چراغ

113

سیدہ عنبرین عالم
(یہ ایک خیالی کہانی ہے، اس کے تمام کردار فرضی ہیں، ان کی کوئی مماثلت ارادتاً نہیں ہے۔)
محمد جنید اکرم 40 سال کے ہوچکے تھے، وفاقی پولیس کے اہلکار تھے۔ ان کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے انہیں ڈپلومیٹک انکلیو کا سپروائزر لگا دیا گیا۔ یہ علاقہ اسلام آباد کا وہ حصہ تھا جہاں دنیا بھر کے ممالک کے سفارت خانے تھے۔ صرف چائنا کا سفارت خانہ اس علاقے کے سامنے بنا ہوا تھا۔ پہلے یہ بھی اندر ہی تھا مگر جب چائنا کی حکومت کو بڑی عمارت کی ضرورت پڑی تو انہیں باہر ایک بڑی زمین فراہم کردی گئی۔ چائنا کا دنیا میں سب سے بڑا سفارت خانہ پاکستان میں ہے۔ جنید صاحب مذہبی قسم کے انسان تھے اور مغربی اقوام کی دنیا میں مچائی گئی غارت گری سے سخت عاجز تھے، وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کا گوروں سے واسطہ پڑے، اور وہ غصے میں کوئی اونچ نیچ کربیٹھیں۔ بہرحال جو قسمت کو منظور۔ انہوں نے جوائننگ دے دی اور ایمان داری سے کام شروع کردیا۔
ایک ہفتہ خیریت سے گزر گیا۔ اس کے بعد ایک رات انہوں نے دیکھا کہ ایک عمارت میں جنگی تربیت ہورہی ہے۔ یہ امریکی سفارت خانے کی عمارت تھی۔ انہوں نے اپنی گاڑی عمارت کے اندر داخل کردی، اپنا تعارف کرایا اور عمارت کا اندرونی معائنہ کرنے کی اجازت چاہی، جس کے بارے میں انہیں صاف انکار کردیا گیا۔ یہ بضد رہے، یہاں تک کہ انہیں بڑے افسروں کے فون آنے لگے کہ عمارت سے فوراً باہر نکلو۔ انہوں نے بتایا بھی کہ اندر جنگی تیاریاں ہورہی ہیں، مگر افسروں کا حکم نہ بدلا۔
’’جنید صاحب! آپ کو ڈپلومیٹک انکلیو کا سپروائزر اس لیے لگایا گیا تھا کہ آپ کا ریکارڈ ہر قسم کے دنگا فساد سے پاک ہے، آپ ایک شریف آدمی ہیں، خیال تھا کہ چپ چاپ نوکری کریں گے، آپ کو کس نے حق دیا کہ امریکی سفارت خانے کے اندرونی معائنے پر اصرار کریں!‘‘ آئی جی اسلام آباد نے بازپرس کی۔
’’سر! آپ یقین کریں مقامی لڑکوں کو جنگی تربیت دی جارہی تھی، عمارت کے باہر تک ایسی آوازیں آرہی تھیں جیسے زبردست جنگی تیاری ہورہی ہے، دو تین روز پہلے بڑے بڑے پانچ ٹرک بھی اندر گئے ہیں۔ ہمیں شبہ ہے کہ ٹرک اسلحہ سے لدے ہوئے تھے۔ آخر کیا ہورہا ہے وہاں؟‘‘ جنید صاحب نے کہا۔
’’آپ کی ذمہ داری غیر ملکی افراد اور اُن کے اثاثوں کی حفاظت ہے، وہ جو بھی کریں۔‘‘ آئی جی صاحب نے فرمایا۔
’’میری ذمہ داری پہلے اپنے ملک کی حفاظت ہے، میں پاکستان سے تنخواہ لیتا ہوں۔‘‘ جنید صاحب غصے سے بولے۔
’’آپ کو اعتراض کیا ہے؟ کیوں میری اور اپنی نوکری کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں!‘‘ آئی جی صاحب غصے سے بولے۔
’’سر! میرا خیال ہے کہ پاکستان کے اندر دہشت گرد کارروائیاں ہوسکتی ہیں۔‘‘ جنید صاحب نے اپنے خدشے کا اظہار کیا۔
’’جنید صاحب! کیا آپ کو معلوم ہے کہ پاکستان تمام موٹر ویز، کئی بڑی بڑی سڑکیں گروی رکھ کر قرض لے چکا ہے؟ کیا آپ کو معلوم ہے کہ بادشاہی مسجد اپنے تمام اثاثوں سمیت گروی رکھی جا چکی ہے؟ کیا آپ کو معلوم ہے کہ سکوک بانڈز کیا ہیں؟ یہ بوناز ملکی اثاثوں کو گروی رکھ کر سودی نظام کو تقویت دینے کا ایک چھوٹا سا ذریعہ ہیں۔ یہ تو معمولی باتیں ہیں، پاکستان کو کس کس طریقے سے نچوڑا، ادھیڑا اور بیچا جارہا ہے، وہ آپ اور میں سمجھ بھی نہیں سکتے۔ آپ کس کس تباہی کو روکیں گے! آپ کی تو لاش بھی نہیں ملے گی۔‘‘ آئی جی نے کہا۔
’’سر! مجھے موت کی فکر نہیں ہے، فکر اس بات کی ہے کہ مرنے کے بعد اپنے اللہ کو کیا جواب دوں گا۔‘‘ جنید صاحب نے جواب دیا۔
’’چلیں جو ہوا سو ہوا، آپ کام جاری رکھیں، آئندہ کوشش کریں کہ شکایت نہ ہو۔ آپ بہت اچھے آدمی ہیں، میں نہیں چاہتا کہ آپ کو کوئی نقصان ہو، آپ نے جو بتایا ہے میں خفیہ اداروں کو اطلاع کردوں گا۔‘‘ آئی جی نے بات ختم کی۔
…٭…
دو، تین ہفتے اور گزر گئے، جنید صاحب رات کے وقت علاقے میں پیٹرولنگ کررہے تھے کہ اُن کے پاس سے ایک شاہانہ گاڑی گزری۔ اس میں لڑکیوں کے چیخنے کی آوازیں آرہی تھیں۔ جنید صاحب نے پیچھا کیا اور گاڑی ایک بار پھر امریکی سفارت خانے کے اندر داخل ہوگئی۔ جنید صاحب نے پھر اندر داخلے کی اجازت مانگی۔ اب کہ تو یہ اپنا کارڈ دکھاتے رہ گئے اور ان کی تھپڑوں اور لاتوں سے تواضع کرکے باہر پھنکوا دیا گیا۔ اگلے روز جنید صاحب پھر آئی جی صاحب کے دفتر میں زخم سہلاتے بیٹھے پائے گئے۔
’’جنید صاحب! آپ کو علم ہی نہیں تھا تو آپ نے دخل کیوں دیا؟ میری بات ہوگئی ہے، وہ اصل میں ایسی لڑکیاں تھیں جو دہشت گردی میں ملوث تھیں، آپ ان کی فکر بالکل نہ کریں۔‘‘ آئی جی صاحب نے کہا۔
’’سر اگر وہ لڑکیاں پاکستانی ہیں، پاکستان میں دہشت گردی کررہی ہیں تو اس جرم کی اطلاع پاکستانی پولیس کو دی جانی چاہیے، یہ کون سا طریقہ ہے کہ بالا ہی بالا انہیں امریکی اٹھا لیں!‘‘ جنید صاحب نے جواب دیا۔
آئی جی صاحب مسکرانے لگے۔ ’’جنید صاحب! آپ شہری لوگ ہو، میرا تعلق گائوں سے ہے، گائوں میں ایک چودھری ہوتا ہے، وہ سب کو نوکری دیتا ہے، قرضے دیتا ہے، پولیس بھی اُس کی، الیکشن ہوں تو وہی جیتتا ہے، اور پھر پتا ہے کیا ہوتا ہے؟ وہ جسے چاہے پٹوا دے، جسے چاہے قتل کرا دے، جسے چاہے اٹھوا لے۔ جو اس سے پنگا لیتا ہے، وہ جینے کا حق کھو دیتا ہے۔ آپ نے سنا ہوگا کہ دنیا ایک گلوبل ولیج بن گئی ہے، یہاں کا چودھری امریکا ہے۔ جو پنگا لے اُس کا حشر عراق، افغانستان جیسا ہوتا ہے، اس لیے ہم ہنستے ہنستے ریمنڈ ڈیوس بھی واپس کردیتے ہیں۔‘‘ آئی جی صاحب نے پیار سے سمجھایا۔
’’سر! وہ اگر آپ کی بیٹیاں ہوتیں تو کیا آپ پھر بھی ایسے ہی غیرت سے عاری رویہ رکھتے؟‘‘ جنید صاحب نے پوچھا۔
آئی جی صاحب نے ٹھنڈی آہ بھری۔ ’’آپ کیا سمجھتے ہیں یہ جو اربوں روپے US aidکے آتے ہیں اور جو اربوں روپے قرضے کے دیے جاتے ہیں تو کیا آپ ان کی پھوپھی کے پتر ہیں! دنیا میں کچھ بھی مفت نہیں ہوتا، جب ہم بھیک لیتے ہیں تو پھر ہم باعزت نہیں رہتے، پھر ہم احتجاج کا حق کھو دیتے ہیں۔ وہ ہم پر ڈرون حملے بھی کرسکتے ہیں، ہماری ذہین بیٹی عافیہ کو بھی لے جاسکتے ہیں، ہم سے اپنی مرضی کے فیصلے کروا سکتے ہیں، ہمارے بچوں کو اپنی گاڑیوں سے کچل سکتے ہیں، مگر ہم کچھ نہیں کرسکتے، کیوں کہ نہ صرف ہماری بھیک بند ہوجائے گی بلکہ ہوسکتا ہے ہمیں قذافی کے لیبیا اور صدام کے عراق جیسا مستقبل دیکھنا پڑے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی غیرت جاگ گئی تھی۔ اس لیے جنید صاحب! بیٹی جس کی بھی ہو، غیرت کو سونے دیں، ورنہ ہمارا وطن پاکستان کسی نئے امتحان میں پڑ جائے گا، سمجھ رہے ہیں ناں آپ؟‘‘ انہوں نے پھر سمجھایا۔
جنید صاحب کے چہرے پر کرب صاف نظر آرہا تھا اور ٹوٹتی ہوئی ہمت بھی عیاں تھی۔ ’’سر! ایران اور امریکا کے سفارت خانوںکے درمیان بھی رابطے ہیں، عالمی سطح پر اس قدر عتاب ایک دوسرے کے لیے، اور اندر ہی اندر اس قدر تعاون سمجھ سے بالاتر ہے، تحقیقات کا طالب ہوں۔‘‘ انہوں نے درخواست کی۔
آئی جی صاحب پھر مسکرا دیے۔ ’’جنید صاحب! آپ اتنے اہم علاقے کے سیکورٹی سپروائزر ہیں، آپ کی نظروں کے سامنے وہ کچھ آئے گا جو آپ کو روز حیران و پریشان کردے گا۔ درگزر کیجیے۔‘‘ وہ کہہ کر چپ ہوگئے۔
’’مگر یہ تو پوری دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے، کچھ تو کیجیے۔‘‘ جنید صاحب گڑگڑائے۔
’’جنید صاحب! کیا آپ کو یاد نہیں کہ افغانستان میں طالبان کے خلاف جنگ میں ایران نے شمالی اتحاد کی مدد کرکے کس طرح امریکا کا ساتھ دیا۔ برسوں سے ایران اور امریکا کے درمیان چپقلش کا ڈراما جاری ہے، جب کہ دونوں اندر سے ملے ہوئے ہیں۔ اس دوران شام، افغانستان، یمن، مصر، لیبیا، سوڈان… کتنے ہی ملک راکھ کا ڈھیر بنا دیے گئے، مگر ایران پر نہ حملہ ہوا ہے نہ ہوگا۔ میری بات لکھ کر رکھ لیں۔‘‘ آئی جی صاحب نے جواب دیا۔
’’یعنی ایران، افغانستان اور ہندوستان تینوں پڑوسی ممالک عداوت پر اترے ہوئے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ صرف چین ہی ہمارا دوست ہے۔ میرا رب پاکستان کی حفاظت فرمائے۔‘‘ جنید صاحب انتہائی فکرمندی سے بولے۔
آئی جی صاحب نے زوردار قہقہہ لگایا۔ ’’جی جناب! چین تو ہماری پھوپھی کا پتر ہے۔ یوں کرتے ہیں کہ آپ کی ڈیوٹی چینی سفارت خانے پر لگا دیتے ہیں، شاید آپ دوستی کی ہی لاج رکھ لیں۔‘‘ آئی جی نے فیصلہ سنا دیا۔
…٭…
جنید اکرم صاحب کی ڈیوٹی چینی سفارت خانے پر لگادی گئی۔ جنید صاحب انتہائی خوش اخلاقی کا مظاہرہ کررہے تھے، نیٹ سے کچھ چینی الفاظ بھی سیکھ لیے تاکہ چینیوں سے رابطے میں مشکل پیش نہ آئے۔ چھوٹی موٹی باتوں کو مسلسل نظرانداز بھی کررہے تھے۔ مگر کیا کیا نظر انداز کرتے؟ پھر آئی جی صاحب کے ہاں شکایات کا انبار لے کر پہنچ گئے۔ ’’سر! چینی سفارت خانہ مسلسل ہزاروں چینیوں کو پاکستان بلا رہا ہے، چینی سفارت خانے کی ماسیاں اور بھنگی تک چین سے بلوائے گئے ہیں۔ یہ ہزاروں، لاکھوں چینی جعلی شناختی کارڈ بھی بنوا رہے ہیں، جعلی شادیاں بھی کررہے ہیں اور کئی جرائم میں بھی ملوث ہیں، ان کا کوئی ریکارڈ پاکستان حکومت کے پاس نہیں ہے، یہ پاکستان میں کہیں بھی جاکر گم ہوجاتے ہیں، مقامی زبانیں بھی سیکھ لیتے ہیں اور خود کو شمالی علاقہ جات کا پاکستانی ظاہر کرتے ہیں، اس مسئلے کا سدباب ضروری ہے۔‘‘ انہوں نے آگاہ کیا۔
آئی جی صاحب اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔ ’’جنید صاحب! آپ اپنی ڈیوٹی کریں، آپ کیوں دوسرے معاملات میں ٹانگ اڑاتے ہیں! آپ کو تنخواہ وقت پر مل جاتی ہے، اس کے سوا کچھ اور نہ سوچیں۔‘‘ انہوں نے کہا۔
’’سر! میں اپنی ڈیوٹی ہی کررہا ہوں، میرا فرض ہے کہ میں اپنے ملک پاکستان کی حفاظت کروں اور پاکستان کو لاحق خطرات کے بارے میں افسرانِِ بالا کو آگاہ رکھوں، میں نے کیا غلط کیا ہے؟‘‘ جنید صاحب نے جواب دیا۔
’’آپ کیا آگاہ کریں گے! یہ باتیں ہر صاحبِ اختیار حکمران کے علم میں ہیں، سی پیک جو بن رہی ہے، ایک ایک مزدور، ایک ایک انجینئر چین سے آرہا ہے، وہ کوئی ٹیکنالوجی پاکستانیوں کو منتقل کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ کبھی ایک پاکستانی کو بھی سی پیک کی وجہ سے نوکری نہیں ملی، بس جو حکومتی کارکن ہیں، وہ چینی لوگوں کو سہولیات فراہم کرنے پر متعین ہیں،کسی چینی باشندے کی کوئی نگرانی نہیں کی جارہی ہے۔ انہیں آقا تصور کرکے، ان کی غلامی کی جارہی ہے۔ جو قومیں بھیک پر جیتی ہیں وہ سر اٹھا کر غاصب سے سوال نہیں کرسکتیں۔ ایک ایک اینٹ اور بجری تک چین سے لائی جارہی ہے، اس تمام پراجیکٹ میں پاکستان کا ایک ٹکے کا بھی فائدہ نہیں ہے، ہمیں سب معلوم ہے۔‘‘ آئی جی صاحب نے کہا۔
جنید صاحب سوچتے کے سوچتے ہی رہ گئے۔ ’’اس کا مطلب ہے کہ ملائشیا کے نئے حکمران مہاتیر محمد نے نجیب دور کے چائنا کے ساتھ جو معاہدے تھے، ان سے کنارہ کشی کا فیصلہ درست کیا ہے؟‘‘ وہ بولے۔
’’بالکل صحیح کیا ہے، کوئی شک…؟ یہ ہوتے ہیں دانش مند، مخلص اور دور اندیش حکمران‘‘۔ جواب ملا۔
’’سر! میرا خیال ہے کہ پاکستان کی معاشی صورت حال کی وجہ سے پاکستان کو چپ لگی ہوئی ہے۔‘‘ جنید صاحب نے کہا۔
’’تو جنید صاحب! سوائے عوام کا خون نچوڑنے کے کیا کوئی اور معاشی تگ و دو کی جارہی ہے؟ کوئی بین الاقوامی تجارت یا کاروبار شروع کیا جائے تاکہ روزگار بھی ملے اور ملک کو آمدنی بھی ہو۔ کوئی برآمدات بڑھائی جائیں، کوئی ٹیکنالوجی شروع کی جائے جس کی دنیا میں مانگ بڑھے۔ کوئی تخلیقی اور تعمیری خیال ہمارے حکمرانوں کے پاس پھٹکتا بھی نہیں، احمق ہیں، سوائے ذاتی فائدے کے کچھ نہیں جانتے، بس عوام پر ٹیکس پر ٹیکس لگائے جارہے ہیں۔‘‘ آئی جی صاحب جذباتی انداز میں بولتے چلے گئے۔
’’یہ تو ہے سر! نہ نئی مارکیٹیں بنائی جارہی ہیں، نہ خدمت کے شعبے میں کوئی کام۔ بلکہ جو لوگ کھاتے پیتے تھے، وہ بھی بے روزگار ہوگئے، اب یا تو بھیک مانگیں یا ڈاکا ماریں، پھر کہتے ہیں کہ مدینہ کی ریاست کا خواب ہے۔ سارے جہاں کی کرپشن پر آگ اگلتے ہیں، بہن کی کرپشن نظر نہیں آتی۔‘‘ جنید صاحب نے کہا۔
آئی جی صاحب نے اثبات میں سر ہلایا۔ ’’جنید صاحب! ریاست مدینہ اُس وقت تک قائم نہیں ہوسکتی جب تک کردار محمدؐ اور ابوبکرؓ و عمرؓ جیسے نہ ہوجائیں۔ ایک شرابی کیسے ریاست مدینہ کی بنیاد رکھ سکتا ہے! جو قبروں پر سجدے کرتا ہو، جو کہے کہ میں مدینہ بنائوں گا، تو آپ کو دیکھنا ہوگا کہ وہ سیرت اور بصیرت میں محمدؐ کی طرح ہے یا نہیں؟ یہ بغیر کسی منصوبہ بندی کے حکومت میں آگئے اور اگر ان کو پتا تھا کہ کرپشن نے ملک کا حال خراب کردیا ہے اور اب نہیں سنبھالا جاسکتا تو یہ کیوں بچوں کی طرح حکومت میں آنے کی ضدیں کرتے رہے؟ جو کام نہیں ہوسکتا کیوں اُس میں ہاتھ ڈالا؟ اب بھی وقت ہے سارے پرانے سیاست دانوںکو لاکر نئے پاکستان کا نعرہ لگانے کے بجائے استعفیٰ دو اور گھر جائو۔‘‘ انہوں نے کہا۔
’’سر! کوئی احتجاج بھی نہیں کرتا، پاکستانی تو ظلم برداشت کرنے کے عادی ہوگئے ہیں۔‘‘ جنید صاحب بولے۔
’’جنید صاحب! پاکستان کا کوئی دوست نہیں ہے، اور اندر سے بھی پاکستان کو ختم کیا جارہا ہے۔ بس اللہ ہی کوئی آسرا کرے تو کرے، ہم تو کچھ بھی کرنے سے قاصر ہیں۔‘‘ آئی جی صاحب انتہائی مایوسی سے بولے۔
’’سر! کوئی ہماری پھوپھی کا پتر نہیں ہے، سب سے پہلے خود ہمیں اپنے برے بھلے کا سوچنا ہوگا۔ ہم قلم سے جہاد کرسکتے ہیں تو کریں، کسی کو سمجھا سکتے ہیں تو سمجھائیں، کوئی عملی قدم اٹھا سکتے ہیں تو اٹھائیں… ہم تو بس اپنی جان بچانے میں لگے ہوئے ہیں۔ سر! کوئی نہیں بچے گا۔ جس طرح بربادی کا طوفان آیا ہے، کوئی نہیں بچے گا۔ بزدلوں کی موت مرنے سے بہتر ہے، حق کی خاطر شہید ہوجائیں۔ جو میں کرسکتا ہوں، کروں، اور جو آپ کر سکتے ہیں آپ کریں‘‘۔ جنید صاحب نے جواب دیا۔
’’ٹھیک فرما رہے ہیں آپ۔ میں آگے درخواست ضرور بھیجوں گا، چاہے میری نوکری ہی کیوں نہ چلی جائے۔ چین دوستی کی آڑ میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے کردار میں تبدیل ہوتا جارہا ہے، آگے والے کچھ کرتے ہیں کریں، نہیں کرتے نہ کریں، کم از کم میں تو اپنے رب کے آگے صاف دامن لے کر جائوں گا کہ جو میں کر سکتا تھا میں نے کر دیا، میرا رب مجھے ہدایت دے۔‘‘ آئی جی صاحب بولے۔
…٭…
چند ہی دنوں میں جنید اکرم صاحب کا تبادلہ بلوچستان کے ایک دور دراز گائوں میں ہوگیا تھا۔ جنید صاحب خوش تھے۔ بیوی بچے تو شہر میں رہے، کیوں کہ بچوں کی تعلیم جاری تھی، جنید صاحب اکیلے ہی منتقل ہوگئے۔ وہ ڈیوٹی کے بعد گائوں کے لوگوں کو قرآن اور اردو کی تعلیم دینے لگے ہیں، شہر جاتے ہیں تو چھوٹی موٹی ضرورت کی دوائیں بھی لے آتے ہیں، جو بوقتِ ضرورت گائوں والوں کو فراہم کرتے ہیں۔ شہر کے اسپتال جانے، شدید امراض میں مبتلا لوگوں کے لیے ان کی جیپ حاضر رہتی ہے۔ آج بھی ہر نماز میں وہ پاکستان کی عزت اور بقا کے لیے دعا کرتے ہیں۔ چراغ جہاں بھی روشن ہوگا روشنی ہی پھیلائے گا، میرے رب کا نور کبھی مدہم نہ ہوگا۔

مدہم ہو رہے ہیں چراغ، چاند ستارے بھی ڈوب رہے ہیں
شاید کہ ظہورِ آفتاب قریب ہے، اندھیرے بہت بڑھ رہے ہیں

حصہ