اللہ اکبر

84

سیدہ عنبرین عالم

17جون 2018ء، نیویارک۔ عمیر 19 سالہ نوجوان تھا، آبائی طور پر پاکستانی تھا، پڑھائی کے ساتھ پیزا ڈیلیوری کا کام کرتا تھا۔ رات کا ایک بج رہا تھا، ایک دو منزلہ مکان کے سامنے وہ پیزا لیے کھڑا تھا، بیس منٹ تک گھنٹی بجانے کے بعد دروازہ کھلا، دو لڑکے مختصر لباس میں باہر آئے اور عمیر کو اندر لے گئے۔ اسے کھانے کے بل سے ڈبل پیسے دیے اور اصرار کرنے لگے کہ ہمارے ساتھ کھانا کھاکر جانا۔ عمیر گھبرایا ہوا تھا کیوں کہ وہاں 12 آدمی موجود تھے اور تین تو انتہائی بوڑھے تھے۔ مختصر لباس میں سب کے سب چپ چاپ بیٹھے تھے۔ دیواروں پر پوسٹر لگے ہوئے تھے، ان پوسٹروں میں ہالی ووڈ اسٹارز کی تصویریں تھیں اور وہ ہونٹوں پر انگلی رکھ کر ’’ہش‘‘ یعنی چپ کا نشان بنا رہے تھے۔ بعض پوسٹروں میں اداکاروں نے اپنی ایک آنکھ بند کی ہوئی تھی اور گلے میں Star of David یعنی پنچ ستارہ کا لاکٹ تھا۔ کمرے کا فرش شطرنج کی طرح کالے اور سفید چوکور خانوں جیسا بنا ہوا تھا۔ کمرے کے کونے میں Baphomet کا مجسمہ رکھا ہوا تھا اور ہلکی سی روشنی تھی۔کھانے کا آغاز ہوا۔ ساتھ میں کولڈ ڈرنکس بھی تھیں۔ ’’تمہار نام کیا ہے؟‘‘ سب سے بوڑھے آدمی نے عمیر سے پوچھا۔
عمیر سے تو پیزا بھی نہیں کھایا جارہا تھا۔ ’’میرا نام عمیر ہے، میں ایشین ہوں، اسٹوڈنٹ ہوں‘‘۔ اس نے جھجکتے ہوئے جواب دیا۔
’’ہم New Age Movement سے تعلق رکھتے ہیں، ہم ہندوئوں کے خدا شیوا کے ماننے والے ہیں، ہم اصلاً یہودی النسل ہیں، اور لوگ ہم کو یہودی کی حیثیت سے ہی جانتے ہیں، مگر ہم نے نئی تحریک کو روشناس کرایا ہے، ہم یہودی اور ہندو دونوں مذاہب کا مجموعہ ہیں، عبادت ہم براہِ راست شیطان کی بھی کرتے ہیں‘‘۔ اس بوڑھے نے بتایا۔
’’یہ سب آپ مجھے کیوں بتا رہے ہیں؟ میں الحمدللہ مسلمان ہوں، مجھے جانے دیجیے‘‘۔ عمیر نے کہا اور اٹھ کھڑا ہوا۔
’’بیٹھ جائو، 13 سے 24 جون تک ہمیں نئے کارکن بنانے کا حکم ہے۔ زبردستی نہیں ہے، ہمارا فرض ہے تمہیں تمام معلومات فراہم کرکے دعوت دینا۔ دعوت قبول کرنا نہ کرنا تمہاری مرضی، تم ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے‘‘۔ بوڑھا بولا۔
’’شیوا کون ہے؟ آپ صرف شیوا کی ہی پوجا کیوں کرتے ہیں، ہندوئوں کے تو کئی خدا ہیں؟‘‘ عمیر نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔
بوڑھا مسکرایا۔ ’’ہندوئوں کے تین خدا ہیں: براہما، وشنو اور شیوا۔ براہما خالق کو کہا جاتا ہے، وشنو وہ ہے جو تمام خلقت کو پالتا ہے، اور شیوا تباہی کا خدا ہے۔ شیوا کے پجاری یوگا وغیرہ پر یقین رکھتے ہیں۔ ہم دُرگا اور کالی پر بھی یقین رکھتے ہیں۔ دُرگا ماتا جنگ اور قتل کی دیوی ہے، کالی ماتا اس کی نائب ہے اور اس کا کام بھی تباہی ہے، تقریباً تمام یہودیوں کے یہی اعتقادات ہیں۔ نئے لوگوں کو شامل کرنے کے لیے یہ نئی تحریک بنائی ہے‘‘۔ وہ بولا۔
عمیر اور زیادہ ڈر گیا۔ ’’یعنی آپ ہندوئوں کے صرف اُن خدائوں کے پیروکار ہیں جو Destructor ہیں، یعنی آپ کا مقصد صرف اور صرف تباہی ہے۔ مگر یہودی تو اہلِ کتاب ہیں اور اللہ کی عبادت کرتے ہیں!‘‘ اس نے آہستہ سے کہا۔
بوڑھے کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ پھیل گئی۔ ’’جو اصل خدا ہے اور خدائی کا حق دار ہے، وہ شیطان ہے۔ تم لوگ دھوکے میں ہو، تم جس اللہ کی عبادت کرتے ہو اُس کا کوئی وجود ہی نہیں۔ کیا کسی ایک شہر پر بھی اللہ کی حکومت ہے؟ جب کہ شیطان کا قانون تمام دنیا پر چل رہا ہے۔ تم بتائو خدا کون ہے؟ ہمارا خدا Destroyer ہے اور وہ آہستہ آہستہ تمام انسانوں اور دنیا کو ختم کررہا ہے۔ اگر تمہارا خدا اللہ واقعی خدا ہے اور طاقت رکھتا ہے تو کہاں ہے؟ کیا اُسے اپنے بندوں کے چیتھڑے اڑتے دکھائی نہیں دیتے؟‘‘ اس نے کہا۔
عمیر کچھ لمحوں کے لیے چپ ہوگیا۔ ’’ہم اپنے اللہ کی نہیں مانتے اس لیے مشکل میں ہیں، اللہ ہی ایک خدا ہے‘‘۔ وہ بولا۔
بوڑھے نے قہقہہ لگایا۔ ’’کیا بات کرتے ہو یار! فلسطینی ایک نماز پڑھنے کے لیے اپنی جان دے دیتے ہیں، کشمیری بچے پتھر اٹھاکر بھارتی فوج کے آگے صرف اللہ کے نام کے لیے ڈٹ جاتے ہیں، 15 سال کے طالبان کے لڑکے جس دم شہید ہوتے ہیں تو اُن کے ہونٹوں پر قرآن کی تلاوت جاری ہوتی ہے۔ اتنا پختہ ایمان! کیا ان کا ایک آدھ جھوٹ، ایک آدھ شرارت تمہارا خدا معاف نہیں کرسکتا؟ نسلوں کی نسلیں سزا کا شکار ہیں!‘‘ بوڑھے کا میٹھا لہجہ برقرار تھا۔
’’میرا خدا Creator ہے، Sustainor ہے، اس کی ساری کائنات ہے، تم صرف زمین کے ہو‘‘۔ عمیر نے غصے سے کہا۔
’’اتفاق ہے کہ آج ایک مسلمان لڑکے سے واسطہ پڑ گیا، اگر تمہارا رب Creator ہے، تو Destroyer کون ہے؟ یہ زلزلے، سیلاب، جنگیں، بھائی کا بھائی کو جائداد کے لیے قتل کرنا… حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ تک تو قتل ہوجاتے ہیں، یہ سب کون کررہا ہے؟ شیطانیت اور تباہی انسان کے ہر دور میں رہی، کسی قوم نے تمہارے اللہ کے رسولوں کو نہیں مانا، سب نے صرف شیطان کو مانا۔ تمہارا رب اپنے چند چہیتوں کو بچا کر، پوری پوری قوم کو تباہ کردیتا ہے۔ نوح کے وقت پوری دنیا کو ڈبو دیا۔ اگر اللہ ہے تو وہ صرف Destroyer ہے‘‘۔ بوڑھا دھیمے لہجے میں پیار سے کہتا رہا۔
عمیر 19 سال کا ایک ناتجربہ کار لڑکا تھا۔ نہ تاریخ کا زیادہ علم تھا، نہ ہی قرآن ترجمے سے پڑھ رکھا تھا۔ بس ایک غیرتِ ایمانی تھی، وہ اپنے اللہ کا دفاع کرنا چاہتا تھا، اسے ایسا لگ رہا تھا کہ اگر آج وہ ان شیطانوں پر اللہ کو خدا اور قادرِ مطلق ثابت کردیتا ہے تو اس کا اجر کسی فلسطینی شہید سے کم نہیں ہوگا۔ ’’تو تم بھی تو صرف Destruction کا ارادہ رکھتے ہو، تباہی کی طاقتوں کی عبادت کرتے ہو، جب کہ تم جانتے ہو کہ تم بھی انسان ہو اور اسی دنیا میں رہتے ہو، تم بھی سارے انسانوں اور دنیا کے ساتھ تباہ ہو جائو گے‘‘۔ اس نے تقریباً چنگھاڑ کر کہا۔
کمرے میں موجود سب آدمی اس کا جوش دیکھ کر ہنس پڑے۔ ’’دماغ ٹکے کا نہیں ہے تم لوگوں کے پاس، جوش بڑا دکھاتے ہو۔ اپنے نبی کے کارٹون پر مرنے مارنے پر تل جاتے ہو اور ان کی تقلید میں صادق اور امین بننا تمہیں گوارا نہیں۔ دو مسلم ممالک آپس میں جنگ لڑتے ہیں اور دونوں امریکا سے ہتھیار خریدتے ہیں۔ جنگ کسی کی بھی ہو، جیتتے صرف یہودی ہیں، جن کا ہتھیار فروخت ہوتا ہے۔ سارے مسلمان احمق ہیں‘‘۔ ایک لڑکے نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’تم لوگوں کے شیطانی دماغ کا کیا فائدہ؟ تم تو حقیقی رب کو نہیں پہچان سکے‘‘۔ عمیر نے ترکی بہ ترکی جواب دیا۔
بوڑھے نے ہاتھ اٹھا کر سب کو ہنسنے سے منع کیا۔ ’’اگر تمہارا اللہ حقیقی رب ہے تو بھی ہمیں ہارنے والوں کے ساتھ شامل ہونا پسند نہیں، اور ہم صرف زمین تک محدود نہیں ہیں، ہم کائنات کو قابو کررہے ہیں، ہم زمین کے مکمل تباہ ہونے سے پہلے چاند پر اور دیگر سیاروں پر رہائش اختیار کریں گے… نہایت پُرتعیش رہائش۔ جس جنت کا دھوکا دے کر تمہارے مولوی تم لوگوں کو مروا رہے ہیں، اس جنت سے زیادہ پُرآسائش زندگی تو ہم اِس زمین پر بھی گزار رہے ہیں۔ تمہارا اللہ تو تمہیں رزق بھی نہیں دیتا، آکر کافر ملکوں میں جوتے کھاتے ہو، دو وقت کی روٹی کے لیے وہ امت کافروں کے ٹوائلٹ صاف کرتی ہے جس کا رسول پیٹ پر پتھر باندھ لیتا تھا، مگر کافروں سے کسی شرط پر بھی مفاہمت نہیں کی، تم ایسے اللہ کو Sustainer کہتے ہو‘‘۔ اس نے ملائمت سے کہا۔
’’ٹھیک ہے، تم مریخ یا زہرہ پر جاکر دیکھ لو، موت تو تمہیں وہاں بھی آئے گی، اگر میرا رب Destroyer ہے تو اتنا تو تمہیں ماننا پڑے گا کہ تمہاری موت میرے رب کے ہاتھ میں ہے، تم بچ کر دکھا دینا‘‘۔ عمیر مسکرا کر بولا۔
بوڑھا ایسے مسکرایا جیسے عمیر نے انتہائی بے تکی بات کردی ہو۔ ’’تم لوگ ابھی تک مسجد میں لوٹا رکھنے کو ہی خدا کی نیابت سمجھتے ہو، جب کہ خدا کی نیابت یہ ہے کہ انسان پیدائش، تقدیر اور موت کو کنٹرول کرلے۔ ہمارے سائنس دان اس قدر ماہر ہیں کہ ہم اپنی مرضی کا بچہ پیدا کرسکیں گے، یعنی اس کا رنگ، اس کی ذہانت اور اس کی پیدائش ہماری مرضی کی ہوگی۔ ایسے بچے کے پیدا ہوتے ہی اس کی نوکری کا بندوبست ہوجائے گا اور نوکری کی مناسبت سے اس کی تربیت ہوگی، اس بچے کے ہر ہفتے ٹیسٹ ہوں گے… میڈیکل ٹیسٹ، جس کیمیکل کی بھی کمی بیشی ہوگی اس کا فوراً دخول یا اخراج کردیا جائے گا۔ اس کے لیے فالتو دل، گردہ، جگر ہمیشہ تیار رہیں گے تاکہ اعضا کی خرابی کی صورت میں فوراً ٹرانسپلانٹ ہو۔ دوسری کئی ایسی تحقیقات جاری ہیں جن سے ہم موت کو کنٹرول کرلیں گے اور تم لوگوں کو بموں سے مار ڈالیں گے‘‘۔ وہ پیار سے بولا۔
اب ہنسنے کی باری عمیر کی تھی۔ ’’نہایت احمقانہ بات کی آپ نے۔ چلیں میں مان لیتا ہوں کہ یہ سب ممکن بھی ہے، پھر بھی کیا آپ کو اندازہ ہے کہ اس طرح کے ایک ایک انسان کو زندہ رکھنے پر کتنے اخراجات آئیں گے؟ اور کیا ضمانت ہے کہ اس طرح کا انسان سب کچھ آپ کی مرضی کے مطابق ہی کرے گا؟ اگر اللہ اُس کے دل میں کوئی خیال ڈال دے تو دل سے الہامات کو رفع کرنے کی کوئی دوا یا مشین ہے آپ کے پاس؟ اگر آپ کے پاس واقعی عقل ہوتی تو آپ سوچتے کہ آپ پیدائش اور موت کے حوالے سے جو اقدامات کررہے ہیں وہ صرف مادّی ہیں۔ پیدائش اور موت کا تعلق روح سے ہے، کوئی بھی مادّی اسباب روح کو کنٹرول نہیں کرسکتے۔ بے شک بہت ممکن ہے کہ ہم بحیثیت نائب موت، پیدائش اور تقدیر کو کنٹرول کرلیں، لیکن یہ سب صرف اللہ کے حکم سے ہوگا، یہ علم شیطانوں کے کارندوں کو نہیں دیا جائے گا، بلکہ صرف اللہ رب العزت کے عاشقوں کو دیا جائے گا۔ اور یہ سب روح کے علم سے ہوگا، مادّی علوم سے نہیں۔ اتنی عقل ہے مجھے‘‘۔ عمیر نے بلند آواز میں کہا۔
بوڑھا اب بھی تضحیک آمیز نظروں سے عمیر کو دیکھ رہا تھا۔ ’’ہمارا خدا زمین پر آئے گا، گریٹر اسرائیل بنے گا۔ جو اصل خدا ہے وہ مُردوں کو ہاتھ لگائے گا تو وہ زندہ ہوجائیں گے، اندھے کو چھوئے گا تو وہ دیکھنے لگے گا، مٹی کے پرندے کو ہاتھ لگائے گا تو وہ اصل پرندہ بن کر اُڑنے لگے گا۔ تمہارا خدا اس وقت بھی دعائیں سننے میں مصروف ہوگا جنہیں وہ کبھی قبول نہیں کرتا، ورنہ کشمیر اور فلسطین اب تک آزاد ہوچکے ہوتے۔ وہ نہیں ہے، مان لو‘‘۔ اس نے ہنس کر کہا۔
’’آپ دجال کا انتظار کررہے ہیں‘‘۔ عمیر نے بوڑھے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا۔ ’’جو معجزے آپ نے بتائے وہ تو حضرت عیسیٰؑ کے ہیں۔ اللہ کبھی زمین پر نہیں آئے گا، اس کو ضرورت نہیں ہے، وہ کُن کہتا ہے اور سب ہوجاتا ہے۔ دجال ضرور آئے گا، وہ شیطان کا انسانی روپ ہے، وہ صرف تباہی پھیلائے گا، حضرت عیسیٰؑ مومنین کی جانب سے لڑیں گے۔ بے شک تم نے سائنس کے زور پر دنیا پر قبضہ کرلیا ہے، مگر مومنین روح کے علم کے زور پر تمہیں ہرا دیں گے۔ آج اللہ مومنین کو آزما رہا ہے، ہم ذلت کا شکار ہیں، مگر ایک وقت آئے گا کہ یہودیوں کو روئے زمین پر جان بچانے کی بھی جگہ نہیں ملے گی، یہ بات تمہیں معلوم ہے، جبھی ہر جگہ غرقد کے درخت لگا رہے ہو‘‘۔ اس نے کہا۔
’’بوڑھے نے پھر ایک زوردار قہقہہ لگایا۔ ’’روح کا علم؟ سوئی تک تو تم بنا نہیں سکتے، چین سے درآمد کرتے ہو، تم بھلا روح کا علم کیسے پائو گے؟ ٹھیک ہے اگر تم روح کا علم حاصل کر بھی لوگے تو ہم تمہارے کسی لیڈر کو چند ارب ڈالر رشوت دے کر یہ علم خرید لیں گے اور پھر اس کے ذریعے تمام دنیا بلکہ کائنات پر قبضہ کرلیں گے۔ اتنا تو مجھے بھی پتا ہے کہ اصل کھیل روح کا ہے، اس علم کے بغیر کوئی بھی خدا کا نائب نہیں بن سکتا‘‘۔ اس نے کہا۔
عمیر نے ٹھنڈی آہ بھری۔ ’’اگر پورے جسم میں صرف ایک ہاتھ یا ایک کان بہترین کام کررہا ہو اور باقی سارا جسم ناسور کی طرح سڑ رہا ہو تو ایسا انسان کسی سے کوئی مقابلہ نہیں جیت سکتا۔ میرا اللہ بھی تمام امتِ مسلمہ کو ایک جسم کی طرح دیکھ رہا ہے۔ پوری امتِ مسلمہ میں اگر صرف فلسطینی، کشمیری اور طالبان مکمل اور باعمل ایمان رکھتے ہیں تو اس بنا پر پوری امتِ مسلمہ کامیاب نہیں ہوسکتی۔ اگر تمام امت اعلیٰ ترین درجے کا ایمان رکھے گی تب جاکر اللہ کی مدد آئے گی اور نصرت ہمارا مقدر ٹھیرے گی۔ ہمیں روح کا علم بھی صرف اجتماعی اطاعت پر ملے گا‘‘۔ وہ بولا۔
’’تو پھر تو قیامت تک بھی تمہیں روح کا علم نہیں ملے گا اور تم بربادی کا ہی شکار رہو گے‘‘۔ ایک لڑکے نے ہنس کر کہا۔
’’اگر اللہ نہیں ہے تو فرعون کو کس نے غرق کیا تھا؟ اگر اللہ نہیں ہے تو میرے محمدؐ کو یہ طاقت کس نے دی کہ تمام یہود کو عرب سے نکال باہر کیا؟ اللہ ہے، چند دن ٹھیرو، تم ایسے ذلیل و رسوا ہو گے جیسے کوئی نہیں ہوا‘‘۔ عمیر نے کہا۔
’’اگر اللہ ہے تو بھی شکست کا شکار ہے۔ شیطان کی حکومت دنیا پر چل رہی ہے، ایک وقت ایسا آئے گا کہ جس کے بازو پر 666 کا نشان ہوگا، اسی کو کھانے پینے کا سامان ملے گا، باقی بھوکے مریں گے‘‘۔ بوڑھے نے دھیمے سے کہا۔
عمیر نے حیران ہوکر دیکھا۔ ’’666؟ میرے دوست کے پاس انجیل تھی، انجیل کے آخری باب کا نام ہے مُکاشفہ، یعنی راز۔ اس مکاشفہ میں تحریر ہے کہ 666 شیطان کا نشان ہوگا، یعنی ہندو اور یہودی مذہب کے اشتراک سے بنی New Age Movement تو واقعی شیطانی تنظیم ہے۔ آج سے تقریباً ساڑھے تین ہزار سال پہلے یہ بات انجیل میں درج تھی جو آج پوری ہورہی ہے، تم لوگ سچ مچ شیطان ہو‘‘۔ وہ زور سے چلّایا۔
سب ہنسنے لگے۔ ’’ہاں ہم شیطان کے چیلے ہیں، ہم سب اپنے خدا شیطان کے ساتھ جہنم میں جائیں گے، ہم جہنم میں جانا چاہتے ہیں کیوں کہ ہمارا خدا وہیں ہوگا، وہی خدا بننے کے لائق تھا۔ ابلیس کہتا تھا کہ میں بادلوں کے اوپر، اللہ کے تخت کے برابر اپنا تخت بنائوںگا (انجیل)۔ اللہ تو کچھ بھی نہیں کرتا تھا، سب کام ابلیس ہی کرتا تھا، اللہ صرف حکم دیتا تھا، تو پھر اللہ کا کیا اختیار! آج بھی اللہ کے پاس سے ابلیس نے جو جو ہنر سیکھے، وہی ہم لوگوں کو منتقل کررہا ہے اور ہم دنیا پر حکومت کررہے ہیں، اور اللہ کے ماننے والوں کے پاس کوئی ہنر ہی نہیں، وہ تخلیق کے راز نہیں جانتے، وہ نائب بننے کے لائق ہی نہیں ہیں‘‘۔ بوڑھے نے کہا۔
عمیر کھڑا ہوگیا۔ ’’میرا اللہ ہی سچا اور اکیلا بادشاہ ہے۔ فرعون، نمرود، عاد اور ثمود بھی شیطان کی مدد سے میرے رب کو ہرانا چاہتے تھے، پھر وقت نے دیکھا کہ جو رب میرے لیے Sustainer ہے، وہ شیطانی اقوام کے لیے Destroyer بن گیا، تم تو نیل کے پانی کا اور ابابیلوں کا مقابلہ نہیں کرسکے، تم میرے رب کو کیا ہرائو گے! جب تم طاقت کے زعم میں خوب شیطانیت دکھا چکو گے تو میرا اللہ تمہیں پکڑے گا، اُس نے تمہیں اس لیے چھوٹ دی ہوئی ہے کہ تم زیادہ سے زیادہ گناہ کرلو اور تمہیں زیادہ سے زیادہ سزا دی جاسکے، اور قیامت کے روز شیطان کہہ دے گا کہ اس کا تم لوگوں سے کچھ واسطہ نہیں‘‘۔ وہ بلند آواز سے بولا۔
قہقہے مزید بلند ہوگئے۔ ’’مگر تم تو مرے ہی مرے، فلسطینی روز 30 سے 40 مرتے ہیں اور ہمارا میڈیا دکھاتا ہے کہ 2 فلسطینی مرے۔ تم تو جاکر رپورٹنگ تک نہیں کرسکتے، تم تو ایک نیشنل جیوگرافک جیسا چینل تک نہیں بنا سکتے، تم تو ہارو گے، تباہ ہوگے۔ تم مسلمان تو ایک دوسرے کے ہی دشمن ہو‘‘۔بوڑھے نے مسکرا کر کہا۔
عمیر کا سانس تیز تیز چلنے لگا۔ ’’کوئی موسیٰ آئے گا فرعون کو مٹانے، کوئی محمدؐ کا غلام آئے گا کروڑوں لوگوں کو سدھارنے، اللہ کا غلام بنانے۔ حزب اللہ ہی جیتے گی، حزب الشیطان رسوائی کا شکار ہوکر مٹ جائے گی، ہمیشہ سے یہی ہوتا آیا ہے، یہی ہوگا‘‘۔ اس نے زور سے کہا۔
شیطان کے پجاری ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہورہے تھے۔ عمیر باہر کے دروازے کی طرف جانے لگا، پھر مڑ کر دیکھا اور مسکرایا ’’اللہ اکبر، اللہ احد‘‘۔ اس نے اپنے پھیپھڑوں کی تمام طاقت سے زوردار نعرے لگائے۔ سارے آدمی بالکل چپ ہوگئے۔ ’’اللہ اکبر…‘‘ عمیر نے پھر نعرہ لگایا۔ اب سارے آدمیوں کے چہرے پر ہوائیاں اُڑ رہی تھیں اور وہ اپنی جگہ پر ساکت بیٹھے تھے۔ ’’اللہ اکبر‘‘ عمیر نے ایک بار پھر نعرہ لگایا اور دروازے سے باہر نکل گیا، اس کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ تھی۔
nn

حصہ