ڈاکٹر محمد یعقوب جہدِ مسلسل کی داستان

118

محمد علی فاروق
اللہ تعالیٰ اپنے کچھ بندوں کو اس طرح کی خصوصیات عطا کرتا ہے جو انہیں دوسروں سے جدا کرتی ہیں۔ علامہ محمد اقبال نے کہا تھا ’’خدا کے بندے تو ہیں ہزاروں، بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے، میں اس کا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہوگا‘‘۔ خدا کا ایک ایسا ہی بندہ ڈاکٹر محمد یعقوب بھی ہے۔ آج سے 8دہائی قبل کشمیر کی وادیوں میں جنم لینے والے محمد یعقوب کے دل میں اللہ تعالیٰ نے شروع ہی سے خدمت کا جذبہ موجزن کردیا تھا۔ بظاہر ناتواں نظر آنے والے اس شخص سے ملنے والا ہر شخص یہ بات یقین سے کہہ سکتا ہے کہ ان کے دل میں سوائے خدا کے کسی کا ڈر نہیں۔ تحریکِ آزادی کے دوران اپنے ڈنڈے کے ساتھ چھری باندھ کر تنہا گھومنے والے محمد یعقوب کا پاکستان کے ساتھ عشق ایمان کی حد تک ہے۔ نوجوانی ہی سے دوسروں کے دکھوں کو انہوں نے اپنا دکھ سمجھنا شروع کردیا تھا۔ لوگوں کی تکلیف سے انہیں اپنا جسم دُکھتا محسوس ہوتا تھا۔ وہ اُن لوگوں میں سے نہیں ہیں جو کسی کو مصائب میں دیکھ کر آگے بڑھ جائیں۔ لوگوں کے دکھوں کا مداوا کرنا ان کی سرشت ہے۔ قیام پاکستان کے بعد حصولِ رزق کے لیے وہ پہلے آزاد کشمیر اور اس کے بعد روشنیوں کے شہر کراچی آگئے۔ مختلف ملازمتیں کرنے کے ساتھ ویٹرنری ڈاکٹر کا کورس بھی مکمل کیا اور سرکاری نوکری ملنے کے بعد خیبرپختون خوا کے ایک علاقے میں تعینات ہوگئے۔ لیکن یہ نوکری ان کے مشن کے آڑے آرہی تھی، لہٰذا وہ ایک مرتبہ پھر کراچی آگئے۔
یہاں سے ان کی جدوجہد کا آغاز ہوتا ہے۔ انہیں علم تھا کہ انسان کا سب سے بڑا مسئلہ ایک چھت کا ہے۔ انہیں صرف اپنے مکان سے غرض نہیں تھی۔ انہوں نے ہر در کھٹکھٹایا، اور اورنگی ٹاؤن کے علاقے میں اراضی کا ایک حصہ غریب اور متوسط طبقے کے لیے حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ اورنگی ٹاؤن میں واقع کشمیر ٹاؤن انہی کی جدوجہد کا ثمر ہے۔ ڈاکٹر محمد یعقوب نے اسی پر بس نہیں کیا، اب اُن کی اگلی منزل اس اراضی کو آباد کرانا تھا۔ وہ اینٹوں کا ایک تھلہ بناکر بیٹھ گئے، یعنی انہوں نے کاروبار بھی کیا تو لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے۔ لوگوں کو ادھار پر اینٹیں اور دوسرا سامان مہیا کیا جاتا، تاکہ وہ آسانی کے ساتھ اپنا مکان بناسکیں۔ انہوں نے نہ جانے کتنے بے گھر لوگوں کو مکان کا مالک بنادیا۔ ایک جانب لوگوں کی آبادکاری کا سلسلہ جاری تھا تو دوسری جانب وہ ان کے روزگار کے لیے بھی سوچ رہے تھے۔ وہ اورنگی پائلٹ پروجیکٹ کے رضاکار بانیوں میں سے تھے۔ وہ وہاں بھی اپنی خدمات انجام دیتے رہے اور اورنگی ٹاؤن اربن کمیونٹی ڈویلپمنٹ کونسل (یو سی ڈی) کی بنیاد رکھی۔ شروع میں مشرقی پاکستان سے ہجرت کرکے آنے والے مہاجرین کی آبادکاری اور ان کی بحالی کا کام کیا، اور یہ ادارہ اس زمانے میں خدمت کی ایک اعلیٰ مثال تھا، جس کے تحت افراد کو ہنرمند بنایا گیا تاکہ وہ اپنا روزگار خود حاصل کرسکیں۔ اورنگی ٹاؤن اربن کمیونٹی ڈویلپمنٹ کونسل کے تحت ٹیکنیکل ٹریننگ سینٹر، اسکول، ڈسپنسری، انڈسٹریل ہوم، کمپیوٹر سینٹر، جوڈو کراٹے، اسپیشل بچوں کے اسکول و بحالی مرکز اور دیگر فلاحی کام انجام دیئے جاتے رہے، اور ان کاموں کے سرخیل یہی ڈاکٹر محمد یعقوب تھے۔
ڈاکٹر صاحب کے لیے سیاست شجرِ ممنوعہ نہیں تھی، اس لیے انہوں نے اس دشت میں بھی قدم رکھا اور بلدیاتی انتخابات میں حصہ لیتے رہے۔ ان کے سیاست میں سرگرم ہونے کی وجہ سے علاقے کی قسمت ہی بدل گئی۔ اُس زمانے میں اورنگی ٹاؤن کسی جدید ترقی یافتہ علاقے سے پیچھے نظر نہیں آتا تھا۔ پلاننگ کے ساتھ کی گئی آباد کاری، پانی، بجلی،گیس، سیوریج اور دیگر ضروریات کی فراہمی اور صفائی ستھرائی کا جامع نظام ڈاکٹر محمد یعقوب کی اہلیت کو ظاہر کرتا تھا۔ ڈاکٹر صاحب نظریاتی طور پر مسلم لیگی ہونے کے باوجود تحریک استقلال سے وابستہ تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں انہوں نے اپوزیشن میں ہونے کا حق ادا کردیا۔ ان کے خلاف بے بنیاد مقدمات بھی درج کیے گئے، لیکن یہ ہتھکنڈے ان کے عزم میں کوئی شگاف نہیں ڈال سکے۔ وہ جسے حق سمجھتے ہیں اس کا برملا اظہار کرتے ہیں۔ مقدمات، دھمکیاں اور گرفتاری کبھی انہیں راہ سے نہیں ہٹاسکیں۔ انہوں نے انتخابات میں کامیابی اور ناکامی سے قطع نظر علاقے کے عوام کے مسائل حل کرانے کی حتی المقدور کاوشیں جاری رکھیں۔
1985ء کے بعد جب شہر میں ایم کیو ایم کا طوطی بول رہا تھا اُس وقت بھی ڈاکٹر صاحب جرأت کے ساتھ اپنے نظریات پر جمے رہے۔ کتنی ہی شخصیات ہیں جو ڈاکٹر صاحب کے سائے تلے زمین سے اٹھیں اور آسمان پر جا پہنچیں، کتنے ہی عام لوگ ہیں جو ڈاکٹر صاحب کی بدولت اعلیٰ ایوانوں کا حصہ بن گئے، اور کتنے ہی افراد ہیں جن کو ڈاکٹر صاحب کی تربیت نے ایک منجھا ہوا سیاست دان بنادیا۔ سندھ اسمبلی کے سابق اسپیکر عبدالرازق خان، سابق رکن قومی اسمبلی آفاق خان شاہد، زاہد رفیق بٹ، کشمیر کے بزرگ سیاست دان حاجی زمان، اور نہ جانے کتنے نام ہیں جن کو ڈاکٹر صاحب کی رفاقت حاصل رہی ہے۔ ان کی شخصیت کا یہ خاصہ ہے کہ اختلاف کے باوجود کسی سے محبت کرنا نہیں چھوڑ سکتے۔ ہر شخص جانتا ہے کہ اس آدمی کے دل میں کھوٹ نہیں۔یہی وجہ ہے کہ ایم کیو ایم ہو یا پیپلزپارٹی، جماعت اسلامی ہو یا جمعیت علمائے پاکستان،تحریک انصاف ہو یا پاک سرزمین پارٹی…تمام جماعتوں کے رہنما اور کارکن ان کی بہت عزت کرتے ہیں۔
ان کی زندگی جدوجہد سے عبارت ہے۔آج وہ عمر کے اس حصے میں ہیںجب عملی جدوجہد کرنا ممکن نہیں ہوتا، اس کے باوجود انہوںنے غلط چیزوں کی نشاندہی کرنا نہیں چھوڑا۔ان کی آنکھیں بتاتی ہیں کہ وہ اپنی زندگی سے مطمئن ہیں۔ اور کیوں نہ ہوں، جو زندگی دوسروں کے لیے گزارے اُس پر صرف اطمینان ہی نہیں فخر بھی بنتا ہے۔ڈاکٹر صاحب جیسے لوگ اس معاشرے کے لیے اتنے ہی ضروری ہیں جیسے کسی انسان کو زندہ رہنے کے لیے سانس لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ڈاکٹر صاحب ہمارے معاشرے کے لیے ’’سانس‘‘ کی حیثیت رکھتے ہیں۔مجھے یقین ہے کہ اگر آج اِس عمر میں بھی جب ان کے لیے چلنا بھی محال ہے کوئی کسی مسئلے کے لیے ان کے گھر کے دروازے پر دستک دے گا تو ان کی پوری کوشش ہوگی کہ اس کومنع نہ کیا جائے۔وہ خدمت کاایک ایسا مینارۂ نور ہیں،جس کی روشنی پورے اورنگی ٹاؤن کو منور کررہی ہے۔آج ڈاکٹر محمد یعقوب کی اولاد بھی ان کے نقشِ قدم پر چل رہی ہے۔ان کے ایک صاحبزادے کشمیر میں شہادت کے رتبے پر فائز ہوئے۔ان کے لیے بس یہی دعا کی جاسکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کا سایہ ہمارے سروں پر تادیر قائم رکھے۔آمین

حصہ