیا ہے تو وہ ضرور مجھے پکڑ لے گا۔ میں کیونکہ حقیقت میں بندریا تو تھی نہیں اس لئے شاخوں در شاخوں بھاگ بھی نہیں سکتی تھی۔ تیر کو دیکھنے کے بعد میں نے اپنے آپ کو درختوں کے پتوں میں چھپا لیا تھا۔ اتنے میں میں ایک قافلہ آتا دیکھا۔ تم سب سے آگے تھے اور نہایت سادہ لباس میں تھے، وزیر اعظم کے ٹھاٹ باٹ دیکھ کر مجھے اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ ضرور شاہی اہل کاروں میں سے ہوگا۔ تمہارے بادشاہ کی سادگی اور انکساری کے قصے ہمارے ملک تک پہنچے ہوئے تھے۔ ہمارے ملک میں شہزادوں کی انسان دوستی اور سادگی کی شہرت بھی پہنچی ہوئی تھی اور یہ بات بھی بہت زباں زد عام تھی کہ اس ملک کے بادشاہ کے تین بیٹے ہیں۔ دو بہت سنجیدہ ہیں لیکن چھوٹا بیٹا بہت چلبلا ہے اس لئے مجھے شک گزرا کہ شاید اس آنے والے قافلے میں جو سب سے زیادہ عوامی لباس میں ہے وہ شہزادہ ہی ہوگا۔ قافلہ کسی چیز کو تلاش کر رہا تھا۔ اتنے میں ان کی نظر درخت کے ایک تنے میں پیوست تیر پر پڑی۔ تیر کو دیکھتے ہیں سب نے کے منہ سے جب میں نے یہ سنا کہ شہزادے، تمہارا تیر وہ رہا تو میں خوشی سے پاگل ہو گئی اور اللہ کے حضور سجدے میں گرگئی۔ اللہ کی مدد آن پہچی تھی اور اب مجھے پوری دنیا میں کوئی جن بھی نہ دیکھ سکتا تھا، نہ سن سکتا تھا اور نہ ہی سونگھ سکتا تھا لیکن شرط یہی تھی کہ تم مجھے اپنے ساتھ لے جاؤ۔ میں نے فیصلہ کرلیا تھا کہ یا تو میں مرجاؤں گی یا تمہیں مجبور کردونگی کہ تم مجھے اپنے محل تک لازماً لے جاؤ۔ تمہارے محل میں پہنچنے کا مطلب یہ تھا کہ اب میں ہر جن کی دسترس سے دور ہوجاؤں گی۔
اب تم سوچ رہے ہوگے کہ جب میں ایک انسان تھی تو بات کیوں نہیں کرتی تھیں۔ یہی ایک ایسی آزمائش تھی جو مجھے عمر بھر جھیلنا تھی اس لئے کہ میں بندر یا کی شکل میں انسانوں کی طرح ہر بات سن تو سکتی تھی لیکن بول نہیں سکتی تھی۔ دوسری مشکل یہ تھی کہ جب تک میری کسی انسان سے شادی نہیں ہوجاتی میں کبھی انسانی شکل میں آ ہی نہیں سکتی تھی۔ مجھے فی الحال جنوں کی نظروں سے بچنا تھا اس لئے مجھ پر ایک ہی دھن سوار تھی کہ میں تمہارے ساتھ تمہارے محل تک پہنچ جاؤں۔ بس پھر کیا تھا میں تمہاری گردن میں جھول گئی اور مجھے تم نے مایوس بھی نہیں کیا۔ راستے میں تم سب لوگوں کی باتوں سے مجھے ساری کہانی سمجھ میں آچکی تھی۔ میں پہچان چکی تھی کہ تم ہی وہ شہزادے ہو جس کی شرارتوں کے قصے ہمارے ملک میں بھی عام ہیں۔ بچیاں جب کسی لڑکے کی تعریف سنتی ہیں اور اس کی شرافت کی داستانیں اس کے سامنے آتی ہیں تو ان کے دل میں خوامخواہ بھی وہ لڑکا شہزادہ بن کر سامنے آنے لگتا ہے۔ تم تو پھر بھی شہزادے تھے تو ایک شہزادی ہونے کے ناطے میرے دل میں تمہارا شہزادہ بن بن کر آنا تو بنتا ہی تھا۔
یہاں رہتے ہوئے مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ اس ملک کا عجیب عجیب قانون ہیں اور ان ہی ایک قانون کی زد میں نہ صرف تم آگئے بلکہ پوری بادشاہت بھی خطرے میں پڑ گئی۔ یقین مانوں میں رات دن اللہ تعالیٰ سے دعاگو رہا کرتی تھی کہ اللہ تعالیٰ تمہیں، تمہارے خاندان اور پوری رعایا کو اس آزمائش سے نکالے۔ ایک رات میں اپنے کمرے میں اللہ کے حضور گڑگڑا گڑا کر بہت روئی اور بہت دعائیں مانگیں کہ اللہ تعالیٰ اگر کچھ اور نہیں کرسکتا تو مجھے اپنے پاس بلالے تاکہ تم، تمہارے والدین اور بھائی اس کرب سے نکل جائیں۔ ایک یہ صورت بھی اس آزمائش سے نکلنے کی تھی۔ مجھے تم لوگوں کی شرافت پر بھی بہت پیار آیا کیونکہ کسی بندریا کو کسی بھی ذریعے سے ہلاک کیا جاسکتا تھا اور بادشاہت بچائی جاسکتی تھی لیکن تم میں سے مجھے کوئی ایسا سوچتا بھی نظر نہیں آیا۔ میری اس کیفیت پر جیسے اللہ تعالیٰ نے مجھ پر واقعی کرم فرمادیا۔ میں نہ جانے کب سوئی تو میرے خواب میں میری مرحومہ ماں آئیں اور انھوں نے جیسے مجھ سے یہ کہا ہو کہ میری بیٹی پریشان نہ ہو۔ اللہ نے تمہاری سن لی ہے اور بادشاہ اور شہزادے کے دل میں تمہاری محبت بھردی ہے۔ شہزادہ تم سے اپنے ملک کے قانون کے مطابق شادی کر لے گا۔ یہ مسئلہ حل تو ہو جائے گا لیکن ابھی تم پر اور بھی بڑی آزمائشیں آنی ہیں لیکن جو اللہ موجودہ آزامائش سے تمہیں نکال سکتا ہے وہ آنے والی ہر آزمائش سے محفوظ بھی رکھ سکتا ہے اس لئے گھبرانہ نہیں۔
شہزادی کی ساری کہانی سن کر شہزادہ حیران رہ گیا اور کسی حد تک خوش بھی ہوا کہ اس کی شادی کسی بندریا سے نہیں دوست ملک کے بادشاہ کی بیٹی سے ہوئی ہے لیکن بات یہ تھی کہ یہ بات وہ کسی دیوار کو بھی نہیں بتا سکتا تھا۔ شہزادی نے صاف صاف کہہ دیا تھا کہ نہ تو کوئی اسے دیکھ سکتا ہے اور نہ ہی میری حقیقت کسی کے سامنے آنی چاہیے، ہر دو صورت میں وہ پلک جھپکتے میں نہ صرف غائب کر دی جائے گی بلکہ اسے دوبارہ حاصل کرنے کیلئے ہر صورت میں جن کو مارنا ہوگا۔
شادی کو کئی ہفتے گزر چکے تھے۔ وہ وزیر اعظم جو اس انوکھی شادی پر بہت خوش تھا کہ چلو اگر شہزادہ ایک طویل عرصے بادشاہ بھی رہا تو اس کی موت کے بعد تو بادشاہت اس کے اپنے خاندان میں آجائے گی اس لئے کہ کسی انسان سے کسی بندریا کی اولاد تو ہونے سے رہی۔ لیکن وہ چھوٹے شہزادے کو باقی دونوں شہزادوں سے زیادہ خوش دیکھ کر بہت ہی حیران ہوتا تھا۔ رفتہ رفتہ اس کی حیرانی اس کی پریشانی میں بھی بدلنے لگی۔ ایک تو اس کا سب بھائیوں سے زیادہ خوش خوش رہنا اور دوئم امور مملکت میں بے پناہ دلچسپی لینا اس کی فکر مندی کا سبب تھا۔ بادشاہ بھی اپنے بیٹے کو خوش و خرم اور اپنا مددگار دیکھ کر خوش رہنے لگا تھا۔ کئی مرتبہ بادشاہ اور ملکہ نے چاہا کہ وہ اپنی بہو کو دیکھیں لیکن اس کا جواب یہی ہوتا تھا کہ اگر وہ مجھے (شہزادے کو) خوش دیکھنا چاہتے ہیں اور بہو کی زندگی عزیز ہے تو وہ ایسی نہ تو کوئی تمنا کریں اور نہ ہی کوشش۔ اس کا جواب بہت تشویشناک تو ضرور تھا لیکن اب انھوں نے بھی بیٹے کی خوشی کی وجہ سے ایسی ہر فرمائش سے گریز اختیار کر لیا تھا۔
اِدھر وزیر اعظم کا تجسس تھا کہ بڑھتا ہی جارہا تھا۔ گھر کی کئی بااعتماد کنیزوں کو جاسوسی پر لگایا کہ وہ اس بات کا کھوج لگائیں کہ بندریا زندہ بھی ہے یا مرگئی۔ کیا وجہ ہے کہ شہزادہ ہر وقت خوش و خرم رہتا ہے۔ کئی دنوں کی جاسوسی کے بعد وزیر اعظم کو یہ بتایا گیا کہ جس کمرے میں بندریا رہتی ہے اس میں کوئی روشندان تک کھلا نہیں رکھا جاتا اور شہزادہ جب صبح بیدار ہوکر کمرے سے نکلتا ہے تو بہت ہی خاص تالا دروازے پر لگا دیا جاتا ہے اور تالا لگانے کا کام شہزادہ خود ہی کرتا ہے۔ یہ اطلاع وزیر اعظم کیلئے بہت ہی حیران کن تھی۔ اس نے کہا کہ کیا بندریا زندہ بھی ہے یا نہیں تو کنیزوں نے بتایا کہ وہ زندہ ہی لگتی ہے اس لئے کہ شہزادے کے جانے کے بعد اکثر اس کے کمرے سے بندریا کے خیں خیں کرنے کی آوازیں آیا کرتی ہیں۔
جتنے دن گزرتے گئے وزیر اعظم کا تجسس اور بے قراری بڑھتی گئی۔ ایک دن اس نے فیصلہ کیا کہ وہ خود حالات کا جائزہ لیگا۔
ایک دن اسے کمرے کے پاس ہی اچھی طرح چھپنے کا موقع مل گیا۔ آج شہزادہ بھی امور مملکت میں اتنا زیادہ مصروف رہا کہ معمول سے کچھ زیادہ ہی دیر ہو گئی۔ دیر ہوجانے کی وجہ سے شاید شہزادی بھی پریشان رہی۔ درباری کام سے فارغ ہوکر جب شہزادہ بہت تھکا ہوا لوٹا تو وہ اس بات پر دھیان ہی نہ دے سکا کہ کمرے کے دروازے کے قریب رکھی الماری دیوار سے کافی آگے کیسے آگئی۔ اسی الماری کے پیچھے وزیراعظم چھپا ہوا تھا لیکن شہزادہ اپنی شہزادی سے ملنے کیلئے بہت ہی بے چین تھا اس لئے کہ شادی کے دن سے لیکر آج تک وہ کبھی شہزادی سے اتنی دیر تک دور ہی نہیں رہا تھا۔ یہی کیفیت شاید شہزادی کی بھی رہی ہوگی۔ وہ شہزادے کے انتظار میں دروازے سے لگی ہی کھڑی تھی۔ جیسے ہی شہزادے نے تالا کھولا شہزادی بڑی بے قراری کے عالم میں دروازے سے باہر نکل آئی۔ جیسے ہی حور جیسی شہزادی انسانی روپ میں باہر نکلی، اس کے حسن کو دیکھ کر وزیراعظم کے منہ سے بھی فرط حیرت سے چیخ نکل گئی۔ جیسے ہی شہزادی کی نظریں وزیراعظم سے چار ہوئیں ایک چھماکا سا ہوا اور شہزادی دیکھتے ہی دیکھتے ہوا میں تحلیل ہوکر نگاہوں کے سامنے غائب ہو گئی۔ شہزادے نے وزیر اعظم کو اسی وقت گریبان سے پکڑا اور اپنے والد (بادشاہ) کے حوالے کیا۔ بادشاہ کو ساری حقیقت بتائی اور اجازت چاہی کہ وہ اپنی شہزادی کی جان بچانے کیلئے جائے۔ بادشاہ نے وزیر اعظم کو تو جیل بھجوادیا، اس کے بیٹے کو بھی گرفتار کر لیا تاکہ کوئی فتنہ جنم نہ لے سکے اور شہزادے سے کہا کہ تم سے جو کچھ بن پڑسکے ضرور کرو۔ اللہ تمہارا حامی و ناصر ہو۔
بندریا شہزادی اسے پہلے ہی ساری باتیں بتاچکی تھی اور اس جزیرے کے متعلق بھی بتادیا تھا جس پر جن کا قبضہ تھا لیکن وہاں تک پہنچنا اور پھر جن کی پْراسرار طاقت کا مقابلہ کرنا ایک بہت بڑا مرحلہ اور جان جوکھوں کا کام تھا۔ جن کے ہر قسم کے حملے سے بچنے کیلئے ضروری تھا کہ کوئی پیر کامل یا تو اس کو ایسے وظیفے سکھائے جس کو پڑھنے سے وہ جنوں کے اثر سے محفوظ رہ سکے یا ایسے ہنر سکھادے جس کی مدد سے وہ ہر قسم کے جنوں سے مقابلہ کر سکے۔ محل سے روانہ ہونے سے پہلے اس نے اس معاملے کے ہر پہلو کے متعلق بہت سوچ بچار کیا، ہر قسم کا سفری سامان جمع کیا اور یہی فیصلہ کیا کہ اس ملک کے وہ بزرگ جس کا ذکر بندریا شہزادی نے اس سے کیا تھا، ان سے ضرور ملے اور ان سے ہدایات لے کر کوئی مناسب فیصلہ کرے۔
وہ بزرگ اسی جنگل کے اختتام پر جس میں شہزادے کا تیر جاکر ایک درخت میں پیوست ہو گیا تھا، پہاڑ کے ایک دامن کے غار میں محو عبادت رہا کرتے تھے۔ شہزادہ اس جنگل سے گزرتا ہوا پہاڑ کے دامن میں بنے اس غار کے قریب پہنچا تو دیکھا کہ ایک بزرگ شخصیت غار کے باہر چہل قدمی کر رہی ہے۔ ہاتھ میں ایک بڑی ساری تسبیح ہے اور چہل قدمی کے دوران کچھ ذکر کئے جارہی ہے۔ شہزادہ غار کے قریب جاکر رک گیا۔ بزرگ جو ٹہلتے ٹہلتے غار سے کافی آگے نکل گئے تھے جب لوٹے تو ان کی نظر شہزادے پر پڑی۔ شہزادے کا خیال تھا کہ بزرگ اس کو پہچانتے نہیں ہونگے کہ وہ اس ملک کا شہزادہ ہے یا کوئی عام شہری، لیکن وہ اس وقت بہت حیران ہوا جب بزرگ نے کہا کہ آؤ آؤ شہزادے ہم تمہارا ہی انتظار کر رہے تھے۔ ہم جب کسی کا انتظار کر رہے ہوں تو اپنی روایتی عبادت چھوڑ کر اسی طرح ٹہلتے ہیں تاکہ آنے والا ہمیں غار کے اندر ہی تلاش کرتا نہ رہ جائے۔ یہ کہہ کر انھوں نے شہزادے کا ہاتھ پکڑا اور اسے غار کے اندر لے گئے۔ غار کیا تھا بہت وسیع و عریض عمارت کی طرح پھیلا ہوا تھا۔ اندر داخل ہونے کے بعد شہزادہ حیران رہ گیا کہ اس میں کئی اور راستے بھی ہیں اور ہر راستے پر کئی کئی کمروں والے مکانات بھی بنے ہوئے ہیں۔ سب سے حیرتناک بات یہ تھی کہ غار میں ہر جانب روشنی تھی لیکن یہ اندازہ نہیں ہو پا رہا تھا کہ روشنی کس منبع سے آرہی ہے۔ منبع اس چشمے کو کہتے ہیں جہاں سے روشنی پھوٹ رہی ہو جیسے سورج، چاند، کوئی دیا، موم بتی، لال ٹین یا بلب کی روشنی۔ جب بھی آپ کسی روشنی میں جائیں گے، آپ کو لازماً معلوم ہو جائے گا کہ جس روشنی میں آپ موجود ہیں یا کھڑے ہیں وہ کہاں سے اور کس سے پھوٹ رہی ہے لیکن شہزادہ حیران تھا کہ غار کا ہر راستہ اور اس میں بنا ہر کمرہ روشن تو ضرور تھا لیکن اس کے باوجود بھی اس بات کا علم ہی نہیں ہوپا رہا تھا کہ روشنی کا منبع کیا ہے۔ وہ بزرگ کے ساتھ ساتھ چلتا ہوا ایک ایسے کمرے میں داخل ہوا جو بزرگ کی عبادت کیلئے مختص تھا۔ ایک بہت بڑا سارا بوریا بچھا ہوا تھا جس پر بزرگ بیٹھ گئے اور شہزادے کو بھی اشارے سے بیٹھنے کو کہا۔ شہزادہ ان کے قریب دوزانو ہو کر بیٹھ گیا۔ بزرگ آنکھیں بند کئے کافی دیر تک کچھ پڑھنے میں مشغول رہے پھر آنکھیں کھول کر انھوں نے شہزادے سے کہا کہ مجھے معلوم ہے تم یہاں کیوں آئے ہو۔ میں ملک کے موجودہ بادشاہ سے بہت خوش ہوں کہ وہ اپنی رعایا کا بہت خیال رکھتے ہیں اور ملک کا بچہ بچہ ان سے خوش ہے۔ ہر مذہب انسانیت کا درس دیتا ہے اور انسانوں کی خدمت کرنے کو کہتا ہے۔ سچ پوچھو تو وہ مجھ سے بھی بڑے ولی ہیں کہ لاکھوں انسانوں کا خیال رکھتے ہیں۔ تم جس مہم پر نکلے ہو اس کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں لیکن اگر تم نے حوصلہ نہیں ہارا اور ہر قسم کی مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا تو کامیابی تمہارے قدم چومے گی۔ درست راستے کی نشاندہی میرا فرض ہے لیکن مسافر کو راہ کی ساری مشکلات کا مقابلہ خود ہی کرنا پڑتا ہے۔ کئی سمندر پار کرنے کے سلسلے میں جو جو وسائل تم کو درکار ہیں وہ مختلف ذرائع سے تم کو حاصل ہوتے رہیں گے اس لئے کہ راستے میں جتنے بھی اہم شخصیات ہیں وہ سب میری مرید ہیں۔ میں ایک مخصوص چھڑی تم کو دیدوں گا جس کی مدد سے تم راہ کی ہر رکاوٹ کو دور بھی کرتے جاؤ گے اور جو جو زیارت تمہاری راہ میں آئے گی وہاں کے مجاور تم کو نہ صرف پہچانتے جائیں گے بلکہ تمارے آرام کا خیال بھی رکھیں گے۔ کچھ وظیفے بھی تم کو یاد کرنا ضروری ہیں جن کی وجہ سے تمہارا دل ہر قسم کے خوف و خطر سے آزاد رہے گا۔ اس لئے کچھ دن تو تمہیں میرے پاس ہی رہنا ہوگا تاکہ تم سارے وظیفے یاد کر سکو۔
شہزادے کو آرام اور عبادت کیلئے جو کمرہ دیا گیا وہ عام سا کمرہ ضرور تھا لیکن وظیفے یاد کرتے کرتے جس طرح سکون کی نیند اسے آئی وہ اپنی محل میں بھی کبھی نہیں آئی تھی۔ چار دن کے اندر ہی اندر اس نے سارے وظیفے یاد کر لئے تو بزرگ نے اسے راستوں کی مکمل تفصیل سے آگاہ کیا۔ چھڑی اس کے حوالے کی اور کہا کہ جب تمہارا سمندری سفر شروع ہوگا تو ٹھیک تیسرے جزیرے پر ایک اور بزرگ کے پاس تمہیں جانا ہوگا۔ وہاں تک کی رسائی سے آگے نہ تو میرے وظیفے تمہارے کام آئیں گے اور نہ ہی جنوں سے نمٹنے کے ہنر مجھے آتے ہیں لیکن ان بزرگ کے پاس جنوں سے مقابلے کے سارے گر موجود ہیں۔ تمہاری ہمت اور جرات اور میرے وظیفے بس وہیں تک کے ہیں۔ جس جزیرے میں ان بزرگ کا ڈیرہ ہے وہ بہت وسیع ہے اس لئے وہاں پہنچ کر تمہیں ایک کام یہ بھی کرنا ہے کہ ایک گیند پر اس چھڑی کی ضرب لگانی ہوگی پھر گیند جس سمت بھی جائے اس کے پیچھے پیچھے جانا ہوگا۔ وہ گیند خود بخود تمہیں بزرگ تک لے جائے گی۔ یہ کہہ کر بزرگ نے ایک عجیب و غریب گیند اس کے حوالے کی جس کو ہاتھ میں پکڑ نے پر شہزادے کو ایسا لگا جیسے پانی کے بلبلے سے بھی کوئی ہلکی شے اس نے ہاتھ میں لے لی ہو جبکہ گیند کو دبانے پر اس نے اسے بہت سخت اور ٹھوس پایا۔ بزرگ نے شہزادے کو رخصت کرتے ہوئے ڈھیروں دعائیں دیں اور کہا کہ بالکل بے فکر ہو کر جاؤ، میرا بزرگ سے روحانی رابطہ ہو چکا ہے اور وہ تمہارے منتظر رہیں گے۔
شہزادہ چھڑی ہاتھ میں لئے بزرگ کے بتائے ہوئے راستے پر گامزن رہا۔ اس کے سامنے چھڑی کی کرامات بھی آتی رہیں۔ ہوا یوں کہ ایک گھنے جنگل میں سے گزرتے ہوئے اس نے دیکھا کہ ایک بہت خوفناک اور بہت ہی بڑا اژدہا اس کا راستہ روکے کھڑا ہے۔ اس نے زندگی میں اتنا خوفناک اور بڑا اژدہا کبھی کہانیوں میں بھی نہیں پڑھا تھا۔ اس کے منھ سے آگ کے شعلے بھی نکل رہے تھے اور وہ بہت غضبناک آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔ شہزادہ انسان ہی تو تھا اس لئے اس کا ڈرجانا بجا تھا۔ خوف کی ایک لہر اس کے بدن میں دوڑ گئی تھی۔ اس سے پہلے کہ کہ وہ اپنے ہوش و حواس کھودیتا، اسے بزرگ کی دی ہوئی چھڑی کا خیال آیا۔ اس نے چھڑی کو مضبوطی سے تھاما اور اس کو اژدھے کی جانب کرتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھا۔ اسے حیرت ہوئی کہ پہلے تو اژدھے کے منہ سے نکلنے والے شعلے بند ہوئے پھر اس کا سر آہستہ آہستہ زمین سے جا لگا اور وہ راستہ چھوڑ کر جنگل میں غائب ہو گیا۔ شہزادہ سمجھ گیا کہ عنایت کی ہوئی چھڑی اسے ہر قسم کی آفات، موزی جانوروں، حشرات اور درندوں سے محفوظ رکھنے کیلئے ہی دی گئی ہوگی۔ اب شہزادے کو کا حوصلہ و ہمت بڑھ چکی تھی۔ وہ کسی بھی خوف کو خاطر میں لائے بغیر اپنے مقررہ راستوں پر چلتا ہوا ایک زیارت کے قریب پہنچ گیا۔ سورج بھی اپنی منزل کے قریب پہنچ کر غروب ہونے والا تھا اور شہزادے کی بھی پہلی منزل سامنے آ چکی تھی۔ یہاں کے گدی نشین تک بھی اس کے آنے کی اطلاع ہو چکی تھی اس لئے فوراً ہی اس کے مجاور گدی نشین کے پاس لے گئے۔
کئی دنوں کے سفر کے بعد اور کئی زیارتوں پر قیام کے بعد وہ سمندر کے ایک بہت بڑے ساحل کے قریب پہنچ گیا۔ یہاں مچھیروں کی ایک بہت بڑی بستی تھی اور یہاں کا جو سردار تھا وہ قریب کے ایک گدی نشین کا مرید خاص تھا۔ اس تک شہزادے کے آنے کی اطلاع پہنچ چکی تھی۔ اس نے شہزادے کا بہت پرتپاک طریقے سے استقبال کیا۔ شہزادے نے اپنا مقصد و مدعا اس کے سامنے رکھا۔ اس کی بات سن کر سردار کسی سوچ میں گم ہو گیا۔ شہزادے نے سبب پوچھا تو اس نے کہا کہ جس تیسرے جزیرے پر وہ بزرگ ہیں جن سے آپ کو ملنا ہے اس کے اردگرد نہ معلوم جنوں کا ڈیرہ ہے یا پراسرار مخلوق وہاں آباد ہے۔ میری پہنچ وہاں تک کسی بھی طور ممکن نہیں لیکن اگر وہ آپ کسی طرح وہاں تک پہنچ گئے تو پھر اس طاقتور جن کے جزیرے تک آپ پہنچنے میں ضرور کامیاب ہو جائیں گے اس لئے کہ طاقتور سے طاقتور جن سے مقابلہ کرنے کی ان میں صلاحیت ہے یہی وجہ ہے کہ نہ جانے کتنی مدت سے وہ بزرگ اس کے مقابلے پر ڈتے ہوئے ہیں۔ یہاں سے دوسرے جزیرے سے تیسرے کی جانب کچھ فاصلہ تو ہماری کشتیاں طے کر لیتی ہیں لیکن مزید سفر کرنے والے یا تو غرق ہوجاتے ہیں یا پھر نہ نظر آنے والی مخلوق ان کی کشتیوں کو پیچھے دھکیل دیتی ہیں۔
شہزادے نے کہا کہ کیا یہ ممکن نہیں کہ یہاں سے دوسرے جزیرے تک پہنچا دیا جائے اور وہاں سے کشتی میرے حوالے کردی جائے تاکہ میں باقی راستہ خود طے کر سکوں۔ سردار نے کہا کہ ایسا کیا تو جاسکتا ہے لیکن کیا آپ کا تنہا وہاں جانا خطرناک نہیں۔ اللہ جانے آپ کے ساتھ کیا ہوجائے۔ شہزادے نے کہا کہ جب ایک کام کرنا ہی ہو تو پھر جان کو خطرے میں تو ڈالنا ہی پڑتا ہے۔ آپ فکر نہ کریں اللہ نے چاہا تو میں اپنی مہم مکمل کرکے ہی واپس آؤں گا آپ بس دوسرے جزیرے کے بعد کشتی میرے حوالے کروا دیجئے گا۔
ساحل سے جزیروں کا فاصلہ کافی تھا اس لئے دودن اور دو راتیں دوسرے جزیرے تک پہنچنے میں لگیں۔ جزیرے پر بہت ہی چھوٹی ایک بستی تھی جو اسی سردار کی بستی کے لوگوں کی تھی جس نے اسے یہاں تک پہنچایا تھا۔ بستی کے سردار کو جب شہزادے کی پوری کہانی پتا چلی تو وہ بھی بہت پریشان ہوا۔ اس نے شہزادے کو بہت سمجھایا کہ وہ اپنا ارادہ ترک کردے لیکن شہزادے نے کہا کہ مجھے وہاں ہر صورت میں پہنچنا ہے اور جس بزرگ کا حوالہ ان کے ملک میں رہنے والے بزرگ نے دیا تھا، ان سے ہر صورت سے ملنا ہے کیونکہ وہی ان کو جن کے جزیرے میں داخل ہونے کے ہنر سکھا سکتے ہیں۔ جب تک جن کو مار نہ دیا جائے اس وقت تک شہزادی کو کسی صورت حاصل نہیں کیا جاسکتا۔
بستی کے سردارنے جب یہ صورت حال دیکھی تو اگلی صبح ایک چھوٹی لیکن ہر ضرورت سے آراستہ کشتی شہزادے کے حوالے کردی اور ڈھیروں دعاؤں کے سائے میں شہزادے کو رخصت کیا۔ شہزادے کو بتادیا گیا تھا کہ وہ جزیرے یہاں سے تین یا چار گھنٹے کی دوری پر ہے۔ شہزادہ بتائی ہوئی سمت پر رواں دواں تھا۔ ابھی آدھا راستہ ہی طے ہوا تھا کہ ہوا کے ایک بہت ہی تیز جھونکے نے اس کی کشتی کو کئی میل پیچھے کی جانب دھکیل دیا۔ وہ سمجھ گیا کہ ہوا کا یہ جھونکا اصل میں ہوا کا جھونکا نہیں، پْراسرار مخلوق کی کوئی کارستانی ہے۔ ایسے موقع کیلئے برزگ کا یاد کرایا ہوا ایک وظیفہ اسے یاد آگیا۔ اس نے بلند آواز سے وہ وظیفہ پڑھنا شروع کیا اور سفر جاری رکھا۔ وہ وظیفہ پڑھتا جاتا اور سفر کرتا جاتا۔ کچھ ہی دیر میں اسے جزیرہ نظر آنے لگا۔ ابھی وہ جزیرے کے قریب ہی پہنچا تھا کہ اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا۔ اس نے گھبرا کر آنکھیں بند کرلیں کہ کہیں وہ اندھا تو نہیں ہو گیا۔ ابھی اس نے آنکھیں کھولی بھی نہیں تھیں کہ اس کی آنکھوں کے سامنے ایک بزرگ کی شکل ابھری جو اس سے کہہ رہے تھے کہ تم بالکل سیدھے سفر جاری رکھو۔ یہ کشتی خود ہی ساحل کے ساتھ آ لگے گی۔ جیسے ہی جزیرے پر قدم رکھو، اپنے بزرگ کی دی ہوئی گیند زمین پر رکھو اور ان کی دی ہوئی ہدایت کے مطابق اپنی چھڑی سے ہلکے سے ضرب لگاؤ۔ گیند زمین پر رکھتے ہی سارے اندھیرے چھٹ جائیں گے اور گیند تمہاری رہ نما بن جائے گی۔ ہرمرتبہ گیند کے قریب پہنچ کر چھڑی سے اس پر ہلکی ہلکی ضرب لگاتے رہو یہ تمہیں راستہ بتاتی جائے گی اور تم مجھ تک پہنچ جاؤ گے۔ یہ سن کر شہزادے نے آنکھیں کھول دیں لیکن اب بھی اسے اپنے ایک گز سے آگے کا کوئی منظر بھی نظر نہیں آرہا تھا۔ بزرگ کی دی ہوئی ہدایت کے مطابق وہ بالکل سیدھ میں سفر کرتا ریا۔ کچھ ہی دیر کے بعد اس کی کشتی ایک زوردار جھٹکے کے بعد رک گئی۔ اس نے کشتی کے نیچے غور سے دیکھا تو اسے معلوم ہوا کہ کشتی ساحل کی ریت پر کھڑی ہے۔ اس نے اپنے تھیلے سے گند نکالی، چھڑی ہاتھ میں تھامی اور ساحل پر اتر کیا۔ گیند جونہی زمین پر رکھی سارا اندھیرا چھٹ گا اور سارا منظر صاف دکھائی دینے لگا۔ یہ ایک بہت ہی خوبصورت جزیرہ تھا جس میں اسے ہر قسم کے درخت اور پھول پودے نظر آرہے تھے۔ عجیب جنگل تھا جو باغوں جیسا لگ رہا تھا۔
شہزادے نے چھڑی کی ضرب گیند پر لگائی تو گیند کچھ فاصلے پر چلی گئی۔ عجیب بات یہ تھی کہ جس سمت اس نے گیند پھینکنا چاہی تھی وہ اس سمت نہیں گئی بلکہ اس کے برخلاف گئی۔ شہزادہ سمجھ گیا کہ یہ گیند اس کی مرضی سے نہیں اپنی مرضی سے ہی آگے بڑھے گی اس لئے کہ یہ ایک کراماتی گیند ہے اور اسے اِس جزیرے کے بزرگ کے پاس ہی جانا ہے۔
راستہ بہت ہی طویل ثابت ہوا اور سورج غروب ہونے کے قریب تک یہ سفر جاری رہا۔
طویل مسافت، ڈر اور خوف کے ماحول میں میں کئی گھنٹے گزار کر جب شہزادہ بزرگ کے پاس پہنچا تو بزرگ کی ایک شفقت بھری مسکراہٹ نے اس کی ساری تھکن اتار دی۔ شہزادے نے کہنے کیلئے لب کھولے ہی تھے کہ بزرگ نے اشارے سے اسے منع کیا اور بتایا کہ انھیں تمہاری مہم کے بارے میں سب کچھ آگاہ کردیا گیا ہے۔ تمہاری خوش قسمتی یہ ہے جس جزیرے پر جن کا مکمل قبضہ ہے وہ شہزادی کی تلاش میں کل ایک مرتبہ پھر پوری دنیا کا چکر لگانے جا رہا ہے۔ اس کے علم میں اس جن کی غداری آگئی تھی جو اْس کی غیر موجودگی میں شہزادی کوجزیرے سے لیکر تمہارے ملک میں چلا گیا تھا۔ اس نے ایک زبردست مقابلے کہ بعد اپنے غدار جن دوست کو ہلاک کر دیا تھا۔ اس کے بعد سے وہ پوری دنیا میں شہزادی کو تلاش کرتا پھر رہا ہے جبکہ شہزادی ہوا بن کر اسی کے جزیرے میں موجود ہے۔ اس کے غدار جن نے جو عمل اس پر کیا تھا وہ عمل دنیا کے کسی جن کو بھی نہیں آتا۔ اس عمل میں ایک تو یہ بات شامل تھی کہ اگر بندریا کی شکل میں تبدیل ہونے کے بعد وہ 24 گھنٹے کے اندر اندر کسی انسان کے قبضے میں آجائے تو دنیا کا کوئی جن اسے دیکھ ہی نہیں سکتا اور اگر کوئی انسان اس سے شادی کر لے تو وہ بیک وقت بندریا بھی بن سکتی تھی اور انسانی شکل میں بھی آ سکتی تھی۔ کسی انسان سے شادی ہوجانے کی صورت میں وہ اس غدار جن کو بھی دکھائی نہیں دے سکتی تھی۔ کیونکہ غدار جن کو یقین تھا کہ کسی بندریا کی شادی انسان سے ممکن ہی نہیں اس لئے اس نے اس بات کے متعلق کبھی سوچا بھی نہیں کہ اگر اس کی شادی انسان سے ہو گئی تو وہ خود بھی اسے نہیں دیکھ سکے گا۔ اب یہ اللہ کی قدرت تھی کہ سب کچھ تمہارے حق میں خود بخود ہوتا چلا گیا۔
شہزادہ یہ ساری باتیں بہت ہی دلچسپی سے سنتا رہا اور دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کرتا رہا۔ اس نے بزرگ سے سوال کیا کہ جب شہزادی جن کو بھی نہیں دکھائی دے رہی تو پھر وہ اسے کیسے نظر آئے گی۔ بزرگ نے کہا کہ تم ٹھیک کہتے ہو کہ وہ کسی کو بھی نظر نہیں آ سکتی لیکن جن کی ہلاکت کے فوراً بعد وہ انسانی شکل اختیار کر لے گی اور پھر کبھی کوئی بڑے سے بڑا جادوگر یا طاقتور سے طاقتور جن بھی اس کو غیر انسانی شکل میں تبدیل نہیں کر سکے گا۔ شہزادی خود تو کسی کو نظر نہیں آتی لیکن وہ سب کو دیکھ بھی سکتی ہے اور بول بھی سکتی ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ جیسے ہی وہ بولے گی جن فوراً اس کو دیکھنے کے قابل ہو جائے گا اور اس نے عہد کرلیا ہے کہ جب بھی اور جہاں بھی اس نے شہزادی کو دیکھ لیا، وہ اسے قتل کردیگا۔
کل صبح تمہیں اس جزیرے کی جانب سفر کرنا ہے۔ میرے پاس ایک ایسا عمل ہے جو مجھے اللہ تعالیٰ نے صرف کسی بھی انسان پر ایک مرتبہ ہی کرنے کیلئے عطا کیا ہے۔ وہ ایک انسان اب تم ہی ہوگے۔ عمل مکمل ہوتے ہی وہ علم میرے اندر سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے نکل جائے گا۔ اس عمل کا اثر یہ ہوگا کہ دنیا کی کوئی بھی مخلوق، علاوہ فرشتوں اور اللہ کے، تم کو نہ دیکھ سکے گی۔ لیکن یاد رکھو کہ اگر جن کے جزیرے میں تمہارے منہ سے ایک آواز بھی نکلی تو پھر جن تم کو دیکھ سکے گا اور پھر وہ ہر صورت میں یا تو تم کو ہلاک کردیگا یا تمہیں پتھر کا بنا دے گا۔ یاد رکھو کہ تمہاری چھینک، کسی کانٹے یا کنکر کے چبھنے سے، یا گرکر چوٹ لگنے کی وجہ سے کوئی سسکاری یا کھانسی کی آواز بھی نکلی تو سمجھ لو تم ماردیئے جاؤ گے۔ تمہاری ہلاکت میری تباہی کا سبب بن جائی۔ مجھے یہاں سے ہزاروں میل دور جانا پڑ جائے گا اور یوں اس کی حکمرانی سارے جزیروں پر ہوجائے گی۔ میں ہی وہ واحد انسان ہوں جو اس کے مقابلے پر ڈٹا ہوا ہوں اس لئے تمہیں ہر طرح اپنے آپ کو فٹ رکھنا ہے، ہر تکلیف کو برداشت کرنا ہے اور جو کچھ کرنا ہے بس کر گزرنا ہے۔
اگلی صبح انھوں نے شہزادے کو ایک عجیب و غریب لباس دیا۔ لباس دینے کے بعد انھوں نے کہا کہ اب سارا سفر سمندر کے اندر اتر کر جاری رکھنا ہوگا۔ سطح سمندر پر جنوں کا مکمل قبضہ ہے اور وہ کسی غیر جن کو اس جزیرے کی جانب آنے ہی نہیں دیتے۔ یہ لباس ایسا خاص لباس ہے جو تم کو کسی مچھلی کی طرح بنادے گا اور تم باآسانی سمندر کے اندر تیرتے تیرتے جن کے جزیرے تک پہنچ جاؤ گے۔ اس میں مچھلی کی طرح مصنوئی گلپھڑے لگے ہوئے ہیں جو نہایت تیزی سے کام کرتے ہوئے سمندر کے پانی سے آکسیجن جذب کرکے مسلسل اتنی آکسیجن فراہم کرتے رہیں گے جو ایک انسان کی ضرورت پوری کر سکتے ہیں۔ اس کو پہن کر تم ہر شے کی نظروں سے اوجھل رہو گے اور سمندر کی بھاری بھرکم مخلوق بھی تمہیں نہ دیکھ سکے گی لیکن یاد رکھو سمندر سے باہر نکلنے سے پہلے پہلے تمہیں اس لباس کو سمندر ہی میں کسی بھاری پتھر کے نیچے دبا دینا کیونکہ یہ پانی سے باہر جنوں کو دکھائی دے سکتا ہے جبکہ میں نے جو عمل کیا ہے وہ تمہیں مکمل طریقے سے جنوں سمیت ہر ذی روح، بشمول انسانوں سے تمہیں پوشیدہ رکھے گا۔ اب یہ تمہارے سانس روکنے پر منحصر ہے کہ لباس اتارنے کے بعد سے لیکر لباس کسی پتھر کے نیچے رکھنے تک تم سانس روک سکنے میں کتنا کامیاب رہ سکتے ہو۔
شہزادہ کیونکہ ایک اچھا تیراک بھی تھا اس لئے اسے پورا اعتماد تھا کہ وہ اتنی دیر تک تو لازماً سانس روک سکتا تھا جتنی دیر لباس اتار کر اسے کسی بھاری پتھر کے نیچے دبا کیلئے در کار ہو سکتی تھی۔
شہزادے نے اللہ کا نام لیکر خاص لباس زیب تن کیا، بزرگ کی قدم بوسی کی اور اجازت طلب کرکے سمندر میں اترتا چلا گیا۔ وہ اپنے رب کا بہت مشکور تھا کہ اس کے سارے کام اب تک کسی بہت بڑی پریشانی کے بغیر ہی انجام پذیر ہورہے تھے۔
جن کے جزیرے کے ساحل کے قریب پہنچ کر اس نے بہت پھرتی کے ساتھ اپنا مخصوص لباس اتارا، ساحل ہی کے قریب پانی کی گہرائی میں کئی بڑے پتھر وہ پہلے ہی دیکھ چکاتھا، اس نے جلدی سے ایک پتھر منتخب کیا اور لباس کو اس کے نیچے دباکر بہت تیزی کے ساتھ پانی کے اوپر ابھرتا چلاگیا۔ اگر اس کو کچھ اور دیر ہوجاتی تو اس کے لئے مزید سانس روکے رکھنا بہت ہی دشوار ہوجاتا لیکن وہ ہرکام اپنے وقت پر کرتا چلا گیا۔ اسے معلوم تھا کہ وہ جس عمل کے زیر اثر ہے اس کی وجہ سے وہ چرندوں، پرندوں یا درندوں، غرض کسی کو بھی نظر نہیں آ سکتا۔ ساحل پر کئی جانور موجود تھے لیکن اسے اچھی طرح احساس ہو گیا تھا کہ انھیں کسی اور کے آنے کی کوئی خبر ہوئی ہی نہیں تھی۔
کچھ دیر ساحل پر سستانے کے بعد وہ وہ اپنی اصل مہم پر روانہ ہوگیا کیونکہ اسے ہر کام سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے ہی کرنا تھا۔ راستے میں اس نے کچھ عجیب و غریب انسان نما مخلوق بھی دیکھی۔ وہ بظاہر انسان نہ ہوتے ہوئے بھی انسانوں کے سے لب و لہجے میں باتیں کر رہی تھی۔ اسے پتا چلا کہ جن آج صبح سے ہی کہیں گیا ہوا ہے اور سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے وہ لوٹ بھی آئے گا۔ یہ سن کر اسے بہت خوشی ہوئی۔ اب اسے اپنا کام مکمل کرنا اور بھی آسان ہو جائے گا۔ یہ سوچ کر وہ سامنے والے جنگل میں بے خوف و خطر داخل ہو گیا۔ راستے میں ایک جگہ گھاس زیادہ تھی۔ جیسے ہی اس نے گھاس میں پیر رکھا، ایک کانٹا اس کے جوتا چیرتا ہوا ایڑی کے اندر تک اتر گیا۔ شدید تکلیف سے بے ساختہ چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی لیکن اسے معلوم تھا کہ چیخ تو چیخ، معمولی سی سسکاری بھی اگر جن نے سن لی تو وہ اسے پالے گا اور پھر اسے قتل کردیگا۔ اس نے پیر سے کانٹا نکالا اور سفر شروع کردیا۔ سخت تکلیف اسے آگے بڑھنے سے روک رہی تھی لیکن اسے سارے کام سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے کرنا تھے اس لئے سخت تکلیف کے باوجود بھی اس نے اپنا سفر جاری رکھا۔ کوئی ایک گھنٹے کی مسافت کے بعد وہ جنگل کے اس پار جانے میں کامیاب ہوگیا۔ جنگل سے باہر آتے ہیں اسے وہ پہاڑ صاف نظر آنے لگا جو اس کی منزل تھی۔ لیکن جوں جوں وہ پہاڑ سے قریب ہوتا جاتا خوفناک آوازیں بڑھتی جاتیں۔ ہر آواز اسے لرزا کر رکھ دیتی۔ ظاہر ہے یہ کوئی انسانوں کا مسکن تو تھا نہیں، جن نے اپنی حفاظت کیلئے نہ جانے کیا کیا مخلوق پال رکھی ہوگی۔ حد یہ ہے کہ کبھی کبھی اسے اپنے بدن سے نہ نظر آنے والی مخلوق کے ٹکرانے کا بھی احساس ہوتا لیکن اس نے سارے خوف و ڈر کو اپنے ذہن سے نکال کر پھینک دیا تھا کیونکہ اس کے پیش نظر شہزادی کی رہائی اور جن کو ماردینے کے علاوہ اور کوئی مہم تھی ہی نہیں۔ کچھ فاصلہ طے کرکے اسے غار کا وہ دہانہ بھی صاف نظر آنے لگا تھا جہاں جن کی رہائش تھی اور وہیں قریب ہی کہیں طوطے کا ایک پنجرہ بھی تھا جس میں ایک ایسا طوطا موجود تھا جس میں جن کی جان تھی۔
آخر کار وہ ساری رکاوٹیں عبور کرتا ہوا اس غار کے دہانے کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ جونہی وہ غار میں داخل ہوا تو ایک جانب سے اسے طوطے کے شور مچانے کی آواز آئی۔ وہ آواز کی جانب چل پڑا۔ ملگجے سے اجالے میں اسے پنجرہ اور طوطا دونوں نظر آگئے۔ بس پھر کیا تھا وہ نہایت برق رفتاری سے اس کی جانب بڑھ ہی رہا تھا کہ کوئی شے اس کے سینے سے آکر لپٹ گئی اور اس کے ساتھ ہی میرے شہزادے میرے شہزادے کہتے ہوئے اس نے شہزادے کا منہ چومنا شروع کردیا۔ وہ شہزادی کی آواز پہچان چکا تھا لیکن اسے معلوم تھا کہ اس کی آواز کے ساتھ ہی کیا قیامت آنے والی ہے۔ شہزادی کی آواز کا نکلنا تھا کہ اچانک یوں لگا کہ جیسے اندھیرا چھاتا چلا جارہا ہے۔ شہزادہ سمجھ گیا جن نے شہزادی کی آواز سن لی ہے اور اب خواہ وہ ہزاروں میل دور کیوں نہ ہو، چند منٹوں میں ہی وہ یہاں پہنچ جائے گا۔ اندھیرے کا تیزی کے ساتھ چھاتے چلے جانا اس بات کی علامت تھا کہ جن واپسی کا سفر شروع کر چکا ہے۔ شہزادہ جانتا تھا کہ جن کو یہ معلوم ہوجائے گا کہ شہزادی اس وقت کہاں ہے اور وہ اس کو ہلاک کر دیگا لیکن جب تک وہ خود (شہزادہ) کوئی آواز نہیں نکالے گا اس وقت تک جن اس کو نہ دیکھ سکے گا۔ اب اسے شہزادی کو بچانے کیلئے بھی جلد از جلد طوطے کو مارنا ضروری ہو گیا تھا۔ اتنے جذباتی ماحول کے باوجود شہزادہ اپنے ہر جذبے کو بے قابو ہونے سے روکتے ہوئے طوطے کے پنجرے کی جانب تیزی سے بڑھنے لگا۔ شہزادی نہ جانے اس بات کو شہزادے کا ہرجائی پن خیال کرکے کیوں رونے لگی اور شہزادے کے جسم کے ساتھ اور بھی سختی کے ساتھ لپٹ گئی۔ اچانک شہزادے نے محسوس کیا جیسے تاریکی اور بھی تیزی کے ساتھ پھیلتی جارہی ہے۔ وہ ڈر گیا کہ کہیں اس کی آنکھیں طوطے کو دیکھنے کے قابل ہی نہ رہ سکیں۔ اس نے کسی بھی جذبے کی پرواہ کئے بغیر شہزادی کو ایک جھٹکے کے ساتھ اپنے جسم سے جدا کیا۔ شہزادی زمین پر گر گئی۔ شہزادے نے اس کی بس ایک ہلکی سی کراہ سنی۔ شہزادے نے کسی بھی سستی کا مظاہرہ کئے بغیر پنجرے کی جانب چھلانگ لگائی اور پھرتی کے ساتھ پنجرے کا دروازہ کھول کر طوطے کو اپنے قابو کیا اور پھر گردن پکڑ کر اس زور سے اس کی گردن مروڑی کہ ایک ہی لمحے میں طوطا مرگیا۔ ادھر طوطا مرا ادھر آندھی طوفان کا شید ریلا غار کے دہانے سے ٹکرایا۔ یہ آندھی طوفان نہیں، پہاڑ سے بھی بلند ایک دیو قامت جن تھا جو ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرتا جارہا تھا۔ اس کے مرتے ہی سارے مناظر بدل گئے۔ شہزادی انسان کے روپ میں لوٹ آئی، باہر کی ساری دھند روشنی میں بدل گئی۔ شہزادی کے خوشی کے آنسو رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے اور وہ شہزادے کے سینے سے لگی بچوں کی طرح روئے جارہی تھی۔ شہزادے نے کہا کہ اے اللہ کی بندی تونے تو مجھے بھی مروانے کا کام کر دیا تھا۔ شہزادی نے کہا کہ تم سچ کہہ رہے ہو۔ نہ تو مجھے بولنا چاہیے تھا اور نہ ہی تم سے لپٹنا چاہیے تھا لیکن تم کو دیکھ کر میں اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکی اور خوشی سے پاگل ہوگئی تھی۔ اللہ جانتا ہے کہ مجھے پورا یقین تھا کہ تم کسی نہ کسی دن مجھے لینے ضرور آؤ گے۔
جب دونوں غار سے باہر نکلے تو وہ ساری مخلوق جو انسانوں کے لب و لہجے میں بات کر رہی تھی وہ سب کی سب انسان بن چکی تھی اور باہر شہزادے کے حق میں نعرے لگا رہی تھی۔ جن کے مرتے ہی ساحل پر کشتیاں بھی نظر آنے لگیں۔ یہ ساری کشیاں ان ہی انسانوں کی تھیں جو اس جزیرے کی طرف آ نکلے تھے۔ شہزادے نے کہا کہ تم سب اپنی اپنی کشتیوں میں اپنے اپنے گھروں کو لوٹ جاؤ تمہارے لواحقین تمہارا شدت سے انتظار کر رہے ہونگے۔ وہ سب شہزادے کا شکریہ ادا کرکے رخصت ہو گئے۔ ابھی شہزادہ سوچ ہی رہا تھا کہ یہاں سے اب کیسے جایا جائے کہ اچانک شہزادی نے کہا کہ آؤ دو پری زادوں کو بھی کیوں نہ ان کی اصل حالت میں لیکر آئیں۔ وہ کل ہی غلطی سے یہاں اترے تھے۔ ان کو جن نے میرے سامنے ہی عجیب و غریب درخت بنا دیا۔ مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ وہ دوبارہ کس طرح اپنی اصل شکل میں واپس لائے جاسکتے ہیں۔ شہزادی نے شہزادے کا ہاتھ پکڑا اور ایک سمت چلدی۔ کچھ ہی فاصلے پر شہزادے کو دو درخت نظر آئے جو پروں والی مخلوق سے کافی حد تک ملتے جلتے تھے۔ قریب ہی ایک چشمہ رواں تھا جس کا پانی سونے کی طرح سنہرا تھا۔ شہزادی نے مٹی کے دو کوزوں میں وہ پانی بھرا اور جونہی وہ پانی ان کے سروں پر ڈالا وہ پری زادوں کی شکل میں آگئے۔ شہزادی نے جلدی جلدی انھیں ساری کہانی سنائی۔ کہانی سننے کے بعد بس انھوں نے اتنا کہا کہ وہ ان کا اسی جگہ انتظار کریں۔ یہ کہہ کر وہ آسمان میں نہ جانے کہا غائب ہو گئے۔ کچھ ہی دیر کے بعد آسمان پر پرندوں کا ایک جھنڈ سا نظر آیا لیکن جب وہ زمین کے قریب ہوئے تو معلوم ہوا کے درجنوں پری زادے زمین کی جانب آرہے تھے۔ ان کے ساتھ ایک بڑا سارا اڑن قالین بھی تھا۔ انھوں نے شہزادی اور شہزادی کو اس پر بیٹھنے کو کہا۔ جیسے ہی وہ اڑن قالین پر بیٹھے قالین فضا میں بلند ہوگیا۔ شہزادہ اور شہزادی پہلے راستے میں موجود دونوں بزرگوں سے ملے اور پھر اپنے ملک کی جانب روانہ ہوگئے۔ پری زادوں نے بتایا کہ ہمارے پرستان کے بادشاہ نے تمارے والد (بادشاہ) کو بتادیا ہے کہ تمہارا بیٹا اور بہو آرہے ہیں بس تم ان کے استقبال کیلئے نکلو۔ پورا شہر محل کے گرد جشن منارہا ہے اور تمہارے استقبال کیلئے جمع ہے۔ اپنے ملک کے دارالحکومت کے قریب بلندی سے انھوں نے دیکھا کہ پورے ملک کے عوام محل کے گرد جمع ہیں اور سب لوگ خوشی سے ناچ رہے ہیں۔ اڑن قالین اور پرے زادے جب بادشاہ کے قریب اترے تو بادشاہ اور ملکہ نے دونوں کو اپنے گلے لگا لیا۔ بادشاہ اور ملکہ نے اپنی بہو کو پہلی مرتبہ دیکھا تھا۔ تھوڑی دیر بعد ملکہ شہزادی کو کچھ دور لیجا کر اس سے کچھ راز کی باتیں کرنے لگی۔ شہزادے نے دیکھا کہ جیسی وہ ملکہ (ماں) کی باتیں سن کر پریشان ہو رہی ہو لیکن وہ پھر خوش نظر آنے لگی لیکن معلوم نہیں کیوں وہ شہزادے سے نظریں چرانے لگی۔ ابھی وہ کچھ سمجھ بھی نہ پایا تھا کہ اس نے شہزادی کو اڑن قالین پر سوار ہوتے دیکھا۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا قالین بڑی برق رفتاری سے فضا میں بلند ہوا نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ شہزادے پر جیسے سکتا طاری ہو گیا لیکن اس نے دیکھا کہ آسمان پر درجنوں پری زادے درجنوں اڑن قالین لے کر آرہے ہیں۔ ان کے اترتے ہی بادشاہ اور ملکہ اپنے بیٹے کو لیکر ایک قالین پر سوار ہوگئے۔ پھر پورا خاندان اور بادشاہ کے سارے وزیر دیگر قالینوں پر سوار ہو گئے۔ شہزادہ بڑی حیرانی سے یہ سارا نظارہ دیکھ رہا تھا۔ یہ تیزرفتار قالین ہزاروں میل کا فاصلہ طے کرکے شہزادے کے لحاظ سے ایک اجنبی ملک کے ایک محل میں اترے۔ یہاں پہچ کر شہزادے کو معلوم ہوا کہ یہ شہزادی کا اپنا ملک ہے۔ شہزادی ایک تخت پر دلہن بن کر بیٹھی ہوئی تھی۔ وہاں کے بادشاہ نے اپنی بیٹی کو بہت دھوم دھام کے ساتھ شہزادے کے ہمراہ رخصت کیا۔ کئی دن پورے ملک میں شادیانے بجائے گئے اور سارے باراتیوں کو اپنا مہمان بنا کر رکھا گیا۔ پورے ملک کی سیر کرائی تب کہیں جاکر واپس جانے کی اجازت دی۔
شہزادے کو بادشاہ نے اپنی ہی زندگی میں تخت و تاج کا مالک بنادیا اور آج کل اس ملک میں اسی شہزادی اور شہزادے کا راج ہے اور ہر امیر و غریب اتنا خوش حال ہے کہ دنیا کے سارے ممالک اور ان کے عوام ان کے ملک جیسا بننے کی تمنا کرتے ہیں۔

حصہ