شرف اور عزت کی علامت

103

صفیہ نسیم
رات کا کوئی سا پہر تھا جب اچانک میری آنکھ کچھ باتوں کے شور سے کھل گئی۔ اصل میں ماموں زاد بہن کی شادی تھی، ماموں کے گھر سب قریبی رشتے دار جمع تھے۔ رات کو ہم بچیوں اور لڑکیوں کو یہ کہہ کر سلا دیا گیا کہ صبح جلد اٹھ کر کام میں ہاتھ بٹانا ہوگا، اور بڑے اپنی باتوں میں رات گئے تک بیٹھے رہے۔ جس شور سے میری آنکھ کھلی وہ دراصل دو بڑے ماموں حضرات کی آوازیں تھیں جو امی کو غصے سے کہہ رہے تھے کہ تمھاری بچیوں میں ویسے ہی اتنی شرم و جھجک ہے اور پھر تم نے اتنی چھوٹی سی عمر میں ان کو خیمے اوڑھا دیئے ہیں۔ دیکھو شادی کے موقع پر سب انجوائے کررہے ہیں، لیکن وہ سکڑی ہوئی ایک طرف کو بیٹھی ہیں۔
مجھے معلوم تھا کہ انجوائے کرنا کیا تھا، اور یہ بھی اندازہ تھا کہ چھوٹے ماموں زیادہ ناراض کیوں تھے، کیونکہ اُن کے بیٹے نے مجھ سے ہاتھ ملانا چاہا تو میں نے مسکرا کر کہہ دیا کہ ہم تو دور سے ہاتھ ہلاتے ہیں۔
گھر کی تربیت کچھ ایسی تھی کہ میں نے اور میری بہنوں نے بغیر کسی دباؤ کے اپنی مرضی اور شوق سے حجاب لینا شروع کیا اور اس کے دیگر تقاضوں کو بھی اپنے عمل میں اتار لیا، یوں ہمارا طرزِعمل خاندان کی اور لڑکیوں سے کچھ مختلف ہوگیا۔ ہم مکس گیدرنگ میں چہرہ ڈھانکتے کزنز سے، اور نامحرم رشتوں سے ایک فاصلہ رکھتے، تصویروں اور مووی سے دور رہتے، جس کی وجہ سے ہمیں خاصی تنقید کا نشانہ بننا پڑتا اور بعض دفعہ یہ تنقید تضحیک کا روپ بھی دھار لیتی۔ لیکن اس کے باوجود ہم ہر شادی اور تقریب میں برابر شریک رہتے۔
’’ارے تم نے یونیورسٹی میں ایڈمیشن لے لیا! کیا وہاں پر بھی یہ حجاب لو گی؟‘‘ میرے یونیورسٹی میں ایڈمیشن کا سنتے ہی سب کا پہلا سوال یہی تھا۔ ’’جی بالکل، یونیورسٹی میں ایڈمیشن سے حکمِ ربی تو ٹل نہیں سکتا، جس کے مطابق ہر مومن عورت پر لازم کیا گیا کہ جب گھر سے نکلے تو اپنے چہرے پر پلو لٹکا لیا کرے۔ زمانۂ جاہلیت کی سج دھج سے منع فرمایا گیا۔ واضح کردیا گیا کہ اپنا بناؤ سنگھار کس کے سامنے ظاہر کرنا ہے اور کس کے سامنے نہیں۔ ‘‘بہر حال وقت تیزی سے گزرتا چلا گیا۔ پڑھائی کے مدارج کی تکمیل سے لے کر عملی زندگی میں داخلے تک کامیابیاں سمیٹتے مجھے اب یہ بھی محسوس ہوگیا تھا کہ ہمارے حجاب پر اٹھنے والی مخالفانہ آوازیں مدھم پڑ چکی ہیں۔ وجہ اس کی یا تو ہمارا پختگی سے اپنے طریقہ کار پر کاربند رہنا تھا، یا ’’حجاب‘‘ کے باوجود زندگی کی کامیابیاں سمیٹنا۔
’’مس میتھ کانسٹنٹ میں کمپیئرنگ کے لیے ہم نے آپ کو سلیکٹ کیا ہے، آپ کرلیں گی ناں؟‘‘ اسکول پرنسپل اور میتھ کوآرڈی نیٹر مجھ سے مخاطب تھیں۔ ’’جی بالکل، لیکن چونکہ اور اسکول بھی مقابلے میں شریک ہیں اور دیگر مہمان بھی انوائٹ ہیں اس لیے میں اپنا فیس کور کروں گی‘‘۔ میرا جواب تھا۔ ’’اوکے مس صفیہ، نو اینی ایشو۔ اینی ہاؤ آپ یہ کرلیں گی، شیور؟‘‘ ’’یس یس شیور۔ اس حجاب میں مَیں ہر کام کرسکتی ہوں، یہی تو میری طاقت ہے‘‘۔ میں نے مسکرا کر کہا۔ اور پھر مجھے اس پر کوئی تعجب نہیں تھا کہ مجھے دو دن چلنے والے اس پروگرام میں جہاں دیگر کمپیئرز کی موجودگی بھی تھی، سب سے کامیاب کمپیئر قرار دیا گیا تھا۔
علامہ اقبال کی فارسی میں ایک بڑی خوبصورت رباعی ہے جس کا ترجمہ ہے ’’اللہ خالق ہے اور پردوں میں ہے، اس نے اپنی صفتِ تخلیق عورت میں ودیعت کی ہے اور اسی لیے اسے بھی پردوں میں رکھا ہے‘‘۔ اس لحاظ سے حجاب ایک شرف ہے، ایک عزت ہے جو خالقِ کائنات نے بطورِ خاص اپنی جناب سے عورت کو عطا کیا ہے۔ جو عورت کو صفتِ الٰہی سے مزین کرتا ہے۔ اسی لیے یہ عورت کے لیے ایک ڈھال کی حیثیت رکھتا ہے۔

حصہ