وزیراعظم گرم توے پر۔۔۔۔ قوم تندور میں!۔

157

پاکستان میں اس وقت کئی بیانیے ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔
پہلا بیانیہ تو ملک کو درپیش خارجی و داخلی مسائل ہیں جن میں مسئلہ کشمیر، وزیراعظم کا مشن کشمیر اور اقوام متحدہ سے خطاب، اور اس سے پڑنے والے ممکنہ اثرات ہیں، جیسے کہ ہمارے اسمارٹ وزیراعظم کی ٹرمپ سے ملاقات اور اس ملاقات سے پہلے امریکی صدر کا اپنے طور پر ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی کے شو میں شرکت کا فیصلہ اور پیار کی جپھی ڈالنا، اس کے فوری بعد پاکستان کے وزیراعظم کی امریکی صدر سے ملاقات اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب… جس میں انہوں نے مغربی ممالک اور پاکستان کے مؤقف کا ساتھ نہ دینے والے اسلامی ممالک کو سخت الفاظ میں متنبہ کیا کہ انہوں نے مسئلہ کشمیر پر مسلمانوں کی نسل کُشی رکوانے میں اپنا کردار ادا نہیں کیا، اور اب پاکستان مجبور ہوکر کچھ بھی کرسکتا ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ مجبوری میں کیے جانے والے اقدامات میں کہیں بھی جنگ کا ذکر نہیں ہے۔ مجبور ہوکر جو اقدامات کیے جاسکتے ہیں اُن میں آدھا آدھا گھنٹہ ہر جمعہ کو کھڑا ہونے سے لے کر کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ تقریر اور بیان بازی میں وزیر خارجہ کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ان کی شعلہ بیانی کی ایک دنیا معترف ہے۔ بظاہر ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ بالآخر مجبور ہوکر پاکستان وہی کرے گا جو وہ اب تک کشمیریوں کے ساتھ کرتا چلا آیا ہے، یعنی اُن کے ساتھ کھڑے ہونے کا عزم اور ہر فورم پر ان کے لیے آواز بلند کرتے رہنا وغیرہ وغیرہ۔
جہادیوں کے راستے پہلے ہی بند کردئیے گئے ہیں، ان کے متعدد رہنما پابندِ سلاسل ہیں یا خاموش کروا دیئے گئے ہیں۔ دینی جماعتوں میں وہ دم خم رہا نہیں کہ وہ اپنے طور پر کوئی لائحہ عمل بناکر اس پر عمل درآمد کروا سکیں۔ رہ گئی ہماری چار لاکھ سے زائد دنیا کی ’نمبر ون فوج اور نمبر ون انٹیلی جنس ایجنسی‘ تو انہیں داخلی مسائل میں اس قدر الجھا دیا گیا ہے کہ اب ان کو جنگ جیسے مشکل محاذ پر بھیجے جانے کا تصور بھی محال ہے۔ باقی بچے چھوٹے بڑے سیکڑوں بم اور گولہ بارود، جن میں سے کچھ میں ایٹمی صلاحیت بھی چھپا کر رکھی گئی ہے، تو اس بارے میں ہمارے اسمارٹ وزیراعظم کچھ ماہ پہلے واضح کرچکے ہیں کہ اگر پڑوسی ملک ہندوستان اپنے ایٹمی ہتھیار تلف کردے تو پاکستان کو بھی تلف کردینے میں کوئی مسئلہ نہیں۔
اتنے واضح اشاروں کے بعد بھی اگر کوئی اس خیال میں ہے کہ پاکستان جنگی آپشن پر جاکر محدود جنگ کا بھی چانس لے گا تو میرے خیال میں وہ محض اپنے آپ کو دھوکا دینے والی بات ہوگی۔
اب آجائیں داخلی صورتِ حال پر، تو وہ بھی کچھ ایسی نہیں ہے کہ اس پر خود کو حوصلہ اور امید دلائی جائے۔ مولانا فضل الرحمان صاحب نے جس انداز میں اسلام آباد کو ٹارگٹ کیا ہے اور جس طرح حکومت ان کے آگے پیچھے گھوم رہی ہے کہ خدا کے واسطے کچھ وقت دے دیں، رک جائیں، کوئی بھی وزارت مانگ لیں مگر اسلام آباد کا لاک ڈاؤن نہ کریں، اس سے حکومت کی گرفت کا اندازہ بآسانی لگایا جاسکتا ہے۔
آئے دن کی بڑھتی ہوئی گرانی نے ہر آدمی کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ آلو، پیاز، ٹماٹر، آٹا، چینی، دالوں اور ماچس کی ڈبیا سے لے کر اسکول کی کتابیں، کاپیاں، ٹرانسپورٹ کرائے… کون سی چیز ہے جو پچھلے سال کی نسبت سو گنا نہیں بڑھی؟
ہاں اگر کسی چیز میں اضافہ نہیں ہوا تو وہ مزدور اور پرائیویٹ ملازم کی تنخواہ ہے۔ اراکینِ پارلیمنٹ، حزبِ اقتدار اور حزبِ مخالف دونوں نے یک آواز ہوکر اپنے حق میں پیش ہونے والے بل پر اتفاق ِرائے سے بل منظور کروا لیا۔
ان حالات میں عمران خان اور ان کے وزراء کے دو نہیں ایک پاکستان، تبدیلی، سستے اور فوری انصاف کا لارا لپّا، پولیس میں اصلاحات لانے کے خوش کن نعرے، لاکھوں گھروں کا منصوبہ، نوکریوں کا وعدہ… سب کچھ خاک میں مل گیا۔
پولیس گردی اپنے عروج پر ہے، عدلیہ کے ذریعے من مانے فیصلے جو کبھی نوازشریف کے دورِ اقتدار کا طرۂ امتیاز تھے، انصافی حکومت کا وصفِ خاص بن چکے ہیں۔ واٹس ایپ پر فیصلوں کی اختراع اور ویب سائٹ پر فیصلوں کو پوسٹ کیا جانے والا انقلابی قدم بھی خیر سے انصافی حکومت کے دورِ اقتدار کے پہلے سال میں ہی ممکن ہوسکا ہے۔
ان تمام سیاسی حماقتوں اور چھچھور پن کے ساتھ ساتھ معاشی صورتِ حال کا جو بیڑہ غرق ہوا ہے اس کی پاکستان بننے سے لے کر آج تک کوئی مثال موجود نہیں ہے۔ پاکستان نے ماضی میں دو بھرپور جنگیں 1965ء اور 1971ء میں لڑیں، اُس وقت بھی ملک معاشی اعتبار سے سخت مشکل میں تھا مگر اتنا کنگال نہیں ہوا جتنا کہ اِس مرتبہ بغیر جنگ لڑے ہوچکا ہے۔
معاشی صورتِ حال کا اندازہ لگانے کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی اس ششماہی کی رپورٹ ملاحظہ فرمائیں جس میں انتہائی حد تک خطرے کی نشان دہی کی گئی ہے۔
اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کا کُل اندرون ملکی قرض 31 جولائی 2017ء کو 15389 ارب روپے تھا، جو 31 جولائی 2018ء کو 16461 ارب، اور 31 جولائی 2019ء کو بڑھ کر 22012 ارب ہوگیا۔ چنانچہ کرپٹوں کی حکومت کے آخری سال میں قرض میں 1072 ارب کا اضافہ ہوا جو کہ تقریباً 2.9 ارب روزانہ بنتا ہے۔
اس کے برعکس موجودہ دورِ حکومت کے ایک سال میں 5553 ارب کا اضافہ ہوا جو کہ تقریباً 15.2ارب روزانہ بنتا ہے۔
اس رپورٹ میں جس چیز نے حیرت میں مبتلا کیا وہ یہ ہے کہ 2018-19ء کا ترمیم شدہ بجٹ جس میں سود کی ادائیگی کی رقم شامل ہے، 6409 ارب تھا، جس میں حکومت کی مختلف ذرائع سے آمدن 4917 ارب رہی۔ چنانچہ حکومت کو کُل درکار رقم 1492 ارب بنتی ہے۔ جبکہ حکومت کے قرضہ جات میں اضافہ 5553 ارب روپے بنتا ہے۔ یعنی 1492 ارب کے بجائے حکومت نے بینکوں سے کُل ملا کر 5553 ارب کا قرض لیا۔ اگر اس بات کو درست مان لیا جائے تو یہ کون وضاحت کرے گا کہ 4061 ارب روپے کی یہ اضافی رقم کہاں اور کس مد میں استعمال ہوئی؟
یہ بھی اسٹیٹ بینک کی مہربانی سے ہم کو معلوم ہوگیا ورنہ تو موجودہ حکومت خاموشی کے ساتھ یہ گھپلا بھی ڈکار جاتی۔
اسٹیٹ بینک کے ریکارڈ کے مطابق جولائی 2018ء سے 30 جون 2019ء تک صرف ایک سال میں اندرونی ملکی قرضے میں 33.7 فیصد اضافہ ہوا۔ پاکستان کی تاریخ میں ایک سال میں قرض میں اضافے کی بلند ترین شرح ماضی کی پیپلز پارٹی کی حکومت میں تھی۔ مگر اس ’ایمان دار حکومت‘ نے بینکوں سے قرض لینے میں سابقہ بدعنوان حکومتوں کا ریکارڈ پہلے ہی سال توڑ دیا ہے۔ اس سے یہ اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں کہ اگر حکومتی اللے تللوں اور وزراء کی عیاشیوں کی یہی رفتار رہی تو 2023ء تک قرضوں کا حجم تین گنا بڑھ چکا ہوگا۔
ایک اور اہم بات بھی ذہن میں رکھیں کہ ابھی جو سرکاری آڈٹ 19۔2018ء شائع ہوا اُس کے مطابق ’عوامی فنڈز‘ کے استعمال میں 150کھرب 67 ارب کی بے ضابطگیاں ہوئیں۔ آڈٹ رپورٹ سال 19۔ 2018ء کے مطابق متعدد وزارتوں کے بچائے گئے 411 ارب روپے بھی حکومت کے خزانے میں واپس نہیں کیے گئے۔
یہ تمام بدعنوانیاں وہی ہیں جو ماضی میں بھی ہوتی رہیں۔ بس فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے کچھ اور کردار حکومت میں تھے اور آج کچھ اور کردار حکومت کے تخت پر بیٹھے ہوئے ہیں۔
آئے دن اخبارات میں نیب کے چھاپوں، سیاسی رہنماؤں کے کارناموں اور سرکاری افسران کے مالی اسکینڈلز کی خبریں شہ سرخیوں کے ساتھ نمایاں ہوتی ہیں۔ کروڑوں، اربوں روپے گھر کی تجوریوں سے ملنا اور کروڑہا روپے کے زیورات برآمد ہونا گویا گڈے گڑیا کا کھیل بن گیا ہے۔
پی ٹی آئی حکومت کے سرپرستوں میں جناب جہانگیر ترین جو کہ عدالتِ عظمیٰ سے ثابت شدہ مجرم ہیں اور نااہلی کی سزا بھگت رہے ہیں، ان کی کرپشن چینی، کھاد اور دیگر حوالوں سے 500 ارب روپے سے زائد ہے۔ اسی قطار میں پاکستان پیپلز پارٹی کے خورشید شاہ صاحب ہیں جن کی معصومیت کے کیا کہنے، خیر سے اپنے آپ کو سید اور آلِ رسول بھی کہتے نہیں شرماتے۔ انہوں نے بھی 500 ارب روپے کی کرپشن میں منہ کالا کیا ہے، اور اب تو بارگین کے چکر میں ایک فیصد لینے پر بھی آمادہ دکھائی دیتے ہیں۔ شرجیل میمن، پیپلز پارٹی سندھ کے اہم رہنما، سابق وزیر اطلاعات سندھ… انھوں نے بھی کرپشن کی گنگا میں کم اشنان نہیں کیا، موصوف کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جب وہ وزارتِ اطلاعات میں تھے تو جعلی ناموں سے 81 اخبارات کی ڈکلیریشن حاصل کی ہوئی تھی اور سرکاری اشتہارات ان کے ڈمی ’اخبارات‘ میں ضرور دیئے جاتے۔ ان اشتہارات کی کُل رقم 584 کروڑ روپے بنتی ہے۔ ان ہی کے گھر سے دو ارب روپے کیش بھی برآمد ہوا تھا جس کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ تو مسجد بنوانے کے لیے جمع کررکھے تھے۔
تازہ ترین معاملہ گریڈ 20 کے ایک سرکاری افسر لیاقت قائم خانی کا ہے، جو محکمہ بلدیات کے باغات میں اہم عہدے پر فائز اور مشیر میئر کراچی وسیم اختر بھی رہے۔ بقول لیاقت علی قائم خانی متحدہ کے دور میں میئر کراچی سمیت دیگر رہنماؤں کی پارکس کی چائنا کٹنگ اور اوپر کی تمام آمدن ان کے پاس ’امانتاً‘ رکھوائی جاتی رہی۔
اخبارات اور باوثوق ذرائع سے ملنے والی خبروں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ لیاقت قائم خانی کی گرفتاری کے بعد نیب نے بڑا سراغ لگایا ہے کہ بحریہ ٹائون کو باغ ابن قاسم کی غیر قانونی منتقلی کی بھی خطیر رقم لیاقت قائم خانی کے پاس امانتاً رکھوائی گئی تھی۔ نیب ذرائع کے مطابق لیاقت قائم خانی کی گرفتاری سے ملک ریاض کی بحریہ آئیکون کے پلاٹ کی غیر قانونی الاٹمنٹ کا معاملہ بھی سامنے آچکا ہے۔
متحدہ قومی موومنٹ اور پیپلز پارٹی دونوں کی لوٹ مار کا فرنٹ مین لیاقت علی قائم خانی ہے۔
ہمارے وزیراعظم اسی چکر میں لگے ہوئے ہیں کہ ’’میں کسی کو این آر او نہیں دوں گا، میں گرم توے پر بیٹھا ہوں، میں کشمیر کا سفیر ہوں، میں نوازشریف کے کمرے سے اے سی نکلوا لوں گا‘‘ وغیرہ وغیرہ۔
محترم وزیراعظم صاحب آپ اور آپ کی ٹیم کی حماقتوں اوربڑھکوں نے ملک کو تباہی کے کنارے پہنچا دیا ہے ….. آپ کہتے ہیں ’’میں گرم توے پر بیٹھا ہوں ‘‘۔ آپ کا کیا ہے ؟ آپ تو ایک گہرے لمبے کش میں گرم توے کی ’تمازت‘ بھول جائیں گے… مگر قوم کا کیا بنے گا، جو پچھلے ایک سال سے گرم تندور میں جھلس رہی ہے؟

حصہ